>>>===🌷*احکام الخلع*🌷===<<
📝تحریر:الشیخ ابومحمدعبدالاحدسلفی
💐جو عورت اپنےشوہر کو ناپسند کرتی ہو,وہ معاوضہ دےکر شوہر سےعلیحدگی حاصل کرسکتی ہے,شرع میں اسےخلع کہتے ہیں_"
💐خلع حاصل کرنےکےلیےدرج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:
🌸ناپسندیدگی اس حد تک ہونا کہ علیحدگی نہ ہونےکی صورت میں حدوداللّٰه کےٹوٹنےکا خطرہ ہو_
🌸خلع کامعاملہ میاں بیوی یا ان کےخاندان کےدرمیان باہمی افہام و تفہیم سےطے نہ ہو سکےتو عورت شرعی عدالت کی طرف رجوع کرسکتی ہے_
🌸خلع کیلئے عورت سےلیا جانےوالا معاوضہ کم وبیش مہر کےبرابر(یا جتنا بهی کم ہو سکے)ہونا چاہئے_
💐خلع فسخ نکاح ہےطلاق نہیں:
🌸امام خطابی رحمه اللّٰه نےفرمایا"خلع فسخ نکاح ہےطلاق نہیں_"
{معالم السنن:۲۵۵/۳}
🌸مُفتی عبدالرحمن عابد حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نےفرمایا"اگرخلع طلاق ہوتی تو اس کی عدّت ایک حیض نہیں بلکہ تین حیض ہوتی جو قرآن حکیم کاصریح حکم ہے_"
{فتاویٰ الدّعوۃ:جلد۱،صفحہ۳۸۴,دارالاندلس}
🌸امام محمد بن اسماعیل الامیر الصنعانی رحمه اللّٰه نےفرمایا"اگرخلع طلاق ہوتی تو ایک حیض عدت پر اکتفا نہ ہوتا بلکہ تین حیض گزارنےپڑتے_"
{سبل السلام:۱۶۷/۳_کتاب الحدیث لابومحمدعبدالاحدسلفی,قلمی نسخه,جلد۱,صفحه۱۸۶}
💐خلع کی عدّت اور رجوع:
🌸خلع کی عدّت ایک حیض یا حمل کی صورت میں وضع حمل ہے(اور اگرحیض نہ آتےہوں توعدّت ایک ماہ ہوگی)_لیکن یہ عدت دوسری جگہ نکاح کےلیے ہےیعنی ایک حیض ختم ہونےیا وضع حمل سےپہلےخلع والی عورت کادوسری جگہ نکاح نہیں ہوسکتا_یہ عدت پہلےخاوندکے رجوع کےلیےنہیں ہےکیونکہ خلع سےنکاح مکمل ٹوٹ چکا ہےخاوند رجوع نہیں کرسکتا_
🍀ہاں اگرخلع والی عورت اپنےپہلےخاوند سےصُلح پرتیار ہےتو ان دونوں کا آپس میں(عدّت کےبعد)نیا نکاح ہوسکتا ہے_
🍀اس مسئلےمیں حنفی وغیرہ علماء کہتے ہیں کہ خلع والی عورت مطلقہ کی طرح تین مہینےیا وضع حمل کی عدت گزارےگی,لیکن راجح یہی ہےکہ وہ ایک حیض یا حمل کی صورت میں وضع حمل کی عدت گزارنےکےبعد دوسرا نکاح کرسکتی ہے_
🌸حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أُمِرَتْ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ۔
انہوں نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں خلع لیا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ( یا انہیں حکم دیا گیا )کہ وہ ایک حیض عدت گزاریں۔"
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ربیع کی حدیث کہ انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا گیا صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی اللّٰه عنہما سے بھی روایت ہے۔

🌸حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّتَهَا حَيْضَةً . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مُرْسَلًا.
ثابت بن قیس رضی اللّٰہ عنہ کی بیوی نے ان سے خلع کر لیا تو نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کی عدّت ایک حیض مقرر فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے عمرو بن مسلم سے عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا۔
تخریج:[سنن الترمذی(1185م,وقال:"حسن غریب"_وسنن ابی داود(2229)_والمستدرک للحاکم(206/2,ح2825_وصححہ الحاکم ووافقہ الذہبی فی تلخیصہ_وفتاویٰ علمیّه(ج2,ص192)
تحقیق:و سندہ حسن لذاتہ
اسے امام عبدالرزاق کامُرْسَلاً بیان کرناعلتِ قادحہ(ضعف کی وجہ)نہیں بلکہ زیادتِ ثقہ کی مقبولیت کےاُصول سےیہ روایت مرسلاً اور متصلاً دونوں طرح صحیح ہے۔
{دیکهئےفتاوی علمیه,ج2,ص192_و کتاب الحدیث,قلمی,جلد1,صفحہ186}
🌸أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رُبَيِّعَ بِنْتِ مُعَوِّذٍ قَالَ قُلْتُ لَهَا حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ قَالَتْ اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا عَلَيَّ مِنْ الْعِدَّةِ فَقَالَ لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِهِ فَتَمْكُثِي حَتَّى تَحِيضِي حَيْضَةً قَالَ وَأَنَا مُتَّبِعٌ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ۔
حضرت عُبادہ بن ولید بن عُبادہ بن صَامِت سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رُبیع بنت مُعوّذ رضی اللّٰہ عنہا سے کہا کہ مجھے اپنا واقعہ بیان کیجیے ۔ وہ کہنے لگی کہ میں نے اپنے خاوند سے خلع لیا‘ پھر میں حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے پاس حاضر ہوئی اور آپ سے پوچھا : مجھ پر کتنی عدّت واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا : تجھ پر کوئی عدّت واجب نہیں مگر یہ کہ تیرے خاوند نے تجھ سے اس طہر میں جماع کیا ہو تو پھر تو ایک حیض انتظار کر ۔انہوں نے فرمایا : اس سلسلے میں میں نے مریم مغالیہ کی بابت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فیصلے کی پیروی کی ہے ۔ وہ حضرت ثابت بن قیس بن شمّاس کے نکاح میں تھی اور انہوں نے ان سے خلع لے لیا تھا۔"
{سنن النسائی:ج۶,ص۱۸۶-۱۸۷,ح۳۵۲۸,وسندہ حسن,واللفظ لہ_سنن ابن ماجه:۲۰۵۸,وقال الحافظ ابن حجرفی فتح الباری:۳۹۹/۹,تحت ح۵۲۷۳:"واسنادہ جید"}
🌸مریم المغالیہ سےمُراد ثابت بن قیس رضی اللّٰه عنهماکی وہ بیوی ہےجس نےان سےخلع لیا تها اور رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم نےانہیں ایک حیض کی عدت گزارنےکا حکم دیا تها_"
{دیکهئے:الاصابہ:جلد واحد,ص۱۷۶۶_فتاویٰ علمیّه,کتاب النکاح:ج۲,ص۱۹۳,مکتبہ اسلامیہ}
🌸عین ممکن ہےکہ مریم المغالیہ سےمُراد حبیبہ بنت سہل کےعلاوہ کوئی اور ہو_واللّٰه اعلم
💐سیّدناعبداللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنه سےروایت ہےکہ ربیع(بنت معوذرضی اللّٰه عنها)نےاپنےشوہر سےخلع لیا پهر اس کا چچا(سیّدنا)عثمان(رضی اللّٰه عنه)کےپاس گیا تو انہوں نےفرمایا:"وہ ایک حیض کی عدّت گزارےگی_"
سیّدنا ابن عمررضی اللّٰه عنه پہلےیہ فتوی دیتےتهےکہ وہ تین حیض کی عدّت گزارےگی,جب سیّدنا عثمان رضی اللّٰه عنه نےیہ فتوی دیا تو پهر وہ اسی کےمطابق فتوی دیتےتهےاور فرماتےتهے"وہ ہم سب سےبہتر ہیں اور(ہم سب میں)سب سےزیادہ علم والےہیں_"
{مصنف ابن ابی شیبه:جلد۵,صفحه۱۱۴,رقم الحدیث۱۸۴۵۶,وسندہ صحیح}
💡فقه الحدیث:
اس سےمعلوم ہوا کہ سیّدنا ابن عمررضی اللّٰه عنه نےاپنےسابقہ فتوےسےرجوع کر لیا تها_
🌸امام نافع مولٰی ابن عمررحمه اللّٰه سےروایت ہےکہ ابن عمر(رضی اللّٰه عنه)نےفرمایا"خلع والی عورت کی عدّت ایک حیض ہے_"
{مصنف ابن ابی شیبه:جلد۵,صفحه۱۱۴,رقم الحدیث۱۸۴۵۵,وسندہ صحیح}
🌸امام شافعی رحمه اللّٰه نےفرمایا"اخبرناسفیان بن عیینۃ عن عمرو بن دینار عن طاؤس عن ابن عباس رضی اللّٰه عنه فی رجل طلق امراته تطلیقتین ثم اختلعت منه بعد فقال:یتزوجها ان شاء...."ایک آدمی نےاپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں پهر اس کےبعد اس عورت نےاپنےشوہر سےخلع لےلیا تو اس کےبارے(سیّدنا)عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنه نےفرمایا"اگر وہ چاہےتو اس سے(دوبارہ)نکاح کرسکتی ہے..._"
{کتاب الام:جلد۵,صفحه۱۱۴,وسندہ صحیح}
اس اثر کی سند صحیح ہے_اگر سفیان بن عیینہ سےامام شافعی نےروایت کی ہوتو یہ روایت سماع پر محمول ہوتی ہے_"
[دیکهئے:النکت للزرکشی,صفحه:۱۸۹_الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین,صفحه:۴۲]
فوائد:
🌸اس اثرسےمعلوم ہوا کہ سیّدناعبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنه خلع کو فسخ سمجهتےتهےلہٰذا وہ اس کےبعد دونوں کےدرمیان دوبارہ نکاح کوجائز سمجهتےتهے_یعنی"طلقها تطلیقۃ"کی رو سےاگر شوہر ایک طلاق دےبهی دےتو پهر بهی فسخ ہے_
🌸ثقہ تابعی میمون بن مہران رحمه اللّٰه نےفرمایا"یتزوّجھا ویسمّی لھا مھرًا جدیدًا۔ وہ اگر چاہےتو نکاح کرےگا اور نیا حق مہر باندهےگا_"
(مصنف ابن ابی شیبه:۱۲۲/۵ح۱۸۵۰۴,وسندہ صحیح_فتاویٰ علمیّه للشیخ حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللّٰہ،کتاب النکاح:جلد۲,صفحہ۱۹۴)
🌸امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللّٰہ نےفرمایا"اس نے(اگر)جورقم اس عورت سے لی ہےتو اس سےکم حق مہر کےساتھ اس سے نکاح نہ کرے۔"
(مصنف ابن ابی شیبہ:۱۲۲/۵ح۱۸۵۰۳،وسندہ صحیح)
🌻🌻🌻🌻🌻🌻(۲۱-۱۲-۲۰۲۰ء)🌻🌻🌻🌻🌻🌻
و ما علینا الا البلاغ
 
Top