ذیشان خان

Administrator
ذکر " سبحانَ اللهِ والحمدُ للهِ ولا إلهَ إلا اللهُ واللهُ أكبرُ ولا حولَ ولا قوةَ إلا باللهِ العليِّ العظيمِ"
========================
مقبول احمد سلفی
یہ بہت عظیم ذکر ہے اس کا اہتمام کرنا چاہئے نیزاس میں کمی وزیادتی کے ساتھ بھی مروی ہے وہ بھی دھیان رہے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح رہے کہ اس ذکر سے متعلق عدد کا ذکر کسی صحیح حدیث میں نہیں ملتا ۔
(1) سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
جاءَ رجلٌ إلى النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ فقالَ: إنِّي لا أستَطيعُ أن آخذَ منَ القرآنِ شيئًا فعلِّمني ما يُجزئُني منهُ، قالَ: قُل: سُبحانَ اللَّهِ، والحمدُ للَّهِ، ولا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، واللَّهُ أَكْبرُ، ولا حَولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللَّهِ العليِّ العظيمِ، قالَ: يا رسولَ اللَّهِ، هذا للَّهِ عزَّ وجلَّ فَما لي، قالَ: قُل: اللَّهمَّ ارحَمني وارزُقني وعافِني واهدِني، فلمَّا قامَ قالَ: هَكَذا بيدِهِ فقالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ: أمَّا هذا فقد ملأَ يدَهُ منَ الخيرِ(صحيح أبي داود:832)
ترجمہ :ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں قرآن سے کچھ یاد نہیں کر سکتا ، مجھے کچھ سکھا دیجئیے جو میرے لیے ( قرآت قرآن سے ) کفایت کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» پڑھا کرو ۔ “ اللہ پاک ہے ، اسی کی تعریف ہے ، اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ۔ برائیوں سے بچنا اور نیکی کی توفیق ملنا ، اللہ کے سوا کسی سے ممکن نہیں ۔ وہ عالی ہے عظمت والا ہے ۔ “ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! یہ تو اللہ کے لیے ہوا ، میرے لیے کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کہا کرو «اللهم ارحمني وارزقني وعافني واهدني» ” اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما ۔ مجھے رزق دے ، راحت و عافیت سے نواز اور ہدایت سے سرفراز فرما ۔ “ چنانچہ جب وہ کھڑا ہوا تو اپنے ہاتھوں سے ایسے اشارہ کیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں۔
(2) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
من تعارَّ من الليلِ فقال حين يستيقظُ: لا إله إلا اللهُ وحدَه لا شريكَ له ، له الملكُ ، وله الحمدُ وهو على كلِّ شيءٍ قديرٌ ، سبحانَ اللهِ ، والحمدُ للهِ ، ولا إله إلا اللهُ ، واللهُ أكبرُ ، ولا حولَ ولا قوةَ إلا باللهِ ، ثم دعا: ربِّ اغفر لي استُجيبَ له ؛ فإن قام فتوضأَ ثم صلَّى قُبِلتْ صلاتَه.(صحيح أبي داود: 5060)
ترجمہ :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے'' لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ [وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ] وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلا حَوْلَ وَلاقُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ'' کہا پھر دعاکی کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے (ولید کی روایت میں ہے،اور دعا کی) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اُٹھا اور وضو کیا، پھرصلاۃ پڑھی تو اس کی صلاۃ مقبول ہوگی۔
٭ اس روایت میں العلی العظیم نہیں ہے ۔
(3) مَن قال حِينَ يأْوِي إلى فِراشِه : ( لا إِلهَ إلا اللهُ وحدَه لا شرِيكَ لهُ ، له المُلْكُ ، و له الحمدُ ، و هو على كلِّ شيءٍ قديرٌ ، لاحَوْلَ ولا قُوةَ إلا باللهِ العلىِّ العظيمِ ، سُبحانَ اللهِ ، والحمدُ للهِ ، ولا إلهَ إلا اللهُ ، واللهُ أكبرُ ) ؛ غُفِرَتْ له ذنوبُه أوخطايَاهُ – شَكَّ مِسْعرٌ – وإنْ كانت مِثلَ زَبَدِ البحرِ(صحيح الترغيب: 607)
ترجمہ: جو بستر پہ لیٹتے وقت یہ کلمات کہے "لا إِلهَ إلا اللهُ وحدَه لا شرِيكَ لهُ ، له المُلْكُ ، و له الحمدُ ، و هو على كلِّ شيءٍ قديرٌ ، لاحَوْلَ ولا قُوةَ إلا باللهِ العلىِّ العظيمِ ، سُبحانَ اللهِ ، والحمدُ للهِ ، ولا إلهَ إلا اللهُ ، واللهُ أكبرُ" تو اس کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
٭ اس روایت میں ذکر میں زیادتی کے ساتھ سبحان اللہ کے کلمات سے پہلے لاحول ولاقوہ کے کلمات ہیں ۔
یہ ذکر مندرجہ ذیل عدد کے ساتھ یاتو ضعیف ہے یا موضوع ہے ۔
(1) چار مرتبہ والا باطل ہے (تبيين العجب: 31 )
(2)سات مرتبہ والا بھی ضعیف ہے ۔
(3) پندرہ مرتبہ (السلسلة الضعيفة: 5066)
(4)ستر مرتبہ (موضوعات ابن الجوزي: 2/417)
(5)سو مرتبہ والا شیعہ کے یہاں ہے۔ اس کا بڑا اجر بیان کیاجاتاہے اس سے باخبررہیں۔
 
Top