*********** *ابوحنیفہ کی پہچان* ***************
تحریر:*ڈاکٹرراشدمنہاس سعید(ابومحمدعبدالاحدسلفی)*
*ابوحنیفہ(نعمان بن ثابت بن زوطیٰ الکوفی الکابلی)پر محدثین کی جرح*:
1-امام یحیی بن معین نےکہا"اس کی حدیث نہ لکهی جائے_"
[الکامل فی ضعفاءالرجال:جلد7وسندہ صحیح_تاریخ بغداد:450/13_المنتظم:137/8من طریق الخطیب_دیوان الضعفاء:404/2ت4389]
مذیدکہا"ابوحنیفہ مرجی تهے...اوروہ حدیث میں کچه چیز نہیں تهے_"
[کتاب السنہ:402وسندہ صحیح,مخطوط مصور:ص22]
2-امام سفیان ثوری نےکہا"ثقہ نہیں ہے_"
[تاریخ ابی زرعہ الدمشقی:ص247]
3-امام مسلم نےکہا"صاحب الرائے مضطرب الحدیث ہے_"
[کتاب الکنی للمسلم:ص310_تاریخ بغداد:451/13]
4-امام ابن مبارک نےکہا"حدیث میں یتیم تها_"
[مختصرقیام اللیل:ص212]
5-امام شافعی نےکہا"غلط مسئلےگهڑتا پهرساری کتاب کواس پرقیاس کرتاتها_"
[آداب الشافعی ومناقب:ص171]
6-امام احمدبن حنبل نےکہا"جهوٹ بولتا تهااس کی حدیث ضعیف ہے_"
[کتاب الضعفاء الکبیر:284,285/4]
7-امام ابن جوزجانی نےکہا"قابل اعتمادنہیں_"
[کتاب احوال الرجال:ص75]
8-امام بخاری نےکہا"مرجی تها.._"
[التاریخ الکبیر:385/7]
9-امام نسائی نےکہا"حدیث میں قوی نہیں.._"
[کتاب الضعفاء والمتروکین:ص310]
*ابوحنیفہ فارسی نہیں تهے*
+جس روایت میں آیاہےکہ امام ابوحنیفہ فارسی ہیں,اس روایت کی سند موضوع(من گهڑت)ہے,
اس میں احمدبن عبیداللّٰه(عبداللّٰه)بن شاذان اور اس کا باپ دونوں نامعلوم ہیں,
شاذان(نضربن سلمہ)سچا نہیں تها_"
[الجرح والتعدیل:480/8]
_وہ حدیثیں چوری(کرکےروایت)کرتا تها,اسےاحمد بن محمد بن عبدالکریم نےجهوٹا قرار دیا_"
{المجروحین لابن حبان:80/3}
_اس سَند کا آخری راوی اسماعیل بن حماد ضعیف ہے_"
{الکامل لابن عدی:308/1}
+اس موضوع روایت کےبرعکس عمربن حمادبن ابی حنیفہ سےثابت ہےکہ امام ابوحنیفہ کےدادا"زوطی"کابل والوں میں سےتهے_"
[دیکهئے تاریخ بغداد:324/13وسندہ صحیح الی عمربن حماد,واخبارابی حنیفہ واصحابہ للصیمری,صفحه:1]
_امام ابونعیم الفضل بن دکین الکوفی رحمه اللّٰه(متوفی218ہجری)نےکہا"ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطیٰ آپ کی اصل کابل سےہے_"
{تاریخ بغداد:324,325/13وسندہ صحیح}
+فارس چوتهی اقلیم میں ہے_"
[معجم البلدان:226/4]
*اورکابل تیسری اقلیم میں ہے_"
[معجم البلدان:426/3]
_کابلی کوفارسی بنادینا ان لوگوں کا کام ہےجو دن رات سیاہ کوسفیدبنانےکی کوشش میں لگےرہتےہیں_"
{فتاوی علمیّہ:جلد2صفحہ402,مکتبہ اسلامیہ}
*ابوحنیفہ تابعی نہیں تهے*
+ابوالحسن الدارقطنی رحمه اللّٰه (متوفی385ہجری)سےپوچهاگیاکہ کیاابوحنیفہ کاانس(بن مالک رضی اللّٰه عنه)سےسماع(سننا)صحیح ہے؟
تو انہوں نےجواب دیا"نہیں,اور نہ ابوحنیفہ کا انس(رضی اللّٰه عنه)کودیکهنا ثابت ہےبلکہ ابوحنیفہ نےتو کسی صحابی سے(بهی)ملاقات نہیں کی ہے_"
تخریج:[تاریخ بغداد:جلد4صفحه208ت1895,وسندہ صحیح_سوالات السہمی للدارقطنی:ص263ت383_فتاوی علمیه المعروف توضیح الاحکام لحافظ زبیرعلی زئی,کتاب التحقیق:جلد2صفحه404]
+امام معتدل ابواحمد بن عدی الجرجانی رحمه اللّٰه (متوفی365ہجری)فرماتےہیں"ثناہ عبداللّٰه بن محمدبن عبدالعزیز:حدثنی محمود بن غیلان:ثناالمقرئی:سمت اباحنیفہ..."ابوحنیفہ نےفرمایا"میں نےعطاء(بن ابی رباح,تابعی)سےزیادہ افضل کوئی نہیں دیکها اورمیں تمہیں عام طور پرجو حدیثیں بیان کرتاہوں وہ غلط ہوتی ہیں_"
[الکامل:2473/7والطبعہ الجدیدہ:237/8]
تحقیق:اسنادہ صحیح
{دیکهئے:الاسانید الصحیحہ فی اخبار الامام ابی حنیفہ(قلمی):ص124,290_سیراعلام النبلاء:455/14_تقریب التهذیب:3715,6516}
=ابوحنیفہ صاحب کےاس قول کہ"عطاءسےافضل کوئی انسان نہیں دیکها"سےثابت ہوا کہ آپ تابعی نہیں ہیں_"
*ابوحنیفہ نےکوئی کتاب لکهی تهی؟*
+اس وقت دُنیا میں ایسی کوئی کتاب موجود نہیں ہےجسے ابوحنیفہ(نعمان بن ثابت بن زوطیٰ)نےخود لکها یا مرتب کیا ہو_
+"مسندامام اعظم"کےنام سےجو مسندمتاخرین کےہاں مشہور ہوگئی ہے,اس کےمقدمےمیں عبدالرشیدنعمانی دیوبندی نےلکهاہےکہ"اس وقت جس کتاب کا ترجمہ مسندامام اعظم کےنام سےپیش کیاجارہا ہےیہ درحقیقت امام عبداللّٰه حارثی کی تالیف ہے_جس کا اختصار علامہ حصکفی نےکیاہےاور ملا عابدسندی نےاس کی ابواب فقہ پرترتیب کی ہے_"
[صفحه24,طبع:ادارہ نشریات اسلام,اردوبازار لاہور]
_حارثی مذکور کی ولادت264ہجری اوروفات345ہجری کل عمر81سال تهی_"
{لسان المیزان:ج3ص429ترجمہ478}
یعنی یہ شخص امام ابوحنیفہ کی وفات(150ہجری)کے114سال بعد پیدا ہوا تها_اسےامام احمدالسلیمانی وغیرہ نےکذاب کہاہے_ ابوزرعہ, احمدبن الحسین الرازی,حاکم,خطیب اور الخلیلی نےجرح کی ہےاور کسی نےبهی اسکی توثیق نہیں کی_"
{دیکهئے:میزان الاعتدال:496/2_ولسان المیزان:348,349/3}
=لہذا یہ شخص بالاتفاق ضعیف اور متہم بالکذب ہے,ایسےشخص کی روایت,اصول حدیث کی رو سےمردود ہوتی ہے_حارثی سےلےکرابوحنیفہ تک(اکثر)اسانید(بهی)نامعلوم(اورمردود)ہیں_
*کتاب "الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ النعمان" کس کی کتاب ہے؟*
+یہ کتاب 'شہاب الدین احمدبن محمدبن محمدبن علی بن محمد بن علی بن حجرالہیتمی المکی السعدی الانصاری الشافعی,ابوالعباس(متوفی973ہجری) کی ہے_
_اس ابن حجر المکی کےبارے میں امام محمود شکری بن عبدالله بن محمودبن عبدالله بن محمود الحسینی الآلوسی البغدادی(متوفی1342ہجری)لکهتےہیں:"کیونکہ ابن حجرکی اکثر کتابیں جهوٹ کاپلندہ ہیں,اورافتراء,قول زور, بےاصل آراء اور دعوت الی غیرالله وغیرہ بدعات و ضلالات سےپر ہیں_"
[انواررحمانی:433,434/2]
-علامہ آلوسی کےبارےمیں عمررضا کحالہ نےلکهاہے:"جمال الدین ابوالمعالی,مؤرخ ادیب لغوی,من علماءالدین...._"
[معجں المؤلفین:810/3ت16603]
_خیرالدین الزرکلی نےلکهاہے:"مؤرخ عالم بالادب والدین,من الدعاتہ الی الاصلاح:وحمل علی اهل البدع فی الاسلام برسائل فعاداہ کثیرون_"
[الاعلام:172/7]
اب اسے امام یا امامِ اعظم اہلسنت کہنا کیسے صحیح ہوسکتاہے؟
(۲۳-۱۲-۲۰۲۰ء)
و ما علینا الا البلاغ
 
Top