ذیشان خان

Administrator
منہج اہل حدیث

عربی تحریر: شیخ علی الرملي حفظه الله

*اردو ترجمانی: حافظ عبد الرشید عمری

ہم اہل حدیث ہیں اور ہم منہج سلف صالحین پر کاربند ہیں جو خالص کتاب و سنت پر قائم ہے
اور اہل حدیث جب منہج سلف صالحین کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین اور تبع تابعین کا منہج مراد ہوتا ہے زمانی اعتبار سے ان تینوں صدیوں کے لوگوں کی عمومی اور مجموعی اعتبار سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث میں " خیر القرون قرنی ثم الذين یلونھم ثم الذين یلونھم "
"سب سے بہترین زمانہ میرا ہے پھر ان کے بعد آنے والے لوگوں کا پھر ان کے بعد آنے والے لوگوں کا "
ان بہترین الفاظ کے ذریعے فضیلت بیان کی ہے ۔
نصرت و نجات کی حامل جماعت کا یہی وہ طریقہ ہے جس کو اللہ تعالٰی نے قرآن میں صراط مستقیم کہاہے
اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث میں "ما أنا عليه و أصحابي "جس طریقہ پر میں اور میرے صحابہ قائم ہیں "
ان جامع و مانع الفاظ سے اس طریقہ کی وضاحت فرمائی ہے ۔
ہم دین اسلام میں فرقہ بندی اور گروہ بندی اور جماعتوں اور تنظیموں کی تشکیل کے قائل نہیں ہیں

(یقینا جس اسلامی ملک میں کتاب وسنت کی تعلیمات کو عام کرنے کا انتظام حکومت کی زیر پرستی ہوتا ہے،
وہاں پر کوئی گروہ ،جماعت اور تنظیم کا قیام حکومت کی اجازت کے بغیر عمل میں لانا اس حکومت کو کمزور کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا
لیکن کوئی غیر مسلم ملک ہے یا مسلم ملک میں بھی کوئی مناسب انتظام کتاب و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے موجود نہیں ہے
ایسی صورت میں حکومت کی منظوری اور اجازت سے کوئی جماعت اور تنظیم کتاب و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے قائم کی جائے تو یہ خلاف شریعت نہیں ہوگا۔)
(وضاحت ازمترجم )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کرام کی سنت اور طریقہ کے علاوہ کسی اور طریقہ کی پیروی کرنے کے ہم قائل نہیں ہیں،
ہم پوری دنیا میں بسنے والے تمام مسلمانوں کو صرف اور صرف اسلام کے نام پر اللہ کے رسول کی سنت پر اور صحابہ کے منہج پر جمع ہونے کی دعوت دیتے ہیں،
ہم علماء کرام کا احترام کرتے ہیں اور ان کی قدر و منزلت کو اجاگر بھی کرتے ہیں لیکن ان سے خلاف عقیدہ،خلاف منہج اور خلاف شریعت کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو سلیقہء اختلاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور پورے ادب و احترام کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور صحیح قول اور موقف کو اجاگر بھی کرتے ہیں،

اللہ کے اسماء و صفات اور دوسرے اعتقادی مسائل میں عقل پرست گمراہ فرقے ہم سے اختلاف کرتے ہیں جیسے معتزلہ،جہمیہ،قدریہ،وغیرہ ہیں ،
جو اعتقادی مسائل میں نصوص کے بالمقابل عقل کو مقدم رکھتے ہیں ۔

اور توحید الوہیت میں یعنی ایک اللہ کی عبادت کرنے میں
شیعہ اور صوفی ہم سے اختلاف کرتے ہیں،
اور وہ اللہ کے علاوہ قبروں میں مدفون ولیوں کی عبادت کرتے ہیں،

اور فقہی مسائل میں حد سے زیادہ رائے کو دخل دینے والے فقہاء اور حدیث کے صحیح مدلول اور مفہوم کو نظر انداز کرتے ہوئے ظاہری الفاظ کو مقدم رکھ کر مسائل حل کرنے والے ظاہریہ اور منہج تیسیر کا حامل (آسانی کا متلاشی ) گروہ جو اباحیت پسندی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے یہ گروہ مسائل میں صرف رخصت اور آسانی کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگوں کے لئے ہر مسئلہ میں جواز کا پہلو تلاش کرنےکی کوشش کرتا ہے،
ان تینوں گروہ کے بالمقابل اہل حدیث ، احادیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا علم و فہم پیش نظر رکھتے ہوئے ہوئے فقہی مسائل حل کرتے ہیں اور لوگوں کو صحیح مسائل بتاتے ہیں ان مسائل میں ہماری خواہشات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے ۔

اللہ تعالٰی پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے جیسا ایمان پیدا فرمائے ،آمین ۔
 
Top