آزادی ھند میں اھل حدیث کا کردار نا قابل فراموش!

تحریر : صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

کچھ ایسے نقش بھی راہ وفا میں چھوڑ آٸے ہیں
کہ دنیا دیکھتی ہے اور ان کو یاد کرتی ہے

یہ موضوع اھل حدیث کے ساتھ خاص کرنے ضرورت اس لٸے پڑی کہ ایک طرف ھندتوادی ذھنیت مسلمانوں کی تاریخ کو مٹانا چاہتی ہے ، تو دوسری طرف مسلمانوں کی جانب سے اھل حدیث کی تاریخ کو تعصب و تنگ نظری میں اور اکثریت زعم میں بھلا دینے کی سازش کی جا رہی ہے ، چنانچہ جمعیة العلما ٕ جو اپنے آپ کو سیکولر و مسلمانوں کا ہمدرد اور مسلمانوں کی تاریخ کی حفاظت کرنے والی باور کراتی ہے ، اور دیگر مکتب فکر کے علما ٕ ٢٦ جنوری یا ١٥ اگست کے موقع سے جب جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کو بیان کرتے ہیں تو اھل حدیث کے کردار کو دانستہ طور پر نہیں بیان کرتے ، شیخ الھند محمود حسین کا نام تو بڑے پرتپاک انداز میں لیتے ہیں مگر ابو الکلام آزاد کا نام اس لٸے لینے سے کتراتے ہیں کہ وہ اھل حدیث تھے ، اسی متعصبانہ اور غاصبانہ رویہ کو دیکھتے ہوٸے اھل حدیث کی تاریخ کو اس مضمون میں خاص کیا جارہا ہے جن کی خدمات کو وقت کے بڑے بڑے تاریخ دان اور لیڈران تسلیم کرنے پر مجبور ہوٸے ۔
تو آٸیے ان مجاھدین آزادی کی سرگزشت سنانے سے پہلے اس کا مطالعہ کریں کہ
انڈیا میں انگریزوں کی آمد کب اور کیسے
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے عہد میں ہندوستان سے تجارت کا پروانہ ملا۔ 1613ء میں اس نے سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی اس زمانے میں اس کی تجارت زیادہ تر جاوا اور سماٹرا وغیرہ سے تھی۔ جہاں سے مصالحہ جات برآمد کرکے یورپ میں بھاری داموں پہ بیچا جاتا تھا۔ 1623ء میں جب ولندیزیوں نے انگریزوں کو جزائر شرق الہند سے نکال باہر کیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی تمام تر توجہ ہندوستان پر مرکوز کر دی۔ 1662ء میں بمبئی بھی اس کے حلقہ اثر میں آ گیا۔ اور کچھ عرصہ بعد شہر ایک اہم تجارتی بندرگاہ بن گیا۔ 1689ء میں کمپنی نے علاقائی تسخیر بھی شروع کردی جس کے باعث بالآخر ہندوستان میں برطانوی طاقت کو سربلندی حاصل ہوئی۔ 1858ء میں یہ کمپنی ختم کردی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ تاہم 1874ء تک کچھ اختیارات کمپنی کے ہاتھ میں رہے۔ انگریزوں نے سرزمین ہندوستان پر اپنے پاؤں ایسے جمائے کہ تین سوسال تک وطن عزیز کی تمام بہاریں لوٹتے رہے اور جب یہاں سے رخصت ہوئے تو سارا ہندوستان خزاں کی زد میں تھا کہ پھر اس پر کبھی بہار نہ آئی۔ انگریزوں نے آہستہ آہستہ پورے ہندوستان پہ 1858میں اپنا تسلط جمالیا۔
قابض ہونے کے بعد ہندوستانیوں اور خصوصا مسلمانوں کو اپنےظلم وستم کا نشانہ بنانا شروع کردیا یہاں تک کہ مسلمانوں کاجینا دوبھر ہوگیاتھا۔چنانچہ اس وقت مسلمانوں نے ملک کے حالات اور موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انفرادی واجتماعی طور پر انگریزوں کے خلاف تحریکیں چلائیں ،ان کے ظلم وستم اور سیاسی چالبازیوں کواپنی تقریروں وتحریروں کے ذریعہ عوام الناس کے سامنے طشت ازبام کیا ،علمائے کرام نے خصوصی طور پراس تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیااورعوام میں آزادی کی روح پھونکی ۔
ہمیں بھی یاد رکھیں جب لکھیں تاریخ گلشن کو
کہ ہم نے بھی لٹایا ہے چمن میں آشیاں اپنا
جب انگریز کا طوطی بولتا تھا ، تب سب سے پہلے علما ٕ اھل حدیث نے جہاد آزادی کا فتوی دے کر جنگ کا بگل بجایا، جب لوگ انگریز کے ڈنڈے کو دیکھ کر بھاگ جاتے تھے ، اس وقت آزادی کے جھنڈے کو بلند کیا ، جب آزادی کسی کے وھم و گمان میں بھی نہیں تھی، اس وقت آزادی کا نعرہ دیا ، جب لوگوں نے انگریزوں کے ظلم کو دیکھ کر ہی ان کے سامنے معافیوں کی بھیک مانگتے ہوٸے ہاتھ جوڑے ، اس وقت ہمارے اکابرین نے ان کے رحم و کرم کو ٹھکراتے ہوٸے ان کی جیلوں کو آباد کیا ، جب لوگ چاپلوسیاں کرکے انگریز کی جی حضوری کر رہے تھے کہ ہمارے مقدمات ختم کر دیٸے جاٸیں ، اس وقت اھل حدیث علما ٕ نے کالاپانی کی سزاٸیں جھیلیں ، مگر آزادی سے کوٸی سمجھوتہ نہ کر کے تحریک آزادی کا بٹہ نہیں لگنے دیا
سنو ! تاریخ جھوٹ نہیں بولتی ، تم ہمیں بھلا نہیں پاٶ گے ، مٹا نہیں پاٶگے ۔
اس تحریک میں جماعت اہلحدیث کے مایہ ناز سپوت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (م 1762) کو اولین مقام حاصل ہے جنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور درس وتدریس کے ذریعہ علماء اور عوام کی ایک ایسی جماعت تیار کی جنہوں نے اس ملک کی آزادی کے لئے اپنے جان ومال کو قربان کرنے کا فیصلہ کیااور آپ کے بڑے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز ؒ نے دارالحرب کا فتویٰ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک کا اتنا اثر ہوا کہ مختلف گروہوں اور ٹولیوں میں بٹے ہوئے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئےاور انگریزی حکومت کے خلاف زبردست متحدہ محاذ چھیڑدیا۔
اس کے بعد اس تحریک کو مزید تقویت ملی اور اس تحریک میں شاہ عبدالحئی ،شاہ اسماعیل شہید اور شاہ اسحاق رحمھم اللہ جیسے مایہ ناز اہل علم شامل ہوئے اور اس کو منظم ومستحکم بناکر انگریزوں کے خلاف ببانگ دہل جہاد کا علم بلند کیا ۔اسی طرح 1831ءمیں سید احمد شہید اورشاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ نے بالا کوٹ کے میدان میں اپنے رفقاء کے ساتھ وطن عزیز کو آزادکرانےکے لئے فرنگیوں اور ان کے اتحادی سکھوں کے خلاف جہاد میں شرکت فرماکر جام شہادت نوش کیا۔اس طرح یہ تحریک اپنے منزل کی طر ف رواں دواں رہی اور علمائے امت کا ایک عظیم قافلہ اس تحریک میں شامل ہوتارہا ۔ ایک طرف جہاں پورے ملک کے باشندے اس تحریک میں شریک ہوتے رہے وہیں دوسری طرف علمائے صادق پور،پٹنہ کا اس تحریک اور جہاد میں ایک قائدانہ کرادار رہاہے مولانا ولایت علی عظیم آبادی ( م 1852) اور ان کے بھائی مولانا عنایت علی عظیم آبادی (م 1858) نے اس تحریک کو اپنے خون جگر سے سینچا اور مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی ایسی روح پھونک دی کہ وہ کامیابی کے سا تھ آگے بڑھتی چلی گٸی جو آزادی کی شکل میں نمودار ہوئی ۔
تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ مسلمانوں نے اس ملک کو آزاد کرانے میں اپنے جان ومال اور اعزہ واقارب کی قربانیاں پیش کیں ہیں اور علمائے اہلحدیث خاص طورپر آزادی کی تحریک چلانے میں پیش پیش رہے ہیں ،غرضیکہ 1857ءمیں علماء کی ایک ایسی جماعت تیارہوئی جنہوں نے اپنے قلم وقرطاس اور خطبے ودروس سے عوام کے دلوں میں آزادی کی مزید روح پھونکی،ان کے جذبات کو جھنجھوڑا،انھیں اپنا مقام وحیثیت یاددلائی ۔ خصوصا حادثہ بالاکوٹ کے بعد علمائے صادقپور نے اس تحریک میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جن کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کی جاسکتا۔
ایثار و عزیمت سے پر مجاھدین آزادی علما ٕ اھل حدیث کی داستانیں
ھندو مصنف تارا چند اپنی کتاب تاریخ ازادی ھند میں رقمطراز ہیں
پانچ لاکھ علماء اھل حدیث کو انگریزوں نے شھید کر ڈالا....
علماء اھل حدیث کو انگریزوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اھل حدیث قاصد نے اپنی شناخت کو انگریزوں کے سامنے تبدیل کرنے کے لیے اپنے ہی خنجر سے اپنی ایک آنکھ نکال کر پھینک دی.
صرف بنگال میں دو لاکھ سے زیادہ علماء اھل حدیث شہید کر دیئے گئے ۔
انگریزوں نے علماء اھل حدیث کو کالا پانی ، پھانسی ، قتل ، جیل ، شہر بدری اور نظر بندی وغیرہ کی سزائیں بھی دیں.
عین عید کے دن مکانات اور گھروں پر بلڈوزر چلا دئیے گئے.
علماء اھل حدیث کی لائبریریاں اور تصنیفات جلا دی گئیں.
انکی آل اولاد اور خاندان تباہ کر دیئے گئے.
ایک موقعہ سے خود ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ہندوستان کے تمام لوگوں نے آزادی کیلٸے جو قربانیاں دی ہیں ان تمام کی قربانیوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور علمائے سلف اہل حدیث صادقپورکی قربانیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا جاٸے تو علما ٕ صادق پور کی قربانیانیوں کا پلڑا بھاری پڑجاٸے گا ۔
جی ہاں! ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی یہ شہادت اور گواہی بتاتی ہے کہ صادقان صادق پور، پٹنہ نے آزادی کی لڑائی میں انگریزوں کے خلاف کتنی عظیم قربانیاں پیش کی ہیں اور آزادی کے حصول کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔
*مولانا یحییٰ علی صادق پوری رحمہ اللہ* جن کا ذکر خیر ہم یہاں کریں گے۔
آپ مولانا احمد اللہ کے تیسرے بھائی تھے (جو مولوی الٰہی بخش جعفری کے خلفِ اکبرتھےاور ان کی شادی شاہ محمد حسین کی صاحبزادی سے ہوئی تھی)۔ مولانا احمد اللہ سے دس برس چھوٹے تھے جن کی پیدائش 1223 ھ یعنی 1808 ء میں ہوئی۔ اس کے مطابق آپ کا سن پیدائش 1233ھ بنتا ہے۔ مولانا ولایت علی صادق پوری رحمہ اللہ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔
آپ علم و فضل ، زہد و تقویٰ اور ایثار و قربانی میں اپنے خاندان کے سب لوگوں سے بڑھ کر تھے۔خاصی مدت سرحد میں رہے۔ پھر وہاں سے واپس آ کر دعوت و تنظیم و جہاد کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور آخری سانس تک اسی کام کے لیے وقف رہے۔ انبالہ کے مقدمہ میں جسے انگریزوں نے"وہابیوں " کا سب سے بڑا مقدمہ قرار دیا، مولانا یحییٰ علی سب سے بڑے ملزم تھے۔ چنانچہ انہیں سب سے پہلے ضبطی جائداد اور پھانسی کی سزا ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی لاش کو لواحقین کو نہیں دیا جائے گا بلکہ جیل میں ہی دفن کیا جائے گا لیکن بعد میں یہ سزاٸے جلاوطنی عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔
اور 26 رمضان 1280 ھ یعنی 5 مارچ 1864 ء کو انہیں انبالہ بھیج دیا گیا۔اس وقت ان کی عمر تقریبا 47 سال تھی اور مجاہدین کے کام کے لیے ان کا فرضی نام "محی الدین" تھا۔
گرفتاری کے بعد انہیں تنگ و تاریک کوٹھریوں میں رکھا گیا جو پانچ فٹ لمبی اور چار فٹ چوڑی ہوگی۔ دن میں ایک بار دال روٹی دی جاتی۔ مولانا جعفر تھانیسری کے مطابق ایک جگہ جیل کی کوٹھری میں پہلی ہی رات میں جہنم کا نمونہ ان کے سامنے آ گیا۔
*اب کچھ مولانا کے صبر و تقویٰ اور عزم و ہمت کی داستان سنیں*
*دوران مقدمہ صلاة*
دوران سماعت مقدمہ ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں پیشی کے وقت انہوں نے صلاة کی اجازت طلب کی ، جو نہ ملی تو عین دوران مقدمہ تیمم کر کے بیٹھے ہوئے اشاروں سے نماز پڑھ لیتے۔
*قانونی امداد:*
مولانا سرے سے ہی قانونی امداد لینے کے حق میں نہ تھے ۔ وہ وکیل مقرر کر کے روپیہ برباد کرنے کے حق میں نہ تھے۔بلکہ اگر کچھ لوگ انہیں قائل نہ کرتے تو وہ دو ٹوک اپنے نیک اعمال کا اعتراف کرنے پر تیار تھے
عدالت میں مقدمہ جانے پرمولانا جعفر تھانیسری کے ساتھ حوالات میں رہے۔ مولانا جعفر تھانیسری ان کی صحبت کو غنیمت سمجھتے تھے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ میں تو اس امتحان میں صبر و استقلال کر کے شکر ہی شکر کر رہا تھا لیکن مولانا یحیی علی کی کیفیت اس سے بھی بڑھ کر تھی۔ وہ اکثر یہ رباعی پڑھا کرتے تھے۔
"لست ابالی حین اقتل مسلما "
یعنی جب میں مسلمان مارا جاؤں تو مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ اللہ کی طرف میرا لوٹنا، اگرچہ کسی بھی طرح سے ہو
یہ سب اللہ کی راہ میں ہے، وہ چاہے تو بوسیدہ ہڈیوں اور تمام اعضائے جسم میں برکت پیدا کر دے
مولانا جعفر تھانیسری اور شیخ محمد شفیع کو 02 مئی 1864 کو68 صفحے پر مشتمل مفصل فیصلے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تو مولانا جعفر تھانیسری بہت خوش تھے۔ انگریز پولیس کپتان نے اس خوشی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ شہادت کی امید پر خوش ہیں، جو مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے، تم اس کو کیا جانو؟
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کُشائی
اللہ اکبر ، یہ ہے اہل حدیث کے صبر و استقلال کی داستان اور لوگ کہتے ہیں کہ اہل حدیث نے کیا کیا؟ انگریز کے ایجنٹ تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد ان کی پھانسی کی سزا 24 ِ اگست 1864کو عمر قید اور جلا وطنی میں بدل دیا گیا۔ اور ان کے سر اور داڑھی مونڈ دی گئیں۔ اس پر مولانا یحییٰ علی رحمہ اللہ داڑھی کے کٹے ہوئے بال ہاتھ میں اٹھاتے اور کہتے:
"افسوس نہ کر تو رب کی راہ میں مجھ سے پہلے شھید ہوگٸی"
یہ مجاہدین فی سبیل اللہ کی ایک ادنیٰ مثال ہے کہ ان کی جدوجہد اللہ کی راہ میں تھی اور قید و بند کی صعوبتیں بھی اللہ کی راہ میں، شہادت کی خواہش بھی اللہ کی راہ میں ، نہ کہ اقتدار و حکومت کے لیے۔ ان کی جائیدادیں، مال اسباب حتی کہ کتب بھی کوڑیوں کے مول فروخت کی گئیں۔ اور رہائش گاہ اور مطالعہ گاہ کو منہدم کر دیا گیا۔ اس کے بعد
مولانا یحییٰ علی اور جعفر تھانیسری وغیرہم کو پیدل ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈال کر انبالہ سے لدھیانہ، جالندھر اور امرتسر کے راستے لاہور لایا گیا اور کچھ عرصہ سنٹرل جیل لاہور میں رکھا گیا۔
اللہ اکبر ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈال کر اتنا لمبا پیدل سفر
مولانا یحییٰ کی مصیبت یہاں ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ لاہور جیل میں سپرنٹنڈنٹ نے بالخصوص تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک آہنی ڈنڈے کا بھی اضافہ کر دیا، جس کی وجہ سے چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھا محال ہو گیا حتی کہ سوتے وقت بھی ٹانگیں سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں۔
اس طرح ملتان، کراچی، بمبئی سے ہوتے ہوئے11 جنوری 1866 کو جزائر انڈمان المعروف کالے پانی پہنچ گئے۔
وہی کالا پانی جس کا نام سنتے ہی ذہن میں اس جیل خانے کا نقشہ ابھر آتا ہے کہ جہاں جو بھی ایک مرتبہ گیا وہ شاذ ہی زندہ واپس لوٹا بلکہ اس کی لاش کو بھی اپنے وطن کی مٹی نصیب نہ ہوئی۔ کرہ ارض پر یوں توکئی اور جیلیں بھی موجود ہیں امریکہ نے القاعدہ اور طالبان قیدیوں کیلئے گوانتاناموبے جیسی اذیت ناک جیل بنائی ہے مگر کالا پانی کی جیل اس سے بھی بدتر تھی۔ اس جیل میں قیدی اگر سخت جسمانی مشقت سے نہ مرتے تو ملیریا سے ضرور مر جاتے کیوں کہ جس جزیرے پر وہ بنائی گئی تھی وہاں ملیریا کی بیماری عام تھی اور اس کا علاج نہ ہونے کے برابر۔ جو قیدی خوش قسمتی سے1947میں آزادی ہند کے موقع پر وہاں سے رہا ہو کر واپس آئے ان کی زبانی اس قید خانے میں ان کے ساتھ جو ذلت آمیز سلوک کیا گیا تھا اس کی روداد سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں
وہاں مجاھدین آزادی کو رکھا جاتا ، اور شدید اذیتیں دی جاتی جس میں پتھر توڑنا، لکڑیاں کاٹنا، ایک ایک ہفتے تک ہتھکڑیاں باندھے کھڑے رہنا، تنہائی کے دن گزارنا، چار چار دن تک بھوکے رکھنا، دس دس دنوں تک کراس بار کی حالت میں رہنا وغیرہ شامل تھے۔ تیل نکالنے کی مل میں کام کرنا تو اور بھی درد ناک تھا۔ عموماً یہاں سانس لینا بہت دشوار ہوتا تھا ، زبان سوکھ جاتی تھی، دماغ سن ہو جاتے تھے، ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے تھے۔ کئی قیدیوں کی اس میں جان بھی جا چکی تھی۔ ان کا جرم محض یہ تھا کہ انھوں نے مادرِ وطن سے محبت کی تھی اور اسے انگریزوں کے پنجہِ استبداد سے نجات دلانا چاہتے تھے۔
بہر حال
وہاں یہ لوگ پہنچے تو ساحل پر لوگوں کے ایک جم غفیر نے یہ دیکھ کر کہ مولانا یحییٰ علی اور جعفر تھانیسری آئے ہیں، پانی میں کود کر، ہاتھوں ہاتھ کشتی سے نیچے اتارا۔
وہاں بھی مولانا نے قرآن و حدیث کی تعلیم دینا جار ی رکھی۔ دو سال بعد بیمار ہونے کے بعد دوران علالت یاد الہی اور صبر و شکر میں مصروف رہتے اور کوئی عیادت کو آتا تو اسے برابر پند و نصیحت فرماتے۔گویا امر بالمعروف کا فریضہ ایک لمحے بھی ترک نہ کیا۔

*وفات:*
مولانا یحییٰ علی کے بھانجے مولانا عبدالرحیم فرماتے ہیں:
"میں تین بجے ہسپتال پہنچا تو مولانا یحیی علی کی طبیعت اچھی تھی۔ بہ اطمینان نماز عصر ادا کی۔چار بجے یکایک زبان میں لکنت پیدا ہوئی اور طبیعت بگڑنے لگی۔ ڈاکٹر نے دوا دی جو حلق سے نیچے نہ اتری۔ ان کے بھائی مولانا احمد اللہ کو بلایا گیا ۔ عجیب بات ہے کہ پانی بھی نیچے نہ اترتا تھا البتہ زبان پر ذکر اللہ جاری تھا اور ہوش بجا تھے۔ "
مولانا عبدالرحیم نے سر زانو پر رکھ لیا اور اسی حالت میں وفات ہو گئی۔ یہ 26 شوال 1284 ھ یعنی 20 فروری 1868 ء تھی۔
{سرگزشت مجاہدین از مولانا غلام رسول مہر رحمہ اللہ اور
کالا پانی از مولانا جعفر تھانیسری رحمہ اللہ}
اس واقعہ سے بھی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ علما ٕ اھل حدیث خود ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے اندر بھی کس کس طرح انگریز کی نفرت بھر دی تھی کہ انگریز آفیسر صادقپور پہونچا مجاھدین کے منھدم مکانات کے معاٸینے کیلٸے ، ایک چھوٹا سا بچہ ڈنڈا لٸے آیا اور انگریز آفیسر کے گھوڑے کی طرف ڈنڈا برسا نے کیلٸے دوڑ پڑا ، انگریز حیران رہ گیا ، بچے کا باپ پکڑنے کیلٸے دوڑا انگریز آفیسر نے کہا چھوڑ دو وہابیوں کا ایک بچہ بھی جب تک زندہ رہے گا اس کے دل میں انگریز کی نفرت باقی رہے گی ۔
انھیں قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوٸے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے علما ٕ اھل حدیث صادق پور کی سر فروشی کا اعتراف کیا تھا ۔
*1857 ٕ تک انگریزوں کی لڑاٸی میں صف اول میں یہی اھل سلف { اھل الحدیث }تھے جنھیں انگریزوں نے اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہوٸے وہابی کہا ، اور انگریزوں کے وہ پٹھو جنھوں نے غداری کر کے آزادی کی لڑاٸی میں مجاھدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کام کیا ، آج وہ بھی ہمیں وہابی ہی کہتے ہیں ۔ اور آج جولوگ اپنے آپ کو ھندوستان کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں ان کا بھی کہیں اتا پتہ نہیں تھا ، 1857 ٕ کے بعد سب لوگوں کو جب یہ احساس ہو گیا کہ اب یہ جنگ انگریزوں سے جیتی بھی جا سکتی ہے تب سب لوگ { ھندو ، مسلمان ، سکھ ، عیساٸی } ساتھ میں آٸے ۔ مگر ابھی بھی مسلمان اور اس میں بھی علما ٕ سب سے زیادہ تھے ۔*
1857میں مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں لڑی گئی پہلی جنگ آزادی کے نام سے مشہور ملک گیر بغاوت میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں۔اس موڑ پر بیگم حضرت محل نے اودھ میں تقریباً چودہ مہینوں تک انگریزو ں کا جو مقابلہ کیا، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ صرف یہی نہیں بلکہ خواتین فوجیوں کی قیادت کرتے ہوئے بیگم عزیزون، بیگم حبیبہ، بیگم رحیمہ اور اصغری بیگم وغیرہ نے اپنی جانیں وطن عزیز پر نچھاور کردیں۔اس پہلی جنگ آزادی کے بعدانگریزوں نے مسلمانوں کوبری طرح نشانہ بنایا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس کے نتیجہ میں ستائیس 27ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کردیا گیا۔زندہ جلایا گیا۔ پھانسیوں پر چڑھایا گیا۔یہاں تک کہ توپوں سے باندھ کر اڑادیا گیا۔
مولوی احمداللہ شاہ فیض آبادی جن کے سر پر برٹش سرکار نے پچاس ہزار روپیوں کا انعام رکھا تھا، پووائن کے راجا نے انعام کی خاطر ان کا سرکاٹ کربرٹش حکومت کو پیش کیا تھا
1857 ءکے بعد سے 1947ءتک ملک کی کوئی بھی سیاسی تحریک ایسی نہیں جس میں علمائے اہل حدیث نے اور ان کےافراد نے حصہ نہ لیا ہو ۔
شیخ الکل میاں نذیر حسین محدیث دہلوی جو علمائے اہلحدیث کے سرخیل اور سرتاج تھے صرف اہل حدیث ہونے کی بنیاد پر انگریزی مقدمات کے لپیٹ میں آئے ان کے مکان اور مسجدوں کی تلاشی لی گئی راولپنڈی کے جیل خانے میں ایک سال تک نظر بند رکھے گئے ‘درحقیقت انگریز کو کسی تنظیم یا جماعت سے خطرہ تھا تو وہ صرف اہل حدیث ہی کی جماعت اور اس کے علماءو مشائخ تھے اور اسی وجہ سے راولپنڈی کی جیل میں میاں صاحب پر جبر کیا جاتا تھا کہ وہ ان ارکان اہل حدیث کے نام ظاہر کر دیں جو اس باغیانہ تحریک میں شامل تھے ۔مگر استقلال کا پہاڑ بنے رہے ۔
تحریک آزادی ہند کی یہ جنگ وفا شعاروں اور بے وفاﺅں کے مابین تمیز اورامتیاز کے لئے ایک کسوٹی تھی ۔ظاہر وباطن ہر لحاظ سے جو علماءربانی تھے وہ اپنے بے ڈاغ کردار ‘بے مثل عزم واستقلال ‘ اور عدیم النظیر جرات وہمت کے ذریعہ اپنے انقلاب انگیز کارناموں کے ایسے نقوش تاریخ میں چھوڑ گئے جو رہتی دنیا تک یادگار وناقابل فراموش رہیں گے اور آنے والی نسلوں کے لئے سنگ میل اور مشعل راہ بلکہ منارہ نور ثابت ہوں گے ، آج رزم و بزم میں انہیں کی داستان عظمت کی گونج سنائی دینی چاہیٸے تھی مگر کہاں ؟۔ ۔ ۔ ۔
اسی طرح مولانا لیا قت علی خاں، حکمت اللہ خاں، خان بہادر خاں، محمد بخت خاں، شہزادہ فیروز شاہ اور جھانسی کی رانی کوانگریزوں کے خلاف بغاوت پر اکسانے والے بخشی علی وغیرہ کا نام سنہرے حرفوں میں لکھنے کے قابل ہے۔
صحافت و خطابت کے میدان میں مولانا ابوالکلام آزاد نے ”الہلال “ و ”البلاغ “ اور منبر و محراب اور جلسںوں کے ذریعہ پورے ملک میں ہندوستانیوں کے دلوں کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے کی سوچ بخشی، اور اسی آزادی ہی کی خاطر مولانا کو بار بار جیل کا منہ دیکھنا پڑا غرضیکہ انہوں نے اس ملک کو آزاد کرانے میں اپنی زندگی وقف کر دی ۔
چنانچہ ان اہل حدیث علماءکی ادیبانہ دل آویزیوں ‘خطیبانہ سحر طرازیوں ‘علمی وجاہتوں اور مجاہدانہ جلالتوں نے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جھنجھوڑا اور ان میں آزادی کا حوصلہ بیدار کیا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے انگریزوں کی سامراجیت کا خاتمہ کر دیا اور انگریزوں کو اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا کہ علماءاہلحدیث ہی قوم کے وہ ستون ہیں جن کے اشارے پر ہر فرد دل وجان کو قربان کر دینے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اس لٸے اس نے اپنا سامراجی اقتدار قائم کرتے وقت سب سے زیادہ ظلم وستم علمائے حق پر توڑا
1920ء میں گاندھی جی اورمولاناابوالکلام آزادنے غیرملکی مال کے بائیکاٹ اورنان کوآپریشن(ترک موالات)کی تجویزپیش کی،یہ بہت کارگرہتھیارتھا، جواس جنگ آزادی اورقومی جدوجہدمیں استعمال کیاگیا، انگریزی حکومت اس کاپوراپورانوٹس لینے پر مجبورہوئی اوراس کاخطرہ پیداہواکہ پوراملکی نظام مفلوج ہوجائے گا اورعام بغاوت پھیل جائے گی، آثار انگریزی حکومت کے خاتمہ کی کی پیشینگوئی کررہے تھے۔(ہندوستانی مسلمان،ص۱۵۷)
اسی طرح مولانا عبدالقادر قصوری ‘مولانا محمد علی قصوری ‘ مولانا محی الدین قصوری ‘ مولانا سید محمد داؤد غزنوی ‘مولانا محمد علی لکھوی ‘مولانا عبیداللہ احرار ‘مولانا ابو الوفاءثناءاللہ امرتسری ‘مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ‘مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی ‘مولانا ابو القاسم سیف بنارسی ‘مولانا ابو القاسم محمد علی مٸوی ‘مولانا محمد نعمان مٸوی ‘مولانا محمد احمد مٸوی ‘مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری ‘مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی ‘مولانا محمد ادریس خان بدایونی ‘مولانا فضل الہٰی وزیر آبادی ‘مولانا عبد الرحیم عرف مولانا محمد بشیر ‘صوفی ولی محمد فتوحی والا ‘دہلی میں پنجابی اہلحدیث ‘کلکتہ میں کپڑے اور لوہے کے تاجر ‘مدراس میں کاکا محمد عمر ‘بنگال میں مولانا عبداللہ الکای ‘مولانا عبد اللہ الباقی ‘مولانا احمد اللہ خاں وغیرہ کی جدجہد کو فرموش نہیں کیا جاسکتا۔
مولاناقاسم نانوتوی رحمه الله ، مولانارشیداحمد گنگوہی رحمه الله ) اور فرزندان دارالعلوم دیوبند(شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندی رحمه الله ، مولاناحسین احمدمدنی رحمه الله ، مولاناعبیدالله سندھی رحمه الله ، مولانا عزیز گل پیشاوری رحمه الله ، مولانا منصورانصاری رحمه الله ، مولانا فضل ربی رحمه الله ، مولانا محمداکبر رحمه الله ، مولانا احمدچکوالی رحمه الله ، مولانا احمدالله پانی پتی رحمه الله ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رحمه الله وغیرہم) کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔
بدرالدین طیب جی، رحمت اللہ سایانی، مولانا شبلی نعمانی، مولانا حسرت موہانی، سر سید احمد خاں، میر ہمایوں کبیر، علی بھیم جی، ڈاکٹر انصاری، مولانا محمد علی،مولانا شوکت علی، حکیم اجمل خان، مولانا عبد الباری، سیف الدین کچلو،رفیع حمد قدوائی، ڈاکٹر ذاکر حسین، مولانا مظہر الحق،مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری،بیگم نشاط النساء، امجدی بیگم، شفاعت النساء بیگم وغیرہ جنگ آزادی میں قدم سے قدم ملا کر کھڑے رہے
 
Top