**شيخ عبدالقادر بن ابى صالح عبدالله بن جنکى دوست الجيلى(الجيلانى)(متوفى,10/ربيع الآخر561ہجرى) کےاقوال:
تحرير:الشيخ ابومحمدعبدالاحدسلفى
>نمازشروع کرتےوقت رکوع ميں جاتےہوئےاور رکوع سےاٹهتےہوئے رفع اليدين کرنا,رفع اليدين کاطريقہ يہ ہےکہ دونوں ہاتهوں کوکندهےکےبرابر اٹهاياجائے,(يا)دونوں انگوٹهے کانوں کى لوتک اور انگلىوں کےپورےکانوں کےبالائى حصےتک بلند ہوں_
>جنازےميں چار تکبيريں ہيں,پہلى تکبير کےبعدسورت فاتحہ پڑهيں_
>ہمارےامام احمد کےنزديک اگرکوئى شخص نماز پڑهنےسےانکار کردے تو وہ کافر ہے,کيونکہ نمازفرض ہےلہذا اسےقتل کرنا واجب ہے,اس پر ہمارےتمام علماء کا اتفاق ہے_البتہ کوئى سستى اور غفلت کى وجہ سےنماز نہ پڑهےمگر دل سےاقرار کرتاہوتو اسےنماز کى ترغيب دلائى جائے,اگرپهر بهى نہ پڑهےاور(نمازکا)وقت تنگ ہوجائےتو وہ کافر ہے_لہذا کفرکى وجہ سےاسےتلوار کےساته قتل کردياجائےگا,ليکن مذکورہ دونوں صورتوں ميں قتل سےپہلے اسےتين دن کى مہلت دى جائےگى کہ شايدتوبہ کرلےاسى طرح مرتدکو مہلت دى جاتى ہے...اس کےجنازےکى نماز پڑهى جائيگى نہ اسےمسلمانوں کےقبرستان ميں دفن کياجائےگا_"
{غنيتہ الطالبين(مترجم:حافظ مبشر)صفحات:61,526,557_نعمانى کتب خانه}
 
Top