دور حاضر میں مسلمان کی صحیح تشریح اہل حدیث

تحریر: صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

آج اہل حدیث کا نام سنتے ہی بعض لوگوں کے ذہن میں کچھ سوالات آتے ہیں ۔
1۔ اہل حدیث بھی تو ایک فرقہ ہے ۔
2۔ اہل حدیث کیا یہ صرف حدیث کو مانتے ہیں۔
3 ۔ یہ اماموں کو نہیں مانتے ہیں ۔
انہیں تین چیزوں پہ اس تحریر میں روشنی ڈالی جائے گی ۔
محترم قارئین ! اہل حدیث ایک منہج ہے ، اہل حدیث ایک صفاتی نام ہے ، اہل حدیث یہ ان صفات سے مشتق ہے جس جماعت حق کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی ہے ۔
کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ معصوم صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن و سنت ہیں، لہذا سارے آئمہ، سارے علماء اور تمام اہل علم کی عزت کی جائے گی ، ان کی محنتوں کی قدر کی جائے گی مگر بات قابل قبول اسی کی ہوگی جس کی بات قرآن و سنت سے میل کھائے گی ، اور اگر کوئی بات قرآن و سنت سے متصادم ہوگی ،تو ائمہ و مجتہدین کے اقوال کی روشنی میں اسے دیوار پر مار دیا جائے گا ، اور اتحاد کا یہی ایک راستہ بھی ہے ،کہ سب کا اللہ ایک ہے ، سب کا قبلہ ایک ہے ، قرآن اور سنت ایک ہیں ،تو ہمیں بھی ایک ہو کر ،متحد ہوکر اللہ کی اس رسی کو تھام لینا چاہیے ، کیوکی اس کے اندر کسی بھی مسلمان کا، صاحب ایمان کا اختلاف نہیں ہے ، حنفی کا شافعی سے شافعی کا مالکی سے مالکی کا حنبلی سے اختلاف ہو سکتا ہے ، مگر قرآن و سنت، سب کا محور ہے، سب کا مرجع ہے ۔ اس سے کسی صاحب ایمان کو کوئی اختلاف نہیں ۔
2 ۔ اہل حدیث کیا صرف حدیث کو مانتے ہیں ؟
قارئین کرام ! محدثین میں سے جن لوگوں نے بھی اھل الحدیث نام رکھا وہ بڑے دور اندیش تھے، کیونکہ قرآن کا ایک نام حدیث بھی ہے ، جسے اللہ تعالی نے خود قرآن کریم کے اندر تقریبا آٹھ مقامات پر ذکر کیا ہے ، چنانچہ اللہ تعالی نے سورہ زمر آیت نمبر 23 میں بڑے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا : اللہ نے سب سے اچھی حدیث (قرآن) نازل فرمایا، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات )جو باربار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کے چمڑوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کے جسم اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔ اس کے علاوہ سورة النساء (78۔87) میں ،سورة يوسف (111) سورة الکہف ( 6 )سورة الواقعة (81)سورة النجم (59)سورة الطور (34) میں اللہ نے قرآن کریم کو حدیث کہا ہے ۔ اور الحمد للہ آج جس طرح کچھ مسائل میں حدیث کی حقانیت کھل کر کے سامنے آرہی ہیں ، اور برسہا برس سے اس پہ مناظرہ کرنے والے ان مسائل کو سچ ثابت کرنے والے خود اس حقیقت کو قبول کر رہے ہیں ، یہ اس کی سچائی کا واضح ثبوت ہے ۔
اھل الحدیث٬ جنہیں اصحاب الحدیث بھی کہا جاتا ہے، اھل حدیث دوسری اور تیسری صدی ہجری (آٹھویں اور نویں صدی عیسوی) میں حدیث کے علماء کی تحریک کے دوران منظر عام پر آئے۔ اہل الرائے اور اہل القرآن کے برخلاف احادیثِ نبوی کی اسناد پر زور دیا جاتا ہے، یعنی اہل الرائے کی طرح تقلید پر قائم نہیں ہوتے مگر اہل القرآن کی طرح حدیث کو نظر انداز بھی نہیں کرتے، اہل حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیث کو اپنی زندگی کا مشعل راہ بنایا جائے اگرکسی معاملہ میں قرآن و حدیث سے مسئلہ کی وضاحت نہ ہو تو مجتہدین کے اجتہادات کو دیکھا جائے جس کا اجتہاد، قرآن اور حدیث کے زیادہ نزدیک ہے اسے لے لیا جائے جو نا موافق ہو اسے رد کر دیا جائے۔ اہل حدیث کے نزدیک خبر احاد عقائد، احکام اور مسائل میں حجت ہے ،جبکہ حدیث کی متابعت (یعنی اطاعت) قرآن کی آیات کے اتباع کے برابر ہے۔ سورت النجم میں فرمان الہی ہے : وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (ترجمہ: اور جو کچھ بولتے ہیں وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں ، یہ کلام ایک وحی ہی جو نازل کی جا رہی ہے۔ سورة النجم آیة۔ 3 ، 4)
اہل حدیث کی اصطلاح ابتدا ہی سے اس گروہ کی پہچان رہی ہے کہ یہ سنت نبویہ کی تعظیم اوراس کی نشراشاعت کا کام کرتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے عقیدہ جیسا اعتقاد رکھتا ہے، اورکتاب وسنت کوسمجھنے کے لئے فہم صحابہ رضي اللہ تعالی عنہم پرعمل کرتے، جو خیرالقرون سے تعلق رکھتے ہیں، اس سے وہ لوگ مراد نہیں جن کا عقیدہ سلف کے عقیدہ کے خلاف اور وہ صرف عقل اور رائے اور اپنے ذوق اورخوابوں پراعمال کی بنیاد رکھتے ہیں اور رجوع کرتے ہيں۔ اور یہی وہ گروہ ہے جو ناجيہ اورطائفہ منصورہ ہے ،جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بارے میں فرمان ہے :
( ہروقت میری امت سے ایک گروہ حق پر رہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہيں نقصان نہیں پہونچا سکے گا، حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آجائے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1920 )
اور اکثر ائمہ کرام نے اس حدیث میں مذکور گروہ سے اہل حدیث ہی مقصود و مراد لیا ہے ۔
*3 ۔ اماموں کو نہیں مانتے*
قارئین کرام ! اہل حدیث اماموں کو نہیں مانتے یہ کہنا بالکل غلط ناانصافی اور ظلم ہے ، تمام ائمہ کرام و مجتہدین اور اہل علم کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، ان کے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کی جو بات قرآن و سنت سے ملتی ہے اسے سر آنکھوں پہ سجا تے ہیں، اپنی پیشانی کا جھومر بناتے ہیں ، جو بات قرآن و سنت سے ٹکراتی ہے ،اسے انہیں کے قول کے مطابق دیوار پر مار دیتے ہیں ، اور ان کی اچھی نیت اور اخلاص پر یقین کرتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان ہونے ناطے اگر ان سے کسی مسئلے میں سہو بھی ہوا تو اللہ تعالی انہیں ایک اجر انکی محنت اور اخلاص کی وجہ سے ضرور عطا کرے گا ، اور ان کے حق میں ہمیشہ رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں ۔ اللھم اغفرلھم و ارحمھم و اکرم نزلھم و وسع مدخلھم ، و اغسلھم بالماء و الثلج و البرد ۔
 
Top