ذیشان خان

Administrator
تمہارے انکار سے بھلا ابن تیمیہ کا اعزاز کوئی چھین سکتا ہے !

🖊ابو تقی الدین ضیاء الحق سیف الدین

ابوحنیفہ کا دیوانہ، برصغیر کے اکابرِ احناف کا سرغنہ، صحابہ کرام - رضی اللہ عنہم - کی شان میں بدگوئی کرنے والا، ائمۂ حدیث پر زبانِ طعن دراز کرنے والا اور بقول ڈاکٹر محمد خلیل ہراس "جہمیت کے علمبردار" شیخ محمد زاهد کوثری جرکسی حنفی نے امام ابن تیمیہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا ہے: "إذا كان ابن تيمية شيخاً للإسلام ، فعلى الإسلام السلام".
اسی طرح چند روز قبل ایک کتاب میری نگاہ سے گزری ہے جس کا نام "ابن تيمية ليس شيخ الإسلام" ہے، لکھنے والا کوئی بدعتی مگر گمنام شخص ہے، لطف کی بات ہے کہ انہوں نے اپنے نام کے آگے پیچھے ایک درجن القاب جوڑ رکھے ہیں ،جیسے :"مصلح الأمة، مبلغ الدين الحنيف، قاطع البدعة والضلال، مؤيد الملة الظاهرة، الداعية، العلامة، طود الدين الراسخ الشامخ، شيخ الإسلام، الشيخ المجدد: محمد بن أحمد مسكة بن العتيق اليعقوبي البركي الأشعري المالكي المريدي".
دلچسپ بات یہ ہے کہ جناب نے کتاب کے سرورق پر یہ بھی لکھ رکھا ہے: "طبع على نفقة المؤلف" - یعنی حضرت کو کوئی کتاب چھاپنے والا بھی نہیں ملا!
اردو زبان میں ایسے لوگوں کو "اپنے منہ میاں مٹھو بننا" کہا جاتا ہے، جبکہ انگریزی زبان میں اسے( self praise no recommendations ) کے نام سے جانتے ہیں، یعنی اپنی ذات کے حوالے سے کی گئی تعریف کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا.
1 - ابن تیمیہ کو لے کر یہ کوئی نیا پروپیگنڈہ (propaganda) نہیں:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے خلاف یہ کوئی نیا پروپیگنڈہ نہیں ہے بلکہ امام موصوف کے ساتھ شروع ہی سے ان کے معاصرین اور بعض متعصبين کا جو معاملہ رہا ہے وہ نہایت افسوسناک ہے!
مصر کے اٹھارہ فقیہوں نے ان کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا تھا ان سب کے سرگردہ قاضی تقی الدین محمد بن ابوبکر اخنائی مالکی تھے.
آٹھویں صدی ہجری کے آخر اور نویں صدی کی ابتدا میں متعصبين ومخالفین کا ایک گروہ شیخ الاسلام کی تضليل وتکفیر میں اتنا غلو کر چکا تھا کہ وہ اس کا فتویٰ دیتا تھا کہ"جو ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہے وہ کافر ہے".
انہی میں سے ایک محمد بن محمد العجمی الحنفی المعروف علاء البخاری [ت:842ھ] بھی تھا ، جنہوں نے امام موصوف کے لقب "شیخ الاسلام" پر اعتراض کیا تھا، بلکہ تعصب کی انتہا یہ کہ اس نے ایک کتاب لکھ ماری تھی جس کا نام تھا "من زعم أن ابن تيمية "شيخ الإسلام" فهو كافر".
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ کتاب اور اس کے مولف دونوں قعرِ گُمنامی میں چلے گئے اور ان شاء اللہ دور حاضر کے یہ نام نہاد "شیخ الاسلام" اور ان کی کتاب "ابن تيمية ليس شيخ الإسلام" بھی تاریخ کے "مزبلہ" میں چلے جائیں گے!
اللہ تعالیٰ ابن طرخان الملکاوی الشافعی[ت:803ھ] کی قبر کو ٹھنڈک پہنچائے ( جو ابن تیمیہ کے معاصر اور فقیہ شام کے نام سے مشہور ہیں) انہوں نے کیا عمدہ بات کہی تھی :
"كل صاحب بدعة ومن ينتصر له لو ظهروا ما ظهروا لابد من خمودهم وتلاشي أمرهم وهذا الشيخ تقي الدين ابن تيمية كلما تقدمت أيامه تظهر كرامته ويكثر محبّوه وأصحابه" -
"یعنی ہر بدعت کے عَلم بردار اور اس کے معاون وناصر کو کتنا بھی عروج کیوں نہ حاصل ہو جائے، بالآخر وہ زاویہ خمول اور قعرِ گمنامی میں چلے جاتے ہیں، اور یہ ابن تیمیہ! سو جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا ان کی قدر ومنزلت ترقی کرتی جائے گی اور ان کے اصحاب ومحبین کی تعداد بھی دن بہ دن بڑھتی چلی جائے گی".
2 - علاء البخاری العجمی کی کتاب پر رد:
أ - اس کتاب کی تردید اور علامہ ابن تیمیہ کی صداقت وعظمت اور امامت کے ثبوت میں حافظ شمس الدین ابن ناصر الدین الدمشقی الشافعی [ت:842ھ] نے اپنی مشہور کتاب "الرد الوافر على من زعم أن من سمى ابن تيمية "شيخ الإسلام" كافر" لکھی، جس میں ستاسی(87) اکابر ومشاہیرِ علما وائمۂ فن کی رائے اور تاثرات و اعترافات اور ان کی عظمت وامامت کے متعلق ان کی شہادتیں نقل کیں، اس کتاب پر جس میں حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ عینی حنفی نے تقریظیں لکھیں، اور شیخ الاسلام کی دل کھول کر تعریف وتحسين کی اور ظاہر کیا کہ وہ بلا شبہ صحیح العقیدہ، سلفی المسلک اور مسلَّم شیخ الاسلام تھے، علامہ عینی شارح بخاری نے یہاں تک لکھا کہ:
"من نسبه إلى الزندقة فهو زندیق وقد سارت تصانِيفه إلى الآفاق وليس فيها شيء مما يدل على الزيغ والشقاق" -
"یعنی جو ان پر زندقہ کا الزام لگائے وہ خود ملحد اور زندیق ہے، ان کی تصنیفات دنیا میں پھیل گئی ہیں، ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جو ضلالت اور مخالفتِ اہل سنت پر دلالت کرے".
ب - علمائے احناف میں سے علامہ ملا علی قاری حنفی [ت:1014ھ] شارح مشکوٰۃ المصابيح نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد رشید حافظ ابن قیم کی حمایت میں علامہ ابن حجر مکی ہیثمی شافعی کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے :
"من طالع شرح منازل السائرين تبين له أنهما كانا من أكابر أهل السنة والجماعة ومن أولياء هذه الأمة" - "یعنی جو کوئی حافظ ابن قیم کی کتاب مدارج السالکین شرح منازل السائرين کا مطالعہ کرے گا اس کے لیے یہ بات کھل کر واضح ہو جائے گی کہ وہ دونوں یعنی شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم اکابرِ اہل سنت والجماعت اور اس امت محمدی کے اولیاء میں سے تھے ".
ج - بات چل نکلی ہے تو قاضی تقی الدین سبکی (امام ابن تیمیہ کے حریف) کے چچا زاد بھائی علامہ بہاء الدین ابوالبقاء محمد بن عبد البر السبکی [ت:777ھ] کا ایک قول بھی یہاں ذکر کر دیا جائے تو غیر متعلق نہ ہوگا، کہتے ہیں ایک دفعہ قلندریہ صوفیوں کا ایک گروہ علامہ محمد سبکی کی طرف کہیں نکل آیا، علامہ سبکی نے کہا : "اللہ تعالیٰ ابن تیمیہ پر رحم کرے وہ اس قسم کے بدعتی لوگوں کو سخت ناپسند کرتے تھے".
یہ سن کر ایک صاحب نے امام ابن تیمیہ پر بعض لوگوں کی نکتہ چینی کا ذکر کیا، اس پر سبکی کہنے لگے، اللہ کی قسم! جس شخص کے دل میں ابن تیمیہ سے بغض ہوگا وہ یا تو جاہل ہوگا یا صاحب ہوی، جاہل بوجہ جہل کے، صاحب ہوا ہوا پرستی سے، اصل الفاظ یہ ہیں :
"واللهِ يا فلان ما يُبغضُ ابن تيمية إلا جاهلٌ أو صاحبُ هوى ؛ فالجاهلُ لا يدري ما يقول، وصاحِبُ الهوى يَصدُّه هَواهُ عنِ الحَقّ بعدَ مَعرِفته بِه" - "اے فلاں! اللہ کی قسم! ابن تیمیہ سے صرف جاہل یا خواہش پرست ہی بغض وعداوت رکھ سکتا ہے، جاہل تو اس لئے کہ اسے یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا بک رہا ہے اور خواہش پرست اس لئے کہ اسے خواہش نفس حق اور انصاف کی معرفت رکھنے کے باوجود ان سے روک دیتی ہے".
رحم اللهُ شيخَ الإسلام ابن تيمية وجزاهُ خيرَ الجزاء، ورَغِمَ أنفُ مُبغِضِه.
3 - امام ابن تیمیہ مسلّم شیخ الاسلام ہیں:
أ - ابن ناصر الدین دمشقی نے "الرد الوافر" میں امت کے 87 اکابر علما کے اقوال درج کئے ہیں جنہوں نے امام ابن تیمیہ کو لقب "شیخ الاسلام" کے ملقب بھی کیا ہے اور ان کی ایسی مدح بھی کی ہے جس سے علاء البخاری کا دعویٰ ہباء منثورا ہو کر رہ گیا ہے.
ب - مصر اور شام کے قاضی القضاۃ ابن الحریری انصاری حنفی [ت :728ھ] نے کہا ہے :
"إن لم يكن ابن تيمية شيخ الإسلام فمن ؟" - "اگر ابن تیمیہ شیخ الاسلام نہیں ہیں تو پھر معلوم نہیں شیخ الاسلام کسے کہتے ہیں؟" .
‏حافظ ابن کثیر کہتے ہیں ابن الحریری انصاری حنفی نے ایک دن مجھ سے پوچھا:
"أتحبُِّ ابنُ تيميّة؟" - یعنی کیا تجھے ابن تیمیہ سے محبت ہے؟
" قُلتُ : نعَم" یعنی جی ہاں! مجھے ان سے محبت ہے.
تو ابن الحریری نے فرمایا :
"والله لقَدْ أحببتَ شيئًا مَليحًا" - یعنی اللہ تعالیٰ کی قسم! تم ایک خوبصورت اور پیاری ومعیاری چیز سے محبت کرتے ہو".
ج - حافظ ابن حجر عسقلانی نے دو ٹوک انداز میں لکھا ہے :
"وشهرة إِمَامة الشَّيْخ تَقِيّ الدّين ابْن تَيْمِية أشهر من الشَّمْس، وتلقيبه بشيخ الْإِسْلَام بَاقٍ إِلَى الْآن على الْأَلْسِنَة الزكية وَيسْتَمر غَدا لما كَانَ بالْأَمْس، وَلَا يُنكر ذَلِك إِلَّا من جهل مِقْدَاره، وتجنب الْإِنْصَاف".
"یعنی امام ابن تیمیہ محتاج تعارف نہیں، اور ان کو "شیخ الاسلام" لقب سے ملقب کیا جانا ان کے زمانہ سے لے کر ہمارے دور تک باقی ہے اور یہ لقب جس طرح کل ان کے لئے تھا آئندہ بھی اسی طرح ان کے لئے ثابت وجاری رہے گا، اور امام موصوف کے لئے اس لقب کا انکار جاہل ہی کر سکتا ہے، جو ان کے مقام ومرتبہ سے بالکل نا آشنا ہو اور جو حق وانصاف کی بات کہنے سے گریز کرتا ہو".
‏د - امام ذہبی نے لکھا ہے :
"هو شيخنا وشيخ الإسلام، وفريد العصر علمًا ومعرفةً وشجاعةً وذكاءً وتنويرًا إلهيًّا وكرمًا ونصحًا للأمَّة وأمرًا بالمعروف ونهيًا عن المنكر .. وحصَّل ما لم يحصله غيره".
4 - قلت: ولازال يلقب بين أهل الإنصاف بشيخ الإسلام ولاينكر فضله إلا كل مبتدع ضال.
جن لوگوں نے ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کے لقب سے ملقب کیا ہے ان کی فہرست لمبی ہے میں یہاں مشتے نمونہ از خروارے چند لوگوں کا ذکر کرتا ہوں.
أ - امام ذہبی
ب - حافظ ابن كثير
ج - حافظ مزی
د - تاج الدين سبكی
ھ - ابن الحريری حنفی
و - مشہور عربی لغت کے جانکار علامہ مرتضی زبيدی صاحب تاج العروس
ز - حافظ العلائی
ح - ملا على القاری
ط - ابن طولون
ي - حافظ ابن حجر العسقلانی.
ك - نواب صديق حسن خان
ل - شیخ الاسلام محمد بن عبد الوهاب
م - امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد
ن - مشہور ادیب مولانا علی میاں ندوی
ش - معروف مورخ وصحافی غلام رسول مہر
ع - مشہور صحافی آغا شورش کاشمیری
ف - مفتی غلام رسول قادری بریلوی
مولانا ابوبکر قدوسی (جو علامہ احسان الہی ظہیر مرحوم کے داماد ہیں ) "بھائی وہ شیخ الاسلام تھے" عنوان کے تحت لکھتے ہیں :
"بہت رسان سے لہجے میں انہوں نے جب یہ کہا (یعنی بھائی وہ شیخ الاسلام تھے) تو میرے بڑھتے قدم تھم گئے، میں اس روز مفتی غلام سرور قادری مرحوم سے ملنے ماڈل ٹاؤن ان کے مدرسے گیا تھا، رخصت کے وقت وہ میرے ساتھ اپنی شان دار لائبریری کے داخلی دروازے تک آئے، یہ میرا اکرام نہیں تھا، میرے والد محترم سے ان کے تعلق کا اظہار تھا، مفتی صاحب بریلوی مکتب فکر کے بہت سنجیدہ اور پڑھے لکھے عالم تھے، بہت بڑی لائبریری کے مالک، اپنے بے حد مہذب اور میٹھے لہجے میں کہہ رہے تھے: ''ہاں میرے بریلوی بھائی مجھ پر اعتراض داخل کرتے ہیں، گاہے الجھتے ہیں کہ آپ ان کو شیخ الاسلام کیوں کہتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ بھائی وہ شیخ الاسلام تھے، شیخ الاسلام ہیں، میرے انکار سے بھلا امام ابن تیمیہ کا اعزاز کوئی چھین سکتا ہے".
5 - شیخ الاسلام کا معنی :
ابن ناصر الدین دمشقی نے اپنی کتاب "الرد الوافر" کے شروع میں "شیخ الاسلام" کے متعدد معانی لکھے ہیں:
أ - أنه شاب على الإسلام.
ب - أنه سمي بذلك لسلوكه طريقة أهله.
ج - أنه شيخ وأكبر المشايخ في ذلك العصر وغيرها.
6 - کسی کو شیخ الاسلام کہنے کا حکم:
کسی عالم کو "امام" یا "شیخ الاسلام" کہہ کر یہ مراد لینا کہ وہ معصوم عن الخطأ ہیں اور وہ جو کہتے ہیں پتھر کی لکیر ہے ان سے غلطی کا امکان نہیں (جیسے شیعہ اپنے ائمہ کو سمجھتے ہیں) تو میں اسے جائز نہیں سمجھتا اس لئے کہ اسلام میں یہ مقام صرف نبیوں اور رسولوں کو حاصل ہے، لیکن اگر کوئی کسی عالم ربانی کے لئے اس لقب کا استعمال کرتا ہے تو ان شاء اللہ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے.
أ - حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام ابن تیمیہ کے متعلق لکھتے ہوئے یہ کہا ہے : "‏وَلَيْسَ فِي تَسْمِيَته بذلك مَا يَقْتَضِي ذَلِك -يعني الإنكار على قائله - فَإِنَّهُ شيخ مَشَايِخ الْإِسْلَام فِي عصره بِلَا ريب" [الرد الوافر] .
دلچسپ بات یہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے دشمنوں نے اس لقب کا استعمال اپنے علما کے لئے بھی کیا ہے، ملاحظہ کیجئے : المقالات للكوثري ص:546،578-582،608، وشواهد الحق للنبهاني:289
‏‎‎ ب - شیخ ابن عثيمين نے بھی لکھا ہے : "لقب شيخ الإسلام عند الإطلاق لا يجوز أن يوصف به الشخص، لأنه لا يعصم أحد من الخطأ فيما يقول في الإسلام إلا الرسل.
أما إذا قصد بشيخ الإسلام أنه شيخ كبير وله قدم صدق في الإسلام فإنه لا بأس بوصف الشيخ به وتلقيبه به".
 
Top