ذیشان خان

Administrator
اعتصام بحبل الله کا معنی و مفہوم

(امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مدارج السالكين میں اس کا جامع مفہوم بیان کیا ہے یہ اسی کی اردو ترجمانی ہے)

اردو ترجمانی: حافظ عبدالرشید عمری

واعتصموا بحبل جميعا و لا تفرقوا
(آل عمران: ١٠٣)
اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔
و اعتصموا بالله هو مولاكم فنعم الله و نعم النصير (الحج: ٧٨)
اور اللہ کو مضبوط تھام لو،وہی تمہارا ولی اور مالک ہے، پس کیا ہی اچھا مالک ہے اور کتنا ہی بہتر مددگار ہے۔

اعتصام کی دو قسمیں ہیں:
ایک قسم اعتصام بحبل اللہ ہے
اور دوسری قسم اعتصام باللہ ہے
اور اعتصام باب افتعال سے ہے
اور اعتصام کا معنی کسی چیز کو مضبوط تھامنا ہے۔
تا کہ اس تھامی ہوئی چیز کے ذریعے کسی نقصان سے بچا جا سکے اور کوئی نفع حاصل کیا جا سکے،
دنیاوی اور اخروی سعادت کا دار و مدار اللہ کو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینے میں ہی ہے ،
اخروی کامیابی اور نجات مذکورہ دو ایمانی صفات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اللہ کی رسی مضبوط تھام لینے میں دنیا میں ضلالت(گمراہی)سے بچاؤ ہے
اور اللہ کو مضبوط تھام لینے میں آخرت میں ہلاکت سے بچاؤ ہے ۔

درحقیقت اللہ کی طرف چلنے والے کی مثال منزل مقصود کی طرف چلنے والی کی مانند ہے،
منزل مقصود کی طرف چلنے والا راستہ کی صحیح رہنمائی اور راستہ کی سلامتی دونوں ہی کا محتاج ہے،
کیوں کہ منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے دونوں ہی چیزیں لازم و ملزوم ہیں،
راستہ میں صحیح رہنمائی کرنے والا رہنما، اس بات کا ضامن ہے کہ مسافر راستہ نہیں بھٹکے گا،
اور سفر میں درکار سامان، طاقت اور ہتھیار کی موجودگی اس بات کی ضامن ہے کہ راستہ میں مسافر ڈاکوؤں سے اور دوسری مصیبتوں سے محفوظ رہے گا۔
مذکورہ مثال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامنے کا مطلب اللہ کی نازل کردہ ہدایت اور دلیل کی اتباع کرنا ہے۔(یعنی قرآن و سنت کی تعلیمات اور احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہی اللہ کی رسی کو مضبوط تھامنا ہے.)

اور اللہ کو مضبوط تھامنے (اللہ سے مضبوط تعلق استوار کرنے) میں ایک مومن کو ایمانی سرمایہ،قوت اور ہتھیار نصیب ہوتے ہیں،
جن کے ذریعے وہ دنیا و آخرت میں ہلاکت سے محفوظ رہتا ہے اور دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوتا ہے۔

"اعتصام بحبل اللہ" کے مفہوم میں سلف سے منقول عبارتیں اگر چہ مختلف ہیں،
لیکن سلف نے مذکورہ مفہوم ہی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ابن عباس رضی عنہما نے کہا: "تمسكوا بدين الله" اللہ کے دین کو مضبوط پکڑ لو ۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:
اس سے مراد جماعت(مسلمانوں کی جماعت) ہے ۔
مجاہد اور عطاء رحمهما اللہ نے کہا:
"بعهد الله" اللہ کے عہد کو مضبوط تھام لو ۔
اور قتادہ سدی اور اکثر مفسرین کا قول ہے : اس سے مراد قرآن ہے۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اللہ کی رسی کو مضبوط تھامنے کا مطلب یہ کہ ایک مومن بندہ گمراہ کن عقائد سے، بدعات سے اور شکوک شبہات سے محفوظ رہتا ہے،
اور اللہ کو مضبوط تھامنے( اللہ سے مضبوط تعلق استوار کرنے) کا مطلب ایک مومن بندہ کا اللہ پر توکل کرنا ہے،اس کی حفاظت میں آنا ہے، اس کی پناہ میں آنا ہے،اور اس سے دعاء کرنا ہے کہ وہ اپنے مومن بندہ کو ہر شر سے بچائے اور اس کی حفاظت کرے اور اس کا دفاع کرے،
کیوں کہ اللہ تعالٰی سے مضبوط تعلق استوار کرنے والے مومن بندوں کا اللہ تعالٰی دفاع کرتا ہے،
اور ہر شر سے ان کی حفاظت کرتا ہے اور ہر اس سبب سے بھی ان کی حفاظت فرماتا ہے،
جو ان کے لئے ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے۔

[ مدارج السالكين لابن القيم رحمه الله /المجلدالأول،ص: ٣٥٠/ المكتبة العصرية - بيروت/ سنة الطبع: ١٤٢٥ھ- 2005م ]
 
Top