. . . رقیة شرعیہ اسکالروں کے فتنے. . .

تحریر : صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

ہم نے حافظ سے بگاڑا ہے تو شیطاں سے کبھی

ایک ہفتہ میں دو تین لوگ آئے اور ایک ہی طرح کی پریشانی پیش کی، کہ مجھے شک ہے کہ شاید کسی نے مجھ پر سحر کردیا ، میں نے کہا وہ کیسے آپ کو معلوم ؟ کہا ! یوٹیوب پہ میں نے کچھ رقیہ شرعیہ اسکالروں کو سنا ہے جو چیزیں سحر میں وہ بتاتے ہیں ویسا ہی مجھے ہوتا ہے ۔
میں نے کہا تو انہیں سے علاج بھی کروا لیتے ۔
تو کہا کہ انہوں نے بتلایا ہے کسی حافظ صاحب کو گھر پہ بلاکر تین دن فجر کے بعد سے عشاء تک قران سے رقیہ کروایئے ۔
میں نے کہا صلاة اور کھانا وغیرہ کا کیا ؟
کہا صرف اتنا ہی وقفہ کر سکتے ہیں بس ۔ سچ ہے : ۔

ہم نے حافظ سے بگاڑا ہے تو شیطاں سے کبھی
دن کو مسجد میں رہے رات کو میخانے میں ۔

اس کے بعد میں نے ان اسکالروں کو دیکھا اور سنا ، اللہ کی پناہ ایسے بدعیہ اور شرکیہ طریقے اور کلمات کہ قرآن و سنت کو مزاق بنا کر رکھ دیا ،اور امت مسلمہ کیلئے بڑی مصیبت کھڑی کر رکھی ہے ، اس لئے ان سے دور رہنا بیحد ضروری ہے ۔
میں نے دیکھا صحت مند نوجوان کمپنی میں فورمین اور انجینیر ، اور کمپنیوں کو چلانے والوں کو یوٹیوب کے ان اسکالروں کے فتنہ میں پڑ کر شک و شبہ کے مرض میں مبتلاء ہوگیا ، منہ ایسا بنائے ہوئے کہ جیسے دس جوتے پڑے ہوں ، سچ ہے فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم : بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے پھر جو کوئی شبہ کی چیز وں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا ۔
*محترم قارئین !* سحر ، جن کاسایہ، نظر بد ،حسد ،یہ سب برحق ہے ، اور قرآن میں شفا ہے ، ان سب سے بچاو کیلئے بہت ساری دعائیں ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھلائی ہیں ان کے ذریعہ سے ان سب سے بچا جا سکتا ہے مگر یوٹیوب کے رقیہ شرعیہ اسکالروں ، ڈھونگی باباوں ، چلاکش ملاوں سے بچنا اور امت کو بچانا بے حد ضروری ہے ، ورنہ ہم دین و دنیا دونوں تباہ کر بیٹھیں گے اور حسرت و ندامت افتراق و بے چینی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ، اور زندگی اجیرن ہوکر رہ جائے گی ۔
نبوی طریقہء علاج
1 ۔ شک سے کوسوں دور رہا جائے کیونکہ اس طرح کی تمام بیماریوں کی یہی بنیاد ہے ، اور اس سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آج کے ڈاکٹروں نے بھی خبر دار کیا ہے ،چنانچہ ماہر نفسیات پروفیسر آئی ۔اے ترین نے لکھا ہے:
’’چند ذہنی بیماریوں میں مریض کے کانوں میں ملا جلا شور اورآوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جب مرض بڑھتا ہے تو باقاعدہ مردوں اور عورتوں کے بولنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں مگر بات کرنے والے لوگ نظر نہیں آتے۔ بعض اوقات مریض ان کی باتوں کا جواب بھی دیتا ہے جبکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ خود کلامی کررہا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریض ان سے لطف اٹھاتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا مریض کو وہی آوازیں جو اس سے باتیں کرتی ہیں اسے الہام ہونے کا احساس کرانے لگتی ہیں۔‘‘
کسی طرح کے انجانے خوف اور شک کی بناء پر اس طرح کے نفسیاتی مریض لوگوں کو اپنا دشمن بھی سمجھنے لگتے ہیں جبکہ حقیقت میں لوگ ان کے دشمن نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ خود کسی کے دشمن نہیں ہیں تو ان کے دشمن کیوں ہوں گے، وہ اس طرح سوچتے ہی نہیں۔اس طرح کے لوگ کبھی کبھی تنہائی پسند ہوجاتے ہیں۔ خود کو گھر میں قید کرلیتے ہیں اور لوگوں سے ملنا جلنا بھی پسند نہیں کرتے انھیں ڈر لگا رہتا ہے کہ میرے دشمن میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، میرے خلاف سازش رچ رہے ہیں, یہاں تک کہ حب ان سے کوئی اپنا بھی ملنے ان کے پاس جاتا ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کسی نے میرے پاس بھیجا ہے۔ اس طرح کے لوگ کبھی کبھی تواپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتے ہیں اور اپنے احباب و قرابت داروں کو بھی شک کے دائرے میں دیکھنے لگتے ہیں جبکہ حقیقتاً وہ ان کے ہمدرد اورچاہنے والے ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ اس طرح کے ذہنی مریض اپنی شخصیت کے برے اثرات اورمنفی رویے اور سلوک کے سبب آہستہ آہستہ سماج اور اہل خانہ کی محبت وپیار اور عدم توجہی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنی پیدا کردہ اختراعی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں جو شک وہم اور خوف کی ایک بڑی دنیا ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسی بیماری ہے جو شک سے شروع ہوکر یقین میں بدلنے لگتی ہے۔
جاہل معاشرے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے مریضوں کے علاج کے لئے لوگ جاہل وخود ساختہ عاملوں کے چکر میں پڑجاتے ہیں اور وہ ایسے مریضوں کو آسیب زدہ، سحرزدہ، بھوت پریت و جنات کا شکار قرار دیدیتے ہیں کہ یہ طاقتیں اس شخص سے ایسا کروا رہی ہیں جبکہ یہ حقیقت نہیں ہوتی۔
2 - قرآنی آیات اور احادیث نبویہ میں دعاؤں سے علاج
اس کی مثال عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد صحابہ سے مل جائے گی ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : رسول الله صلى الله عليه وسلم جب بیمار ہوتے تو مُعَوِّذَات ( سورۃ اخلاص ، سورۃ فلق ، سورۃ الناس ) پڑھ کر اپنے اوپر تھتکارتے، پھر جب ( مرض الوفات میں ) آپ کی تکلیف زیاده ہوگئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر دم کرتی اور رسول الله صلى الله عليه وسلم کے ہی ہاتھوں کو برکت کی امید سے آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی
( صحيح البخاري » كتاب فضائل القرآن » باب فضل المعوذات)

جن و انسان کی نظر سے پناہ
حضرت ابي سعيد خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم جنات اور انسانوں کی نظرسے پناه مانگتے تهے ، ( یعنی أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الْإِنْسَانِ پڑهتے تهے ) جب معوذتین نازل ہوئیں تو ان کولے لیا ، اور اس کے علاوہ کو چهوڑدیا
(رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب
مُعوذتين کے ساتھ جادو کا علاج کرنا
ان دو سورتوں کا شان نزول مفسرين كرام نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک یہودی جس کا نام لبید ابن اعصم تها اس نے آپ صلی الله علیہ وسلم پربہت سخت جادو کیا تها ، اور اس جادو کی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو جسمانی طور پر بہت اذیت پہنچی تهی ، لہذا اس جادو کا اثر زائل کرنے کے لیے یہ دو سورتیں نازل ہوئیں ، آپ صلی الله علیہ وسلم ایک ایک آیت پڑهتے اور جادو کی گرہیں کهلتی جاتی لہذا جادو کے اثرات کوختم کرنے کے لیے ان دو سورتوں کا ورد کرنا چاہیئے کیونکہ ان کا نزول ہی جادو کے اثرات خبیثہ کو زائل کرنے کے لیے ہوا ، اور ان دو سورتوں میں جادو و شیاطین اورتمام مخلوقات کے ایذاء و شر اور دیگرتمام پریشانیوں و آفات و مکروہات سے انتهائی جامع اور مکمل پناه و حفاظت موجود ہے۔
اس کے علاوہ بھی ماثورہ دعاوں اور سورتوں کے ذریعہ ان آفات سے بچا اور بچایا جاسکتا ہے ، اور کم از کم سورہ اخلاص اور معوذتین ایسے ہی آیة الکرسی اور سورہ بقرہ کے آخر کی دو آیات تو تقریبا سب کو یاد رہتی ہیں ہم روزآنہ ان کو پڑھنے کا اہتمام فجر اور مغرب کے بعد کریں تو ان شا ء اللہ کسی ڈھکوسلے باز کی ضرورت ہی نہ پڑے اور ان کی دکانیں بھی بند ہوجائیں مگر ہماری حالت یہ کہ ہفتہ میں جمعہ پڑھ کر مسلمان بنے پھرتے ہیں ، بیماریوں اور الجھنوں میں ہوتے ہیں تو اللہ پہ توکل ہوتا ہی نہیں دربدر یونہیں بھٹکتے پھرتے ہیں اور چھاڑ پھوک تعویذ گنڈا ، چلا کشوں وغیرہ کے پاس جاکر دین و ایمان عزت و آبرو سب کچھ گنوا بیٹھتے ہیں ،نہ بیماری سے شفاء نہ ہی دلوں کا سکون ملتا ہے ۔ اس لئے میرے بھائیو ! اللہ کی طرف رجوع کرو ، صحیح دین کی طرف آو ، اللہ کے ذکر کو اپنے دلوں کی جلوہ گاہ بناو ، صلاة کی پابندی کرو ، تلاوت قرآن سے اپنے گھروں کو آباد کرو ، دیکھو اللہ کا فرمان ہے :
وہ لوگ جو ایمان لائے ، ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے، خبردار! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کا سکون حاصل ہوتا ہے ۔
اللہ ہم سب کو متقیوں (پرہیزگاروں ) میں شامل فرمائے ۔ آمین ۔
 
Top