کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟ یہ جاننے سے پہلے کہ اس بارے ائمہ اہل سنت کا راجح موقف کیا ہے ان باتوں پر غور فرما لیں :

1 کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج والی رات اللہ رب العزت کو دیکھا ہے ؟

2 کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت ِ خواب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟

3 کیا دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا جا سکتا ہے ؟
1 معراج والی رات دیدارِ الٰہی :

معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی ظاہری آنکھ سے دیدارِ الٰہی نہیں کیا ، جیسا کہ :

(ا) سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سألت رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم : ھل رأیت ربّک ؟ قال : (( نور أنّی أراہ ))

” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کیا آپ نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے ؟ فرمایا : وہ تو نور ہے ، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ۔ ”

(صحیح مسلم : ١/٩٩، ح : ١٧٨)

صحیح مسلم کی اس روایت میں رأیت نورا کے الفاظ بھی ہیں جن کا مطلب بیان کرتے ہوئے امام ابنِ حبان رحمہ اللہ (م ٣٥٤ھ) فرماتے ہیں :

معناہ أنّہ لم یر ربّہ ، ولکن رآی نورا علویّا من أنوار المخلوقۃ ۔

”اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ربّ کو نہیں دیکھا بلکہ مخلوق (فرشتوں) کے نوروں میں سے ایک بلند نور دیکھا تھا ۔ ”

(صحیح ابن حبان ، تحت الحدیث : ٥٨)

(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : من حدّثک أنّ محمّدا صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم رآی ربّہ فقد کذب ۔ ” جو آپ کو یہ بیان کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا تھا وہ جھوٹ بولتا ہے ۔ ”

(صحیح البخاری : ٢/٧٢٠، ح : ٤٨٥٥، صحیح مسلم : ١/٩٨، ح : ١٧٧)

سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے : قد رآہ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم ۔

”یقینا اللہ تعالیٰ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ہے ۔ ”

(سنن الترمذی : ٣٢٨٠، وقال : حسن ، السنۃ لابن ابی عاصم : ١/١٩١، تفسیر الطبری : ٢٧/٥٢، کتاب التوحید لابن خزیمۃ : ١/٤٩٠، وسندہ، حسنٌ)

اس قول کے بارے میں شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :

لیس ذلک بخلاف فی الحقیقۃ ، فإنّ ابن عبّاس لم یقل : رآہ بعینی رأسہ ۔

” دراصل یہ تعارض نہیں ہے کیونکہ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے یہ نہیں فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے سر والی دو آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ ”

(اجتماع جیوش الاسلامیۃ لابن القیم : ص ٤٨)

نیز فرماتے ہیں : لیس فی الأدلّۃ ما یقتضی أنّہ رآہ بعینہ ، ولا ثبت ذلک عن أحد من الصحابۃ ، ولا فی الکتاب والسنّۃ ما یدلّ علی ذلک ، بل النصوص الصحیحۃ علی نفیہ أدلّ ۔

”کوئی دلیل ایسی نہیں جس کا یہ تقاضا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ نہ یہ صحابہ کرام میں سے کسی سے ثابت ہے نہ کتاب وسنت میں کوئی ایسی دلیل ہے ۔ اس کے برعکس صحیح نصوص اس کی نفی میں زیادہ واضح ہیں ۔ ”

(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ : ٦/٥٠٩، ٥١٠)

حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ (٧٠١۔ ٧٧٤ھ) فرماتے ہیں : وما روی ذلک من إثبات الرؤیۃ بالبصر فلا یصحّ من ذلک لا مرفوعا بل ولا موقوفا ، واللّٰہ أعلم ۔

” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے وہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہ کرام سے ۔”

(الفصول فی سیرۃ الرسول : ص ٢٦٨)

نیز فرماتے ہیں : وفی روایۃ عنہ ــ یعنی ابن عبّاس ــ أطلق الرؤیۃ ، وہی محمولۃ علی المقیّدۃ بالفؤاد ، ومن روی عنہ بالبصر فقد أغرب ، فإنّہ لا یصحّ فی ذلک شیء من الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم ۔

” سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے لفظ استعمال فرمائے ہیں ۔ اُن کی یہ بات دل کے ساتھ دیکھنے سے مقیّد کی جائے گی ۔ جس نے آنکھوں کے ساتھ دیکھنے والی روایت بیان کی ہے اس نے منکر بات کی ہے کیونکہ اس بارے میں صحابہ کرام سے کچھ ثابت نہیں ۔ ”
(تفسیر ابن کثیر : ٦/٢٣، ٢٤)

امام ابنِ ابی العز الحنفی رحمہ اللہ (٧٣١۔٧٩٢ھ) اس بارے میں فرماتے ہیں :

وأنّ الصحیح أنّہ رآہ بقلبہ ، ولم یر بعین رأسہ ، وقولہ : (مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَآی ) (النجم : ١١) (وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْریٰ) (النجم : ١٣) صحّ عن النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أنّ ہذا المرئیّ جبریل ، رآہ مرّتین علی صورتہ الّتی خلق فیہا ۔

”صحیح بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل کے ساتھ دیکھا تھا ، سر کی آنکھ سے نہیں دیکھا ۔ فرمانِ باری تعالیٰ (مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَآی ) (النجم : ١١) (دل نے جو دیکھا تھا اسے جھٹلایا نہیں )(وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْریٰ) (النجم : ١٣) (یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسری دفعہ دیکھا تھا)کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ یہاں جس چیز کو دیکھنے کا ذکر ہے وہ جبریل علیہ السلام ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دو دفعہ اُن کی اس صورت میں دیکھا ہے جس میں وہ پیدا کیے گئے تھے ۔ ”

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لابن ابی العز الحنفی : ١/٢٧٥)

نیز لکھتے ہیں : لکن لم یرد نصّ بأنّہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم رآی ربّہ بعین رأسہ ، بل ورد ما یدلّ علی نفی الرؤیۃ ۔

” لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کو اپنے سر کی آنکھ کے ساتھ دیکھنے کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ملتی ، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھنے کے بارے میں دلائل ملتے ہیں ۔ ”

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لابن ابی العز الحنفی : ١/٢٢٢)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ (٧٧٣۔٨٥٢ھ) لکھتے ہیں : جاء ت عن ابن عبّاس أخبار مطلقۃ ، وأخریٰ مقیّدۃ ، فیجب حمل مطلقہا علی مقیّدہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وعلی ہذا فیمکن الجمع بین إثبات ابن عبّاس ونفی عائشۃ بأن یحمل علی رؤیۃ البصر ، وإثباتہ علی رؤیۃ القلب ، ثمّ المراد برؤیۃ الفؤاد رؤیۃ القلب ، لا مجرّد حصول العلم ، لأنّہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کان عالما باللّٰہ علی الدوام ، بل مراد من أثبت لہ أنّہ رآہ بقلبہ أنّ الرؤیۃ الّتی حصلت لہ خلقت فی قلبہ ، کما یخلق الرؤیۃ بالعین لغیرہ ، والرؤیۃ لا یشترط لہا شیء مخصوص عقلا ، لو جرت العادۃ خلقہا فی العین ۔

” سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ روایات مطلق آئی ہیں اور کچھ مقیّد ۔ ضروری ہے کہ مطلق روایات کو مقید روایات پر محمول کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے اثبات اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نفی میں اس طرح تطبیق ممکن ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نفی کو آنکھوں کی رؤیت پر محمول کیا جائے اور سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے اثبات کو دل کی رؤیت پر محمول کیا جائے ۔ پھر دل کے دیکھنے سے دیکھنا ہی مراد ہے نہ کہ صرف جاننا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کو جانتے تھے ۔ جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا اثبات کیا ہے ان کی مراد یہ ہے کہ جس طرح عام لوگوں کی آنکھ میں رؤیت پیدا کی جاتی ہے ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں رؤیت پیدا کی گئی ۔ عقلی طور پر رؤیت کے لیے کوئی خاص شرط نہیں اگرچہ عادت یہ ہے کہ یہ آنکھ میں ہی پیدا ہوتی ہے ۔ ”

(فتح الباری لابن حجر : ٨/٤٧٤)

فائدہ : فرمانِ باری تعالیٰ : (فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنیٰ ٭ فَأَوْحیٰ إِلیٰ عَبْدِہٖ مَا أَوْحیٰ) (النجم : ١٠) [پس وہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے) دو کمانوں کے درمیانی فاصلے پر تھا یا اس سے بھی قریب ۔ پھر اس نے اس کے بندے کی طرف وہ وحی کی جو اس نے وحی کی تھی] سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں ، جیسا کہ حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

أی : فاقترب جبریل إلی محمّد لمّا ہبط علیہ إلی الأرض حتّی کان بینہ وبین محمّد صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قاب قوسین ۔
” یعنی جب جبریل علیہ السلام ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر زمین کی طرف اُترے تو اتنا قریب ہوئے کہ جبریل علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو کمانوں کے درمیانی فاصلے جتنا فاصلہ بھی نہ رہا ۔ ”
(تفسیر ابن کثیر : ٦/٢٢ بتحقیق عبد الرزاق المہدی)
نیز فرماتے ہیں : وہکذا ہذہ الآیۃ :(فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنیٰ) ، وہذا الذی قلناہ من أنّ ہذا المقترب الدانی الّذی صار بینہ وبین محمّد إنّما ہو جبریل علیہ السلام ، ہو قول أمّ المؤمنین عائشۃ وابن مسعود ، وأبی ذرّ ، وأبی ہریرۃ ۔

” اسی طرح یہ آیت ہے (فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنیٰ) (یعنی یہاں جبریل علیہ السلام مراد ہیں) ۔ اور ہم نے یہ جو کہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت زیادہ قریب ہونے والے جبریل علیہ السلام ہی تھے تو یہ ام المومنین سیدہ عائشہ ، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا ابو ذر اور سیدنا ابو ہریرہyکا فرمان ہے ۔ ”

(تفسیر ابن کثیر : ٦/٢٢)

فرمانِ باری تعالیٰ : (فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنیٰ ٭ فَأَوْحیٰ إِلیٰ عَبْدِہٖ مَا أَوْحیٰ) (النجم : ٩، ١٠) کی تفسیر میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں ۔ ”

(صحیح البخاری : ٢/٧٢٠، ح : ٤٨٥٦، صحیح مسلم : ١/٩٧، ح : ١٧٤)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جس رؤیت کی نفی کی ہے ، اس کا تعلق دنیا کی ظاہری آنکھ سے ہے ، یعنی ان کے مطابق وہ شخص جھوٹا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما جس دیکھنے کو ثابت کرتے ہیں وہ دل سے دیکھنا ہے ، یعنی حالت ِ نیند پر محمول ہے ۔ اس طرح دونوں اقوال میں جمع و تطبیق ہو جاتی ہے ۔ جو لوگ ظاہری آنکھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ثابت کرتے ہیں ان کا قول مرجوح ہے ۔

فائدہ : فرمانِ باری تعالیٰ : (فَأَوْحیٰ إِلیٰ عَبْدِہٖ مَا أَوْحیٰ) (النجم : ١٠) کے بارے میں حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : معناہ : فأوحیٰ جبریل إلی عبد اللّٰہ محمّد ما أوحیٰ ، أو أوحی اللّٰہ إلی عبدہ محمّد ما أوحیٰ بواسطۃ جبریل ، وکلا المعنیین صحیح ۔ ”اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جبریل نے اللہ تعالیٰ کے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو وحی کرنا تھی کر دی یا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو وحی کرنا تھی ، جبریل کے واسطے سے کر دی ۔ یہ دونوں معنیٰ درُست ہیں۔”

(تفسیر ابن کثیر : ٦/٢٣)

الحاصل : نبی ئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج والی رات اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا ۔ اس کے خلاف کچھ ثابت نہیں ۔ مدعی کو چاہیے کہ وہ بادلیل بات کرے ۔

2 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حالت نیند میں دیدار الٰہی :
ائمہ اہل سنت اس بات کے قائل ہیں نبی ئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت ِ نیند میں اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھا ہے ۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نمازِ صبح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا :
فإذا أنا بربّی عزّ وجلّ فی أحسن صورۃ ۔

”اچانک میں نے اپنے ربّ کو حسین ترین صورت میں دیکھا ۔

”(مسند الامام احمد : ٥/٢٤٣، وسندہ، صحیحٌ)

شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ) اس بارے میں فرماتے ہیں :

ولکن لم یکن ہذا فی الإسراء ، ولکن کان فی المدینۃ لما احتبس عنہم فــی صلاۃ الصبح ، ثمّ أخبرہم عن رؤیۃ ربّہ تبارک وتعالیٰ تلک اللیلۃ فی منامہ ، وعلی ہذا بنی الإمام أحمد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ ، وقال : نعم رآہ حقّا ، فإنّ رؤیا الأنبیاء حقّ ، ولا بدّ ۔

”یہ دیکھنا معراج والے واقعے میں نہیں بلکہ مدینہ منورہ میں تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں آنے سے لیٹ ہو گئے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس رات اللہ تعالیٰ کو نیند میں دیکھنے کے بارے میں بتایا ۔ اسی بنا پر امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرور اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے کیونکہ انبیائے کرام کے خواب یقینا وحی ہوتے ہیں ۔ ”

(زاد المعاد لابن القیم : ٣/٣٧)

نیر فرماتے ہیں : فعلم أنّ ہذا الحدیث کان رؤیا منام بالمدینۃ ، لم یکن رؤیا یقظۃ لیلۃ المعراج ۔

”معلوم ہوا کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ میںنیند کے دوران کا ہے ، معراج کی رات بیداری کا نہیں ۔ ”

(مجموع الفتاوی : ٣/٣٨٧، ٣٨٨)

3 کسی نے دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا :
کسی نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا ۔ یہ اہل سنت والجماعت کا اتفاقی و اجماعی عقیدہ ہے ، جیسا کہ امام عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ (٢٠٠۔٢٨٠ھ) فرماتے ہیں :

جمیع الأئمّۃ یقولون بہ : إنّہ لم یر ، ولا یری فی الدنیا ۔

”تمام ائمہ کرام یہی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا میں نہ دیکھا گیا نہ دنیا میں اسے دیکھا جا سکتے گا ۔ ”

(الرد علی الجہمیۃ للدارمی : ١٢٤)

شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ (٦٦١۔٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :
وقد اتّفق المسلمون علی أنّ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم لم یر ربّہ بعینہ فی الأرض ۔ ”مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی ئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین میں اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا ۔ ”

(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ : ٣/٣٨٨)

امام ابنِ ابی العز الحنفی رحمہ اللہ (٧٣١۔٧٩٢ھ) لکھتے ہیں : واتّفقت الأمّۃ علی أنّہ لا یراہ أحد فی الدنیا بعینہ ۔
”امت ِ مسلمہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دنیا میں کوئی اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا ۔ ”(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لابن ابی العز الحنفی : ١/٢٢٢)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے : (( تعلّموا أنّہ لن یری أحد منکم ربّہ عزّ وجلّ حتّی یموت )) ”جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی مرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا ۔ ”(صحیح مسلم : ٢/٣٩٩، ح : ١٦٩)
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دجال کے بارے میں خطبہ دیا اور فرمایا :
(( فیقول : أنا ربّکم ، ولن تروا ربّکم حتّی تموتوا ))
”وہ کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوں ، حالانکہ تم موت سے پہلے اپنے ربّ کو نہیں دیکھ سکتے ۔ ”

(السنۃ لابن ابی عاصم : ٤٠٠، وسندہ، حسنٌ ، عمرو بن عبد اللّٰہ الحضری وثقۃ العجلی وابن حبان فہو موثق حسن الحدیث)

الحاصل : نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے معراج والی رات اللّٰہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا ۔البتہ مدینہ منورہ میں حالت ِ نیند میں اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔
وما علینا الا البلاغ
 
Top