🌹🌹*مُنکرينِ حديث کےشبہات اور اُن کاردّ*🌹🌹
🌹تحریر:الشيخ ابومحمدعبدالاحدسلفى
*مغالطہ(1)رسول اللّه صلى اللّٰه عليه وسلم نےکتابت حديث سےمنع کيا*:
-منکرين حديث کى طرف سےايک بڑا مغالطہ يہ دياجاتا ہےکہ سنت شريعت نہيں,اگريہ بهى شريعت ياشريعت کاماخذ ہوتى تو اللّه کےرسول علیه السّلام نےجس طرح قرآن کريم کى کتابت,حفاظت,مذاکرہ کااہتمام کیا اسى طرح آپ حديث وسنت کى کتابت,حفاظت اورمذاکرہ کا اہتمام فرماتے_کيوں کہ مقام نبوت کاتقاضا ہےکہ نبى اپنى امت تک پورا دین پہنچائے_
<سُنت وحَديث بلاشبہ شریعت ہيں اور شريعت کاماخذ بهى,اسى ليےتو رسول اللّٰه ﷺ نےصحابہ کرام رضی اللّہ عنھم کو اس کى حفاظت واہتمام کا حکم صادر فرمايا تها_
آپ ﷺ نےصحابہ کرام رضی اللّہ عنھم سےفرماياتها"احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُم۔کہ تم ميرى ان سارى باتوں کو يادرکهو اور جاکرتم ان لوگوں کو يہ باتيں بتلانا جوتمہارےپيچهےرہ گئےہيں_"
{بخارى,کتاب الايمان,رقم:53}
* اسى طرح يہ ارشاد کس قدرمعروف ہے:
" وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي۔اور تم نماز ٹهيک اسى طرح ادا کرو جس طرح تم نےمجهے نماز پڑهتےديکها ہے_"
{بخارى,کتاب الاذان,رقم:631}
*مغالطہ(2)قرآن کريم کےمخالف احاديث قابل حجت نہيں*:
"ايک حديث ميں آيا ہےکہ"ميرى نسبت سےاحاديث عام ہوجائیں گى_ميرى جو بات تمہارےپاس پہنچےاگر وہ قرآن کےموافق ہوتو وہ ميرى ہى بات ہوگى اور ميرى طرف منسوب جوبات قرآن کےخلاف ہو وہ بات ميرى نہ ہوگى_"
لہذا جواحاديث قرآن سےزائدکوئى نیاحکم ثابت کريں تو ايسى تمام احاديث قرآن کےخلاف ہونےکى وجہ سےمردود اور ناقابل قبول ہوگى...*_"
<جواب:منکرين حديث کےاس مغالطےکا ايک الزامى جواب يہ ہے,کہ اگرحديث حجت نہىں اور اس کى کچھ بهى شرعى حيثيت نہيں تو خود اس گروہ کوحديث پىش کرکےاس سے استدلال کرنےکابهى حق حاصل نہيں_ويسےاس مغالطےکاعلمى جواب يہ ہےکہ اس حديث کوخالدبن ابى کريمہ نےابوجعفرسےاور اس نےرسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم سےروايت کياہے_
خالدبن ابى کريمہ مجہول راوى ہےاور ابوجعفر صحابى نہيں_لہذا يہ حديث سندا ضعيف اور منقطع ہونےکى وجہ سےناقابل قبول ہے_
اگرقرآن ہى اصل حجت ہےتو اس کو اپنى تاکيد کےليےحديث کى کيا ضرورت ہے؟منکرين حديث غورکريں_
*سيّدنا على رضى اللّٰه عنه سےمروى ہےکہ:رسول اللّٰه ﷺ نےفرمايا"میرےبعد راوى ہوں گےجومجھ سےحديث بیان کريں گے_پس اُن کى احاديث کوقرآن پرپيش کرناجوقرآن کےموافق ہو اُسےلےلينااور جوقرآن کےخلاف ہو اُسےنہ لينا_"
{سنن الدارقطنى,ج4ص207-208,رقم:4430,وسندہ موضوع(من گهڑت)}
اس کى سندميں ايک بنيادى راوى جبارہ بن مغلس ہےجس کےبارےميں امام الجرح والتعديل يحيى بن معىن رحمه اللّٰه فرماتےہيں کہ"جبارہ کذاب"کہ جبارہ کذاب ہے_"
[الجرح والتعديل,ج2ص:550]
دارقطنى رحمه اللّٰه نےاسےمتروک کہا ہے_"
[سوالات البرقانى,ص:71]
امام احمدبن حنبل رحمه اللّٰه نےاس کى بعض روايات کو موضوع يا جهوٹ قرار دياہے_"
[العلل ومعرفۃ الرجال لاحمد,جلد1,صفحہ185,تحت:1009]
ابن حبان,ذہبى اورابن حجر رحمهم اللّٰه وغيرهم نےاس پر جرح کى ہے_حافظ ہيثمى رحمه اللّٰه نےکہا ہےکہ جمہوراہل علم نےاسےضعيف قرار ديا ہے_"
-اسى طرح اس مفہوم کى ايک اور روايت ہےکہ"جب تمہارےپاس ميرى طرف سےکوئى حديث آئےتو اُسےکتاب اللّٰه پر پيش کرکےديکهو,جو اس کےموافق ہو اسےلےلو اور جو اس کےخلاف ہو اسےترک کر دو_"
{مفتاح الجنۃ,ص:5,وهوموضوع}
اس کےمتعلق امام بيهقى رحمه اللّٰه نےفرمايا"کہ يہ حديث باطل ہے,صحيح نہيں_امام شافعى رحمه اللّٰه کا ارشاد ہےکہ اس مفہوم کى ايک بهى حديث صحيح نہيں_
نيز قرآن کريم ميں بهى ايسى کوئى نص نہیں کہ جوحديث قرآن کےموافق ہو وہ مقبول اور جوقرآن کےخلاف ہو وہ غيرمقبول ہوگى_یہ بهى واضح رہےکہ صحيح السندکوئى ايک بهى حديث قرآن کےخلاف يا اس سےمتصادم نہيں ہے_
*مغالطہ(3)اطاعت رسول کاحکم صرف آپ صلى اللّٰه عليه وسلم کى زندگى تک ہى تها*:
منکرين حديث کا يہ ايک انتہائى گمراہ کن اور جديد مغالطہ ہےجو اس سےقبل پورى اُمت ميں کسى نےپيش نہيں کىا_کيوں کہ نبى صلى اللّٰه عليه وسلم صرف اپنےاہل زمانہ کےلیےنبى نہ تهےبلکہ قيامت تک کى رہتى دُنيا کےتمام لوگوں کےليےنبى تهےجیساکہ قرآن کريم ميں ہے:
" قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا ۨ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللّٰہ تعا لٰی کا بھیجا ہوا ہوں ،جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہےاس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللّٰہ تعالٰی پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللّٰہ تعالٰی پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ ۔"
{سورۃ الاعراف:158/7}
نيزارشاد ربانى ہے:
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾
" ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر( یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے۔"
{سورہ سباء:28/34}
نيزاللّٰه تعالى نےفرمايا:
قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾
" کہہ دیجئے! اگر تم اللّٰہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللّٰہ تعالٰی تُم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللّٰہ تعالٰی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔"
{آل عمران:31/3}
-اِن آيات سےمعلوم ہوا کہ آپ ﷺ سب لوگوں کى طرف رسول بناکربهيجےگئےاور آپ ﷺ کى اطاعت کاحُکم آپﷺ کےدُنياسےجانےکےبعدبهى ہے_آپ ﷺ کےدُنيا سےتشريف لےجانےکےبعد آپ ﷺ کى احاديث وسنت کى ہى اطاعت آپ صلى اللّٰه عليه وسلم کى اطاعت ہے۔
*مغالطہ(4)حديث تاريخ کى حيثيت رکهتى ہے*:
بعض اوقات منکرين حديث جب بحث مباحثہ ميں لاجواب ہوجائيں تو کہا کرتےہيں کہ ہم احاديث کےمنکر نہيں بلکہ يہ تو تاريخ کا انتہائى اہم سرمايہ بلکہ مقدس تاريخى دستاويز ہيں_
جواب:
يہ قول ان کى ڈهٹائى,بدباطنى اور بدديانتى کامظہر ہے_گويا وہ ايسا سياسى قسم کا بیان دےکرسادہ مسلمانوں کو مزيد مغالطےمىں اُلجهانےکى کوشش کرتےہيں_کیوں کہ ايک طرف تو وہ حديث کےسرےسےمنکر ہيں اور يہ بات کہہ کر وہ دهوکہ ديتےہيں کہ ہم حديث کا انکار نہيں کرتےبلکہ يہ تو ايک اہم تاريخى سرمايا ہے_
گويا درحقيقت وہ حديث کو کچھ بهى شرعى حيثيت دینےکوتيار نہيں_
وہ اسےزيادہ سےزيادہ تاريخى سرمايہ اور محض مقدس دستاويز کےطورپر قبول کرتےہيں_
منکرين حديث لوگو! اللّٰه تعالى سےڈرجاؤ اس کى پکڑ بہت سخت ہے۔"
مغالطہ(5)احادیث ظنى الثبوت ہيں*:
مُنکرين حديث کى طرف سےايک مغالطہ يوں بهى ديا جاتا ہےکہ قرآن کريم متواتر ہےاور حديث ظنى الثبوت ہے_
جواب:
منکرين حديث ايسى باتيں کرکےسادہ لوح عام مسلمانوں کواحاديث کےبارےميں شکوک و اوہام ميں مبتلا کرنےکى سعى کرتےہيں_حالانکہ عربى زبان ميں لفظ"ظن" "يقين اورگمان" دونوں معنى ميں مستعمل ہے_يہ لوگ صرف اُردو معنى کو پیش نظر رکهتےہيں_مفردات القرآن,لسان العرب,الصحاح اور ديگر کتب لغات ميں اس کى تفصيل ديکهى جاسکتى ہے,بلکہ حدتو يہ ہےکہ قرآن کريم ميں بهى يہ لفظ(ظن)متعدد مقامات پر يقىن کےمعنى ميں آيا ہے_
چنانچہ ملاحظہ ہو:
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُنُوۡدِ ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبۡتَلِیۡکُمۡ بِنَہَرٍ ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡہُ فَلَیۡسَ مِنِّیۡ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَطۡعَمۡہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡۤ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَۃًۢ بِیَدِہٖ ۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡہُ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَۃَ لَنَا الۡیَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰہِ ۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۲۴۹﴾
جب( حضرت)طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللّٰہ تعالٰی تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے ، جس نے اس میں سے پانی پی لیا وہ میرا نہیں اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے ، ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے ۔ لیکن سوائے چند کے باقی سب نے وہ پانی پی لیا (حضرت)طالوت مومنین سمیت جب نہر سے گزر گئے تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں لیکن اللّٰہ تعالٰی کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللّٰہ کے حکم سے غلبہ پا لیتی ہیں ، اللّٰہ تعالٰی صبر والوں کے ساتھ ہے۔"
((سورۃ البقرۃ:249/2))
اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
" کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں۔"
{سورۃ المطففين:4/83}
وَّ ظَنَّ اَنَّہُ الۡفِرَاقُ ﴿ۙ۲۸﴾
"اور اسے يقين ہوچلا کہ اب اس کا دُنيا سےروانگى کاوقت آچکا ہے_"
{سورۃ القيامہ:28/75}
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ نُّعۡجِزَ اللّٰہَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَنۡ نُّعۡجِزَہٗ ہَرَبًا ﴿ۙ۱۲﴾
" اور ہم نے سمجھ لیا کہ ہم اللّٰہ تعالٰی کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کر سکتے اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں ۔ "
{سورۃ الجنّ:12/72}
*مغالطہ(6)"الحکمۃ"سےمُراد حديث نہيں*:
جب مسلمانوں کى طرف سےلفظ قرآنى"يعلمهم الکتاب والحکمۃ"پيش کرکےکہاجائے کہ ان آيات میں"الحکمۃ"سےمُراد سنت اور حديث نبوى ہےتو وہ کہا کرتےہيں کہ اگر"الحکمۃ"کامعنى صرف سنت وحديث ہےتوقرآن ميں ہے"وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِکۡمَۃَ "(لقمان:12/31)"کہ ہم نےلقمان کو"حکمت"سےنوازا تها_"
تو کيا ان کو خاتم النبیین کى سنت اور احاديث کاعلم تها؟
جواب:
ہمارا يہ دعوى ہےہى نہيں کہ عربى ميں جہاں بهى يہ لفظ"الحکمۃ"آئےگا تو اس سےمُراد سنت ہوتى ہے_
ہم يہ بهى نہيں کہتےکہ قرآن کريم ميں ہرجگہ "الحکمۃ"سےمُراد صرف"سنت وحديث"ہے,بلکہ ہم توصرف يہ کہتےہيں کہ قرآن کريم ميں جہاں بهى"الکتاب"کےساتھ"الحکمۃ"آيا ہےوہاں اس سےمُراد سنت اور حديث ہے_
جيسا کہ علماءاسلام اپنى تحارير ميں اس کى صراحت کرتے رہتے ہيں۔
*مغالغہ(7)قرآن ميں ہر چيز کابيان ہے*:
ان حضرات کى طرف سےيہ بهى کہا جاتا ہےکہ قرآن کريم ميں ہر چيز کا بيان آچکا ہے_لہذا قرآن کےہوتے ہوئےحديث کى ضرورت نہيں,ان کا استدلال درج ذيل قسم کى آيات سے ہے:((بنى اسرائيل:12/17,النحل:89/16,الانعام:114/6))
جواب:
يہ بهى محض مغالطہ ہے,کيوں کہ ان قرآنى آيات ميں لفظ"کل"تمام کےمعنى ميں نہيں بلکہ اس سےمراد يہ ہےکہ قرآن نےدين کےتمام بنیادى ضوابط اور اُصول بيان کر ديئےہیں,جيساکہ قرآن کريم ميں ہى ہے:
ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ؕ یَخۡرُجُ مِنۡۢ بُطُوۡنِہَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۶۹﴾
"اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی رہ ، ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے ، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت بڑی نشانی ہے _"(النحل:69/16)
دوسرےمقام پر ہے:
اِنِّیۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَۃً تَمۡلِکُہُمۡ وَ اُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ لَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۳﴾
" میں نے دیکھا کہ ان کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت والا ہے_"(النمل:23/27)
ظاہر ہےکہ ان مقامات پر"کل"سےعلى الاطلاق تمام اشياء مراد نہيں,بلکہ شہد کى مکهى کو جو پهل ميسر ہو وہ اس سےکهائےاور ملکہ سبا کو اس کى ضرورت کى ہر چيز مہيا کر دى گئى تهى_اس کےپاس بعد کےادوار کى ايجادات و مصنوعات بالکل نہيں تهيں_
لہذا لفظ"کل"سےاستدلال کرنا محض مغالطہ ہے_
*اسى طرح يہ منکرين حديث اس آيت سےبهى استدلال کرتےہيں:
وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾
اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے_"
(سورۃ الانعام:38/6)
منکرين حديث کا کہنا ہےکہ چوں کہ کتاب اللّٰه ميں کسى بهى قسم کى کمى نہيں يہ ہرلحاظ سے کامل ومکمل ہے_لہذا اس کےہوتےہوئےدوسرى کسى بهى چيز کى ضرورت نہيں_
جواب:
ليکن يہ بهى ان حضرات کا محض مغالطہ ہے_پورى آيت پيش نظر ہوتو پتا چلتاہےکہ يہاں"الکتاب"سےمراد"قرآن مجيد" نہيں بلکہ اللّٰه کا علم يعنى"تقدير"مُراد ہے_
اس آيت ميں"الکتاب"سےمُراد تقدير ہےجيسا کہ اسى قسم کى ايک اور آيت"وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الۡغَیۡبِ لَا یَعۡلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ وَ مَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعۡلَمُہَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ وَ لَا رَطۡبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾
اور اللّٰہ تعالٰی ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں(خزانے ) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللّٰہ تعالٰی کےاور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ دریاؤں میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانا زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں ۔
(سورۃ الانعام:59/6)ميں ہے۔اس آيت ميں بهى"کتاب"سےتقدير اور اللّٰه کا علم مُراد ہے_"
*مغالطہ(8)ہمارےليےقرآن ہى کافى ہے*:
اَوَ لَمۡ یَکۡفِہِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَرَحۡمَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۱﴾
" کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمادی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے ، اس میں رحمت ( بھی ) ہے اور نصیحت( بھی ) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔"
{سورۃ العنکبوت:51/29}
اس آيت سےمنکرين حديث کا استدلال يہ ہے کہ اس سےمعلوم ہوا کہ لوگوں کے ليےصرف قرآن کافى ہے_
جواب:آيت کا صحيح مفہوم جاننےکےلىےاس سےپہلى آيت کو بهى پڑها جائے,اس ميں ہے کہ_
وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۵۰﴾
" انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں ( معجزات ) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللّٰہ تعالٰی کے پاس ہیں میں تو صرف کھلم کھلا آگاہ کر دینے والا ہوں۔"
{سورۃ العنکبوت:50/29}
کفار کى طرف سےنشانيوں کےمطالبہ کےجواب ميں ان سےکہا گيا کہ کيا ان کےليےيہ کافى نہيں کہ ہم نےآپ پر کتاب نازل کردى ہےجو ان کےسامنےتلاوت کى جاتى ہے_
لہذا اس آيت سےمنکرين حديث کا يہ استدلال صحيح نہيں کہ لوگوں کےليےصرف قرآن کافی ہے۔"
(۲۰-۱۲-۲۰۲۰ء)
🌹وما علینا الا البلاغ🌹
 
Top