ذیشان خان

Administrator
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ: 24؍ جمادی الاول؍ 1442 ھ مطابق 8؍ جنوری؍ 2021 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ احمد بن طالب بن حمید
موضوع: یومِ آخرت پر تنبیہ
ترجمہ: نور عالم محمد ابراہیم سلفی

پہلا خطبہ

یقینا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اُسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اُسی سے مدد چاہتے ہیں، اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفسوں کے شر سے اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور وہ جسے گمراہ دے اُسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے ،رسول ، چنندہ مخلوق اور خلیل ہیں۔ انہوں نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کردی، امت کی خیر خواہی کی، شکوک وشبہات کو دور کردیا، اور موت آنے تک اللہ کے راستے میں کما حقہ جہاد کیا۔ درود وسلام نازل ہوں آپ پر، آپ کے پاکیزہ ونیک اہل بیت پر، آپ کی بیویوں پر جو کہ مومنوں کی مائیں ہیں، روشن چہرے والے آپ کے صحابہ کرام پر، اور قیامت تک ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے والوں پر۔
امابعد!
یقینا سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، سب سے بری بات دین کے اندر نئی بات ایجاد کرنا ہے، ہر نئی بات بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
اے لوگو!
اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اپنے اعمال کو تولو قبل اس کے کہ خود تمہیں تولا جائے، اور اللہ کے سامنے سب سے بڑی پیشی کے لیے تیاری کرلو، کیونکہ آج عمل کا دن ہے اور کوئی حساب نہیں، لیکن کل صرف حساب کا دن ہوگا کوئی عمل کا موقع نہیں ملے گا۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ نَفۡخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾وَّ حُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً ﴿ۙ۱۴﴾فَیَوۡمَئِذٍ وَّقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ﴿ۙ۱۵﴾وَ انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَہِیَ یَوۡمَئِذٍ وَّاہِیَۃٌ ﴿ۙ۱۶﴾وَّ الۡمَلَکُ عَلٰۤی اَرۡجَآئِہَا ؕ وَ یَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّکَ فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ ﴿ؕ۱۷﴾یَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰی مِنۡکُمۡ خَافِیَۃٌ ﴿۱۸﴾فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ فَیَقُوۡلُ ہَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۱۹﴾اِنِّیۡ ظَنَنۡتُ اَنِّیۡ مُلٰقٍ حِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۰﴾فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ﴿ۙ۲۱﴾فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۲۲﴾قُطُوۡفُہَا دَانِیَۃٌ ﴿۲۳﴾کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـئًۢا بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِی الۡاَیَّامِ الۡخَالِیَۃِ ﴿۲۴﴾وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ ۬ ۙ فَیَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُوۡتَ کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۲۵﴾وَ لَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۶﴾یٰلَیۡتَہَا کَانَتِ الۡقَاضِیَۃَ ﴿ۚ۲۷﴾مَاۤ اَغۡنٰی عَنِّیۡ مَالِیَہۡ ﴿ۚ۲۸﴾ہَلَکَ عَنِّیۡ سُلۡطٰنِیَہۡ ﴿ۚ۲۹﴾خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۰﴾ثُمَّ الۡجَحِیۡمَ صَلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۱﴾ثُمَّ فِیۡ سِلۡسِلَۃٍ ذَرۡعُہَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُکُوۡہُ ﴿ؕ۳۲﴾اِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۙ۳۳﴾وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ؕ۳۴﴾فَلَیۡسَ لَہُ الۡیَوۡمَ ہٰہُنَا حَمِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِیۡنٍ ﴿ۙ۳۶﴾
”پھر جب صور میں ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ تو اس دن ہونے والا واقعہ (قیامت) پیش آجائے گا۔ اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی۔اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن آٹھ فرشتے آپ کے پروردگار کے عرش کو اپنے اوپراٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دن تم (اللہ کے حضور) پیش کیے جاؤ گے (اور) تمہارا کوئی راز چھپا نہ رہ جائے گا۔ پھر جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا : ”یہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھو۔“ مجھے یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنے والا ہے۔ پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔ عالی مقام جنت میں۔ جس کے پھلوں کے گچھے جھک رہے ہوں گے۔ (انہیں کہا جائے گا) گزشتہ ایام میں جو عمل تم کرچکے ہو اس کے بدلے اب مزے سے کھاؤ پیؤ۔ مگر جسے نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ کہے گا : ”کاش! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا۔ اور مجھے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے؟ کاش! موت ہی فیصلہ چکا دیتی۔ میرا مال (بھی) میرے کسی کام نہ آیا۔ اور میری حکومت بھی برباد ہوگئی۔ (حکم ہوگا) اسے پکڑ لو اور (گردن میں) طوق پہنا دو۔ پھر اسے جہنم میں جھونک دو ۔ پھر اسےایک ستر گز لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔ یہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ لہٰذا آج اس کا کوئی غمخوار دوست نہ ہوگا۔ اور زخموں کے دھوؤن کے سوا اسے کچھ کھانے کو بھی نہ ملے گا۔“ (الحاقۃ: 13-36)
وہ بدلے کا یقینی دن، اور حقیقی ہار جیت اور فیصلے کا دن ہوگا، ارشادِ باری تعالی ہے:
یَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِیۡنَ ۚ مَا لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾
”جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھرو گے مگر تمہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔“ (غافر: 33)۔
سورۃ الشوری میں اللہ تعالی فرماتاہے:
”اس دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ اور تم اظہار ناراضگی بھی نہ کرسکو گے۔“ (الشوری: 47)۔
سورۃ الزلزال میں اللہ تعالی فرماتاہے:
اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَہَا ۙ﴿۱﴾وَ اَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَہَا ۙ﴿۲﴾وَ قَالَ الۡاِنۡسَانُ مَا لَہَا ۚ﴿۳﴾یَوۡمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخۡبَارَہَا ۙ﴿۴﴾بِاَنَّ رَبَّکَ اَوۡحٰی لَہَا ؕ﴿۵﴾یَوۡمَئِذٍ یَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۬ ۙ لِّیُرَوۡا اَعۡمَالَہُمۡ ؕ﴿۶﴾فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾
”جب زمین اپنی پوری شدت سے ہلا دی جائے گی۔ اور وہ اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال باہر کرے گی۔ اور انسان کہے گا کہ اسے کیا ہو رہا ہے؟ اس روز وہ اپنی پوری خبریں بیان کردے گی۔ کیونکہ اسے آپ کے پروردگار کا حکم ہی یہی ہوگا۔ اس دن لوگ متفرق ہو کر واپس لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائےجائیں۔ چنانچہ جس نے ذربرابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ (بھی) اسےدیکھ لے گا۔“ (الزلزال: 1-8)۔
سورۃ العادیات میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
اَفَلَا یَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِی الۡقُبُوۡرِ ۙ﴿۹﴾وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوۡرِ ﴿ۙ۱۰﴾اِنَّ رَبَّہُمۡ بِہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّخَبِیۡرٌ ٪﴿۱۱﴾
” کیا وہ جانتا نہیں کہ قبروںمیں جو کچھ ہے جب وہ باہر نکال لیا جائے گا۔ اور جو کچھ سینوں میں (چھپے ہوئے راز) ہیں انہیں ظاہر کردیا جائے گا۔ تو اس دن ان کا پروردگار یقینا ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔“ (العادیات: 9-11)۔
سورۃ القارعۃ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾مَا الۡقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ۙ﴿۴﴾وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ ؕ﴿۵﴾فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ﴿۷﴾وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۸﴾فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ ؕ﴿۹﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا ہِیَہۡ ﴿ؕ۱۰﴾نَارٌ حَامِیَۃٌ ﴿۱۱﴾
” کھڑکھڑانے والی۔ کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی۔ اور آپ کیا جانیں کہ وہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟ جس دن لوگ بکھرےہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔ پھر جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔ وہ دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا۔ اور جس کے پلڑے ہلکے ہونگے۔ اس کا ٹھکانا ہاویہ (جہنم) ہے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا ہے۔ وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔“ (القارعۃ: 1-11)۔
سورۃ التکاثر میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
اَلۡہٰکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾حَتّٰی زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ ؕ﴿۲﴾کَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ثُمَّ کَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ؕ﴿۴﴾کَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡیَقِیۡنِ ؕ﴿۵﴾لَتَرَوُنَّ الۡجَحِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الۡیَقِیۡنِ ۙ﴿۷﴾ثُمَّ لَتُسۡئَلُنَّ یَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ ٪﴿۸﴾
” تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کردیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔ پھر ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔ ہرگز نہیں، کاش! تم یقینی طور پر جان لیتے۔ تم ضرور جہنم دیکھ کر رہو گے۔ پھر یقینا تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لوگے۔ پھر اس دن تم سے ضرور نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“ (التکاثر: 1-8)۔
اُس دن اللہ تعالی زمین کو اپنی مٹھی میں کر لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ سے سمیٹ دے گا، پھر کہے گا: ”میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دنیا کے بادشاہ؟
سورہ غافر میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ مِنۡ مَّقۡتِکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ اِذۡ تُدۡعَوۡنَ اِلَی الۡاِیۡمَانِ فَتَکۡفُرُوۡنَ ﴿۱۰﴾قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾ذٰلِکُمۡ بِاَنَّہٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُنَزِّلُ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ؕ وَ مَا یَتَذَکَّرُ اِلَّا مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾رَفِیۡعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الۡعَرۡشِ ۚ یُلۡقِی الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ لِیُنۡذِرَ یَوۡمَ التَّلَاقِ ﴿ۙ۱۵﴾یَوۡمَ ہُمۡ بٰرِزُوۡنَ ۬ ۚ لَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡہُمۡ شَیۡءٌ ؕ لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۷﴾وَ اَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡاٰزِفَۃِ اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَی الۡحَنَاجِرِ کٰظِمِیۡنَ ۬ ؕ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَ مَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾وَ اللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَقۡضُوۡنَ بِشَیۡءٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۲۰﴾اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡا ہُمۡ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۲۱﴾ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَکَفَرُوۡا فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۲﴾
”اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے (قیامت کے دن) انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ : ''(آج) جتنا غصہ تمہیں اپنے آپ پر آ رہا ہے۔ اللہ کو تم پر اس سے زیادہ غصہ آتا تھا جب تمہیں ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی تو تم انکار کردیتے تھے۔ وہ کہیں گے : ”ہمارے پروردگار! تو نے دو دفعہ ہمیں مارا اور دو دفعہ زندہ کیا، ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اب (بتاؤ) کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے؟“ (جواب ملے گا کہ) تمہارا یہ حال اس لئے ہے کہ جب تمہیں صرف ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کوئی شریک بنایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جو عالی شان اور کبریائی والا ہے۔ وہی تو ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لئے رزق اتارتا ہے مگر (ان باتوں سے) سبق تو وہی حاصل کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہو۔ لہٰذا اللہ کو خالصتاً اسی کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے پکارا کرو اگرچہ کافر اسے برا ہی مانیں۔ وہ بلند درجوں والا ہے، عرش کا مالک ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح (وحی) نازل کرتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) ملاقات کے دن سے ڈرائے۔ جس دن سب لوگ کھلے میدان میں ہوں گے اور ان کی کوئی بات بھی اللہ سے چھپی نہ رہے گی ، (اور پوچھا جائے گا کہ) آج حکومت کس کی ہے؟ (پھر خود ہی فرمائے گا صرف اللہ کی جو سب پر غالب ہے۔ آج ہر شخص کو اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا ہوگا ، کسی پر آج ظلم نہیں ہوگا۔ بلاشبہ اللہ فوراً حساب لے لینےوالا ہے۔ اور (اے نبی!) انہیں قریب آ پہنچنے والے دن سے ڈرائیے جب غم کے مارے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے (اس دن) ظالموں کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ ایسا سفارشی جس کی بات مانی جائے۔ اللہ تعالیٰ نگاہوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور ان مخفی باتوں کو بھی جو سپنوں نے چھپا رکھی ہیں۔ اور اللہ ہی انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور اللہ کے علاوہ جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا۔ وہ ان سے قوت میں بھی زیادہ تھے۔ اور اپنی یادگاریں بھی ان سے زیادہ چھوڑ گئے تھے۔ پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں پکڑ لیا۔ اور انہیں اللہ (کی گرفت) سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ یہ اس لئے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے انکار کردیا۔ چنانچہ اللہ نے انہیں پکڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ یقینا بڑی قوت والا اور سخت سزا دینے والا ہے۔“ (غافر: 10-22)۔
سورہ ابراہیم میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَ لَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمۡ لِیَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِیۡہِ الۡاَبۡصَارُ ﴿ۙ۴۲﴾مُہۡطِعِیۡنَ مُقۡنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمۡ لَا یَرۡتَدُّ اِلَیۡہِمۡ طَرۡفُہُمۡ ۚ وَ اَفۡئِدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمُ الۡعَذَابُ فَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ نُّجِبۡ دَعۡوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ ؕ اَوَ لَمۡ تَکُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴿ۙ۴۴﴾وَّ سَکَنۡتُمۡ فِیۡ مَسٰکِنِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ تَبَیَّنَ لَکُمۡ کَیۡفَ فَعَلۡنَا بِہِمۡ وَ ضَرَبۡنَا لَکُمُ الۡاَمۡثَالَ ﴿۴۵﴾وَ قَدۡ مَکَرُوۡا مَکۡرَہُمۡ وَ عِنۡدَ اللّٰہِ مَکۡرُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مَکۡرُہُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡہُ الۡجِبَالُ ﴿۴۶﴾فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ مُخۡلِفَ وَعۡدِہٖ رُسُلَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿ؕ۴۷﴾یَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَیۡرَ الۡاَرۡضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۴۸﴾وَ تَـرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ﴿ۚ۴۹﴾سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّ تَغۡشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾لِیَجۡزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۵۱﴾ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ وَ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۵۲﴾
” (مومنو)! یہ کبھی بھی خیال نہ کرنا کہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ ان سے بے خبر ہے۔ وہ تو انھیں اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس دن نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ وہ یوں اپنے سر اٹھائے اور سامنے نظریں جمائے دوڑے جارہے ہوں گے کہ ان کی نگاہیں ان کی اپنی طرف بھی نہ مڑ سکیں گی اور دل (گھبراہٹ کی وجہ سے) اُڑے جارہے ہوں گے۔ (اے نبی)! آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیے جب عذاب انھیں آلے گا تو اس دن ظالم کہیں گے ”ہمارے پروردگار! ہمیں تھوڑی سی مدت اور مہلت دے دے۔ ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں گے“ (اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے یہ قسمیں کھایا کرتے تھے کہ تمہیں کبھی زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم ایسے لوگوں کی بستیوں میں آباد ہوئے تھے جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تھا اور تم پر یہ بھی واضح ہوچکا تھا کہ ان سے ہم نے کیا سلوک کیا تھا اور تمہارے لئے ان کی مثالیں بھی بیان کردی تھیں۔ ان لوگوں نے (حق کے خلاف) خوب چالیں چلیں۔ حالانکہ ان کی چالوں کا توڑ اللہ کے پاس موجود تھا۔ اگرچہ ان کی چالیں ایسی خطرناک تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔ (اے نبی)! یہ کبھی خیال نہ کرنا کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے جو وعدہ کیا ہے وہ اسے پورا نہ کرے گا ، اللہ یقینا سب پر غالب اور انتقام لینے پر قادر ہے۔ جس دن یہ زمین اور آسمان تبدیل کردیئے جائیں گے اور لوگ اکیلے اور زبردست اللہ کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ اور اس دن آپ مجرموں کو زنجیروںمیں جکڑا ہوا دیکھیں گے۔ ان کے لبادے تارکول کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانک رہی ہوگی۔ یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دے۔ بلاشبہ اللہ فوراً حساب چکا دینے والا ہے۔ یہ قرآن لوگوں تک پہنچانے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعہ انھیں ڈرایا جائے اور اس لئے بھی کہ وہ جان لیں کہ اللہ صرف وہ ایک ہی ہے اور اس لئے بھی کہ دانشمند لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔“ (ابراہیم: 42-52)۔
اللہ تعالی قرآن مجید کو ہمارے اور آپ کے بابرکت بنائے، اس کی آیتوں اور حکیمانہ نصیحتوں کو میرے اور آپ کے لیے نفع بخش بنائے۔


دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا اور زبردست گرفت کرنے والا، غالب اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے، جو دن کو رات پر اور رات کو دن پر لپیٹنے والا ہے۔ درود وسلام نازل ہو نبی مختار پر ، ان کے پاکیزہ آل پر ، مہاجرین وانصار پر، اور بقیہ تمام نیک وبرگزیدہ صحابہ کرام پر اور ان کے راستے پر چلنے والوں اور ان کے نور سے روشنی حاصل کرنے والوں پر۔
اما بعد!
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، ارشادِ باری تعالی ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ۚ اِنَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱﴾یَوۡمَ تَرَوۡنَہَا تَذۡہَلُ کُلُّ مُرۡضِعَۃٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمۡ بِسُکٰرٰی وَ لٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیۡدٌ ﴿۲﴾
” لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے۔ اس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا۔“ (حج: 1-2)۔
اللہ کے بندو! درود وسلام بھیجو نبی ﷺ پر۔
چنانچہ اللہ تعالی نے ان پر درود وسلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”بلا شبہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔“
اے اللہ تو اپنے بندے اور رسول ہمارے سردار محمد ﷺ پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
اور اے اللہ تو ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اور ان کے نیک وپاکیزہ اہل بیت اور ازواجِ مطہرات پر، ان کے روشن پیشانی والے صحابہ کرام پر اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام نازل فرما۔
اے اللہ تو خلفائے راشدین، ہدایت یافتہ ائمہ کرام، ابو بکر وعمر وعثمان وعلی رضی اللہ عنہم سے اور بقیہ تمام صحابہ کرام سے اور تاقیامت نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے راضی ہوجا، اور ان کے ساتھ ساتھ اے اللہ تو اپنے عفو وکرم اور احسان سے ہم سےبھی راضی ہوجا۔
اے اللہ تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اور شرک ومشرکین کو ذلیل ورسوا فرما، اپنے اور اپنے دین کے دشمنوں کو تہ وبالا کردے۔
اور اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن وامان اور خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔
اے اللہ تو ہمیں اپنے وطنوں میں امن وامان نصیب فرما، ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، اور ایسے لوگوں کو مسلمانوں کا حکمراں بنا جو تجھ سے ڈریں، تیری اطاعت کریں اور تیری رضامندی کے کام کریں۔
اے اللہ ! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمارے کام میں اگر زیادتی ہوگئی ہو تو اسے بھی معاف فرما، ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
اے اللہ تو ہمارے اگلے پچھلے، ظاہری وباطنی، اور جن کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے، اُن تمام گناہوں کو بخش دے، یقینا تو ہی اول وآخر اور ہر چیز پر قادر ہے۔
تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تیری ذات پاک ہے، یقینا ہم ہی ظالم ہیں، پس تو ہماری اگلی پچھلی، ظاہری وباطنی اور جن کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے، ساری خطاؤں کو بخش دے۔ اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اللہ کے بندو! ’’ یقیناً اللہ عدل، احسان اور قرابت دار وں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘
لہذا تم عظیم اللہ کو یاد کرو، وہ بھی تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید عطا کرے گا، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
 
Top