ذیشان خان

Administrator
فكرہ "تشبیہ" یہود ونصاری سے ماخوذ ہے:

تشبیہ کی دو قسمیں ہیں ہیں:

1- خالق کو مخلوق سے تشبیہ دینا (یہ یہود سے ماخوذ ہے).
2- مخلوق کو خالق سے تشبیہ دینا(یہ نصاری سے ماخوذ ہے).
تاریخِ اسلام میں سب سے پہلے عبد اللہ بن سبأ یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ سے تشبیہ دی اور کہا: حضرت علی (رضی اللہ عنہ) ہی اللہ ہیں(لعن الله عليه بما قال لعناً كبيراً ) [دیکھیں: مقالات الإسلاميين(1/ 86)].
پھر رافضہ نے اس فکرے کو ان سے اخذ کیا؛ چنانچہ بیان بن سمعان (ت118ھ) نے کہا: جز الہی حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اور ان کی بعض ذریت کے اندر حلول کر گیا ہے [دیکھیں: مقالات الإسلامين (1/ 66 - 67)].
متقدمین روافض میں سب سے پہلے ہشام بن حکم رافضی نے اللہ سبحانہ و تعالی کے بارے میں کہا: "اللہ تعالیٰ جسم ہے" [دیکھیں: منهاج السنة النبوية (1/ 73)].
خلاصہ یہ ہے کہ تشبیہ کا فکرہ در اصل یہود و نصاری سے ماخوذ ہے؛ جسے رافضہ نے فروغ دیا، اور پھر اسی "تشبیہ" کو دلیل بنا کر اکثر فرقوں (خاص طور پر جہمیہ، معتزلہ، کلابیہ، اشاعرہ، اور ماتریدیہ) نے صفات الہی کا انکار کیا ہے.
 
Top