ذیشان خان

Administrator
دعوت دین کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال بقدر ضرورت ہو

تحریر: حافظ عبدالرشید عمری

كنتم خير أمة أخرجت للناس تأمرون بالمعروف و تنهون عن المنكر( آل عمران )
"بلغوا عني و لو آية" (الحديث)
آیت اور حدیث کے عمومی حکم کے تحت امت مسلمہ کے مکلف افراد پر حسب صلاحیت اور استطاعت علمی اور مالی حیثیت سے ذرائع ابلاغ کے مختلف جائز وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اسلام کی تبلیغ کا فریضہ عائد ہوتا ہے ،
چند دہائیوں سے کمپیوٹر ، اسمارٹ فون اور ذرائع ابلاغ کے مختلف وسائل و آلات وجود میں آئے ہیں،
جن کو مختلف علوم و فنون کی حفاظت اور ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ کئی قسم کے اچھے اور برے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ،
جدید ٹیکنالوجی کے مختلف قسم کے آلات سے کئی قسم کے دنیاوی اور دینی فوائد اور نقصانات دونوں بھی وابستہ ہیں ،
ان جدید ٹیکنالوجی کے آلات کے فوائد اور نقصانات کا انحصار لوگوں کے استعمال پر موقوف ہے،

الحمدللہ امت مسلمہ کے عوام و خواص نے ان جدید ٹیکنالوجی کے آلات اور ذرائع ابلاغ کے وسائل کو دنیاوی مقاصد کے ساتھ دینی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا ہے ،
اور کر رہے ہیں اور آئندہ بھی ان شاء اللہ کرتے رہیں گے،
اور مسلمانوں میں ایک بڑی اکثریت سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی دنیا اور آخرت کے لئے گھاٹے کا سودا کر رہی ہے،
سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کی تعلیمات عام کرنے والے علماء کرام کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جدید ٹیکنالوجی کے آلات اور وسائل میں جو بھی علم نافع آڈیو،ویڈیو، ٹیکسٹ اور پی ڈی ایف وغیرہ کی شکل میں محفوظ ہے،
اس علم نافع کو حقیقی کاغذات میں محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے،
تاکہ بإذن اللہ یقینی صورت میں علم نافع محفوظ رہے،
سوشل میڈیا کے واٹساپ ایپ کے حوالے سے مختلف قسم کی باتیں گردش کر رہی ہیں،
کہ واٹساپ ایپ اپنے صارفین کے رازوں کو کسی اور کو بھی دے سکتا ہے،
اور واٹساپ ایپ کا مالک کھلے عام اپنے صارفین کی اجازت ہی سے ایسا کرنے کا ارداہ رکھتا ہے،
کیا مسلمانوں میں جدید ٹیکنالوجی میں کوئی ایسا ماہر نہیں ہے،
جو سوشل میڈیا کے توسط سے اسلام کا پیغام عام کرنے کے لئے واٹساپ ایپ جیسا کوئی مفید متبادل ایپ تیار کرے،
راقم کے خیال سے شرعی حیثیت سے ایسا کرنے میں کوئی شرعی رکاوٹ ہو سکتی ہے،
کیوں کہ سوشل میڈیا کے کسی بھی ایپ کو مسلم اور غیر مسلم اور نیک و بد کی تفریق کے بغیر ہر کوئی اپنی خواہش کے مطابق اچھے اور برے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے،
اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے آلات اور وسائل کا استعمال شریعت کے مطابق اچھے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے کم ہی ہوتے ہیں،
اور خلاف شریعت غلط مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے بہت زیادہ ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے آلات کے وجود سے قبل بھی علم نافع کی نشر و اشاعت اور دعوت دین کا کام جاری رہا ہے،دعوت دین کا سلسلہ بھی چلتا رہا ہے اور علم نافع بھی عام ہوا ہے،
اور اسلاف کا اپنے پیچھے چھوڑا ہوا علمی ذخیرہ جو مخطوطات کی شکل میں موجود ہے ،
ان مخطوطات کو نئی علمی تحقیقات کے ساتھ شائع بھی کیا جا رہا ہے،
غالبا علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے:
ما كان لله ينفع و يدوم
جس کام میں اخلاص کار فرما ہوگا
وہ نفع بخش ہوگا اور ہمیشہ باقی رہے گا۔
اس لئے جو بھی عالم دین اپنے صحیح علم و فہم کے مطابق اسلام کا پیغام عام کرنے کی کوشش رہا ہے،
اللہ تعالٰی اس عالم دین کے علم و عمل اور عمر میں برکت عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالٰی امت مسلمہ کو جدید ٹیکنالوجی کے آلات اور وسائل کو شرعی حدود میں رہتے ہوئے دین و دنیا کے جائز اور نیک مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔
 
Top