ذیشان خان

Administrator
جھوٹی تمنا

تعلیق و ترجمانی:
حافظ عبدالرشید عمری ۔

.📝قال الإمــام أحمد - رحمه الله :
عن أبي العالية - رحـمه الله قال :

يأتي على الناس زمانٌ تَخْرُبُ صدورُهم من القرآن ولا يجدون له حــــلاوةً ولا لذاذةً،

إن قصّروا عما أُمِروا به؛ قالوا: إن الله غفور رحيم،

وإن عملــوا بما نُهوا عنه؛ قالوا: سيُغفر لنا إنّا لم نشرك بالله شيئا.

أمرُهم كلُّه طمع ليس معه صدق.

📚 الزهد [١٧٦٠]

امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "الزھد" میں ابو العالیہ رحمہ اللہ کا یہ اثر نقل کیا ہے،
انہوں نے کہا کہ:لوگوں پر ایک زمانہ ایسابھی آئے گا جب ان کے سینے قرآن کی تلاوت و اتباع کی لذت و حلاوت سے ویران ہوں گے،
ور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کریں گے،
تو کہیں گے، بےشک اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے،
اور جب گناہوں کا ارتکاب کریں گے، تو کہیں گے ،ہم نے شرک کا ارتکاب نہیں کیا ہے ،تو ہمیں اپنے رب سے اپنی مغفرت کی امید ہے ۔
اس غلط فہمی اور خوش فہمی کے ساتھ بدعملی کی زندگی گزارنے والے لوگ درحقیقت جھوٹی آرزوؤں اور تمناؤں کے سہارے جیتے ہوئے ہوئے موت سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔

(کتاب الزھد،اثر:1760)

تعلیق:

اور امام ابن قیم رحمہ اللہ اپنی مایہء ناز کتاب "الداء و الدواء" میں عمل صالح کے بغیر صرف آرزوؤں اور تمناؤں کے سہارے پر جینے والوں کے لئے اپنے کھیت میں کاشت کاری نہ کرنے والے اور بیج نہ بونے والے کسان کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں:

و لو أن رجلا كانت له أرض يؤمل أن يعود من مغلها ما ينفعه فأهملها و لم يبذرها و لم يحرثها، و حسن ظنه بأنه يأتي من مغلها ما يأتي من حرث و بذر و سقي و تعاهد الأرض لعده الناس من أسفه السفهاء.
(الداء و الدواء : ٤٤)

ایک کسان ہے جس کو اپنے کھیت میں بہترین غلہ (اناج) پیدا ہونے کی امید ہے
لیکن پھر بھی یہ کسان اپنے کھیت میں کاشت کاری کئے بغیر اور بیج بوئے بغیر اور پانی دئے بغیر اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوئے اپنے کھیت سے فصل کاٹنے کی امید رکھتا ہے،
تو لوگ اس کو سب سے بڑا بےوقف کہیں گے۔
 
Top