«غرباء(اجنبی) کون؟....»

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَأَ فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَاءِ))
(صحیح مسلم: 232/145، اضواء المصابیح: 159)
ترجمہ: اسلام شروع میں اجنبی تھا اور پہلے کی طرح دوبارہ اجنبی ہو جائے گا، لہٰذا اجنبیوں کے لئے خوش خبری ہے۔

شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
جن لوگوں کو اس حدیث میں غرباء (اجنبی) کہا گیا ہے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے:
((نَاسٌ صَالِحُوْنَ قَلِیْلٌ فِيْ نَاسٍ سُوْءٍ کَثِیْرٍ، مَنْ یَعْصِیْھِمْ أَکْثَرُ مِمَّنْ یُطِیْعُھُمْ))
بہت زیادہ بُرے لوگوں میں (رہنے والے) تھوڑے سے نیک لوگ ہیں، ان کی اطاعت کرنے والوں کے مقابلے میں نافرمانی کرنے والے زیادہ ہوں گے۔
(کتاب الزہد للامام عبداللہ بن المبارک:775 وسندہ حسن)

معلوم ہوا کہ غرباء سے وہ صحیح العقیدہ متبعینِ کتاب وسنت مراد ہیں جن کی مخالفت کرنے والے اکثر یت میں ہوتے ہیں، اس سے کوئی خاص پارٹی یا جماعت مراد نہیں ہے۔
(دیکھئے اضواء المصابیح: ح 159 ص 213، بتحقیق الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ)
 
Top