>>==+داڑهی مونڈنا?+==<<
تحریر:الشیخ ابومحمدعبدالاحدسلفی(پنجاب,پاکستان)
*نبی کریم علیه السلام کو داڑهی مونڈنے سے اس قدر نفرت تهی کہ جب شاہ ایران کے قاصد رسول الله صلی الله علیه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی داڑهیاں مونڈی ہوئی اور مونچهیں بڑهی ہوئی تهیں_
رسول الله صلی الله علیه وسلم نےانکی طرف نظر کرنا بهی پسند نہ کیا اور فرمایا"تمہاری ہلاکت ہو تمہیں یہ شکل بگاڑنے کا کس نےحکم دیا ہے?وہ بولےیہ ہمارےرب یعنی شاہ ایران کا حکم ہے_"رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا"لیکن میرےرب نے تو مجهےداڑهی بڑهانےاور مونچهیں کاٹنےکا حکم دیا ہے_"
{دیکهئے:البدایہ والنہایہ:270/4_تاریخ ابن جریر:90,91/3_اسلام میں داڑهی کا مقام لابومحمدبدیع الدین شاہ الراشدی,صفحه:22,اشاعت:2016ء,مکتبہ اسلامیہ_کیا اسلام میں داڑهی فرض ہے? از پروفیسرقاری اشفاق احمدخان لودهی,صفحه:34,دارالسلام_مخصرکتاب الجامع لابومحمدعبدالاحدسلفی,قلمی نسخه,صفحه:86,87_وهو حسن صحیح}
فقه الحدیث:
-اسلام میں داڑهی فرض ہے_
-داڑهی مونڈنا کبیرا گناہ ہے_
و ما علینا الا البلاغ
 
Top