🍀🌺🍀🍀ظہار کے احکام🍀🍀🌺🍀
📝تحریر:الشیخ ابومحمدعبدالاحدسلفی(پنجاب,پاکستان)
*ظہار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو ایسی عورت سےتشبیہ دے جو ہمیشہ ہمیش کےلیےاس پر حرام ہے,مثلا وہ کہتا ہے:تو میری ماں کی پشت کی مانند ہے,یا میری بہن یا بیٹی کی پشت کی مانند ہے وغیرہ وغیرہ,یہ برائی اور جهوٹ ہے_
🍀ارشادباری تعالیٰ ہے:
اَلَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِہِمۡ مَّا ھُنَّ اُمَّہٰتِہِمۡ ؕ اِنۡ اُمَّہٰتُہُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔىۡ وَلَدۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّہُمۡ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَ زُوۡرًا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۲﴾
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ( یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں ) وہ دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ،ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ،یقینًا یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں بے شک اللّٰہ تعالٰی معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے.
_"{سُوْرَۃُ الْمُجَادَلَۃ،سورۃ۵۸،پارۃ۲۸،آیت:2}
🍀🍀۔بیوی کو ماں،بہن کہنایہ حرام ہے,اگر خاوند ایسا کر بیٹهےتو وہ اپنی بیوی کو ہاتھ لگانےسےپہلےکفارہ ادا کرے,
🍀فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَ الَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ ذٰلِکُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۳﴾
فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّیۡنَ مِسۡکِیۡنًا ؕ ذٰلِکَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕوَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴﴾
" جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے ،اس کے ذریعہ تم نصیحت کئے جاتے ہو اور اللّٰہ تعالٰی تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے ۔
پھر جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگا تار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لئے کہ تم اللّٰہ کی اور اس کے رسول (ﷺ)کی حکم برداری کرو یہ اللّٰہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور کفار ہی کے لئے دردناک عذاب ہے۔"
[سورۃ المجادلہ,سورہ58,پارہ28,آیات:3,4]
🍁فضیلۃ الشیخ ابن عثیمین رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتےہیں کہ:"ہم اس ظہار کرنےوالےسےکہیں گے:تجھ پر گردن آزاد کرنا واجب ہےاگر تو نہ کر سکےتو دو مہینےکےمسلسل روزےرکهو,ایک دن بهی ناغہ نہ کر سوائےسفر یا بیماری کےعذر کے,اگر ایسا بهی نہ کرسکےتو ساٹھ مسکینوں کو کهانا کهلا دے,اس میں کفارہ ترتیب کےاعتبار سےہےنہ کہ اختیاری,ظہار کرنےوالےکےلیےیہ بهی حلال نہیں کہ کفارہ ادا کرنےسےپہلےاپنی بیوی سےجماع کرے_"
اگر اس نےکفارہ ادا کرنےسےپہلےجماع کرلیا تو گنہگار ہوگا,اس پر لازم ہےکہ توبہ کرے,اہل علم کا کہنا ہےکہ اس پر لازم ہےکہ نئےسرے سے روزے رکهے,اس بنا پر اگر اس نےجماع کیا اور باقی صرف پانچ(یاکچھ)روزے رہتے تهےتو ضروری ہےکہ نئے سرےسےدو مہینوں کےروزے رکهے_"
[نور علی الدرب:2_477سوال وجواب برائے نکاح وطلاق,صفحه246,247,مسئلہ273]
🍁آدمی کا اپنی بیوی سےکہناکہ"تو میرے لیےمیری ماں کی شرمگاہ جیسی ہے_"بهی ظہار سمجها جائے_"
{اللجنتہ الدائمہ:12842}
🍁میاں بیوی کےمابین نزاع واختلاف کےوقت خاوند کا بلا قصد یہ کہنا کہ وہ اپنی بیوی سےنہیں بلکہ اپنی ماں سےمباشرت کرتا ہے,ظہار سمجها جائےگا_"
*شادی شدہ آدمی کا اپنی ساس یاسسر سےجهگڑا ہوا,اس نےکہا تیری بیٹی آج کےبعد میری ماں ہے,ظہار سمجها جائےگا_"
🍁آدمی اپنی بیوی کو محبت سےکہے"اےمیری بہن! اےمیری ماں! تو ایسےکلمات کو محبت والفت پیدا کرنےکےلیےکہنا بعض نےجائز قرار دیا ہےاور بعض نےمکروہ قرار دیا ہے,میری تحقیق کےمطابق اپنی بیوی کو ایسےکلمات کہنا صحیح نہیں,کیونکہ اور بهی بہت سےکلمات ایسےہیں جن سےمحبت والفت پیدا ہو سکتی ہے,دوسرا یہ کہ اپنی بیوی کو اےمیری ماں!,بہن یا بیٹی کہنےسے فتنہ کا خطرہ بهی ہے_"واللّٰه اعلم
🌺🌺🌺🌺و ما علینا الا البلاغ🌺🌺🌺🌺
 
Last edited:
Top