ذیشان خان

Administrator
دعوتِ فکر و عمل

امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "معجم المحدثين" (ص: 97) میں اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
[" .... وجمع تواليف يقال مفيدة والجماعة يتفضلون ويثنون عليه وهو أخبر بنفسه وبنقصه في العلم والعمل والله المستعان ولا قوة إلا به وإذا سلم لي إيماني فيا فوزي۔"]
انہوں نے (یعنی امام ذہبی نے) کچھ کتابیں لکھی ہیں جنہیں لوگ مفید بتاتے ہیں۔ اور لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنے بارے میں اور اپنے علم و عمل کی کمی و کوتاہی کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں۔

ایک دوسری کتاب "ذيل ديوان الضعفاء والمتروكين " (ص: 56) میں اپنا تعارف انہوں نے اس طرح کرایا ہے:
"سيء الحفظ ليس بالمتقن ولا بالمتقي. سامحه الله تعالى."
حافظہ قوی نہیں اور نہ ہی حفظ میں اتقان و پختگی ہے اور نہ ہی متقی و پرہیز گار۔ اللہ معاف فرمائے۔
________________________

یہ وہ لوگ تھے جو اپنے علم و عمل کے معیار کو جانتے تھے اور اپنے نفس کی قدر کو پہچانتے تھے اسی لئے ہمیشہ تواضع و انکساری اپنائے رہتے تھے جس کا صلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ علم حدیث میں درجہ امامت پر فائز کر دیا اور رہتی دنیا تک لوگ فن حدیث میں ان کی کتابوں کے محتاج رہیں گے۔
اس کے برعکس آج کچھ لوگوں کے علم و عمل کے بلند بانگ دعوے اور بڑے بڑے القاب و آداب کے سابقے و لاحقے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ تھوڑا سا علم حاصل کرنے اور کچھ لکھ لینے کے بعد اپنے آپ کو علامہ، مفتی، مصنف، صاحب طرز ادیب اور نہ جانے کیسے کیسے القاب خود بھی لکھتے ہیں اور دوسروں سے اس طرح کی چیزیں لکھوانا اور کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ الله المستعان
 
Top