ایک قصہ اوراس کی تحقیق:
*نبی کریم صلی الله علیه وسلم کےپاس ایک بوڑهی خاتون آئیں,عرض کی:یارسول اللّٰه !اللّٰه تعالیٰ سےدُعا کیجئے کہ اللّٰه تعالیٰ مجهےجنت میں داخل فرمائے,تو آپ ﷺ نےفرمایا"اےفلاں کی ماں!یقیناجنت میں بوڑهیاں داخل نہیں ہوں گی,راوی نےکہا:وہ روتی ہوئی چلی گئیں تونبی صلی اللّٰه علیه وسلم نےفرمایا"اس کو جاکر بتلاؤ وہ جنت میں اس طرح داخل نہیں ہوں گی کہ وہ بوڑهی ہوں, یقینا اللّٰه تعالی نےفرمایا"ہم نےان (کی بیویوں)کوخاص طور پربنایا ہے,اورہم نےانہیں کنواریاں بنادیا ہے,محبت کرنےوالیاں اورہم عمرہیں_"(الواقعہ:35تا37)
تخریج:{ترمِذی نےالشمائل المحمدیہ:ص201ح239 میں,بغوی نےاپنی تفسیر:ج8ص14 میں اور الانوار:ج1ص358 میں,بیهقی نے البعث:ص200میں اورابوالشیخ نےاخلاق النبی صلی اللّٰه علیه وسلم:ص88 میں مبارک بن فضالہ عن الحسن کی سندسےروایت بیان کی ہے}
تحقیق:اسنادہ ضعیف جدًا
_مبارک بن فضالہ تدلیس تسویہ کیاکرتاتها_
_روایت مرسل ہے_
دیکهیں:(تقریب التہذیب:ص519_تعریف اہل التقدیس:ص104)
*اس کاایک شاہد"المعجم الاوسط:ج5ص357 میں ہے_
تحقیق:اسنادہ موضوع
_مسعدہ بن الیسع الباہلی سخت مجروح راوی ہے_
[مشہورواقعات کی حقیقت لابوعبدالرحمن الفوزی(مترجم),صفحه:138,139]
 
Top