ذیشان خان

Administrator
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاريخ 2 جمادي الاخر 1442ه مطابق 15؍جنوری؍2021 عیسوی
خطیب: حسين آل الشيخ حفظہ اللہ
موضوع: دھوکہ دہی حرام ہے
ترجمہ: حافظ محمد اقبال راشد

پہلا خطبہ

سماج اور معاشرے کو تمام تر خطرات سے بچانے کے لیے ، مذہبِ اسلام نے انتہائی شاندار اصول پیش کیے ہیں۔اور انہیں اصولوں میں سے ایک ، زندگی کے تمام شعبوں اور سرگرمیوں میں جعلسازی ، ملاوٹ اور دھوکے کی ہر شکل وصورت کو حرام قرار دینا ہے۔

کیونکہ دھوکہ وجعلسازی خواہ کسی بھی معاملے میں ہو ، وہ ایک بدترین اخلاق ، گندی عادت ، مکروہ جرم اور بہت بڑا گناہ ہے۔ نیز یہ حق کی تباہی ، کوتاہی اور امت کے ساتھ خیانت ہے۔

امانت کی بربادی ، حقائق کا زیر و زبر ، ہر آن و مکان کے لیے خطرناک بیماری اور خوفناک برائی ہے۔

چنانچہ جس قوم میں دھوکہ دہی عام ہو جائے ، اس کی ترقی تباہ، خوشحالی مجروح ، عروج زوال پذیر اور وہ ہلاکت و بربادی اور نقصان کا شکار ہوجاتی ہے

ارشادِ باری تعالٰی ہے: اور تم لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو). اور فرمایا: ماپ پورا دو اور کم دینے والوں میں سے نہ بنو).اور فرمایا: (بڑی ہلاکت ہے ، ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے).اور آپ ﷺ فرماتے:" جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے". (مسلم شریف).

اے اللہ کے بندو !تجارتی و اقتصادی معاملات ہی ایسے مجالات ہیں ، جو اس اصول کے ماتحت آتے ہیں ۔اور یہی وہ معاملات ہیں جن کا ان عظیم اصولوں اور پاکیزہ بنیادوں پر استوار ہونا ضروری ہے ، جن میں سے صداقت ، امانت ، وضاحت اور بیان کرنا ہے۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالٰی ہے: بیشک اللہ تعالی تمہیں امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کرنے کا حکم دیتا ہے

اور اللہ سبحانہ نے فرمایا: اے ایماندارو ! اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو).

اور آپ ﷺ نے فرمایا:" خرید و فروخت کرنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ الگ نہ ہو جائیں ، ان کے لیے اختیار کا حق باقی رہتا ہے ، اب اگر ان دونوں نے سچائی ، صاف گوئی اختیار کی اور ہر چیز واضح بتائی تو ان کی خریدوفروخت میں برکت رہتی ہے اور اگر کچھ چھپایا یا جھوٹ بولا تو ان کی خریدوفروخت سے برکت اٹھ جاتی ہے". (بخاری شریف).

مالی معاملات میں ہیرا فیری اور دھوکہ بازی بہت بڑا جرم ہے۔اس کی مختلف صورتیں اور متعدد شکلیں جو بھی ہوں، بہر صورت یہ مسلمانوں کے مالوں کی چوری اور انہیں ناجائز طریقے سے ہڑپ کرنا ہے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے: اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ).

اور اللہ سبحانہ نے فرمایا: اے ایماندارو ! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ ، مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے تجارت کی کوئی صورت ہو).

نبی مکرم ﷺ کا ایک اناج کے ڈھیر سے گزر ہوا ، تو آپ نے اس میں اپنا ہاتھ مبارک داخل کیا (جب نکالا) تو آپ کی انگلیاں گیلی ہو گئیں. تو آپ نے فرمایا:" اے اناج والے ، یہ کیا ماجرا ہے؟" اس نے عرض کی ! اے اللہ کے رسول ! اس میں بارش ہوگئی ہے۔

تو آپ ﷺ نے فرمایا: "تو نے یہ (گیلا اناج) اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ دیکھ لیتے ( یاد رکھو) جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں ".

اور ایک لفظ ہے :"جس نے دھوکہ دیا وہ ہم سے نہیں"، اور ایک لفظ میں یہ ہے کہ :"جس نے ہم کو دھوکا دیا وہ ہم سے نہیں ہے

سازوسامان کا عیب چھپانا یا بعینہٖ سامان یا اس کے اجزا میں نقص یا اس کی مقدار اور وزن میں کمی یا اس کی کوالٹی کا گھٹیا ہونا

یہ سب دھوکہ اور فراڈ ہی کہلاتا ہے۔

اس حرام کردہ دھوکہ دہی میں قاعدہ یہ ہے کہ سامان فروخت کرنے والے کو سامان کے جن عیوب کا علم ہے اگر ان عیوب کا علم خریدنے والے کو ہو جائے تو وہ یہ سامان اس قیمت پر نہ خریدے جس قیمت پر وہ خریدنا چاہتا تھا۔

ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :" سامان میں فراڈ اور عیب چھپانے سے تجارت میں دھوکہ شامل ہوجاتا ہے۔ اس طرح کہ سودا اندر کی نسبت باہر سے زیادہ اچھا ہو

چنانچہ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے ، اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیر خواہی کرے ، ان کے ساتھ دھوکا فراڈ کرنے سے بچے اور ان کے اموال میں حیلہ سازی سے اجتناب کرے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:" مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو کوئی عیب دار چیز اس کا عیب بتائے بغیر بیچے".( اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا) اور بخاری اسے عقبہ بن عامرسے موقوفا روایت کرتے ہیں کہ" کسی شخص کا کسی سودے کا عیب جاننے کے بعد، اسے بتائے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں ہے"۔

برادرانِ اسلام!

امانت و دیانت کے اپنانے اور دھوکہ فراڈ سے اجتناب کے عام دلائل کی بنا پر ، دھوکہ دہی مسلم ، غیر مسلم چھوٹے اور بڑے سب کے لیے حرام ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (اے ایماندارو ! اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت نہ کرو اور نہ (ہی) اپنی قابلِ امانت چیزوں میں خیانت کرو)۔ اسی طرح اس عام دلیل کی وجہ سے جس میں فرمایا:"جس نے دھوکہ دیا وہ ہم سے نہیں".

اور ہمارے رسول ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:" جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم سے نہیں ، جبکہ مکروفریب جہنم کا باعث ہے ". اسے ابنِ حبان نے اپنی صحیح میں اور طبرانی نے صغیر و کبیر میں روایت کیا ہے اوراس کی سند جید ہے).

اے مسلمانو! اللہ تعالی سے ڈرو ، اسلام کی خوبیوں کو اپناؤ اور اس کے عظیم اخلاق اور شاندار اوصاف کے مطابق معاملات طے کرو ، جلوت و خلوت میں اپنے پروردگار کی نگرانی کو ذہن نشین رکھو اور اپنے بلند و بالا رب کے اس فرمان کو سامنے رکھو ، جس میں فرمایا:
( ناپ تول میں کمی کرنے والے ان لوگوں کے لیے بڑی بربادی ہے ، جو لوگوں سے ناپ کر لیتے وقت تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ناپ تول کر انہیں دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں ، کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں اس عظیم دن کے لیے ، جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

دوسرا خطبہ

اےمیرے برادرِ مسلم!

اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے خیر خواہ ، مشفق و مہربان اور ہمیشہ بھلائی کرنے والے بنو۔

ارشادِ باری تعالٰی ہے: بلاشُبہ سب مومن بھائی بھائی ہیں).

لہذا ان کے لیے ہر بھلی اور اچھی چیز پسند کرو اور دھوکہ و فراڈ سے دور رہو۔

آپ ﷺ نے فرمایا:" تم میں سے کوئی بھی تب تک مومن نہیں بن سکتا ، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے
 
Top