پانچ خاص احکام الہی

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

اے لوگو! انبیاء و رسل کے قصوں میں طالبعلموں کے لئے دروس ہیں متقیوں کیلئے نصیحتیں ہیں , اور نصیحت کرنے والوں کیلئے کا تذکرہ ہے ,مومنین کیلئے ثابت قدمی کا ذریعہ -
اللہ تعالی کا فرمان ہے ; اور ہم رسولوں کے حالات تیرے پاس اس لیے بیان کرتے ہیں کہ ان سے تیرے دل کو مضبوط کر دیں، اور ان واقعات میں تیرے پاس حق بات پہنچ جائے گی اور ایمانداروں کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ ( ھود 120)
اللہ تعالیٰ نے یحیٰی بن زکریا علیہ السلام کو پانچ کلمات کا حکم دیا کہ وہ خود بھی اس پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کی دعوت دیں، ممکن ہے کہ وہ اس کام میں تاخیر کر دیتے کہ اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ ان پر خود بھی عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دو، یا تو یہ کلمات آپ بنی اسرائیل کو پہنچا دیں یا میں پہنچا دوں۔ یحیٰی ؑ بن زکریاؑ بولے میرے بھائی مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ اس معاملے میں مجھ سے سبقت لے گئے تو ایسا نہ ہو کہ مجھے اللہ کی طرف سے عذاب دیا جائے یا زمین میں دھنسا دیا جائے۔ چنانچہ یحیٰی بن زکریا علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا حتیٰ کہ مسجد بھر گئی، انہوں نے ایک بلند مقام پر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر قوم سے اس طرح خطاب فرمایا ”مجھے اللہ تعالیٰ نے پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل پیرا کرنے کا حکم دوں۔“
پہلا حکم یہ ہے : تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ بناﺅ۔ مشرک کی مثال اس غلام کی سی ہے جسے کوئی شخص اپنے خالص مال سے خرید کر اپنے کاروبار کا خود مختار بنا دے , لیکن یہ غلام شام کے وقت فروخت شدہ مال کی رقم اپنے آقا کے بجائے دوسرے کسی شخص کے حوالے کرتا جائے، کیا غلام کی اس حرکت کو کوئی شخص برداشت کرے گا۔ ہرگز نہیں!
پس اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا فرمایا اور وہی رزق دیتا ہے لہٰذا اس کی خالص عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناﺅ۔
دوسرا حکم یہ ہے : میں تم کو نماز پڑھنے کا حکم دیتا ہوں۔ جب تک انسان نماز کی حالت میں ہوتا ہے اور دوسری طرف التفات نہیں کرتا اس وقت تک اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ پس جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو جاﺅ تو کسی دوسری طرف عنان توجہ مبذول نہ کرو
تیسرا حکم یہ ہے : میں تم کو صوم کا حکم دیتا ہوں۔ صائم کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے پاس کستوری کی تھیلی ہو اور اس کے تمام ساتھی اس کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں۔ صائم کے منہ کی بُو اللہ کریم کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔

چو تھا حکم یہ ہے : میں تم کو صدقہ و خیرات کا حکم دیتا ہوں۔ صدقہ و خیرات کرنے والے کی مثال اس قیدی کی سی ہے جس کے ہاتھ اس کے دشمن نے اس کی گردن سے باندھ دئیے ہوں اور اسے قتل کرنے کے لئے مقتل کی طرف لے جا رہے ہو وہ قیدی دشمن کو تھوڑ یا زیادہ مال دے کر اپنے آپ کو بچا لیتا ہے -
پانچواں حکم یہ ہے : میں تم کو اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اللہ کے ذکر میں مشعول رہنے والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کو پکڑنے کے لئے دشمن اس کا پیچھا کر رہا ہو اور یہ شخص ایک قلعہ میں پناہ گزین ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان ذکر الٰہی میں مشغول رہتا ہے وہ شیطان کی شرارتوں سے ایسا محفوظ رہتا ہے جیسے کسی قلعہ میں محفوظ ہو گیا ہو۔
یہ پانچ امور ذکر کرنے کے بعد رسول اکرم نے ارشاد فرمایا : اے میرے صحابہؓ میں بھی تم کو پانچ باتوں کا حکم کرتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ یہ کہ ;
مسلمانوں کی جماعت سے وابستہ رہنا -2 اپنے امیر کی باتوں کو سُننا اور پھر -3 اس کی اطاعت کرنا -4 اللہ کے لئے ہجرت کرنا -5 اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر بھی باہر رہا تو گویا اس نے اپنے گلے سے اسلام کی رسی کو اُتار پھینکا۔ جب تک وہ پھر جماعت میں نہ مل جائے اور جو شخص جہالت کی رسم و رواج کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو ایسا شخص جہنم کا ایندھن بنے گا۔
صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اگرچہ وہ شخص صوم و صلوة کا پابند ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو تو بھی جہنم کا ایندھن بنے گا تو رسول اکرم نے ارشاد فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ صوم و صلوة کا پابند ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ تم مسلمان کو اس نام سے پکارا کرو جس نام سے اللہ نے ان کو پکارا ہے یعنی مسلمان، مومن -
(رواہ احمد و الترمذی و قال; حدیث حسن صحیح غریب و وصححه الشيخ الألباني في صحيح الجامع: 1724.)
یہ حدیث تبلیغ دین اور دعوت کی اہمیت کے بارے میں بہت عظیم ہے-
اس میں عیسی علیہ السلام نے جو یحی علیہ السلام کو دعوت پہ ابھارا ہے اور پھر یحی علیہ السلام نے جو اس کی دعوت دی لوگوں کو, اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اسی طرح سے رسولوں سے تبلیغ دین کے بارے میں پوچھا جائے گا جس طرح اس دعوت کے قبول نہ کرنے والوں سے پوچھا جائے گا -
جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ;
پھر ہم ان لوگوں سے ضرور سوال کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ان پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے۔ ( اعراف 6 )
اسی طرح سے اس حدیث سے انبیاء علیھم السلام کا خوف الہی کا پتہ چلتا ہے,کہ جب عیسی علیہ السلام نے یحی علیہ السلام کو احکام الہی کی تبلیغ پہ ابھارا تو اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے فورا اس میں جلدی کی , اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا ; یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے . ( انبیاء 90 )
اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے اصول دین سارے انبیاء کی شریعتوں کے ایک تھے ,
اسی طرح اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو پانچ نصحتیں کی جو امة کیلئے بے حد شفیق و مہربان تھے , اس میں جماعة کے ساتھ رہنے , اور بادشاہ کی سمع و طاعت کا حکم دیا ہے ,جو داخلی امن کیلئے پیشانی کا درجہ رکھتی ہے , کیونکہ دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈال کر ہی اپنے مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے , اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا ; تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو ( آل عمران 103 )
اور فرمایا;
اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ اللہ صبر کرنے والوں کا مددگار ہے ( انفال 46)
کیونکہ اختلاف کا سب سے بڑا سبب دین کے اندر فرقہ بندی ہے اسی لئے اھل بدعت کے یہاں بے حد فرقہ پائے جاتے ہیں , جس کی وجہ یہی خواہش نفس کی پیروی اور دین میں تفرقہ بازی ہے ,اور اسی وجہ سے جماعت سے الگ ہونے سے بھی منع کیا ہے ,کیونکہ یہ اختلاف کا سبب ہے , اسی وجہ سے جاھلیت کی پکار پکارنے سے بھی منع کیا ہے -
اسلئے ان عظیم وصیتوں کو ہمیشہ اپنے ذھن میں رکھنا چاہیئے -
اللہ تعالی ہمیں دین میں اختلاف وتفرقہ بازی سے بچائے - آمین
 
Top