۔۔۔/جہنم کاسانس۔گرمی اور سردی/۔۔۔
تحریر:الشیخ ڈاکٹرابومحمدعبدالاحدسلفی
جہنم سانس باہر نکالتی ہےتوگرمی ہوجاتی ہے۔
وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ .
دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب! ( آگ کی شدت کی وجہ سے ) میرے بعض حصہ نے بعض حصہ کو کھا لیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔ اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم لوگ محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے۔"
(صحیح البخاری:۵۳۷،مسلم:۶۱۷،امام مالک'المؤطا'۱۶/۱ح۲۷،امام شافعی'کتاب الام'ص۵۸ح۱۱۳،امام احمدبن حنبل'المسند۲۳۸/۲ح۷۲۴۶۔وغیرھم نےمتعددسندوں کےساتھ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کیاہے)
گرمی کی شدت کاجہنم سےہونا دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنھم سےبھی مروی ہے۔
💎ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، تَابَعَهُ سُفْيَانُ ، وَيَحْيَى ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ گرمی کے موسم میں ) ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس حدیث کی متابعت سفیان ثوری، یحییٰ اور ابوعوانہ نے اعمش کے واسطہ سے کی ہے۔"
(صحیح البخاری:۵۳۸وسندہ صحیح)
💎ابوذر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَذَّنَ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، فَقَالَ : أَبْرِدْ أَبْرِدْ ، أَوْ قَالَ : انْتَظِرِ انْتَظِرْ ، وَقَالَ : شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ .
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ( بلال ) نے ظہر کی اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا کر، ٹھنڈا کر، یا یہ فرمایا کہ انتظار کر، انتظار کر، اور فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی آگ کی بھاپ سے ہے۔ اس لیے جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، پھر ظہر کی اذان اس وقت کہی گئی جب ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے۔ "
(صحیح البخاری:۵۳۵،مسلم:۶۱۶)
💎ابوموسی الاشعری رضی اللہ عنہ
(السنن الکبری للنسائی:۴۶۵/۱ح۱۴۹۰)
--------------------------------------------------------------------------
استثنائی صورتیں اور موانع موجود ہیں۔مثلا سخت گرمی کےدوران جب بارش ہوتوموسم ٹھنڈا ہوجاتاہےاسی طرح اونچےپہاڑ گھنےدرخت اوربرف ان موانع سےہے۔
استثنائی صورتوں کیوجہ سےاصول نہیں بدلتے۔مثلا ارشاد باری تعالی ہے۔
اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ نَّبۡتَلِیۡہِ فَجَعَلۡنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿سورۃ الدھر،سورۃ۷۶،پارۃ۲۹آیت۲﴾
بےشک ہم نےانسان کوملےجلےنطفےسےپیداکیا،ہم اسےآزماناچاہتےہیں۔پس ہم نےاسےسننےوالا(اور)دیکھنےوالا بنایاہے۔"
حالانکہ بہت سے لوگ بہرے یااندھے بھی پیداہوتےہیں اورساری زندگی بہرےیااندھےرہتےہیں۔"
وما علینا الاالبلاغ(۱۸-۱۲-۲۰۲۰ء)
 
Top