الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث کی رو سے وتر کو رات کی آخری نماز قرار دیا گیا ہے،جیسا کہ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘وترکو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔’’(صحیح بخاری،الوتر:۹۹۸)

لیکن احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہﷺ نماز وتر کے بعد دورکعت بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے ،جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ کا یبا ن ہے۔آپ نماز وتر کے بعد دورکعت بیٹھ کر پڑھتے اور جب رکوع کرناہوتا تو کھڑے ہوجاتے تھے۔(صحیح مسلم،حدیث نمبر:۷۳۸)

اور حضرت ام سلمہؓ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نماز وتر کے بعد بیٹھ کردوہلکی پھلکی رکعات پڑھتے تھے۔(مسندا مام احمد،ص:۲۹۸ج۶)

حضرت ابوامامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نماز وتر کے بعد دورکعت پڑھتے تھے اور ان میں سورۃ الزلزلال اور سورۃ الکافرون پڑھتے تھے۔ (طحاوٰی ،ص:۲۰۲،ج۱۲)

وتر کے بعد دورکعت پڑھنے کے متعلق آپ کا عمل ہی نہیں بلکہ احادیث میں ارشاد بھی منقول ہے،جیسا کہ حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے ہمراہ کسی سفر میں تھے آپ نے فرمایا:‘‘یہ سفر بہت مشقت طلب اور بھاری ہوتا ہے ،جب تم میں سے کوئی وترپڑھے تو اسے چاہیے کہ دورکعت بھی ان کے بعد پڑھ لے اگر تہجد کے لئے بیدار ہواتو زہے قسمت! اگر نہ اٹھ سکا تو یہ دورکعت اس کےلئے کافی ہوں گے۔’’ (دارقطنی،الوتر:۱۲۲۵)

اگرچہ مذکورہ بالاحدیث کہ تم نماز وترکو رات کی آخری نماز بناؤاور رسول اللہﷺ کے وتر کے بعد دورکعت پڑھنے کے متعلق عمل اور ارشاد میں بظاہر تضا د معلوم ہوتا ہے لیکن ائمہ حدیث نے ان کےدرمیان تطبیق کی متعدد صورتیں بیان کی ہیں،چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ نماز وتر کو رات کی آخری نماز قرار دینا اس صورت میں ہے کہ جب وتر رات کے آخری حصے میں پڑھے جائیں۔(فتح الباری،ص:۲۹۹،ج۲)

علامہ نووی ؒ نے وتر کے بعد دورکعت پڑھنے کو جوازپر محمول کیا ہے اور نمازوتر کو رات کی آخری نماز بنانا استحباب پر مبنی قرار دیا ہے۔ (شرح صحیح مسلم)

حافظ ابن قیمؒ کہتے ہیں کہ وتر مستقل ایک عبادت ہے ،اس لئے ان کے بعد دورکعت ان کی تکمیل کےلئے بطور سنت اد ا کی جاتی ہیں ،جیسا کہ مغرب کی نماز کے بعد دورکعت پڑھی جاتی ہیں۔ (زادالمعاد،ص:۳۲۳،ج۱)

ہمارے نزدیک نماز وتر کے بعد دورکعت پڑھنا مستحب ہے کیونکہ رسول اللہﷺ کا عمل اور قول یہی ہے لیکن انہیں بیٹھ کرپڑھنے کی بجائے کھڑے ہوکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ بیٹھ کر اداکرنا رسول اللہﷺ کا خاصہ ہے ،جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم،صلوٰۃ المسافرین:۱۷۱۵)

ان رکعات کا اداکرنا فضیلت کا باعث ہے اگر کوئی انہیں ادا نہیں کرتا تو اس کے متعلق کوئی وعید نہیں ،بہتر ہے نماز وتر کے بعد دورکعت کھڑے ہوکراد اکرنے کا اہتمام کیا جائے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


فتاوی اصحاب الحدیث
جلد:2 صفحہ:155
 
Top