ذیشان خان

Administrator
امام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - کا ایک سخت مخالف

🖊ابو تقی الدین

امام ابن تیمیہ کے بہت سے مخالفین اور دشمن گزرے ہیں، انہی میں سے ایک مشہور جہمی وحنفی عالم ومحقق اور بقول ڈاکٹر خلیل ہراس "جہمیت کے علمبردار" محمد زاہد کوثری بھی ہیں، اس نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ پر بے سروپا اور لاطائل باتیں کہی ہیں، اور دشمنی میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، اس شخص نے ایک مرتبہ اپنے شاگرد حسام الدين قدسی سے امام ابن تیمیہ کے خلاف اپنی نفرت اور کینہ توزی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا :
" الجنة التي يدخل فيها ابن تيمية لن أدخل فيها" - "یعنی جس جنت میں ابن تیمیہ داخل ہونگے اس میں ہر گز داخل نہیں ہونگا".
انہوں نے امام دارمی کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے لکھا ہے :
"وأما عثمان بن سعید الدارمي مؤلف النقض على المريسي...وأصبح مجسما مختل العقل عند تأليفه النقض المذكور "-"یعنی عثمان بن سعید دارمی جو کتاب النقض کے مؤلف ہیں، (پہلے صفات الہی میں خوض نہیں رکھتے تھے، پھر کرامیہ کی صحبت سے مجسم بن گئے)، کتاب النقض کی تالیف کے دوران ان کی عقل میں خلل اور فساد واقع ہو گیا تھا ".
اس نے امام جلال الدین سیوطی کے بارے میں بھی لکھا ہے :
"لو كنت في صحراء قاحلة لا ظل فيها ولا ماء وضللت الطريق ولم أجد دليلا إلا السيوطي لم أسئله عن الطريق لأنه كان يدعي الاجتهاد ويراه واجبا".
شیخ محمد زاہد کوثری - عفا الله عنا وعنه - کے متعلق مولانا عبد الحميد رحمانی مرحوم نے ایک جگہ لکھا ہے :
"ایک مرتبہ شیخ سلیمان الصنیع ممبر مجلس شوریٰ سعودی عربیہ اور مدیر مکتبہ الحرم المکی مجھے کوثری صاحب کی بابت بتانے لگے کہ ان کا وطیرہ یہ تھا کہ سلف امت کی شان میں خردہ گیری کرنے اور ان کی معتبر شخصیات پر جھوٹے الزامات لگا کر ان کو مجروح کرنے کے لئے وہ عبارتیں خود گھڑتے تھے، کتابوں کا نام گڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے ترکی کے فلاں مکتبہ میں یہ مخطوط دیکھا تھا اور پوری دنیا میں اس کا یہی واحد مخطوط تھا جو عالمگیر جنگ کی نذر ہو گیا مگر یہ عبارت میرے نوٹ میں محفوظ ہے".
محمد زاهد کوثری کے متعلق مولانا رحمانی کا مذکورہ کلام آپ نے پڑھا، اسے پڑھ کر آپ کو تعجب ہو رہا ہوگا کہ ایک عالم دین اتنا بڑا جھوٹا اور افتراپرداز کیونکر ہو سکتا ہے، لیکن جب آپ علامۃ الشام محمد بہجہ البیطار کی"الكوثري وتعليقاته"، محمد عبد الرزاق حمزہ کی "حول تأنيب الكوثري"، علامہ عبد الرحمن یحی معلمی یمانی کی ضخیم محققانہ اور سنجیدہ ترین جامع وحافل کتاب "التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل"، علامہ محب الدین خطیب کا مضمون "عدوان على علماء الإسلام يجب أن يكون له حد يقف عنده" اور محمد العربی البتانی المغربی کے مختصر ردود وغیرہ دیکھیں گے تو آپ کو یقین ہو جائے گا یہ شخص بہت بڑا جھوٹا اور افتراپرداز تھا، میں یہاں صرف دو مثالیں پیش کر رہا ہوں:
پہلی مثال:
شیخ محمد زاهد کوثری صاحب نے اپنی تعلیقات کے ناشر اور محب الدین خطیب کے دوست حسام الدين قدسی کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ "دارالکتب الظاهرية" میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - کے اپنے خط وقلم سے لکھی ہوئی ایک کتاب موجود ہے جس میں انہوں نے اللہ کی تجسیم (یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے جسم ہے) ہونے کا دعویٰ کیا ہے، محب الدین کہتے ہیں :
"دار الكتب ظاهرية کے مدیر میرے والد تھے اور میں نے اسی کی دیواروں تلے بچپن سے نشوونما پائی ہے اور پورے دمشق میں صرف دو ہی آدمی تھے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی تحریر پڑھتے تھے، ان میں سے ایک میں بھی تھا اور دار الکتب الظاهرية میں موجود ابن تیمیہ کی کتابوں میں سے جو کتابیں بھی شائع ہوئیں ان کو اشاعت کے لئے میں نے اپنے قلم سے نقل کر کے دیا ہے اور میں بحمد اللہ ابن تیمیہ کی تحریر اور ان کے خط کے سب سے زیادہ واقف کار لوگوں میں سے ہوں، میں نے اپنے دوست حسام الدين قدسی سے کہا کہ اگر ابن تیمیہ کے قلم سے اس فکر کی کوئی بھی کتاب موجود ہو تو میں آمادہ ہوں کہ اس مسئلہ کی بابت کوثری کی رائے اپنانے کا اعلان علی رؤوس الاشہاد کروں، لیکن میرے دوست اگر تم ابن تیمیہ کے قلم سے اس غلط نظریہ کے اثبات و اظہار سے عاجز آجاؤ تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ تمہیں دھوکا دیا گیا ہے اور ایک ایسے نسل پرست شخص کا لگایا ہوا بہتان ہے جو ہمارے سلف کا دشمن، ہمارے علما پر تعدی کرنے والا اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہر صحیح طریقہ کو جائز قرار دینے والا ہے".
دوسری مثال :
مولانا واصل واسطی - حفظہ اللہ - اپنی مختصر سرگزشت میں لکھا ہے:
"راقم ،اپنے شیخ اول جناب مولانا محمد عنایت الرحمن - رحمہ اللہ - اور شیخ ثانی جناب مولانا گوہر رحمن - رحمہ اللہ - کا شاگرد ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے محبت ان دو شیوخ کی وجہ سے میرے دل میں پیدا ہوئی، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے! صفات میں وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ہی کی رائے کو پسندیدہ قرار دیتے تھے، شیخ اول جناب مولانا محمد عنایت الرحمن صاحب اکثر متاخرین کی کتابوں پر اکتفا کرتے تھے، اور انہی کے حافظ تھے، بنیادی اور امہات مراجع پر ان کی نظر محدود تھی، وہ زیادہ سے زیادہ شرح مقاصد، شرح مواقف، المسامرہ، شرح عقائد جلالی، شرح فقہ اکبر وغیرہ تک محدود رہتے تھے، البتہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے مجموع الفتاوی ،منہاج السنہ وغیرہ کا حوالہ بکثرت دیتے تھے، سب سے پہلے میں نے اپنے شیخ ثانی جناب مولانا گوہر رحمن صاحب سے یہ بات سنی کہ امام اشعری(ابوالحسن الاشعری) نے "الإبانة عن أصول الديانة" میں سلف کے مذہب کی طرف رجوع کیا ہے، دونوں "امام العصر جرکسی" (یعنی شیخ محمد زاهد کوثری) کے بھی حوالے دیتے تھے، شیخ اول حنفی فقہ کی خدمت کی وجہ سے ان کی تعظیم میں القاب بھی بیان کرتے تھے، تو مجھے بھی "امام العصر جرکسی" کی کتابوں سے محبت ہو گئی، کرتے کرتے ان کی اکثر کتابیں پڑھ لیں، بعض کتابیں تو دو دو اور تین تین پڑھیں، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مخالفت بھی شروع کی اور انہیں مجسم بھی کہنے لگا تھا، اس لئے کہ "امام العصر جرکسی" نے لکھا تھا کہ انہوں نے (یعنی ابن تیمیہ نے) عثمان بن سعيد دارمی کی تصانیف کے بارے میں وصیت کی ہے کہ ہر سنی طالب علم اسے ضرور پڑھے، حالانکہ امام دارمی کی کتاب میں صراحتاً لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ "جسم" ہے تو جو عالم مجسم آدمی کی کتابوں کے پڑھنے کی وصیت کرتا ہے وہ خود بھی مجسم ہے، مگر میرے پاس امام دارمی کی کتاب "النقض على المريسي" نہیں تھی اور میں اس کی تلاش میں لگا رہا اور پھر ایک دن اتفاقاً ایک چھوٹی دکان پر یہ کتاب مل گئی، اس کی ابتدا میں محقق صاحب نے ابن تیمیہ کی وصیت وہ بھی درج کی تھی، میں اس کو ناقدانہ نظر سے پڑھنے لگا اور نشان لگاتا جاتا تھا تاکہ پھر مباحثہ میں کام آجائے، پوری کتاب پڑھ لی، اللہ تعالیٰ کے لئے "جسم" کا لفظ کہیں بھی نہیں ملا، پھر خیال کیا یہ نسخہ دوسرا ہوگا، لہذا ایک اور مطبوعہ نسخے کی تلاش شروع کی، بہت مشقت کے بعد دوسرا نسخہ ملا، پڑھا، مگر نتیجہ وہی رہا، اس دوسری طبع کو پڑھتے وقت جسمیت کی نفی میں البتہ چند عبارات مل گئیں.
اب مجھے شک پڑا کہ یہ آدمی یعنی امام العصر جرکسی (یعنی زاہد کوثری) خائن نہ ہو، لہٰذا ان کی نقل کردہ عبارتیں اصل کتابوں میں دیکھتا گیا اور حقیقت مجھ پر روشن ہوتی گئی، یہاں تک کہ مجھے اس کے مفتری ہونے کا قطعی یقین ہوگیا اور ان کے افتراءات کا ایک بڑا ذخیرہ میرے پاس جمع ہو گیا، میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے اصل عقیدہ کی طرف پلٹ گیا جو میں نے اپنے اساتذہ سے سیکھا تھا، الحمد للہ رب العالمین، اس رجوع میں اور لوگوں کا بھی تعاون حاصل رہا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، تو یہ عثمان بن سعيد دارمی وہی امام ہے جس نے مجھے جہمیہ سے الگ کیا".
مولانا واصل واسطی - حفظہ اللہ - ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں :
"کیا جھوٹ اور افترا... عیب نہیں ہے! اگر سچی بات کی جائے تو حقیقت یہ ہے کہ اس آدمی (یعنی شیخ کوثری) کا سرمایہ علم وافتخار یہی ہے کہ جھوٹ اور تحریف اور پوچ گوئی سے اہل حق کو بدنام کیا جائے اور دیوبندی حضرات ایسے ہی شخص کو " سيفاً صقيلا، وصارما مسلولا ،ومهندا مشهورا" کہہ سکتے ہیں، اس لئے کہ دونوں کے مقاصد وعقائد میں اتحاد ہے".
مولانا عبد الحميد رحمانی مرحوم لکھتے ہیں :
"یہ تھے موجودہ دور میں بر صغیر ہند کے مولانا یوسف بنوری، مولانا ظفر احمد تھانوی، مولانا ابوالوفاء افغانی، مولانا سید احمد رضا بجنوری اور سعودی عرب میں پناہ گزیں شیخ عبد الفتاح ابوغدہ اور شیخ محمود میرہ اور کویت میں مقیم شیخ محمود طحان وغیرہ کے راہنما ،مقتدا اور مصدر ومرجع اور تمام اکابر علمائے احناف بشمول مولانا ابوالحسن علی ندوی مدعی وراثت مولانا سید احمد رائے بریلی - رحمہ اللہ - کے محبوب ومحترم امام ومصلح اور عالم ومحقق ".
[مولانا عبد الحميد رحمانی مرحوم نے جس مضمون میں مذکورہ بات لکھی ہے وہ مضمون ماہنامہ التوعیہ نئی دہلی میں، مئی 1988ء میں شائع ہوا تھا].
 
Top