ذیشان خان

Administrator
رفع یدین نہ کرنےکے سلسلے میں احناف کے دلائل کا جائزہ

پہلی دلیل :
(( عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اﷲِ فَقَالَ مَالِیَ اَرَاکُمْ رَافِعِیْ اَیْدِیْکُمْ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ اسْکُنُوْا فِی الصَّلٰوۃِ )) ۱
احناف اس روایت سے ترک رفع الیدین ثابت کرتے ہیں ۔
- اس روایت میں کَاَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ کی جو تشبیہ ہے وہ کندھوں تک ہاتھ اٹھانے والی رفع یدین پر کسی طرح بھی فٹ نہیں آتی۔
حضرت جابر بن سمرہؓ جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ خود بیان کرتے ہیں کہ یہ تشبیہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے سلام والی رفع یدین کے لیے دی تھی۔ کیوں کہ ہم لوگ سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کو اٹھا کر دائیں بائیں اشارے کیا کرتے تھے۔ آپ ؐ نے یہ تشبیہ دے کر ہمیں سلام والی رفع یدین سے جس میں ہاتھ دائیں بائیں مارے جاتے تھے منع فرما دیا۔
حضرت جابرؓ بن سمرہ والی روایت خواہ تمیم بن طرفہ کے طریق سے ہو یا عبیداﷲ بن القبطیہ کے طریق سے ‘ ایک حدیث ہے کیوں کہ ان دونوں روایتوں میں تشبیہ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ ایک ہے جو دلیل ہے اس بات کی کہ حضرت جابر بن سمرہؓ کی دونوں سندوں والی حدیث میں فعل بھی ایک جیسا ہی ہوگا جو گھوڑوں کی دمیں ہلانے کے مانند ہوگا اور وہ ہاتھوں کو اٹھا کر دائیں بائیں مارنا ہی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ گھوڑے دم مارتے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک حدیث میں تو کندھوں تک ہاتھ اٹھانے والی رفع یدین مراد ہو اور دوسری میں سلام پھیرتے وقت رفع یدین مراد ہو اور پھر تشبیہ دونوں کی ایک ہو۔ جب فعل مختلف ہو تو تشبیہ ایک کیسے ؟ جب دونوں روایتوں میں تشبیہ ایک ہے تو مشبہ بھی ضرور ایک ہی ہوگا۔ یعنی دونوں حدیثوں میں رفع یدین ایک ہی طرح کی ہوگی اور وہ وہی ہو سکتی ہے جو حضرت جابر بن سمرہؓ نے بیان کی ہے کہ ہم سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کو دائیں بائیں مارا کرتے تھے تو آپ ﷺ نے یہ تشبیہ دی اور منع فرمایا۔
دوسری دلیل
((عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُاﷲِ بْنُ مَسْعُوْدٍ اَلاَ اُصَلِّیْ بِکُمْ صَلٰوۃَ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی فَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ اِلاَّ فِیْ اَوَّلِ مَرَّۃٍ))۔۴
احناف نے اس حدیث کے لیے ترمذی اور ابوداؤد کا حوالہ دیا ہے حالانکہ ان دونوں کتابوں میں اس حدیث کی حقیقت خوب واضح کی گئی ہے‘ لیکن احناف اس کو پی گئے ہیں۔ ابوداؤد میں ہے: ’’ھذا الحدیث لیس بصحیح علی ھذا المعنی‘‘ یہ حدیث اس معنی میں صحیح نہیں ۔ حقیقت میں یہ حدیث کچھ اور تھی ۔ راوی نے غلطی سے بیان کچھ اور کر دیا ہے اور ترمذی شریف میں اس حدیث کے بارے میں عبداﷲ ابن المبارک کا یہ قول موجود ہے: ’’حدیث ابن مسعود لم یثبت‘‘ یعنی عبداﷲ بن مسعود والی یہ حدیث ثابت ہی نہیں۔ حنفیوں کے پاس رفع یدین کی مخالفت میں سب سے بہتر یہی حدیث ہے‘ لیکن یہ بھی ضعیف ہے چنانچہ ابن حبان نے اس کی تصریح کی ہے ۔ اس حدیث کو بڑے بڑے امام مثلاً امام احمدؒ ‘ امام بخاریؒ ‘ امام ابوداؤد ؒ وغیرھم سب ضعیف کہتے ہیں۔
تیسری دلیل
((عَنْ بَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اِذَا کَبَّرَ لِلْاِفْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یَکُوْنَ اِبْھَامَاہُ قَرِیْبًا مِنْ شَحْمَتِیْ اُذُنَیْہٖ ثُمَّ لاَ یَعُوْدُ)) ۵
یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ امام احمد ؒ جیسے بڑے محدث اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔ ھذا حدیث واہ یہ حدیث بالکل کمزور ہے۔ اس حدیث کا دارومدار یزید بن ابی زیاد پر ہے جو بالاتفاق ضعیف ہے‘ بڑی عمرمیں اس کا دماغ چل گیا تھا۔ وہ جب تک مکہ میں تھا اس حدیث کو بیان کرتے وقت ثُمَّ لاَ یَعُوْدُ کا لفظ بیان نہیں کرتا تھا۔ جب کوفہ چلا گیا اور حافظہ متغیر ہو گیا تو جو کوفی حنفی سکھاتے ‘ بیان کر دیتا. قریباً تمام محدثین متفق ہیں کہ ثُمَّ لاَ یَعُوْدُ کا لفظ جس سے حنفی رفع یدین نہ کرنے پر استدلال کرتے ہیں اس حدیث میں اضافہ ہے جو کوفے میں کیا گیا۔ اسی وجہ سے تمام بڑے بڑے ائمہ حدیث اس حدیث کو بالکل ضعیف قرار دیتے ہیں۔ امام یحییٰ بن معینؒ ‘ امام دارمیؒ امام بخاریؒ ‘ امام بیھقی وغیرھم سب اسے ضعیف کہتے ہیں۔
چوتھی دلیل
یہ ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عمرؓ رفع یدین نہیں کیاکرتے تھے۔ یہ حدیث بھی بہت کمزور ہے۔ امام یحیٰ بن معین اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں لا اصل لہ اس حدیث کی کوئی جڑ بنیاد ہی نہیں ۔ یہ بالکل بے اصل ہے۔ اس میں ابوبکر بن عیاش ایک راوی ہے جس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا ۔ وہ کچھ کا کچھ بیان کر دیتا تھا۔ عبداﷲ بن عمرؓ تو جو رفع یدین نہ کرتا اسے کنکر مارتے کہ یہ رفع یدین کیوں نہیں کرتا۔ ابوبکر بن عیاش کا یہ روایت کرنا کہ خود حضرت عبداﷲ بن عمرؓ رفع یدین نہیں کرتے تھے کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ عبداﷲ بن عمرؓ کے بیٹے اور شاگرد سبھی یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رفع یدین کیا کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو رسالہ امام بخاری ؒ جزء رفع یدین۔ ۶
پانچویں دلیل
احناف ابراہیم نخعی کے حوالے سے ایک حدیث پیش کرتے ہیں وہ خود حنفیوں کے خلاف ہے۔ اس حدیث سے تو بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اﷲﷺ اپنی آخری عمر میں بھی رفع یدین کیا کرتے تھے کیوں کہ وائل بن حجر جنھوں نے رسول اﷲ ﷺ کو رکوع والی رفع یدین کرتے دیکھا ہے وہ 9ھ کی سردیوں میں شوال کے لگ بھگ مسلمان ہوئے۔ اس وقت بھی انھوں نے حضور ﷺ کو رفع یدین کرتے دیکھا اور پھر اگلے سال 10ھ میں بھی سردیوں میں جب وہ دوبارہ آئے توا نھوں نے پھر بھی سب کو رفع یدین کرتے دیکھا۔ رہ گیا ابراہیم نخعی کایہ کہناکہ اگر وائلؓ نے رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ایک دفعہ دیکھا تو حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے پچاس مرتبہ نہ کرتے دیکھا ہے تو یہ بات بالکل جذباتی اور بغیر ثبوت کے ہے کیوں کہ حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں نے حضور ﷺ کو پچاس مرتبہ بغیر رفع یدین نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ ابراہیم نخعی نے جو کہا ہے وہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ ابراہیم نخعی نے تو حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کو دیکھا تک نہیں لہذا ان کی یہ بات کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر عبداﷲ بن مسعودؓ نے حضور ﷺ کو بغیر رفع یدین کے نماز پڑھتے دیکھا ہے تو کب ؟ کیا حضرت وائل بن حجرؓ کے اسلام لانے سے پہلے یا بعد میں ؟ اگر پہلے دیکھا ہے تواس کا کوئی اعتبار نہیں کیوں کہ اعتبار آخری فعل کا ہوتا ہے‘ پہلا منسوخ سمجھا جاتا ہے۔ اگر بعد میں دیکھا ہے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ ساری حنفی دنیا کو چیلنج ہے کہ وہ ایک حدیث صحیح یا ضعیف ایسی پیش کردیں جس میں یہ صراحت موجود ہو کہ حضور ﷺ نے وائل بن حجرؓ کے دیکھنے کے بعد رفع یدین چھوڑ دیا تھا تواس حدیث کے ہر ہر حرف کے بدلے ایک ہزار روپیہ ہم سے انعام لے لیں۔ دنیا کا جو حنفی چاہے قسمت آزمائی کر سکتا ہے۔ بشکریہ شیخ بہاولپوری
 
Top