نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت اور احمد رضا بریلوی:
••بریلوی مکتبہ فکر کے بانی مولانا احمد رضا بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
علم ہیئات وزیجات کے حساب سے روز ولادت شریف 8 ربیع الاول ہے،كما حققناه في فتاوانا.
(فتاوی رضویہ:427/26)
••ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
وإن كان أكثر المحدثين والمؤرخين على ثمان خلون وعليه أجمع أه‍ل الزيجات واختاره ابن حزم والحميدي.
" اگرچہ اکثر محدثین اور مؤرخین کا نظریہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو ہوئی اور اہل زیچ(علم ہیئت و فلکیات کے ماہرین) کا اسی پر اجماع ہے، نیز ابن حزم اور حمیدی رحمھما اللہ نے اسی قول کو اختیار کیا ہے."
(فتاویٰ رضویہ:412/26)
••اور آخر میں اپنا فیصلہ دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:
أقول وحاسبنا فوجدنا غرة المحرم الوسطية عام ولادته صلى الله عليه وسلم يوم الخميس فكانت غرة شه‍ر الولادة الكريمة الوسطية يوم الأحد والهلالية يوم الاثنين فكان يوم الاثنين الثامن من الشهر، ولذا أجمع عليه أصحاب الزيج.
"میں کہتا ہوں: ہم نے حساب لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے سال المحرم کا غرّہ وسطیہ (آغاز)جمعرات کے روز پایا تو ولادت کریمہ کے مہینے کا غرہ وسطیہ اتوار کے روز ہے اور غرہ ہلالیہ(مہینے کا پہلا دن) سوموار کے روز ہے،پس سوموار کے روز ولادت کے مہینہ کی آٹھ تاریخ بنتی ہے، اسی وجہ سے اہل زیچ کا اس پر اجماع ہے."
(فتاویٰ رضویہ:413،412/26)
 
Top