ذیشان خان

Administrator
اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں رکھنا

سنت سے یہ ثابت ہے کہ اذان دیتے ہوئے اپنی انگلی کو کان کے سوراخ میں داخل کرنا چاہیے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اسی طرح اذان دیتے تھے ۔
سیدنا ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَيُتْبِعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا وَإِصْبَعَاهُ فِي أُذُنَيْهِ
میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا وہ اپنا چہرہ دائیں بائیں گھماتے تھے اور انکی انگلیاں انکے کانوں میں تھیں ۔(جامع ترمذی ابواب الصلاۃ باب ما جاء فی ادخال الاصابع فی الاذن عند الاذان ح ۱۹۷)
اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیاہے ۔
اس سلسلہ میں ایک روایت ضعیف ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال رضی اللہ عنہ کو کانوں میں اُنگلیاں رکھنے کا حکم و امر کا ذکر ہے ۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اذان دیتے وقت کان میں انگلی ڈالنا ثابت نہیں ہے ، یہ کہنا درست نہیں ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ ﷺ کی قولی یا فعلی صحیح روایت نہیں مگر تقریری روایت ہے ۔
بعض لوگ کان میں انگلی نہیں رکھتے یہ سنت کی مخالفت ہے ، بعض لوگ ایک کان میں انگلی دوسرا کان کھلا رکھتے ہیں یہ بھی مخالفت ہے اور اگر بعض لوگ اذان کے وقت سینے پر ہاتھ باندھتے ہیں تو بھی درست طریقہ نہیں کیونکہ ایسا کرنا ثابت نہیں ہے ۔
واللہ اعلم
 
Top