ذیشان خان

Administrator
FB_IMG_1610321829888.jpg

یہ وہی امام ہے جس نے مجھے جہمیہ سے الگ کیا

🖊ابو تقی الدین ضیاء الحق سیف الدین

حافظ ابوسعید عثمان بن سعید الدارمی[ت:280ھ] امام یحی بن معین کے مشہور شاگرد ہیں، آپ اہل بدعت پر نہایت سخت تھے، بلکہ ان کے آنکھوں میں کانٹے کی طرح تھے ،امام ذہبی نے لکھا ہے : "كان عثمان الدرامي جذعا في أعين المبتدعة" -
انہوں نے مشہور گمراہ فرقہ "الكرامية" کے بانی اور امام محمد بن عبد اللہ بن کرام کو شہر ہرات سے بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا.
امام عثمان دارمی کی تصنیفات میں "الرد على الجهمية" اور "نقض عثمان بن سعید على المريسي الجهمي العنيد فيما افترى على الله في التوحيد" بہت مشہور ہیں.
حافظ ابن قیم اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے بقول ہر سنی طالب علم کو ان دو کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے، حافظ ابن قیم کے یہ الفاظ ہیں:
"وكتاباه "النقض على بشر المريسي" و "الرد على الجهمية" من أجلّ الكتب المصنّفة في السنّة وأنفعها، وينبغي لكل طالب سنّة مراده الوقوف على ما كان عليه الصحابة والتابعون والأئمة أن يقرأ كتابيه".
آگے لکھا ہے :
"‏وكان ‎شيخ الإسلام ‎ابن تيمية - رحمه الله - يوصي بهما أشد الوصيّة ويعظمهما جداً، وفيهما من تقرير ‎التوحيد والأسماء والصفات بالعقل والنقل ما ليس في غيرهما".
مولانا واصل واسطی - حفظہ اللہ - اپنی مختصر سرگزشت میں لکھتے ہیں :
"راقم ،اپنے شیخ اول جناب مولانا محمد عنایت الرحمن - رحمہ اللہ - اور شیخ ثانی جناب مولانا گوہر رحمن - رحمہ اللہ - کا شاگرد ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے محبت ان دو شیوخ کی وجہ سے میرے دل میں پیدا ہوئی، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے! صفات میں وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ہی کی رائے کو پسندیدہ قرار دیتے تھے، شیخ اول جناب مولانا محمد عنایت الرحمن صاحب اکثر متاخرین کی کتابوں پر اکتفا کرتے تھے، اور انہی کے حافظ تھے، بنیادی اور امہات مراجع پر ان کی نظر محدود تھی، وہ زیادہ سے زیادہ شرح مقاصد، شرح مواقف، المسامرہ، شرح عقائد جلالی، شرح فقہ اکبر وغیرہ تک محدود رہتے تھے، البتہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے مجموع الفتاوی ،منہاج السنہ وغیرہ کا حوالہ بکثرت دیتے تھے".
مولانا واسطی - حفظہ اللہ - آگے لکھتے ہیں :
" سب سے پہلے میں نے اپنے شیخ ثانی جناب مولانا گوہر رحمن صاحب سے یہ بات سنی کہ امام اشعری(ابوالحسن الاشعری ت:324ھ) نے "الإبانة عن أصول الديانة" میں سلف کے مذہب کی طرف رجوع کیا ہے، دونوں "امام العصر جرکسی" (یعنی شیخ محمد زاهد کوثری) کے بھی حوالے دیتے تھے، شیخ اول حنفی فقہ کی خدمت کی وجہ سے ان کی تعظیم میں القاب بھی بیان کرتے تھے، تو مجھے بھی "امام العصر جرکسی" کی کتابوں سے محبت ہو گئی، کرتے کرتے ان کی اکثر کتابیں پڑھ لیں، بعض کتابیں تو دو دو اور تین تین پڑھیں، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مخالفت بھی شروع کی اور انہیں مجسم بھی کہنے لگا تھا، اس لئے کہ "امام العصر جرکسی" نے لکھا تھا کہ انہوں نے (یعنی ابن تیمیہ نے) عثمان بن سعيد دارمی کی تصانیف کے بارے میں وصیت کی ہے کہ ہر سنی طالب علم اسے ضرور پڑھے، حالانکہ امام دارمی کی کتاب میں صراحتاً لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ "جسم" ہے تو جو عالم مجسم آدمی کی کتابوں کے پڑھنے کی وصیت کرتا ہے وہ خود بھی مجسم ہے".
مولانا کی زندگی میں اب انقلاب آتا ہے اور خائن کی خیانت پکڑی جاتی ہے، چنانچہ مولانا اپنی سرگزشت پر روشنی ڈالتے ہوئے آگے لکھتے ہیں :
"مگر میرے پاس امام دارمی کی کتاب "النقض على المريسي" نہیں تھی اور میں اس کی تلاش میں لگا رہا اور پھر ایک دن اتفاقاً ایک چھوٹی دکان پر یہ کتاب مل گئی، اس کی ابتدا میں محقق صاحب نے ابن تیمیہ کی وصیت وہ بھی درج کی تھی، میں اس کو ناقدانہ نظر سے پڑھنے لگا اور نشان لگاتا جاتا تھا تاکہ پھر مباحثہ میں کام آجائے، پوری کتاب پڑھ لی، اللہ تعالیٰ کے لئے "جسم" کا لفظ کہیں بھی نہیں ملا، پھر خیال کیا یہ نسخہ دوسرا ہوگا، لہذا ایک اور مطبوعہ نسخے کی تلاش شروع کی، بہت مشقت کے بعد دوسرا نسخہ ملا، پڑھا، مگر نتیجہ وہی رہا، اس دوسری طبع کو پڑھتے وقت جسمیت کی نفی میں البتہ چند عبارات مل گئیں.
اب مجھے شک پڑا کہ یہ آدمی یعنی امام العصر جرکسی (یعنی زاہد کوثری) خائن نہ ہو، لہٰذا ان کی نقل کردہ عبارتیں اصل کتابوں میں دیکھتا گیا اور حقیقت مجھ پر روشن ہوتی گئی، یہاں تک کہ مجھے اس کے مفتری ہونے کا قطعی یقین ہوگیا اور ان کے افتراءات کا ایک بڑا ذخیرہ میرے پاس جمع ہو گیا، میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے اصل عقیدہ کی طرف پلٹ گیا جو میں نے اپنے اساتذہ سے سیکھا تھا، الحمد للہ رب العالمین، اس رجوع میں اور لوگوں کا بھی تعاون حاصل رہا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، تو یہ عثمان بن سعيد دارمی وہی امام ہے جس نے مجھے جہمیہ سے الگ کیا".
 
Top