کیا نبی کریمﷺ پر جادو ہوا تھا؟
نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا ، جیسا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے :
سحر رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم رجل من بنی زریق یقال لہ : لبید بن الأعصم ، حتّی کان رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم یخیّل الیہ أنّہ یفعل الشّیء وما فعلہ ، حتّی اذا کان ذات یوم أو ذات لیلۃ ، وھو عندی ، لکنّہ دعا ودعا ، ثمّ قال : یا عائشۃ ! أشعرت أنّ اللّٰہ أفتانی فیما استفتیتہ فیہ ، أتانی رجلان فقعد أحدھما عند رأسی والآخر عند رجلیّ ، فقال أحدھما لصاحبہ : ما وجع الرّجل ، فقال : مطبوب ، قال : من طبّہ ؟ قال : لبید بن الأعصم ، قال : فی أیّ شیء ؟ قال : فی مشط ومشاطۃ وجفّ طلع نخلۃ ذکر ، قال : وأین ھو ؟ قال : فی بئر ذروان ، فأتاھا رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فی ناس من أصحابہ ، فجاء ، فقال : یا عائشۃ ! کأنّ ماء ھا نقاعۃ الحنّاء ، أو کأنّ رؤوس نخلھا رؤوس الشّیاطین ، قلت : یا رسول اللّٰہ ! أفلا أستخرجہ ؟ قال : قد عافانی اللّٰہ ، فکرھت أن أثوّر علی النّاس فیہ شرّا ، فأمر بھا ، فدفنت ۔

”بنو زریق کے لبید بن الاعصم نامی ایک آدمی نے اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ، آپ کو خیال ہوتا تھا کہ آپ کسی کام کو کر رہے ہیں ، حالانکہ کیا نہ ہوتا تھا ، حتی کہ ایک دن یا ایک رات جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے ، آپ نے بار بار دعا کی ، پھر فرمایا ، اے عائشہ !کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے ، جو میں اس سے پوچھ رہا تھا ؟میرے پاس دو آدمی آئے ، ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا ، ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ، اس آدمی کو کیا تکلیف ہے ؟ اس نے کہا ، اس پر جادو کیا گیا ہے ، اس نے کہا ، کس نے کیا ہے ؟ اس نے کہا ، لبید بن اعصم نے ، اس نے کہا ، کس چیز میں ؟ کہا ، کنگھی ، بالوں اورنَر کھجور کے شگوفے میں ، اس نے کہا ، وہ کہاں ہے ، کہا، بئرِ ذروان میں ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کرام ] کے ساتھ وہاں گئے ، پھر واپس آئے اور فرمایا ، اے عائشہ ! اس کنویں کا پانی گویا کہ مہندی ملا ہوا تھا اور اس کی کھجوریں گویا شیطانوں کے سر تھے ، (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میں نے کہا ، کیا آپ نے اسے نکالا ہے ، فرمایا ، نہیں ، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے عافیت وشفا دے دی ہے ، میں اس بات سے ڈر گیا کہ اس کا شر لوگوں میں اٹھاؤں۔”

(صحیح بخاری : ٢/٨٥٨، ح : ٥٧٦٦، صحیح مسلم : ٢/٢٢١، ح : ٢١٨٩)

یہ متفق علیہ حدیث دلیل قاطع اور برہانِ عظیم ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا ، واضح رہے کہ جادو ایک مرض ہے ، دیگر امراض کی طرح یہ بھی انبیاء کو لاحق ہو سکتا تھا ، قرآن و حدیث میں کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ انبیاء پر جادو نہیں ہو سکتا ۔
یہ حدیث بالاجماع ”صحیح” ہے ، ہاںوہ معتزلہ فرقہ اس کا انکاری ہے ، جو قرآن کو مخلوق کہتا ہے ، وہ نہ صرف اس حدیث کا منکر ہے ، بلکہ اور بھی بہت ساری احادیث ِ صحیحہ کا منکر ہے ، جیسا کہ
امام نعیم بن حماد الخزاعی رحمہ اللہ (م٢٢٨ھ)فرماتے ہیں :
المعتزلۃ تردّون ألفی حدیث من حدیث النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أو نحو ألفی حدیث ۔
”معتزلہ احادیث ِ نبویہ میں سے دو ہزار یا اس کے لگ بھگ احادیث کا انکار کرتے ہیں ۔”
(سنن ابی داو،د : تحت حدیث : ٤٧٧٢، وسندہ، صحیح)
ہمارے دور کے بعض معتزلہ نے اس حدیث پر عقلی ونقلی اعتراضات وارد کیے ہیں ، آئیے ان اعتراضات کا علمی وتحقیقی جائزہ لیتے ہیں :
اعتراض نمبر 1: اس کا راوی ہشام بن عروہ ”مدلس” ہے ۔
1۔ ہشام بن عروہ کے ”ثقہ” ہونے پر اجماع واتفاق ہے ، ان پر امام مالک کی جرح کا راوی ابنِ خراش خود ”ضعیف” ہے ، لہٰذا وہ قول مردود ہے ۔
اگرچہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللّٰہ نے ان کو طبقہ اولیٰ کے ”مدلسین” میں ذکر کیا ہے ، لیکن ان کا ”مدلس” ہونا ثابت نہیں ہے ، جس قول (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم : ص ١٠٤۔١٠٥)کی وجہ سے انہیں ”مدلس” قراردیا گیا ہے ، وہ قول ثابت نہیں ہے ، اس قصہ کے راوی عبداللہ بن علی بن المدینی کی ”توثیق” ثابت نہیں ہے ۔
یہ قصہ چونکہ غیر ثابت ہے ، لہٰذا شیخ الاسلام ہشام بن عروہ رحمہ اللّٰہ کی ”تدلیس” بھی غیر ثابت ہے۔
2 ہشام بن عروہ بن عروہ بن زبیر نے صحیح بخاری (١/٤٥٠، ح : ٣١٧٥)اور مسند احمد (٦/٥٠)میں حدّثنی کہہ کر اپنے والد سے سماع کی تصریح کر دی ہے ۔والحمد للّٰہ علی ذلک !
3۔صحیحین میں ”مدلسین” کی روایات سماع پر محمول ہیں ۔
اعتراض نمبر 2 :مشہور معتزلی حبیب الرحمن کاندھلوی حیاتی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں :
”یہ روایت ہشام کے علاوہ کوئی بیان نہیں کرتا اور ہشام کا ١٣٢ھ میں دماغ جواب دے گیا تھا ، بلکہ حافظ عقیلی تو لکھتے ہیں :
قد خرف فی آخر عمرہ ۔ آخرعمر میں سٹھیا گئے تھے ، تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ روایت سٹھیانے سے پہلے کی ہے ؟ ”
(مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت : ٢/٩١)
یہ محض تراشیدہ الزام ہے ، حافظ عقیلی کا قول نہیں مل سکا ، متقدمین ائمہ میں سے کسی نے ان پر اختلاط کا الزام نہیں لگایا ، دوسری بات یہ ہے کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں تمام مختلط راویوں کی روایات اختلاط سے پہلے پر محمول ہیں ، جیسا کہ
حافظ نووی رحمہ اللّٰہ ایک مختلط راوی کے بارے میں لکھتے ہیں :
وما کان فی الصّحیحین عنہ محمول علی الأخذ عنہ قبل اختلاطہ ۔
”اور جو کچھ صحیح بخاری ومیں ان سے منقول ہے ، وہ ان سے اختلاط سے قبل لے لیے جانے پر محمول ہے ۔”
(تہذیب الاسماء واللغات للنووی : ١/٢٢١)
تنبیہ : حافظ ابن القطان رحمہ اللہ (م ٦٢٨ھ)نے ہشام کو ”مختلط” کہا ہے۔
(بیان الوہم والایھام : ٤/٥٠٨، ح : ٢٧٢٦)، اس کے ردّ وجواب میں حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ولم نر لہ فی ذلک سلفا ۔ ”ہم نے اس بارے میں ان کا کوئی سلف(ان سے پہلے یہ بات کہنے والا)نہیں دیکھا۔”
(تھذیب التھذیب لابن حجر : ١١/٥١)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وہشام ، فلم یختلط قطّ ، ھذا أمر مقطوع بہ ۔
”ہشام کبھی بھی مختلط نہیں ہوئے ، یہ بات قطعی ہے ۔”
(سیر اعلام النبلاء للذھبی : ٦/٢٦)
نیز فرماتے ہیں :
فقول ابن القطّان : انّہ مختلط ، قول مردود ومرذول ۔
”ابن القطان کا انہیں مختلط کہنا مردود اور ناقابل التفات ہے ۔”
(سیر اعلام النبلاء للذھبی : ٦/٣٦)
مزید فرماتے ہیں :
ولا عبرۃ ۔
”اس کا کوئی اعتبار نہیں۔”
(میزان الاعتدال للذھبی : ٤/٣٠١)
اس تصریح کے بعد معلوم ہوا کہ حافظ ابن القطان الفاسی رحمہ اللہ کا قول ناقابل التفات ہے ۔
اعتراض نمبر 2 :
حبیب الرحمن کاندھلوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں :
”ہشام کے مشہور شاگردوں میں سے امام مالک یہ روایت نقل نہیں کرتے ، بلکہ کوئی بھی اہل مدینہ یہ روایت نقل نہیں کرتا ، ہشام سے جتنے بھی راوی ہیں ، سب عراقی ہیں ، اور اتفاق سے عراق پہنچنے کے چند روز بعد ہشام کا دماغ سٹھیا گیا تھا ۔”
(مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت از کاندھلوی : ٢/٩١)
یہ جھوٹی داستان ہے ، ”ہشام کا دماغ سٹھیا گیا تھا” اس پر کیا دلیل ہے ؟ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی تصریحات آپ نے ملاحظہ فرما لی ہیں ،دوسری بات یہ ہے کہ ہشام سے روایت ان کے دومدنی شاگردوں نے بھی یان کی ہے : 1 انس بن عیاض المدنی
(صحیح بخاری : ٦٣٩١)
2 عبدالرحمن بن ابی الزنادالمدنی (ثقہ عند الجمہور ) (صحیح بخاری : ٥٧٦٣)
لہٰذا کاندھلوی صاحب کا یہ کہنا کہ ”کوئی بھی اہل مدینہ یہ روایت نقل نہیں کرتا” زبردست جھوٹی داستان ہے ۔ والحمد للّٰہ !
حدیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایسی واہی تباہی مچانے والے کبھی یوم ِ حساب کو یاد کر لیا کریں !
اعتراض نمبر 3 : مشہور منکر ِ حدیث شبیر احمد ازہر میرٹھی صاحب لکھتے ہیں :
”ہشام کی بیان کی ہوئی روایات میں سے کسی بھی روایت کی اسناد میں یہ ذکر نہیں ہے کہ عروہ نے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سنی تھی ۔”
(”صحیح بخاری کا مطالعہ از میرٹھی : ٢/٨٧)
جب راوی کی اپنے استاذ سے ملاقات ثابت ہو اور وہ راوی ”مدلس” نہ ہو تو اس کی ”عن” والی روایت محدثین مؤمنین کے نزدیک متصل اور سماع پر محمول شمار ہوتی ہے ، عروہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات وسماع ثابت ہے ۔دیکھیں
(صحیح بخاری : ٣٠٧٧، صحیح مسلم : ٢٤١٨)
امام عروہ رحمہ اللہ ”مدلس” بھی نہیں ہیں ، لہٰذا سند متصل ہے ۔
قارئین کرام ! جادو والی حدیث کے متعلق منکرینِ حدیث کی یہ کل کائنات تھی ، جس کا حشر آپ نے دیکھ لیا ہے ۔
بعض لوگ اس حدیث ِ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کو قرآنِ کریم کے خلاف گردانتے ہیں ، ہمارا جواب یہ ہے کہ بالاجماع صحیح حدیث قرآنِ مقدس کے خلاف نہیں ہے ، وہ کونسی آیت ِ کریمہ ہے ، جو پتا دیتی ہے کہ نبی پر جادو نہیں ہو سکتا؟ یہ تو کافروں کا نظریہ تھا کہ نبی پر جادو نہیں ہو سکتا ، اس لیے انہوں نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کو جادو سے تعبیر کیا تھا ۔
دوسری بات یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السّلام پر جادو کا ثبوت قرآنِ کریم نے فراہم کیا ہے ،
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
(قَالَ بَلْ اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی)(طٰہٰ : ٦٦)
”ان (جادو گروں)کے جادو کی وجہ سے ان(موسیٰ علیہ السلام )کو گمان ہوا کہ وہ (رسیاں سانپ بن کر)دوڑ رہی ہیں ، پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنے نفس میں ڈر محسوس کیا ۔”
اور فرعون کے جادوگروں کے اس جادو کے بارے میں قرآنِ کریم نے اعلان کیا ہے کہ :
(وَجَاءُ ْوا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ)(الاعراف : ١١٦) ”اور وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے تھے۔”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا ثبوت حدیث نے انہی قرآنی الفاظ یُخَیَّّلُ اِلَیْہِ کے ساتھ دیا ہے ۔
جو جواب قرآن کے بارے میں ہو گا ، وہی حدیث کے بارے میں ہو جائے گا ۔
اس پر سہاگہ یہ کہ اس حدیث ِ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے محدثین مؤمنین نے یہی مسئلہ سمجھا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا ، جسے معتزلہ ماننے سے انکاری ہیں ۔
عالم ِ ربانی شیخ الاسلام ثانی علامہ ابن قیّم الجوزیہ رحمہ اللّٰہ ()لکھتے ہیں :
وھذا الحدیث ثابت عند أھل العلم بالحدیث متلقّی بالقبول بینھم ، لا یختلفون فی صحّتہ ، وقد اعتاض علی کثیر من أھل الکلام وغیرھم وأنکروا أشدّ الانکار وقابلوہ بالتّکذیب وصنّف بعضھم مصنّفا مفردا ، حمل فیہ علیہ ہشام ، وکان غایۃ ما أحسن القوم فیہ أنّہ قال غلط واشتبہ علیہ الأمر ، ولم یکن من ھذا شیء ، قال : لأنّ النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم لا یجوز أن یسحر ، فانّہ یکون تصدیقا لقول الکفّار : (اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَسْحُوْرًا) (الاسراء : ٤٧)، قالوا : وھذا کما قال فرعون لموسٰٰی : (اِنِّی لَأَظُنُّکَ یَا مُوْسٰی مَسْحُوْرًا) (الاسراء : ١٠١)، وقال قوم صالح لہ : (اِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ) (الشعراء : ١٥٣)، وقال قوم شعیب لہ : (اِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ)(الشعراء : ١٨٥) ، قالوا : فالانبیاء لا یجوز علیھم أن یسحّروا ، فانّ ذلک ینافی حمایۃ اللّٰہ لھم وعصمتھم من الشیاطین ، وھذا الّذی قالہ ھؤلاء مردود عند أھل العلم ، فانّ ھشام من أوثق النّاس وأعلمھم ، ولم یقدح فیہ أحد من الأئمّۃ بما یوجب ردّ حدیثہ ، فما للمتکلّمین ، وما لھذا الشّأن ، وقد رواہ غیر ھشام عن عائشۃ ، وقد اتّفق أصحاب الصّحیحین علی تصحیح ھذا الحدیث ، ولم یتکلّم فیہ أحد من أھل الحدیث بکلمۃ واحدۃ ، والقصّۃ مشہورۃ عند أھل التّفسیر والسّنن والحدیث والتّاریخ والفقھاء ، وھؤلاء أعلم بأحوال رسول اللّٰہ وأیّامہ من المتکلّمین ۔
”حدیث کا علم رکھنے والے لوگوں کے نزدیک یہ حدیث صحیح ثابت ہے ، وہ اسے قبولیت سے لیتے ہیں اور اس کی صحت میں ان کا اختلاف نہیں ہے ، اکثر اہل کلام اور دیگر کئی لوگوں اعتراض کیا ہے اور انہوں نے اس کا سخت انکار کیا ، اس کو جھوٹ قرار دیا اور ان میں سے بعض نے اس بارے میں مستقل کتاب لکھی ، اس میں انہوں نے ہشام بن عروہ پر اعتراض کیا ہے ، اس بارے میں سب سے بڑی بات جو کسی نے کہی ہے ، وہ یہ ہے کہ ہشام بن عروہ نے غلطی کی ہے اور ان پر معاملہ مشتبہ ہو گیا تھا ، انہوں کا کہنا ہے ، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہونا ممکن نہیں ہے ، کیونکہ ایسا کہنا کافروں کے قول کی تصدیق ہے ، انہوں نے (مسلمانوں سے)کہا تھا : (اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَسْحُوْرًا)(الاسراء : ٤٧)( تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو)، یہی بات فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی : (وَاِنِّی لَأَظُنُّکَ یَا مُوْسٰی مَسْحُوْرًا)(الاسراء : ١٠١)(اے موسیٰ ! میں تجھے جادو زدہ سمجھتا ہوں)، صالح علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا : (اِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ)(الشعراء : ١٥٣)(یقینا تو جادو زدہ لوگوں میں سے ہے)اور شعیب علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا : (اِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ)(الشعراء : ١٨٥)(بلاشبہ تو جادو زدہ لوگوں میں سے ہے)، نیز ان(منکرینِ حدیث)کا کہنا ہے کہ انبیاء oپر جادو اس لیے بھی ممکن نہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ان کی حمایت اور شیاطین سے ان کی حفاظت کے منافی ہے ۔
یہ بات جو انہوں نے کہی ہے، اہل علم کے ہاں مردود ہے ، کیونکہ ہشام بن عروہ (اپنے دور کے)تمام لوگوں سے بڑھ کر عالم اور ثقہ تھے ، کسی امام نے بھی ان کے بارے میں ایسی بات نہیں کہی ، جس کی وجہ سے ان حدیث کو ردّ کرنا ضروری ہو ، متکلّمین کو اس فن (حدیث )سے کیا تعلق (یعنی ان کی ہشام پر جرح پرِ کاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتی)، نیز ہشام کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے ، امام بخاری ومسلم ;نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کیا ہے ، محدثین میں سے کسی نے اس حدیث کے (ضعف کے)بارے میں ایک کلمہ بھی نہیں کہا ، یہ واقعہ مفسرین ، محدثین ، مؤرّخین اور فقہاء کے ہاں مشہور ہے ، اور یہ لوگ متکلمین سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و واقعات سے آگاہ ہیں ۔”
(بدائع الفوائد لابن القیم : ٢/٢٢٣)
حافظ ابنِ حجر رحمہ اللّٰہ علامہ مازری سے نقل کرتے ہیں :
أنکر بعض المبتدعۃ ھذا الحدیث ، وزعموا انّہ یحطّ منصب النّبوّۃ ویشکّک فیھا ، قالوا : وکلّ ما أدّی الی ذلک فھو باطل ، وزعموا أنّ تجویز ھذا یعدم الثّقۃ بما شرعوہ من الشّرائع ، اذ یحتمل علی ھذا أن یخیّل الیہ أنّہ یری جبرئیل ، ولیس ھو ثمّ وأنّہ یوحی الیہ بشیء ، ولم یوح الیہ شیء ، وھذا کلّہ مردود ، لأنّ الدّلیل قد قام علی صدق النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فیما یبلغہ عن اللّٰہ تعالیٰ وعلی عصمتہ فی التّبلیغ ، والمعجزات شاھدات بتصدیقہ ، فتجویز ما قام الدّلیل علی خلافہ باطل ، وأمّا ما یتعلّق ببعض أمور الدّنیا الّتی لم یبعث لأجلھا ، ولا کانت الرّسالۃ من أجلھا ، فھو فی ذلک عرضۃ لما یعترض البشر کالأمراض ، فغیر بعید أن یخیّل الیہ الیہ من أمر من أمور الدّنیا ما لا حقیقۃ لہ مع عصمتہ عن مثل ذلک من أمور الدّین ، وقد قال بعض النّاس : انّ المراد بالحدیث أنّہ کان صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم یخیّل الیہ أنّہ وطیء زوجاتہ ، ولم یکن وطأھنّ ، وھذا کثیر ما یقع تخیّلہ للانسان فی المنام ، فلا یبعد أن یخیّل الیہ فی الیقظۃ ۔
”مازری نے کا کہنا ہے کہ بعض بدعتی لوگوں نے اس حدیث کا انکار کر دیا ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ یہ حدیث مقام ِ نبوت کو گراتی اور اس میں شکوک وشبہات پیدا کرتی ہے ، ان کے بقول ہر وہ چیز جو اس طرف لے جائے ، وہ باطل ہے اور انہوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ انبیاء پر جادو کو ممکن سمجھنا ان کی بیان کردہ شریعتوں پر سے اعتماد کو ختم کر دیتا ہے ، کیونکہ احتمال ہے کہ وہ جبریل کو دیکھنے کا گمان کریں ، حالانکہ وہاں جبریل نہ ہو ، نیز اس کی طرف وحی کی جائے اور وہ یہ سمجھے کہ اس کی طرف کوئی وحی نہیں آئی ۔
یہ سب شبہات مردود ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی تبلیغ میں سچے ہونے اور غلطی سے معصوم ہونے کی دلیل آچکی ہے ، پھر آپ کے معجزات اس بات کے گواہ ہیں ، لہٰذا جس بات پر دلیل قائم ہو چکی ہے ، اس کے خلاف امکانات پیش کرنا باطل ہے ، رہے وہ معاملات جو دنیا سے تعلق رکھتے ہیں ،تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے لیے مبعوث ہی نہیں فرمایا ، نہ ہی رسالت کا ان سے تعلق ہے ، لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان معاملات سے عام انسانوں کی طرح دوچار ہوتے ہیں ، جیسا کہ بیماریاں ہیں ، لہٰذا دنیاوی معاملات میں کسی بے حقیقت چیز کا آپ کو خیال آجانا کوئی بعید بات نہیں ہے ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دینی معاملات میں اس سے بالکل محفوظ ہیں ، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حدیث کی مراد یہ ہے کہ آپ کو یہ خیال آتا تھا کہ میں نے اپنی بیویوں سے مباشرت کی ہے ، حالانکہ ایسا ہوا نہ ہوتا تھا ، یہ بات تو اکثر انسانوں کو خواب میں بھی لاحق ہوتی رہتی ہے ، اس صورت ِ حال کا آپ کو بیداری میں پیش آجاتا کوئی بعید نہیں ۔۔۔”
(فتح الباری لابن حجر : ١٠/٢٢٦۔٢٢٧)
اس بات کی صراحت حدیث کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے : حتّی کان یری أنّہ یأتی النّساء ، ولا یأتیھنّ ۔
”حتی کہ آپ یہ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس آتے ہیں ، حالانکہ آپ آتے نہ تھے ۔”
(صحیح بخاری : ٢/٥٨٥، ح : ٥٧٦٥)
نیز حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ مہلب سے ذکر کرتے ہیں :
صون النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم من الشّیاطین لا یمنع ارادتھم کیدہ ، فقد مضٰی فی الصّحیح أنّ شیطانا أراد أن یفسد علیہ صلاتہ ، فأمکنہ اللّٰہ منہ ، فکذلک السّحر ، ما نالہ من ضررہ ما یدخل نقصا علی ما یتعلّق بالتّبلیغ ، بل ھو من جنس ما کان ینالہ من ضرر سائر الأمراض من ضعف عن الکلام ، أو بحجز عن بعض الفعل ، أو حدوث تخیّل لا یستمرّ ، بل یزول ویبطل اللّٰہ کید الشّیاطین ۔۔۔
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطانوں سے محفوظ ہونا ان کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بری تدبیر کے ارادے کی نفی نہیں کرتا ، صحیح بخاری ہی میں یہ بات بھی گزری ہے کہ ایک شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز خراب کرنے کا اردہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر قدرت دے دی ، اسی طرح جادو کا معاملہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی ایسا نقصان نہیں اٹھایا جو تبلیغِ دین کے متعلق ہو ، بلکہ آپ نے اس سے ویسی ہی تکلیف اٹھائی ہے ، جیسی باقی امراض سے آپ کو ہوجاتی تھی ، مثلاً بول چال سے عاجز آنا ، بعض کاموں سے رک جانا یاعارضی طور پر کوئی خیال آجانا ، اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شیاطین کی تدبیر باطل وزائل کر دیتا تھا ۔”
(فتح الباری : ١٠/٢٢٧)
دیوبندیوں کے ”مفتی اعظم ”محمد شفیع دیوبندی کراچوی صاحب لکھتے ہیں :
”کسی نبی یا پیغمبر پر جادو کا اثر ہوجانا ایسا ہی ممکن ہے ، جیسا کہ بیماری کا اثر ہوجانا ، اس لیے کہ انبیاء oبشری خواص سے الگ نہیں ہوتے ، جیسے ان کو زخم لگ سکتا ہے ، بخار اور درد ہو سکتا ہے ، ایسے ہی جادو کا اثر بھی ہوسکتا ہے ، کیونکہ وہ بھی خاص اسباب ِ طبعیہ جنات وغیرہ کے اثر سے ہوتا ہے ، اور حدیث ثابت بھی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہو گیا تھا ، آخری آیت میں جو کفار نے آپ کو ‘مسحور’ کہا اور قرآن نے اس کی تردید کی ، اس کا حاصل وہ ہے ، جس کی طرف خلاصہ تفسیر میں اشارہ کر دیا گیا ہے ، ان کی مراد درحقیقت ‘مسحور’ کہنے سے مجنون کہنا تھا ، اس کی تردید قرآن نے فرمائی ہے ، اس لیے حدیث ِ سحر اس کے خلاف اور متعارض نہیں ۔”
(معارف القرآن : ٥/٤٩٠۔٤٩١)
شبیر احمد عثمانی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں :
”لفظ ِ مسحور سے جو مطلب وہ (کفار)لیتے تھے ، اس کی نفی سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی پر کسی قسم کا سحر(جادو) کا کسی درجہ میں عارضی طور پر بھی اثر نہ ہو سکے ، یہ آیت مکی ہے ، مدینہ میں آپ پر یہود نے جادو کرانے کا واقعہ صحاح میں مذکور ہے ، جس کا اثر چند روز تک اتنا رہا کہ بعض دنیاوی کاموں میں کبھی کبھی ذہول (بھول)ہو جاتا تھا ۔”
(تفسیر عثمانی)
جناب محمد حسین نیلوی مماتی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں :
”ایک نابکار یہودی نے آپ پر جادو بھی کیا تھا ۔”
(الادلۃ المنصوصۃ از نیلوی : ٩٤)
احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں :
”جادو اور اس کی تاثیر حق ہے ، دوسرے یہ کہ نبی کے جسم پر جادو کا اثر ہو سکتا ہے ۔”
(تفسیر نور العرفان : ص ٩٦٥)
آخر میں ہم علامہ عینی حنفی کی عبارت پیش کرتے ہیں ، جس سے تمام شکوک وشبہات دور ہو جاتے ہیں ،
عینی حنفی لکھتے ہیں۔:
انّ ذلک السّحر لم یضرّہ ، لأنّہ لم یتغیّر علیہ شیء من من الوحی ، ولا دخلت علیہ داخلۃ فی الشّریعۃ ، وانّما اعتراہ شیء من التّخیّل والوھم ، ثمّ لم یترکہ اللّٰہ علی ذلک ، بل تدارکہ بعصمتہ وأعلمہ موضع السّحر وأعلمہ استخراجہ وحلّہ عنہ کما دفع اللّٰہ عنہ السّمّ بکلام الذّراع الثّالث أنّ ھذا السّحر انّما تسلّط علی ظاہرہ ، لا علی قلبہ وعقلہ واعتقادہ والسّحر مرض من الأمراض وعارض من العلل ، یجوز علیہ کأنواع الأمراض ، فلا یقدح فی نبوّتہ ، ویجوز طروہ علیہ فی أمر الدّنیا ، وھو فیھا عرضۃ للآفات کسائر البشر ۔
”بلاشک وشبہ اس جادو نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ضرر نہیں پہنچایا ، کیونکہ وحی میں سے کوئی چیز متغیّر نہیں ہوئی ، نہ ہی شریعت میں کوئی مداخلت ہوئی ، پس تخیل ووہم میں سے ایک چیز رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لاحق ہوئی ، پھر اللّٰہ تعالیٰ نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اسی حالت پر نہیں چھوڑا ، بلکہ اس کو اس سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کا تدارک بھی کیا ، آپ کو جادو کی جگہ بھی بتائی ، اس کو نکالنے کا بھی پتا دیا اور آپ سے اس کو ختم کیا ، جس طرح کہ بکری کے شانے کے گوشت کے بولنے کے ساتھ اس کے زہر کو آپ سے دور کیا تھا ،تیسری بات یہ ہے کہ جادو آپ کے ظاہر پر ہوا تھا ، دل و دماغ اور اعتقاد پر نہیں ، جادو امراض میں سے ایک مرض ہے اور بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے ، دوسری بیماریوں کی طرح آپ کواس کا لاحق ہونا بھی ممکن ہے ، لہٰذا یہ بات آپ کی نبوت میں کوئی عیب پیدا نہیں کرتی ، دنیاوی معاملات میں آپ پر اس کا اثر ممکن ہے، دوسرے انسانوں کی طرح دنیاوی معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آفات آسکتی ہیں ۔”
(عمدۃ القاری از عینی : ١٦/٩٨)
نیز لکھتے ہیں :
وقد اعترض بعض الملحدین علی حدیث عائشۃ وقالوا : کیف یجوز السّحر علی رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم والسّحر کفر وعمل من أعمال الشّیاطین ، فکیف یصل ضررہ الی النّبیّ مع حیاطۃ اللّٰہ لہ وتسدیدہ ایّاہ بملاتکتہ وصون الوحی عن الشّیاطین وأجیب بأنّ ھذا اعتراض فاسد وعناد للقرآن ، لأنّ اللّٰہ تعالیٰ قال لرسولہ : قل أعوذ بربّ الفلق الی قولہ : فی العقد ، والنّفّاثات السّواحر فی العقد کما ینفث الرّاقی فی الرّقیۃ حین سحر ، ولیس فی جواز ذلک علیہ ما یدل علی أنّ ذلک یلزمہ أبدا ، أو یدخل علیہ داخلۃ فی شیء من ذاتہ أو شریعتہ ، وانّما کان لہ من ضرر السّحر ما ینال المریض من ضرر الحمّٰی والبرسام من ضعف الکلام وسوء التّخیّل ، ثمّ زال ذلک عنہ وأبطل اللّٰہ کید السّحر ، وقد قام الاجماع فی عصمتہ فی الرّسالتہ ۔۔۔
”بعض ملحدین (بے دین لوگوں)نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیسے ہو سکتا ہے ، حالانکہ یہ تو کفر ہے اور شیطان کے اعمال میں سے ایک عمل ہے ؟ اللہ کے نبی کو اس کا نقصان کیسے پہنچ سکتا تھا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی تھی ، فرشتوں کے ذریعے آپ کی رہنمائی کی تھی اور وحی کو شیطان سے محفوظ کیا تھا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ اعتراض فاسد اور قرآن کے خلاف بغض پر مبنی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ فلق سکھائی تھی ، اس میں النفّاثاتکامعنیٰ گرہوں میں جادو کرنے والی عورتیں ہے ،جس طرح کہ جادو کرنے والا شخص کرتا ہے ، اس جادو کو نبی پر ممکن کہنے میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے معلوم ہو کہ وہ آپ کے ساتھ ہمیشہ لازم رہا تھا یاآپ کی ذات یا شریعت میں کوئی خلل آیا تھا ،آپ کو جادو کے اثر سے اسی طرح کی تکلیف پہنچی تھی ، جس طرح کی تکلیف بیمار کو بخار یا برسام کی وجہ سے پہنچتی ہے ، یعنی کلام کا کمزور ہونا ، خیالات کا فاسد ہونا وغیرہ ، پھر یہ چیز آپ سے زائل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے جادو کی تکلیف کو ختم کر دیا ، اس بات پر اجماع ہو چکاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت (اس جادو کے اثر سے)محفوظ رہی ہے ۔”
(عمدۃ القاری : ١٦/٩٨)
شبہ:بعض لوگ یہ شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ خبرِ واحد عقیدہ میں حجت نہیں ہے ، لہٰذا اس مسئلہ میں بھی خبرِ واحد حجت نہیں ہے ۔
ازالہ:1.یہ مسئلہ عقیدہ سے تعلق نہیں رکھتا ، ہاں ! جادو کی حقیقت اور تاثیر عقیدہ سے تعلق رکھتی ہے۔
2.عقیدہ میں بھی خبرِ واحد حجت اور دلیل ہے ،
حافظ ابنِ قیّم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وھذا التّفریق باطل باجماع الأمّۃ ۔
”اس تفریق کے باطل ہونے پر اجماع ہے (کہ خبر واحد عمل میں حجت ہے ، عقیدہ میں نہیں)۔”
(مختصر الصواعق المرسلۃ : ٢/٤١٢)
نبی پر جادو کا اثر ہوجانا قرآن سے ثابت ہے ، لہٰذا خوامخواہ حدیث پر اعتراض بے بنیاد ہے ۔
الحاصل :جنون کے مرض کے علاوہ جس طرح نبی کو ہر مرض لگ سکتا ہے ، اسی طرح امور ِ دنیا میں جادو بھی ہو سکتا ہے ،
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں حق سننے اور ماننے کی ھدایت و توفیق نصیب فرمائے۔آمین
وما علینا الا البلاغ
 
Top