ذیشان خان

Administrator
اسلام میں نماز کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے ۔ نماز توحید باری تعالی کے بعد اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے ۔ نماز اللہ تعالی سے تعلق مظبوط کرنے کا ذریعہ ہے ۔اوریہ ایسی عبادت ہے جو دن میں پانچ مرتبہ اداء کرنی ہے اورقران و حدیث میں اس کی ادائیگی کا بار بار حکم آیا ہے ۔
ہمیں یہ مضمون اس لئے لکھنا پڑا کہ بہت سارے لوگ نمازکی اہمیت سے غافل ہیں جبکہ بہت سارے لوگ نمازپڑھتے ہیں مگرساتھ ساتھ بہت ساری غلطیوں کا بھی ارتکاب کرتے ہیں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : صلوا كما رأيتموني أصلي (بخاری)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ؛ نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتا دیکھتے ہو ۔
اس لئے نماز کی صحیح ادائیگی ضروری ہے ۔
نماز کی صحیح ادائیگی کی اہمیت اس حدیث سے واضح ہوتی ہے جو کہ صحیح بخاری میں وارد ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تین دفعہ فرمایا ( ارجع فصل ' فانک لم تصل ) جاؤ نماز پڑھو تو نے نماز نہیں پڑھی یعنی اس کے رکو ع اور سجود میں اطمینان نہ تھا اور نماز کی ادئیگی کا طریقہ صحیح نہین تھا –
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض نمازی حضرات دوران نماز کچھ ایسی غلطیا ں کرتے ہیں جن سے نماز باطل ہو جاتی ہے یا نماز ناقص ہو جاتی ہے یا ان غلطیوں پر سخت وعید ائی ہے –ان غلطیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس پمفلٹ میں چند اہم غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے احادیث رسول سے صحیح موقف کو واضح کیا گیا ہے ۔
1) مسنون غسل کا علم نہ ہونا
نماز کی شرائط میں سےایک شرط جسم کا حدث سےپاک ھونا ہے .طہارت حاصل کرنے کے لئے غسل کیا جاتا ہے اور اکثر مسلمان غسل کا مسنون طریقہ نہیں جانتے اس لئے غسل کا مسنون طریقہ دیا جارہا ہے۔
(مسنون غسل کا طریقہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کے لئے تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے پھر اپنے دائیں ہاتھ سے شرم گاہ پر پانی ڈالتے اور بائیں ہاتھ سے شرم گاہ کو دھوتے اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو زمین پر رگڑتے بعد ازاں وضو کرتے جس طرح نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے ( ایک روایت میں پاوں نہ دھونے کا ذکر ہے )پھر پانی کے برتن میں اپنی انگلیاں ڈال کر بالوں کا خلال کرتےاس کے بعد سر میں تین چلو پانی ڈالتے اور اسی طرح تین دفعہ جسم پر پانی بھاتے ( پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف ) غسل سے فارغ ہونے کے بعد اپنے پاؤں دھوتے ( جس جگہ غسل کیا ہے اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھونے کا ذکر ہے )
2) زبان سے نیت کرنا
نماز کے شروع میں زبان سےان الفاظ کے ساتھ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ نیت کی جاتی ہے ( میں نیت کرتا ہوں دو رکعت نماز فرض وقت نماز فجرپڑھنے واسطے ثواب کے منہ میرا قبلہ کی طرف پیچھے اس امام کے ) یہ بدعت ہے .اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت نہیں اور نہ ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ، تابعین عظام رحمھم اللہ اور ائمہ اربعہ رحمھم اللہ سے نماز کی نیت زبان سے کرنے کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ ہر عمل کے لئے نیت کی جاۓ گى جیسا کہ صحیح بخاری میں وارد ہے ( انما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی )بے شک عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر کسی کو ( مرد وعورت ) کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے . اس سے مراد دل کا ارادہ ہے نہ کہ زبان سے الفاظ کی ادائیگی–لہذا اس بدعت كوترک کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے تاکہ ہماری نماز سنت کے مطابق ہو سکے ۔
3) اعضاء وضو کا خشک چھوڑ دینا
بعض نمازی جلدی میں وضو کرتے ہوۓ یا پاؤں دھوتے وقت انگلیوں کا خلال نہیں کرتے یا بعض لوگ چپل اتارے بغیر پاؤں دھوتےہیں جس کی وجہ سے اعضاۓ وضو کا کوئی حصہ خشک رہ جاتا ہے اس کے بارۓ میں حدیث میں وعید آئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :: ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ کی صورت میں ہلاکت ہے یعنی وضو میں ایڑی خشک چھوڑ دینے والے کیلئے دوزخ کی آگ کی صورت میں ہلاکت ہے ( مسلم ) ایک اور روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو پاؤں پر ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دینے پر دوبارہ وضوء کرنے کا حکم دیا (راوی عمر رضی اللہ عنہ ، مسلم )
4)بغیر سترہ کے نماز پڑھنا
نماز میں جن چیزوں سے خشوع وخضوع حاصل ہوتا ہے ان میں سترہ ( اوٹ ) کا اہتمام کرنا بھی ہے جس کا اکثر نمازی حضرات اہتمام نھیں کرتے –رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( جب تم میں کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے سترہ رکھ لے اور سترہ کے قریب کھڑا ہو ) سنن ابو داود 695
اس لئے جب بھی ہم نماز پڑھیں تو کسی چیز کو سترہ بنالیں ،چاہے ستون ، یا دیواریا اوٹ ہی سہی ۔ اگر کچھ بھی نہ ہو تو انگلی سے نشان لگالے اور اگر کھلے میدان میں ہو تو نیزہ یا عصاء یا لکڑی وغیرہ کو بطور سترہ زمین پر گاڑنا چاہئے ۔
5)صف بندی نہ کرنا
صف بندی : صفوں کو بالکل سیدھی ہونے اور درمیان میں خلل واقع نہ ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوران نماز
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ صفوں کو سیدھا کرنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا بلکہ اکثر لوگ صف میں آگے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں یا دور دور ہٹ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ کا فرمان ہے ( اۓ اللہ کے بندو ! اپنی صفیں سیدھی کرلو وگرنہ اللہ تعالی تمہارےدرمیان اختلاف ڈال دے گا -)-- اور ایک دوسری روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں شیطان کو بکری کے بچے کی طرح تمہاری صفوں کی کشادگی میں گھستے دیکھتا ہوں -“
6) جماعت کے ساتھ نماز نہ اداکرنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : "فرض نماز جماعت کے ساتھ اداء کرنا اکیلے نماز اداء کرنے سے ستائیس گنا افضل ہے " ( )
لیکن نماز باجماعت پرھنے کا اہتمام نہ کرنا بھی اکثر دیکھنے میں آتا ہے اور اس سلسلہ میں غفلت اور سستی کا مظاھرہ کیا جاتا ہے حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا صحابی کو نماز فجر گھر میں اداء کرنے کی اجازت نہیں دی ۔اسی طرح ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں پر ناراضی کا اظہار کرنا اور ان کے گھروں کو آگ لگانے کا ارادہ کرنا جو نماز باجاعت اداء کرنے کے لئے مسجد میں نھیں آتے .
7)جماعت کے ساتھ ملنے کے لئے بھاگ کر آنا
جماعت کی نماز کے ساتھ ملنے کے لئے بعض لوگ بھاگ کر آتے ہیں اور انہیں اس بات کا علم نہیں کہ شریعت اسلامیہ میں اس کی ممانعت آئی ہے –حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ جب اقامت ہوجائے تو تم نماز کی طرف دوڑ کر نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے باوقار طریقے سے آؤ اور تم پر اطمینان لازم ہے –سو جو ملے پڑھ لو اور جو گزر جاۓ اسے امام کے سلام پھیرنے کے بعد مکمل کرلو ( صحیح بخاری)
8) دوران نماز تمام اعضاء کا قبلہ رخ نہ ہونا
حضرت ابو سعید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : كان رسول الله عليه وسلم اذا قام الی الصلوتہ استقبل القبلتہ ( رواہ ابن ماجہ باسناد صحیح ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تواپنا رخ قبلے کی طرف کرتے –اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ جب چہرے کا رخ قبلہ کی جانب ہوگا تو لا محالہ باقی اعضاء بھی اسی جانب ہوں گے --- اکثر نمازی حضرات اپنے پاؤں کا رخ دائیں یا بائیں رکھتے ہیں ۔ اسی طرح ہاتھوں کی انگلیوں کا رخ حالت سجدہ میں قبلہ کی طرف نہ رکھنا بھی ایک غلطی ہے جس کی اصلاح کرنی چاہئے ۔
9) امام سے سبقت کرنا
بعض نمازی حضرات نماز باجماعت میں امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں چلے جاتے ہیں یہ بھی ایسا عمل ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید وعید فرمائی ہے جیساکہ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تم میں سے جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالی اس کا سر گدھے کا کردے یا اس کی صورت گدھے کی سی کردے ---
10) نماز باجماعت کے ہوتے ہوۓ سنت یا نفل نماز کا پڑھنا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو پھر اس کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی ) نمازیوں کی طرف سے یہ غلطی بالخصوص فجر کی جماعت کھڑی ہوجانے کے بعد دیکھنے میں آتی ہے جب فرض نماز کی جماعت ہورہی ہو تو کوئی دوسری نماز ہوتی ہی نہیں یعنی جو نمازی ایسا کرتے ہیں انہیں اس سے رک جانا چاہئے اور جہاں تک فجر کی سنت اداء کرنے کا مسئلہ ہے تو فجر کی سنتیں فرض نماز کے فورا بعد یا طلوع آفتاب کے بعد پڑھی جاسکتی ہیں (جیسا کہ اس سلسلہ میں حدیث موجود ہے)
11)تعدیل ارکان کا عدم اہتمام
نماز کے تمام ارکان کا اطمینان اور سکون سے اداء کرنا بھی نماز کی صحیح ادائیگی کے لئے بہت ضروری ہے جس کا خیال نہیں کیا جاتا اور بعض نمازی حضرات رکوع اور سجدے میں جلدی کرتے ہیں, رکوع کو کمر کے برابر نہیں کرتے اور اسی طرح سجدہ میں بھی جلدی کرتے ہیں ۔اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو تین دفعہ فرمایا ( ارجع فصل : فانک لم تصل ) لوٹ جا نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی ) جو شخص اپنی نماز میں تعدیل ارکان کی رعایت نہیں کر رہا تھا- اطمینان یہ ہے کہ جسم کا ہر جوڑ اور ہڈی اپنی جگہ پر آجاۓ یا حالت سکون میں آجائے ۔
12) دوران نماز آسمان کی طرف دیکھنا
بعض حضرات حالت نماز میں آسمان کی طرف دیکھتے ہیں یہ بھی ایک ایسی غلطی ہے جس پر ممانعت اور وعید آئی ہے جیساکہ بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راویت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لوگوں کو کیا ہوا وہ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق بڑی سختی سے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو اس سے باز آنا چاہئے یا پھر ان کی بینائی کو اچک لیا جاۓ گا۔
13) حالت نماز میں ادھر ادھر دیکھنا
نماز کے دوران نمازی کی نگاہیں نیچے رہیں یا سجدہ کے مقام پر ہونی چاہئے ۔حالت نماز میں ادھر ادھر یا دائیں بائیں دیکھنا بھی ایک ایسی خطاء ہے جس کے بارے میں صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایسی دستبرد ہے جو شیطان بندے کی نماز میں کرتا ہے ۔
14) رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سیدھا کھڑا نہ ہونا
بعض نمازی حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ رکوع سے سر اٹھانے کے ساتھ ہی جلدی سےسجدہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ہونا چاہئے تھاکہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سیدھا کھڑا ہوکراطمینان کے ساتھ سجدہ کے لئے جائے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتا ر ہے تھے چنانچہ وہ نماز میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر قیام کرتے کہ ہم کہتے کہ آپ بھول گئے ہیں ( رواہ بخاری –کتاب الاذان -800)اور یہا ں ایک دعا بھی پڑھنی چاھئے وہ یہ ہے ( ربنا ولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ ) ( صحیح بخاری –799)
15) سجدے میں پاؤں یا ناک زمین پر نہ لگانا
یہ بھی اکثر نمازی کی غلطی ہے کہ سجدہ کرتے ہوئے ناک کو زمین پر نہیں ٹکاتے اور اسی طرح پاؤں بھی زمین پر نہیں لگاتے یا پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ نہ رکھتے–سجدہ میں سات اعضاء کا زمین پر لگے ہونا ضرورى ہے یعنی پیشانی (ناک اسی میں داخل ہے ) دو نوں ھاتھ, دو نوں گھٹنے اور دونوں پاؤں جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے پیشانی پر اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک ، دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کی طرف اشارہ فرمایا اور یہ بھی حکم دیا گیا کہ ہم کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں –
16) دوران سجدہ بازو زمین پر بچھانا
یہ غلطی بھی اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ نمازی سجدہ کی حالت میں اپنے بازو زمین پر بچھا دیتے ہیں حالانکہ یہ طریقہ صحیح نہیں بلکہ حدیث کے خلاف ہے جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( سجدہ ٹھیک طور پر ادا کرو اور تم میں سے کوئی اپنے بازو زمین پر کتے کی طرح نہ بچھاۓ—
17) کندھا ننگا رکھ کر نماز ادا کرنا
نماز میں کندھا کپڑے سے ڈھانپنا ضروری ہے اور یہ غلطی میقات کی مسجد یا بیت اللہ شریف میں اکثر دیکھنے میں آتی ہے جب عمرہ کیلئے احرام باندھنے والے حضرات میقات کی مسجد سے ہی دایاں کندھا کھلا رکھتے ہیں حالانکہ اضطباع ( دایاں کندھا ننگا رکھنا ) صرف طواف میں ہے اور طواف کے بعد کندھا ڈھانپ لیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جبکہ اس کے کندھے پر کوئی چیز نہ ہو یعنی شانے ننگے ہوں (بخاری )
آخر میں اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے مطابق نماز پڑھنے کی توفیق دے اور اس پمفلٹ کو مسلمانوں کے لئے نفع بخش بناکرہمارے لئے اور اس کارخیر میں شریک ہونے والے تمام حضرات کے لئے صدقہ جاریہ بنائے ۔ آمین یا رب العالمین و صلی اللہ علی نبینا محمد وعلى آلہ وبارك وسلم
 
Top