تحرير:الشىخ ابومحمّدعبدالاحدسلفى
>عذاب قبر دين اِسلام کابُنيادى عقيدہ ہےاور اس کےبرحق ہونےميں کوئى شک وشبہ کى گنجائش نہيں اور اس پرايمان لانا واجب ہے_جولوگ اس عقيدہ کےبرحق نہ ہونےکااعتقاد رکهتےہوئےاس کاانکار کرتےہيں,ان کا يہ عمل قرآن وسنت کى تعليم کےصريح مخالف ہے_
^اللّٰه تبارک وتعالى کا ارشاد گرامى ہے:
یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیۡنَ ۟ ۙ وَ یَفۡعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ﴿٪۲۷﴾
ایمان والوں کو اللّٰہ تعالٰی پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے ، دُنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ہاں نا انصاف لوگوں کو اللّٰہ بہکا دیتا ہے اور اللّٰہ جو چاہے کر گزرے۔"
(سورۃ ابراهيم:27)
=اس آيت کى تفسير سيدنابراء بن عازب رضى الله عنه کى وہ روايت ہے,جس ميں رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نےارشادفرمايا:مومن جب اپنى قبرميں بٹهاياجاتاہے,تو اس کے پاس دو فرشتے نيلى آنکهوں والےآتےہيں_وہ شہادت ديتاہےکہ اللّٰه کےسواکوئى معبودنہيں اورنبى مکرم جناب محمدرسول اللّٰه(صلى اللّٰه عليه وسلم)اللّٰه کےرسول ہيں تو يہ اس فرمان الہى کى تعبير ہےجوسورۃ ابراہیم ميں ہےکہ;اللّٰه ايمان والوں کودُنيا کى زندگى اور آخرت ميں ٹهيک بات يعنى توحيدپرمضبوط رکهتا ہے_"
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ ، ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , فَذَلِكَ قَوْلُهُ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27.
((صحيح البخارى,کتاب الجنائز:1369_مسنداحمد:291/4,وهوصحيح))
^آل فرعون کوصبح وشام عذاب دياجاتاہے_جيساکہ ارشادالہى ہے:
فَوَقٰىہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوۡا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴿ۚ۴۵﴾اَلنَّارُ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا ۚ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ ۟ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴿۴۶﴾
"پس اسےاللّٰه تعالى نےتمام بديوں سےمحفوظ رکھ لياجو انہوں نےسوچ رکهى تهيں,اورفرعونيوں کو بُرےعذاب نےگهيرليا,وہ لوگ صبح وشام نارجہنم پرپيش کيےجاتےہيں اور جس دن قيامت آئےگى,(اللّٰه کہےگا)فرعونيوں کوسب سےسخت عذاب ميں داخل کرو_"
(المومن:45۔46)
^اور کفارکوموت کےوقت ہى سےعذاب ملناشروع ہوجاتا ہے_اس کى دليل اللّٰه تبارک وتعالى کايہ ارشادگرامى ہے:
وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ وَ لَمۡ یُوۡحَ اِلَیۡہِ شَیۡءٌ وَّ مَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوۡۤا اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ کُنۡتُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہٖ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۹۳﴾
اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللّٰہ تعالٰی پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی اور جو شخص یوں کہے کہ جیسا کلام اللّٰہ نے نازل کیا ہے اسی طرح کا میں بھی لاتا ہوں اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہونگے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہونگے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو ، آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی اس سبب سے کہ تم اللّٰہ تعالٰی کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے اور تم اللّٰہ تعالٰی کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔"
(سورۃ الانعام:93)
مزيدفرمايا:
وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ یَتَوَفَّی الَّذِیۡنَ کَفَرُوا ۙ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ۚ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۵۰﴾
"کاش کہ آپ ديکهتےجب کہ فرشتےکافروں کى روح نکالتےہيں,ان کےچہروں اور ان کى پيٹهوں پر ضربيں لگاتےہيں(اورکہتےہيں)کہ چکهوتم جلنےکاعذاب_"
((سورۃ الانفال:50))
>حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، سَمِعْتُ الْأَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ , فَقَالَتْ لَهَا : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، عَذَابُ الْقَبْرِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، زَادَ غُنْدَرٌ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ .
سيّدہ عائشہ رضى اللّٰه عنہا سےمروى ہےکہ"ايک يہودى عورت ان کےپاس آئى,اس نےعذاب قبرکا ذکر چهيڑدیا اور کہا کہ اللّٰه تجهےعذاب قبرسےمحفوظ رکهے_اس پرسيّدہ عائشہ رضى اللّٰه عنہا نےرسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم سےعذاب قبرکےبارےميں دريافت کيا,تورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نےاس کاجواب يہ دیا کہ"نعم!ہاں" عذاب قبر حق ہے,نيزسيّدہ عائشہ رضى اللّٰه عنہا نےبيان کیاکہ پهرميں نےکبهى ايسا نہيں ديکها کہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نے کوئى نماز ايسى پڑهى ہو اور اس ميں عذاب قبرسےاللّٰه کى پناہ نہ مانگى ہو_اور امام غُندررحمه اللّٰه نےاس روايت ميں "عذاب القبرحق"کےالفاظ زائدبیان کيےہيں_"
{صحيح بخارى,کتاب الجنائز:1372وهوصحيح}
>حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْبَرَاءِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا.
سيّدناابو ايّوب رضى اللّٰه عنه سےمروى ہےکہ"رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم(ايک روز)سورج غروب ہونےکےبعد(گهرسے)نکلےتوايک آواز سُنى تو رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نےفرمايا:يہود کو ان کى قبروں ميں عذاب ہو رہا ہے_"
{صحيح مسلم:7215_اسلام مصطفى ﷺ,لابوحمزہ عبدالخالق صديقى,صفحه:491,انصارالسنه پبليکيشنز لاهور}
>صاحب شرح عقيدہ طحاويہ رقمطراز ہيں:
رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم سےعذاب قبر اور قبرکى نعمتوں,ان لوگوں کےليےجو ان کےاہل ہيں,کےثبوت کےبارےميں متواتر احاديث مروى ہيں,اسى طرح قبرميں دو فرشتوں کےسوال کےاثبات پرعقيدہ رکهنا اور ايمان لانا واجب ہے....روح کاجسم کى طرف لوٹنا اس طرح نہيں جيسےدُنيا ميں لوٹانےکامعمول ہے,بلکہ رُوح کےاعادہ کا معاملہ دُنيا ميں اعادےکى طرح نہيں_"
{شرح العقيدہ الطحاويه:609/2,بتحقيق شعيب الارناؤط و عبداللّٰه بن عبدالمحسن اللّٰه کى,مطبوعه مؤسسۃ الرسالہ}
>امام آجرى نے"الشريعۃ"ميں باب يوں باندهاہے:"التصديق والايمان بعذاب القبر..."عذاب قبرکى تصديق اور اس پرايمان کابيان"
پهراس کےبعدعذاب قبرکےمتعلق احاديث بيان کيں اورفرمايا"جس شخص نےان احاديث کوجهٹلايا وہ کس قدر بُرےحال والا ہے,وہ تو يقيناً بہت دُوربهٹک گيااور واضح نقصان اٹهانےوالا بن گىا_"
{الشریعتہ:186/2_اسلام مصطفى ﷺ,صفحه:491,492}
(۲۰-۱۲-۲۰۲۰ء)
وما علینا الا البلاغ
 
Top