وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

حديث" أن النبى صلى الله عليه وسلم غضب حين رأى مع عمر صحيفة فيها شىء من التوراة وقال: أفى شك أنت يا ابن الخطاب؟ ألم آت بها بيضاء نقية؟ لو كان أخى موسى حيا ما وسعه إلا اتباعى "
أخرجه أحمد (٣/٣٨٧) والدارمى (١/١١٥) وابن أبى عاصم فى " السنة " (٥/٢) وابن عبد البر فى " جامع بيان العلم " (٢/٤٢) والهروى فى " ذم الكلام " (٤/٦٧ ـ ٢) والضياء المقدسى فى " المنتقى من مسموعاته بمرو " (٣٣/٢) وابن الضريس فى " فضائل القرآن " (١/٧٦/١) والهروى فى " ذم الكلام " (٣/٦٤/١) وعبد الغنى المقدسى فى " الجواهر " (ق ٢٤٥/١) ...صححه الإمام ابن كثير وحسنه الالباني وقواه شعيب الأرنؤوط بشواهده.
 
🍁(سیدنا)جابر(بن عبداللّٰه الانصاری)سے روایت ہےکہ رسول اللّٰه ﷺ کےپاس عمر بن الخطاب رضی اللّٰه عنهما تورات کا ایک نسخہ لےکر آئےتو کہا:یا رسول اللّٰه!یہ تورات کا ایک نسخہ ہےتو آپ خاموش ہوگئے,پهر وہ(سیدناعمر اسے) پڑهنےلگےاور رسول اللّٰه ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو رہا تهاتو ابوبکر(رضی اللّٰه عنه)نےکہا:تجهےگم کرنےوالیاں گم پائیں!کیا تم رسول اللّٰه ﷺ کےچہرےکی طرف نہیں دیکهتے؟پهر عمر رضی اللّٰہ عنہ نےرسول اللّٰه ﷺ کےچہرےکی طرف دیکها تو کہا:میں اللّٰه اور اس کےرسول ﷺ کےغضب سےاللّٰه تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں,ہم اللّٰه کےرب ہونے,اسلام کےدین ہونےاور محمد(ﷺ)کے نبی ہونےپر راضی ہیں تو رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم نےفرمایا"اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں محمد(ﷺ)کی جان ہے!اگرتمہارےسامنےموسی(علیه السّلام)ظاہر ہوجائیں,پهرتم مجهےچهوڑ کر ان کی اتباع کرو توسیدهےراستےسےبهٹک کرگمراہ ہوجاؤگےاور اگر وہ(موسی علیه السّلام) زندہ ہوتےاور میرا دورِنبوت پاتےتومیری اتباع کرتے_"
{دارمی:441_اضواءالمصابیح:194}
تحقیق الحدیث:سندہ ضعیف
+مجالدبن سعید ضعیف عندالجمہور ہے_(اضواءالمصابیح:238,255/1,مکتبہ اسلامیہ)
+اس کےتمام شواهد بهی ضعیف ہیں_{اضواءالمصابیح،جلد۱،ص:۲۳۸،۲۳۹}
 
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

حديث" أن النبى صلى الله عليه وسلم غضب حين رأى مع عمر صحيفة فيها شىء من التوراة وقال: أفى شك أنت يا ابن الخطاب؟ ألم آت بها بيضاء نقية؟ لو كان أخى موسى حيا ما وسعه إلا اتباعى "
أخرجه أحمد (٣/٣٨٧) والدارمى (١/١١٥) وابن أبى عاصم فى " السنة " (٥/٢) وابن عبد البر فى " جامع بيان العلم " (٢/٤٢) والهروى فى " ذم الكلام " (٤/٦٧ ـ ٢) والضياء المقدسى فى " المنتقى من مسموعاته بمرو " (٣٣/٢) وابن الضريس فى " فضائل القرآن " (١/٧٦/١) والهروى فى " ذم الكلام " (٣/٦٤/١) وعبد الغنى المقدسى فى " الجواهر " (ق ٢٤٥/١) ...صححه الإمام ابن كثير وحسنه الالباني وقواه شعيب الأرنؤوط بشواهده.
🍁(سیدنا)جابر(بن عبداللّٰه الانصاری)سے روایت ہےکہ رسول اللّٰه ﷺ کےپاس عمر بن الخطاب رضی اللّٰه عنهما تورات کا ایک نسخہ لےکر آئےتو کہا:یا رسول اللّٰه!یہ تورات کا ایک نسخہ ہےتو آپ خاموش ہوگئے,پهر وہ(سیدناعمر اسے) پڑهنےلگےاور رسول اللّٰه ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو رہا تهاتو ابوبکر(رضی اللّٰه عنه)نےکہا:تجهےگم کرنےوالیاں گم پائیں!کیا تم رسول اللّٰه ﷺ کےچہرےکی طرف نہیں دیکهتے؟پهر عمر رضی اللّٰہ عنہ نےرسول اللّٰه ﷺ کےچہرےکی طرف دیکها تو کہا:میں اللّٰه اور اس کےرسول ﷺ کےغضب سےاللّٰه تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں,ہم اللّٰه کےرب ہونے,اسلام کےدین ہونےاور محمد(ﷺ)کے نبی ہونےپر راضی ہیں تو رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم نےفرمایا"اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں محمد(ﷺ)کی جان ہے!اگرتمہارےسامنےموسی(علیه السّلام)ظاہر ہوجائیں,پهرتم مجهےچهوڑ کر ان کی اتباع کرو توسیدهےراستےسےبهٹک کرگمراہ ہوجاؤگےاور اگر وہ(موسی علیه السّلام) زندہ ہوتےاور میرا دورِنبوت پاتےتومیری اتباع کرتے_"
{دارمی:441_اضواءالمصابیح:194}
تحقیق الحدیث:سندہ ضعیف
+مجالدبن سعید ضعیف عندالجمہور ہے_(اضواءالمصابیح:238,255/1,مکتبہ اسلامیہ)
+اس کےتمام شواهد بهی ضعیف ہیں_{اضواءالمصابیح،جلد۱،ص:۲۳۸،۲۳۹}
 
Top