ذیشان خان

Administrator
{رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ}

✍ عبيد الله الباقي أسلم

{رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ}[سورة التوبة(100)]
٠ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کو اپنا رب، محمد صلی اللہ علیہ کو اپنا نبی و رسول، اور اسلام کو اپنا دین مان کر راضی تھے.
لہذا انہوں نے شرائع و عقائد کے ایک ایک حرف کی پاسداری کی، اور بوقت ضرورت ہر طرح کی قربانیاں دے کر اپنی رضامندی کا سب سے اعلی نمونہ پیش کیا.
٠ اس مقدس جماعت کے اخلاق فاضلہ، آداب کاملہ، اور معاملات طیبہ سے اللہ عزوجل بھی راضی تھا، یہی وجہ ہے کہ انہیں سب سے عظیم بشارت سنائی ہے: {وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[سورة التوبة(100)].
یہ وہ مبارک جماعت ہے جو دنیا میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں؛ جن کے لئے نبی کریم - صلی اللہ علیہ وسلم - نے خیریت کی شہادت دی ہے: "خير الناس قرني ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم" [صحيح البخاري(ح:3651)، وصحيح مسلم (ح:2533)] ".
ان کے منہج کو قابل اتباع قرار دیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ، إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً "، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " *مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي* "[جامع الترمذي(ح:2641)]، اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ *وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ* نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا}[سورة النساء:115].
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مبارک جماعت کے بارے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھی ہیں، اس امت کے سب سے صاف و شفاف دل والے ہیں، گہرے علم کے مالک ہیں، تکلف سے عاری ہیں، وہ ایسی جماعت ہے جسے اللہ نے اپنے نبی کی صحبت کے لئے اختیار فرمایا تھا، اور اپنے دین کی سربلندی کے لئے انتخاب کیا تھا؛ لہذا ان کے حقوق و فضائل کو جانو، کیونکہ یہی لوگ راہ راست پر گامزن تھے" [جامع بيان العلم وفضله(2/ 97)] .
بنا بریں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے منہج کو اپنانا، اور اس کے مطابق عمل کرنا ہی اصل کامیابی اور سعادت مندی کی دلیل ہے، بلکہ ان میں سے ہر فرد پر کی محبت ایمان، دینداری اور اخلاص کی علامت ہے، اور ان میں سے کسی ایک سے بھی بغض و عداوت رکھنا کفر، منافقت، اور سرکشی کی علامت ہے، امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " *وحبهم دين وإيمان وإحسان، وبغضهم كفر ونفاق وطغيان* " [العقيدة الطحاوية (ضمن المتون العلمية)، ص:160].
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت کو ہدف تنقید بنانا، انہیں بر بھلا کہنا، ان کے لئے سب وشتم نکالنا، اور انہیں کسی بھی شکل میں کفر یا نفاق کا طعنہ دینا یا تکلیف پہنچانا یہ بڑا ہی مذموم عمل ہے؛ جو در اصل *خارجیت* ، *رافضیت* ، اور *ناصبیت* کا پروردہ ہے؛ جس سے کسی بھی حقیقی اور سچے مسلمان کا واسطہ نہیں ہو سکتا ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اہل السنہ والجماعہ کے بارے میں فرماتے ہیں: "ويتبرؤون من طريقة الروافض الذين يبغضون الصحابة و يسبونهم، وطريقة النواصب الذين يؤذون أهل البيت بقول أو عمل" [العقيدة الواسطية(ضمن المتون العلمية)، ص:163].
اس گناہ عظیم اور فتنہ خطیر سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے؛ جو دو اصولوں پر مبنی ہے:
1- *سلامتِ قلب* .
2- *سلامتِ لسان* .
ان دونوں اصولوں کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح سے بیان فرمایا ہے: {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ}[سورة الحشر(100)].
٠ {يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ} آیت کریمہ کا پہلا ٹکڑا " *سلامت لسان* " پر دلالت کرتا ہے.
٠ {وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ} جبکہ آیت کریمہ دوسرا ٹکڑا " *سلامت قلب* " پر دلالت کرتا ہے.
یہ مؤمنين کی بڑی عظیم صفت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تئیں ان کے دل بغض و عناد سے پاک، اور ان کی زبان لعن وطعن، اور سب وشتم سے سالم رہتی ہیں.
چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے: "ومن أصول أهل السنة والجماعة: *سلامة قلوبهم و ألسنتهم لأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم* " [العقيدة الواسطية (ضمن المتون العلمية)، ص:157].
اللہ تعالٰی ہمارے دل وزبان کو ہر طرح کی غلاظت سے محفوظ رکھے، آمین.
غور طلب امر یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق پچھلے دو مہینوں میں شوشل میڈیا کے ذریعہ جو مغلظات اور جس قسم کی گھٹیا باتیں پھیلائی گئی ہیں کہ ہر غیرت مند مسلمان کے لئے ان مقدس ہستیوں کے دفاع میں کھڑا ہونا ضروری ہے.
ان ظالموں کو یہ بتلایا جائے کہ کسی بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا ایک مجرمانہ گناہ ہے، لہذا جو لوگ مالیخولیا کی بیماری، منصب پرستی کی ہوس، اور دنیاوی شان و شوکت کی دھن میں اپنی ناپاک زبان سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی مبارک جماعت کے لئے نا زیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں، ان کی کسر شانی کر کے اپنی روٹیاں سینک رہے ہیں، ان کی عزت کو اچھال کر اپنی پگڑیاں اونچی کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اور ان کی عدالت کو متہم کر کے جہلاء کے درمیان اپنی ثقاہت قائم کرنے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں...وہ قیامت کی صبح تک کسی بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہو سکتے ہیں: "لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي؛ فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ"[صحيح البخاري(ح:3673)، وصحيح مسلم(ح:2541)].
اس لئے ہر مسلمان کے حق میں بہتر یہ ہے کہ وہ کتاب اور سنت کو لازم پکڑے، اور فہم سلف کے مطابق تمام شعبہائے حیات میں عمل کرنے کی کوشش کرے، اسی میں ہماری بھلائی اور سعادت مندی مضمر ہے، جس پر مندرجہ نصوص دلالت کرتے ہیں:
1- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ} [سورة الأعراف (3)].
2- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ}[سورة آل عمران(31)].
3- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، وعضوا عليها بالنواجذ"[جامع الترمذي(ح:2676)، وسنن أبی داود(ح:4607)، وسنن ابن ماجہ (ح:42)].
یقینا مذکورہ نصوص شرعیہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ کتاب و سنت اور فہم سلف کے مطابق عمل کرنا، اور ان کے منہج و طریقہ کار کو اپنانا مسلمانوں کی شان و اصل پہچان ہے.
{مَن يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ}[سورة الأنعام(39)]، و {مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ} [سورة الأعراف(178)].
 
Top