***🌹🌹گندگی کھانے والے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت کا بیان🌹🌹***
كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ

بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ

(سنن ابی داود:3811 حسن صحيح) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَعَنْ الْجَلَّالَةِ عَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لَحْمِهَا

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانا ؟

ترجمہ : جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے روز پالتو گدھوں کے گوشت ‘ گندگی ( نجاست ) کھانے والے جانوروں کی سواری اور ان کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا ۔
كِتَابُ الضَّحَايَا

النَّهْيُ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ لْجَلَّالَةِ

(سنن النسائی:4452 حسن) أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ مَرَّةً عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ مَرَّةً عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَعَنْ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ رُكُوبِهَا وَعَنْ أَكْلِ لَحْمِهَا

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

باب: گندگی کھانے والے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت کا بیان

ترجمہ : حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمروؓ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر (کی جنگ) کے دن گھریلو (پالتو) گدھوں کے گوشت سے، نیز گندگی کھانے والے جانوروں کے گوشت اور سواری سے منع فرمایا تھا

تشریح : (۱) جس جانور کی اکثر خوراک گندگی ہو، اس جانور (حیوان پا پرندے) کا گوشت کھانا ممنوع ہے۔ (۲) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ جلالۃ، یعنی گندگی کھانے پر گزارا کرنے والے جانور پر سواری کرنا ممنوع ہے۔ (۳) گھریلو، یعنی پالتو گدھے کا گوشت تو مطلقاً حرام ہے، خواہ وہ گندگی کھائے یا نہ، البتہ اس پر سواری کرنا جائز ہے کیونکہ اسے پیدا ہی سواری اور باربرداری کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا پسینہ وغیرہ پاک ہے لیکن گندگی کھانے والا جانور، خواہ کوئی بھی ہو، اگر گندگی اس قدر کھائے کہ اس کے اثرات اس کے گوشت میں محسوس ہوں، مثلاً: گوشت سے گندگی کی بدبو آئے یا ذائقہ خراب ہو یا رنگ بدل جائے تو اسے نہ صرف کھانا حرام ہے بلکہ ایسے جانور پر سواری ببھی منع ہے کیونکہ اس کے پسینے میں بھی گندگی کے اثرات ہوں گے، لہٰذا پسینہ پلید ہو گا۔ سوار کے کپڑے لازماً جانور کے پسینے سے آلودہ ہو جائیں گے۔ وہ بھی پلید ہو جائیں گے۔ کپڑے جسم کو لگتے ہیں، لہٰذا سوار کا جسم بھی پلید ہو ائے گا، اس لیے سواری بھی منع ہے۔ پسینہ تو گوشت ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ گوشت پلید تو پسینہ بھی پلید۔ البتہ معمولی گندگی کھانے والے جانور کا یہ حکم نہیں کیونکہ جانوروں کو خالص اور پاک خوراک کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ معمولی گندگی کے اثرات گوشت وغیرہ تک نہیں پہنچتے۔واللّٰہ اعلم
🌹الشیخ ابومحمدعبدالاحدسلفی🌹
 
Top