🌺🍁نمازجنازہ کا مسنون طریقہ🍁🌺
تحریر:🌴(شیخ ابومحمدعبدالاحدسلفی حفظه اللّٰه)🌴
🌺1*وُضو کریں_
{مسلم فی صحیحہ:224/1ح535_بخاری:6251}
🌺2*شرائط نماز پوری کریں_
{صحیح البخاری:631}
🌺3*قِبلہ رُخ کهڑےہوجائیں_
{موسوعۃ الاجماع فی الفقۃ الاسلامی:جلد2صفحه704}
نوٹ:زبان سےنیت کرناثابت نہیں ہے_لہذا دل میں نیت ہونی چاہئے۔
{فقه الاسلام لشیخ ابومحمدعبدالاحدسلفی(قلمی نسخه),صفحه:54}
🌺4*تَکبیرکہیں_
{عبدالرزاق:6428وسندہ صحیح}
🌺5*تکبیر کےساتھ رَفع الیَدین کریں,(ہرتکبیرکےساتھ رفع الیدین کرناچاہئے)_"
{ابن ابی شیبه فی المصنف:11380وسندہ صحیح}
🌺6*اپنادایاں ہاتھ اپنی بائیں ذراع پررکهیں_
{بخاری:740_امام مالک فی المؤطا:377}
یا
*دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر,سینےپررکهیں_
{امام احمدفی المسندہ:22313وسندہ حسن}
🌺7*"أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ"پڑهیں_
{سنن ابی داود:775وسندہ حسن}
🌺8*"بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"پڑهیں_
{سنن النَسائی:906_احمد:497/2واسنادہ صحیح}
🌺9*سورۃ الفاتحہ پڑهیں_
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ﴿۷}
{بخاری:1335_عبدالرزاق:6428_شرح صحیح بخاری(مولاناداؤدراز):329,332/2,اشاعت2016ء,مکتبہ اسلامیہ_ابوداود:3198_ترمذی:1027_نسائی:1986}
🌸أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ وَجَهَرَ حَتَّى أَسْمَعَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «سُنَّةٌ وَحَقٌّ»
حضرت طلحہ بن عبداللّٰہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کے پیچھے ایک میت کا جَنازہ پڑھا ۔ انھوں نے سورۂ فاتحہ اور ایک اور سورت پڑھی اور ( دونوں ) بلند آواز سے پڑھیں حتی کہ ہمیں سنائی دیں ۔ جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : یہ سنت اور حق ہے ۔ "
{سنن النسائی:74,75/4ح1989وسندہ صحیح}
🌸أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ قَالَ: «السُّنَّةُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَنْ يَقْرَأَ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ مُخَافَتَةً، ثُمَّ يُكَبِّرَ ثَلَاثًا، وَالتَّسْلِيمُ عِنْدَ الْآخِرَةِ»
سیّدنا ابواُمامہ رضی اللّٰه عنه سےروایت ہےکہ انہوں نےکہا"نمازجَنازہ میں سنت یہ ہےکہ پہلی تکبیر کےبعدسورۃ فاتحہ آہستہ پڑهی جائے(جہراًپڑهنابهی ثابت ہے_بخاری:۱۳۳۵)_پهرتین تکبیریں کہےاور آخری تکبیرپرسلام پهیر دے_"
[نسائی کتاب الجنائز,باب الدعاء:۱۹۹۱,وقال الشیخ البانی رحمه اللّٰه:اسنادہ صحیح]
🌸شیخ عبدالقادر بن ابی صالح عبداللّٰه بن جنکی دوست الجیلی(متوفی 10ربیع الآخر561ہجری)نےفرمایا"(نمازجَنازہ میں) پہلی تکبیرکےبعدسورۃ الفاتحہ پڑهیں_"
{غنیۃ الطالبین,صفحه:557,مترجم:حافظ مبشرحسین لاہوری,مطبوعہ:علی آصف پرنٹرزلاہور,ناشر:نعمانی کتب خانہ لاہور}
🌺10*پھرآمین کہیں_
{سنن النسائی:906_ابن حبان,الاحسان:1805وسندہ صحیح}
🌺11*پھر"بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "پڑهیں_
{مسلم:400/54_شافعی فی الام:108/1}
🌺12*پھرکوئی ایک سورت پڑهیں_
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ وَجَهَرَ حَتَّى أَسْمَعَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «سُنَّةٌ وَحَقٌّ»
حضرت طلحہ بن عبداللّٰہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کے پیچھے ایک میت کا جنازہ پڑھا ۔ انھوں نے سورۂ فاتحہ اور ایک اور سورت پڑھی اور ( دونوں ) بلند آواز سے پڑھیں حتی کہ ہمیں سنائی دیں ۔ جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : یہ سنت اور حق ہے ۔
{سنن النسائی:74,75/4ح1989وسندہ صحیح}
🌺13*پهر تکبیرکہیں اور رفع الیدین کریں_
{ماہنامہ الحدیث:3صفحہ20}
🌺14*نبی صلی اللّٰه علیه وسلم پردُرود پڑهیں_
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
{مصنف عبدالرزاق:489/3ح6428 وسندہ صحیح۔صحیح البخاری:۳۳۷۰ وسندہ صحیح}
🌺15*پهر تکبیرکہیں_
{بخاری:1334_مسلم:952}
🌺16*اوررفع الیدین کریں_
{مصنف ابن ابی شیبہ:296/3ح11380_جزء رفع الیدین للبخاری(مترجم),صفحہ105حدیث:178 وسندہ صحیح}
🌺17*میت کےلیےخالص طور پر دُعاکریں_
{مصنف عبدالرزاق:6428}
چندمسنون دعائیں درج ذیل ہیں:
🌸اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ،اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَااَجْرَہُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہُ۔
{سنن الترمِذی:۱۰۲۴ وسندہ صحیح۔السنن الکبری للبیھقی:۴۱/۴۔موطاامام مالک:۲۲۸/۱ وسندہ صحیح}
🌸اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَآءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِّنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِّنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِّنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ عَذَابِ النَّارِ۔
{صحیح المسلم:۲۲۳۲/۹۶۳}
🌸اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَذَابِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيمُ .
{سنن ابن ماجہ:۱۴۹۹،سنن ابی داود:۳۲۰۲ وسندہ حسن}
*میت پرکوئی دعا موقت(خاص طور پرمقررشدہ)نہیں ہے_لہذا دُعائیں جمع کی جاسکتی ہیں_
{مصنف ابی ابی شیبه:295/3ح11370 وسندہ صحیح}
🌺18*پهرتکبیر کہیں_
{بخاری:1334_مسلم:952}
🌺19*رفع الیدین کریں_
{سنن الکبری للبیهقی:72/4ح6993_مصنف ابن ابی شیبه:499/2ح11491 وسندہ صحیح}
🌺20*پهردائیں طرف ایک سلام پهیردیں_
{مصنف عبدالرزاق:489/3ح6428وسندہ صحیح,وهومرفوع_مصنف ابن ابی شیبه:307/3ح11491,عن ابن عمرمن فعله وسندہ صحیح_فقه الاسلام از ابومحمدعبدالاحدسلفی,(قلمی نسخه),صفحه:232}
💐*امام احمدرحمه اللّٰه کےنزدیک صرف ایک سلام ہی مستحب ہےآپ کاکہناہےکہ"6صحابہ سےایک طرف سلام پهیرنا مروی ہےجن میں سیّدناعلی,عثمان,ابن عباس,ابن ابی اوفی,ابوہریرہ اور وائلہ بن اثقع رضی اللّٰه عنهم اجمعین شامل ہیں_
{غنیتہ الطالبین(مترجم),صفحہ:557,نعمانی کتب خانه لاہور}
🌲تنبیہ:نمازجنازہ میں دونوں طرف سلام پهیرنا نبی صلی اللّٰه علیه وسلم سےثابت نہیں ہے_
شیخ ناصرالدین البانی رحمه اللّٰه نے(احکام الجنائز:صفحه۱۲۷میں بحوالہ بیهقی:۴۳/۴)نمازجنازہ میں دونوں طرف سلام والی روایت لکھ کراسےحسن قراردیاہے_لیکن اس کی سند دو وجہ سےضعیف ہے_
🌱*حماد بن ابی سُلیمان مُختلط ہےاور یہ روایت قبل ازاختلاط نہیں ہے_
🌱*حماد بن ابی سُلیمان مدلس ہے,اور یہ روایت معنعن ہے__
{طبقات المدلسین:۴۵/۲}
💐>نمازجنازہ میں ثناء یا دعائے استفتاح پڑهنا کسی صحیح یاحسن روایت سےثابت نہیں ہے_
🌸أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ قَالَ: «السُّنَّةُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَنْ يَقْرَأَ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ مُخَافَتَةً، ثُمَّ يُكَبِّرَ ثَلَاثًا، وَالتَّسْلِيمُ عِنْدَ الْآخِرَةِ»
سیّدنا ابواُمامہ رضی اللّٰه عنه سےروایت ہےکہ انہوں نےکہا"نمازجَنازہ میں سنت یہ ہےکہ پہلی تکبیر کےبعدسورۃ فاتحہ آہستہ پڑهی جائے(جہراًپڑهنابهی ثابت ہے_بخاری:۱۳۳۵)_پهرتین تکبیریں کہےاور آخری تکبیرپرسلام پهیر دے_"
[نسائی کتاب الجنائز,باب الدعاء:۱۹۹۱,وقال الشیخ البانی رحمه اللّٰه:اسنادہ صحیح]
🌸*امام ابن قدامہ رحمه اللّٰه کہتےہیں:ابن المنذر رحمه اللّٰه نےکہا کہ سفیان ثوری رحمه اللّٰه نمازجنازہ میں دعائےاستفتاح کومستحب سمجهتےتهے,لیکن ہم نےجنازہ میں دعائےاستفتاح کا باقی اہل علم کی کتب میں کہیں ذکرنہیں پایا_"
{المغنی لابن قدامه:۳۶۶/۲}
🌸*علامہ ناصرالدین البانی رحمه اللّٰه نےنمازجنازہ میں دعائےاستفتاح کوبدعت قرار دیا اور کہا کہ سنت میں اس کی کوئی مرفوع,صحیح اور صریح حدیث نہیں ہے_"
{احکام الجنائز,صفحه:۱۵۳۔فتاویٰ الدّعوة لمفتی عبدالرحمٰن عابد}
💐*نمازجنازہ جہراً و سراً پڑهنا*
🌸نمازجنازہ جہراً یعنی بلندآواز سےاور سراً یعنی آہستہ آواز سےدونوں طرح پڑهانا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم سےثابت ہے_
🌺*جہراً کےلیےدیکهیں_
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ وَجَهَرَ حَتَّى أَسْمَعَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «سُنَّةٌ وَحَقٌّ»
حضرت طلحہ بن عبداللّٰہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کے پیچھے ایک میت کا جنازہ پڑھا ۔ انھوں نے سورۂ فاتحہ اور ایک اور سورت پڑھی اور ( دونوں ) بلند آواز سے پڑھیں حتی کہ ہمیں سنائی دیں ۔ جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : یہ سنت اور حق ہے۔ "
{سنن النَسائی,کتاب الجنائز,باب الدعاء:۱۹۸۹واسنادہ حسن صحیح_وصحیح مسلم,کتاب الجنائز,باب الدعاءللمیت...الخ:۹۶۳_وابوداؤد,کتاب الجنائز,باب الدعاء للمیت:۳۲۰۲واسنادہ حسن صحیح_وصحیح البخاری:۱۳۳۵}
🌺سراً کےلیےدیکهیں_
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ قَالَ: «السُّنَّةُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَنْ يَقْرَأَ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ مُخَافَتَةً، ثُمَّ يُكَبِّرَ ثَلَاثًا، وَالتَّسْلِيمُ عِنْدَ الْآخِرَةِ»
حضرت ابواُمامہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز جَنازہ میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد سورۂ فاتحہ آہستہ پڑھے ، پھر تین تکبیریں کہے اور آخری تکبیر کے بعد سلام پھیر دے ۔
{نسائی,کتاب الجنائز,باب الدعاء:۱۹۹۱}
💐*مسجد میں نمازجنازہ پڑهنا,اورخواتین کانمازجنازہ پڑهنا*:
🌸و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَمَرَتْ أَنْ يَمُرَّ بِجَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ النَّاسُ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
"عبدالعزیز بن محمد نے عبدالواحد بن حمزہ سے اور انھوں نے عباد بن عبداللّٰہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا جَنازہ مسجد میں سے گزارا جائے ( تاکہ )وہ بھی ان کا جَنازہ ادا کرسکیں ۔ آپ کی بات پر لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : لوگ کس قدر جلد بھول گئے! رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے( بدری صحابی)سہیل بن بیضاء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا کی تھی۔"
{مسلم,کتاب الجنائز,باب جنازہ فی المسجد:۲۲۵۲/۹۷۳}
🌸و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِي كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ وَقَالُوا مَا كَانَتْ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ۔
موسیٰ بن عقبہ نے عبدالواحد سے اور انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ ان کے جنازے کو مسجد میں سے گزار کرلے جائیں تا کہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ ادا کرسکیں تو انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے ایسا ہی کیا ، اس جنازے کو ان کے حجروں کے سامنے روک ( کررکھ ) دیا گیا ( تاکہ ) وہ نماز جنازہ پڑھ لیں ۔ ( پھر ) اس ( جنازے ) کو باب الجنائز سے ، جو مقاعد کی طرف ( کھلتا ) تھا ، باہر نکالا گیا ۔ اس کے بعد ان ( ازواج ) کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے معیوب سمجھا ہے اور کہا ہے : جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا ۔ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک پہنچی تو انھوں نے فرمایا : لوگوں نےاس کام کو معیوب سمجھنے میں کتنی جلدی کی جس کا انھیں علم نہیں!انھوں نے ہماری اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ جنازہ مسجد میں لایاجائے ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا۔"
{مسلم,کتاب الجنائز,باب جنازہ فی المسجدا:۲۲۵۳/۹۷۳}
فقه الحدیث:
🌸مفتی عبدالرحمن عابدحفظه اللّٰه فرماتےہیں:"اگرخواتین کاجنازہ پڑهنادرست نہ ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللّٰه عنهم اجمعین ان کاحکم ماننےکےبجائےانہیں اس کی اجازت نہ دیتے_صحابہ کرام رضی اللّٰه عنهم اجمعین میں کسی ایک سےبهی خواتین کےجنازہ پڑهنےکاانکار نہیں ملتا_"
(فتاویٰ الدّعوۃ:جلد۱صفحه۳۰۲-۳۰۳)
🌷🌷🌷🌷🌷🌷(۲۱-۱۲-۲۰۲۰ء)🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
و ما علینا الا البلاغ
 
Last edited:
Top