ذیشان خان

Administrator
گناہ پر آمادہ نفس کو گناہ سے بچانا

شیخ صالح بن عبدالعزيز آل الشيخ حفظه اللہ

اردو ترجمانی: حافظ عبدالرشید عمری

سائل کہتا ہے: بعض گناہوں کا نفس عادی ہو گیا ہے،
ان گناہوں سے چھٹکارے کی کیا صورت ہے؟

جواب: 1) کثرت سے قرآن پڑھنا(اور کتب احادیث میں مذکور کتاب الرقاق(دلوں کو نرم کرنے والی احادیث) کا بھی کثرت سے مطالعہ کرنا)
2) کثرت کے ساتھ اللہ تعالٰی سے دعائیں کرنا
3) اور گناہوں کے مہلک اثرات کی معرفت حاصل کرنا
یہ تین باتیں گناہوں کے چھوڑنے میں معاون ہیں۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی ایک مایہء ناز کتاب ہے جس کا نام " الداء و الدواء " ہے
یا " الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي " ہے،
اس کتاب میں علامہ موصوف نے بہت ہی طویل مقدمہ لکھا ہے،
جس میں انہوں نے گناہوں کے مہلک اثرات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

گناہوں کے دنیاوی اور اخروی نقصانات سے واقف ہونا،گناہوں کے چھوڑنے کے اہم معاون اسباب میں سے ان شاء اللہ ایک اہم معاون سبب ثابت ہو گا۔

ایک مسلمان کا گناہوں کے بڑے نقصانات میں سے ایک سب سے بڑے نقصان سے واقف ہونا ہی گناہوں سے بچنے کے لئے کافی ہے
اور وہ بڑا نقصان یہ ہے کہ ایک مومن بندہ اپنے گناہوں کے بقدر اللہ تعالٰی سے بھی دور ہوتا جائے گا،
اگر گناہ گار شخص اللہ کے پاس توبہ و استغفار اور گناہوں کو مٹانے والے نیک اعمال کا اہتمام نہیں کرے گا،
تو ایسا گناہ گار شخص اپنے گناہوں کی مقدار برابر اللہ تعالٰی سے دور ہوتا جائے گا۔

گناہ کی مختلف انواع و اقسام ہیں:
1) دل کے گناہ ہیں ،
2) زبان کے گناہ ہیں ،
3) اعضاء کے گناہ ہیں ،
4) اور بندوں کی حق تلفی سے متعلق گناہ ہیں
5) بڑے گناہ ہیں ،
6) چھوٹے گناہ ہیں وغیرہ وغیرہ
چھوٹے سے چھوٹے گناہ ہی کیوں نہ ہوں اور بڑے سے بڑے گناہ ہی کیوں نہ ہوں،
کسی بھی گناہ میں کوئی خیر نہیں ہے۔
( گناہ کرنے کے باوجود بعض لوگوں پر یہ اللہ کا فضل و کرم اور اس کی مغفرت و رحمت ہوتی ہے کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کے بعد فضیلت اور رفع درجات میں گناہوں کا ارتکاب نہ کرنے والے بعض لوگوں سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں۔ )(مترجم)

اگر ایک مومن بندہ اپنے نفس کو گناہ چھوڑنے کا عادی بنانے کی کوشش کرے گا،
تو اللہ کی توفیق سے ایسے مومن بندہ کا نفس ترک گناہ(گناہ چھوڑنے) کا عادی ہو جائے گا،
اور اللہ تعالٰی کی توفیق اور اس کی رحمت کے بعد یہ کوئی مشکل اور ناممکن چیز نہیں ہے۔
لیکن اس کے برعکس اگر کوئی مومن بندہ اپنی نفسانی خواہشات اور شیطانی مکاری سے مغلوب ہو کر اپنے نفس کو گناہ پر گناہ کرنے کا عادی بنائے گا،
تو اللہ تعالٰی کی توفیق شامل حال نہ ہونے کی وجہ سے اس گناہ گار مومن بندہ کے لئے گناہ چھوڑنا مشکل ہوجائے گا۔
اس لئے مومن بندہ کو چاہئے کہ وہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے،
کیوں کہ جب انسان جوانی میں گناہوں کا دلدادہ اور خوگر ہو جاتا ہے،
تو پھر بڑھاپے میں بھی مانوس گناہوں کو چھوڑنا ایک بندہ کے لئےمشکل ہو جاتا ہے۔
اور یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے،
(اس لئے پہلی بات یہ کہ گناہ نہ کرے اور دوسری بات یہ ہے کہ گناہ ہونے کی صورت میں فورا توبہ و استغفار کا اہتمام کیا جائے) (مترجم)

اور مومن بندہ اپنے نفس کو ایمانی لحاظ سے اتنا قوی بنائے کہ کسی بھی گناہ کی لذت پر وہ فریفتہ نہ ہونے پائے،
اور مومن بندہ کا ایمان اتنا قوی ہو کہ اس کو گناہوں سے گھن اور نفرت پیدا ہو جائے،
(اور گناہ کی نفرت پیدا ہونے کے لئے اللہ سے دعائیں کرنا چاہئے ۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: و لكن الله حبب إليكم الإيمان و زينه في قلوبكم و كره إليكم الكفر و الفسوق و العصيان (سوة الحجرات)
أور حديث میں یہ دعاء ہے: أللهم اني أعوذ بك من منكرات الأخلاق و الأعمال و الأهواء. ) (مترجم)

یقینا آج کے دور میں نوجوانوں کو اپنے مانوس گناہوں کو چھوڑنا بہت مشکل ضرور ہے،
لیکن جو مومن بندہ صدق دل سے اللہ تعالٰی سے نیکیوں کے کرنے کی اور گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کرے گا،
تو اللہ تعالٰی اس مومن بندہ کو ضرور توفیق دے گا۔

*اے نوجوانو!* قرآن کثرت پڑھا کرو اور نمازوں کی پابندی کیا کرو اور خصوصی طور پر رات میں تہجد کی نماز کا اہتمام کرو اور اللہ تعالٰی کے پاس روزانہ توبہ و استغفار کرتے رہو
اور تادم حیات اللہ تعالٰی کی مرضیات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرو،
اور جب بھی گناہ ہو جائے، تو فورا توبہ کرو ،
کیوں کہ توبہ کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔
 
Top