مومن کیلئے بشارت الہی

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

اسلامی بھائیو! غور کیجئے اگر آپ افسردہ ہوں،غم و الم نے گھیر رکھا ہو، تنگدستی کے اوقات سے گزر رہے ہوں، ایسے وقت میں اگر کوئی آپ کو بشارت و خوشخبری دے، جس سے آپ خوشی کے مارے جھوم اٹھیں، آپ کی تنگدستی مال داری میں بدلنے والی ہو تو آپ کتنے خوش ہوں گے ۔
مگر ایک لمحے کے لئے یہ سوچئے کے اگر اللہ آپ کو خوشخبری سنائے تو وہ کتنی عظیم اور مبارک ہو گی ۔
اللہ تعالی کی طرف سے خوشخبری ہے مومنین کے لئے سنئے!
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَـهْدِىْ لِلَّتِىْ هِىَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّـرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّـذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصَّالِحَاتِ اَنَّ لَـهُـمْ اَجْرًا كَبِيْـرًا (اسراء 9)
بے شک یہ قرآن وہ راہ بتاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں، اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔
قرآن کریم شروع سے آخر تک پڑھتے جائیے تقریبا ہر سورہ میں مومنین کے لئے بشارت ملے گی جس سے غم و آلام دور ہو جائیں گے، آپ کو قلبی اطمینان و سکون نصیب ہوگا۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
تِلْكَ اٰيَاتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ
یہ آیتیں قرآن کی اور کتابِ روشن کی ہیں۔

هُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ (2)
مومنین کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔
مریم علیہ السلام کی حالت کو دیکھئے لوگ اس پاک دامن پر تہمت لگا رہے ہیں، ان کی عزت و شرف کو اچھالا جا رہا ہے، اور وہ اپنی زبان سے اپنی پاکدامنی کو بیان کرنے سے قاصر ہیں ۔
لیکن سنئے اللہ رب العالمین نے قرآن کریم میں کس طرح سے ایمان والوں کو خوشخبری دی اور مریم علیھا السلام کو جب وہ غم و الم سے موت کی تمنا کر رہے ہیں اللہ نے انہیں خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا
فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ

تو اسے اس کھجورکے درخت کے نیچے سے رب نے پکارا کہ غم نہ کرو ۔
ایسے وقت میں تسلی دی جارہی ہے جب
دل تنگ ہو گیا تھا، ان کا کھانا پینا دشوار ہو چکا تھا
تو اللہ نے بشارت دیتے ہوئے فرمایا ۔
فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا: پس آپ کھایئے اور پیجئے اور (اپنی) آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔
غور فرمایئے کیا اس سے بھی عظیم کوئی بشارت ہو سکتی ہے
اسی طرح موسی علیہ السلام کی مومنہ ماں کے بارے میں سنیئے جب انہوں نے اپنے بیٹے موسیٰ کو دریا کے اندر فرعون کے خوف سے ڈال دیا، اور پھر اس کے بعد فرعون کے محل میں انہیں اٹھا لیا گیا، تو ان کی ماں ہر چیز کو چھوڑ کر پوری طرح موسی علیہ السلام کی فکر میں لگ گئیں، یہاں تک کہ غم و الم سے وہ موت کے قریب ہوگیں، لیکن اہل ایمان کے لئے اللہ کی بشارت سنیے
اللہ نے فرمایا:
وَلَا تَخَافِىْ وَلَا تَحْزَنِىْ ۖ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ (قصص7)
کچھ خوف اور غم نہ کر، بے شک ہم اسے تیرے پاس واپس پہنچا دیں گے، اور اسے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں۔
اللہ اکبر قران کریم میں آپ کو عجیب عجیب قصے، اطمینان قلب کے لئے ملیں گے ۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کو دیکھیے کس طرح سے آپ کو جھٹلایا جا رہا ہے،تکلیف پہنچائی جا رہی ہے، مذاق اڑایا جا رہا ہے، اور آپ کے صحابہ کرام کفار مکہ کی طرف سے عذاب میں مبتلا ہیں، حالانکہ وہ مکہ کی پاک سرزمین پر ہیں، اللہ کی محبوب ترین زمین ہے، پھر بھی کعبہ کے ارد گرد بت رکھے ہوئے ہیں، اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارا جا رہا ہے، ان ہی بتوں کے نام پر نذرونیاز چل رہی ہیں، انھی کے نام پر ذبح کیا جا رہا ہے، شراب عام ہے، سود خوری کا رواج ہے، فحش اور ظلم سے زمین بھر گئی ہے۔
ان حالات میں ایک مومن صالح کتنی تکلیف میں ہوں گے، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم اس عظیم شرک کو دیکھ کر کتنی دلی تکلیف میں ہوں گے۔
ایسے موقع سے اللہ تعالی نے قرآن کی کریم کے اندر خطاب فرمایا:
وَاصْبِـرْ وَمَا صَبْـرُكَ اِلَّا بِاللّـٰهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْـهِـمْ وَلَا تَكُ فِىْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُـرُوْنَ ( النحل۔ 127)
اور صبر کر اور تیرا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے، اور ان پر غم نہ کھا اور ان کے مکروں سے تنگ دل نہ ہو۔
اسلامی بھائیو! ان تمام واقعات سے ہم کو پتہ چلتا ہے، کہ مومن کو صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ ہر مصیبت کے ساتھ، پریشانی کے ساتھ ہی آسانی آتی ہے، صبر کے ذریعہ سے مومن اللہ سے اجر حاصل کرتا ہے، اور اس کی مدد بھی شامل حال رہتی ہے۔
موت سے پہلے یا قبر میں اللہ کی طرف سے فرشتے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اِنَّ الَّـذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّـٰهُ ثُـمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْـهِـمُ الْمَلَآئِكَـةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُـوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّـةِ الَّتِىْ كُنْتُـمْ تُوْعَدُوْنَ (فصلت۔ 30)
بے شک جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور جنت میں خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
ایسے ہی یومِ جزا کے وقت بھی اللہ کی طرف سے نیک بندوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا جائے گا ۔
يَا عِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَآ اَنْـتُـمْ تَحْزَنُـوْنَ (زخرف۔ 68) ↖
(کہا جائے گا) اے میرے بندو! تم پر آج نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔
اس لیے ہمیں صرف اللہ ہی سے لو لگانی چاہئے، اور تمام تر امیدوں کی برآوری کے لئے اللہ سے دعا و التجا کرنی چاہئے، اور یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ سے نا امیدی کفر ہے، اور اللہ نے اس سے روکا ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: قُلْ يَا عِبَادِىَ الَّـذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِـمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْـمَةِ اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُـوْبَ جَـمِيْعًا ۚ اِنَّهٝ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِـيْمُ (الزمر۔ 53)
کہہ دو اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ بخش دے گا، بے شک وہ بخشنے والا رحم والا ہے۔
یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں کو یہی تعلیم دی تھی۔
يَا بَنِىَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ وَلَا تَيْاَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّـٰهِ ۖ اِنَّهٝ لَا يَيْاَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّـٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُوْنَ (یوسف۔ 87)
اے میرے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔
خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب غارثور میں تھے، دشمن بالکل قریب تھا، اپنی نظریں نیچے کرتا تو دیکھ لیتا، ایسے موقع سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب گھبرائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی رحمت سے امید کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا تھا۔
رب نے اس کا نقشہ کھینچا ہے :
اِذْ اَخْرَجَهُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِىَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِى الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَنَا ۔ جس وقت اسے کافروں نے نکالا تھا کہ وہ دو میں سے دوسرا تھا جب وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھے غم نہ کیجئے، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
معلوم ہوا کہ مصیبتیں ہوں، بلاوں اور آفتوں نے گھیر رکھا ہو، ظلم و ستم کے بادل چھائے ہوں، ایک مومن کو اللہ کی رحمت سے پرامید کرتے ہوئے، بہترین حکمت عملی اور صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا چاہئے ان شاءاللہ فتح و کامرانی بالآخر مومن ہی کو حاصل ہو گی ۔
 
Top