ذیشان خان

Administrator
اموی خلیفہ مروان بن حکم کیسے تھے ؟

✒:مامون رشید ہارون رشید سلفی.

مروان بن حکم رحمہ اللہ ایک تابعی تھے بعض لوگوں نے انہیں صحابی بھی کہا ہے کیونکہ ان کی ولادت ایک ہجری میں ہوئی تھی یا بعض لوگوں کے بقول حضرت عبد اللہ بن زبیر کے ایک سال بعد...
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ان کا صحابی ہونا محتمل ہے یعنی امکان ہے کہ وہ صحابی ہوں ...مجھے شیخ الاسلام کی بات قوی لگتی ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت ان کی عمر نو سال یا آٹھ یا سات سال تھی اور ایسے بچے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھنا ممکن ہے... حضرت عبد اللہ بن الزبیر ان سے ایک سال یا ان کے ساتھ پیدا ہو کر صحابی ہو سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں...!!!

ان کے تعلق سے جو بھی باتیں مشہور ہیں وہ سب افواہیں ہیں حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے...مثلا ان کے والد کو اللہ کے رسول نے مدینہ سے بھگا دیا تھا, وہ حضرت عثمان کے نام سے کذبا دوسروں کو احکامات جاری کیا کرتے تھے, حضرت عثمان کے قتل میں ان کا ہاتھ تھا, حسین رضی اللہ عنہ کے قتل میں بھی وہ شامل تھے وغیرہ وغیرہ یہ سب بے اصل باتیں ہیں... البتہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے صحابی جلیل حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو قتل کیا تھا اور اس بات میں کسی بھی ثقہ عالم کا اختلاف نہیں ہے..لیکن یہ قتل کا واقعہ سندا ثابت نہیں ہے اور متنا بھی منکر ہے کیونکہ حضرت طلحہ مروان ہی کی جماعت میں تھے اور دونوں مل کر حضرت عثمان کے قتل کا انتقام لے رہے تھے لہذا یہ معقول ہی نہیں ہے کہ مروان جیسا ایک عقل مند شخص اپنی ہی جماعت کے آدمی کو بلا وجہ قتل کر دے وہ بھی حضرت طلحہ جیسے مبشر بالجنہ صحابی کو...

اس کے علاوہ قابل غور بات یہ ہے کہ امام بخاری نے صحیح بخاری کے اندر ان کی سند سے کئی احادیث ذکر کئے ہیں اسی طرح امام مالک نے بھی ان کے اقوال واراء کو موطا کے اندر ذکر کیا ہے امام مالک جیسے متشدد امام جو کہتے ہیں کہ چار قسم کے لوگوں سے علم نہیں لیا جائے گا بدعتی سے, پاگل سے, جاہل سے اور عابد وزاہد شخص سے جو حدیث کے باب میں مہارت نہ رکھتا ہو. اور جنہوں نے موطا کے اندر صرف فقہا وعلما کے اقوال ذکر کیے ہیں اور مدینہ کے ستر علما نے موطا کی تصنیف میں اور اس کے اندر مذکور باتوں پر ان کی موافقت کی ہے, امام شافعی نے بھی الام کے اندر ان کی روایات ذکر کیا ہے اور ان کے فتاویٰ سے استدلال کیا ہے...اسی طرح امام ابو داؤد ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے بھی سنن کے اندر ان کی احادیث ذکر کیے ہیں...

لہذا امام بخاری اور دیگر ائمہ کا اپنی کتابوں میں ان کی حدیث ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ مروان ان کے نزدیک ثقہ اور عادل شخص تھے...

البتہ عام اموی خلفاء کی طرح وہ بھی ایک خلیفہ تھے اور خلافت کے حصول اور استحکام کے لئے ہو سکتا ہے انہوں نے کچھ غلط اقدامات بھی کئے ہوں لیکن بلا ثبوت کسی کی ذات پر الزامات لگانا اور ان پر لعن طعن کرنا نہایت سنگین امر ہے...

اخیر میں ایک بات یاد رہے کہ بنی امیہ کو زوال کے بعد بھی دو طرح کے دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا ایک تو عباسیوں کی سازشوں کا جو بنی امیہ کی خلافت کو غلط اور ظالم و جابر ثابت کرنے اور اپنی خلافت کو ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز باور کرانے کے چکر میں غلط اور بے اصل حکایات مشہور کر رہے تھے... دوسرا شیعوں کی جانب سے مسلسل فتنہ انگیزیوں کا...

تاریخ کی تدوین عباسی دور میں ہوئی تھی اور اس جانب ثقہ وعادل محدثین کے بجائے واقدی جیسے کذابین نے توجہ کیا تھا...

فی زمانہ تاریخ پر لکھی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ محقق کتابیں ڈاکٹر علی الصلابی کی کتابیں ہیں... لیکن یہ بھی ایک اخوانی بلکہ اخوانیوں کا قائد ہیں اور ان کی کتابوں میں بھی بہت سارے اغلاط واوہام موجود ہیں...
 
Top