ذیشان خان

Administrator
عقلمند خارجی دشمن سے زیادہ اپنے نفس سے چوکنا رہتا ہے
━════﷽════━
✺ "جان لو -اللہ کی آپ پر رحمت ہو- اگر نفس خواہشات کے تابع ہوکر حرام کاری کا مرتکب ہو جائے‘ تو وہی نفس بروز قیامت صاحبِ نفس کو ملامت کرتے ہوئے کہے گا کہ: تونے ایسا کیوں کیا تھا؟ تونے کوتاہی کیوں برتی؟ کیوں تو میری خواہشات پورا کرنے میں لگا رہا‘ جبکہ تو جانتا تھا کہ یہ میرے لئے باعث ہلاکت ہے؟
❐ لوگو! کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ ﴿لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ القِيامَةِ ولا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوّامَةِ﴾ [القيامۃ: ۱] میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی، اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے والا ہو.
☚‏ اس آیت کو سننے والے ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ اپنے نفس سے‘ اس خارجی دشمن کے بالمقابل کہیں زیادہ ڈرے جو اس کے جان ومال اور عزت وآبرو پر ڈاکا ڈالنے کی تاک میں ہو.
◙ کوئی اگر کہے کہ: نفس سے اس قدر چوکنا رہنے کی کیا ضرورت پڑی کہ آپ نے نفس کو کھلے ہوئے دشمن سے زیادہ خطرناک قرار دے دیا؟
☚‏ تو اس سےجواباً کہا جائے کہ: آپ کا وہ خارجی دشمن جو آپ کے قتل کے درپے ہے، اور آپ کی عزت ومال پر ڈاکا ڈالنے کے تاک میں ہے، اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوا‘ تو اللہ تعالیٰ اس آزمائش کو تمہارے لئے کفارۂ سیئات بنا دے گا، اور تمہارے درجات بلند فرما دے گا، جبکہ نفس کا معاملہ ایسا نہیں؛ کیونکہ نفس اگر حرام چیزوں کے ذریعہ اپنی خواہشات پوری کرنے میں کامیاب ہوا‘ تو وہ تمہارے لئے دنیا وآخرت دنوں جہاں کی ہلاکت کا باعث ہوگا؛ دنیا میں شدید مشکلات کے ساتھ رسوائی، اور آخرت میں اللہ کے یہاں برا ٹھکانہ مقدر ہوگا.
☚‏ چنانچہ عقلمند شخص -ان پر اللہ کی رحمت ہو- ہمیشہ اپنے نفس سے الرٹ رہ کر اسے مسلسل قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اُس دشمن کو زیر کرنے کی کوشش سے بھی زیادہ جو اس کی جان ومال کے درپے ہو.
لہذا اے عقلمندو! نفس سے حالتِ رضا وغضب دونوں صورتوں میں مجاہدہ کرتے رہو".

📚: [أدب النفوس للآجری]
 
Top