ذیشان خان

Administrator
FB_IMG_1611918623096.jpg
FB_IMG_1611918630635.jpg
FB_IMG_1611918637058.jpg

ایک نظر تاریخِ حجرہ نبوی پر

قسط: ١

تلخيص : عبيد الله الباقي أسلم

حجرہ نبوی سے مراد: وہ گھر ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہا کرتے تھے، یہ گھر خلفاء راشدین (رضي الله عنهم) اور خلافت بنی امیہ کے ابتدائی دور تک مسجد نبوی کے شرق جنوب میں واقع تھا، بعد میں چل کر یہ گھر "حجرہ نبوی" سے مشہور ہوا؛ کیونکہ اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین عمل میں آئی تھی.
حجرہ نبوی متعدد مراحل سے گزرا ہے؛ جس کی مختصر تفصیل یہ یے:
پہلا مرحلہ: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے؛ تو امہات المؤمنین کے لئے گھروں کا انتظام فرمایا، ان میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر مسجد نبوی سے متصل شرق جنوب میں واقع تھا.
جحرہ نبوی دو چیزوں پر مشتمل تھا:
1- گھر؛ جو مٹی سے بنا ہوا تھا، اور اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں سے بنی تھی، اور اس کا ایک ہی دروازہ تھا جو گھر کے شمال شرق کی طرف واقع تھا.
2- حجرہ (آگن)؛ جو گھر کے سامنے شمال کی جانب واقع تھا، اور تینوں اطراف (مشرق، مغرب، اور شمال) کھجور کی ٹہنیوں سے گھرے ہوئے تھے.

دوسرا مرحلہ:
سن گیارہ (11) ہجری میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ان کی تدفین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوئی؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ" [جامع الترمذي(ح:1018)، وسنن ابن ماجه (ح:1628)] اللہ نے ہر نبی کو موت اسی جگہ دی جہاں انہوں نے دفن ہونا پسند فرمایا.
اور فرمایا: "لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ؛ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" یہود پر اللہ کی لعنت ہو؛ جنہوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کے ضمن میں فرماتی ہیں: "لَوْلَا ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ؛ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا"[صحيح البخاري(ح:4441)] اگر یہ(قبر کو سجدہ گاہ بنانے کی علت) نہ ہوتی تو آپ کی قبر بھی کھلی رکھی جاتی لیکن آپ کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو بھی سجدہ گا نہ بنا لیا جائے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین عمل میں آنے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر کے باقی حصوں کے درمیان ایک پردہ نصب کر دیا.

تیسرا مرحلہ:
سن تیرہ (13) ہجری میں جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا؛ تو حجرہ نبوی میں دو چیزیں واقع ہوئیں:
1- حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی حجرہ نبوی میں دفن کیا گیا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دونوں قبروں اور گھر کے باقی حصوں کے درمیان پردہ نصب کر دیا.
2- حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حجرہ نبوی کے آگن کے تینوں اطراف (مشرق، مغرب، اور شمال) میں لگی کھجور کی ٹہنیوں کی جگہ ایک دیوار قائم کرا دی.

چوتھا مرحلہ:
سن تئیس (23) ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے درخواست فرمائی کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کے ساتھ حجرہ نبوی میں تدفین کی اجازت دیں؛ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی، اور جب ان کا انتقال ہوا تو انہیں بھی حجرہ نبوی میں دفن کیا گیا.
اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تینوں قبروں اور گھر کے باقی بچے حصے کے درمیان ایک دیوار قائم کر دی؛ جس میں ایک چھوٹا سا دروازہ بھی چھوڑ رکھا، چنانچہ بعض تابعین ان قبروں کو دیکھنے اور نبی علیہ السلام پر سلام پڑھنے کے لئے ان سے اجازت طلب کیا کرتے تھے.
تینوں قبروں کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے باقی بچے ہوئے حصے کی لمبائی پانچ عشریہ چوبیس (5.24) مٹر، جبکہ چوڑائی زیرو عشریہ بہتّر (0.72) مٹر تھی؛ جس میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تقریباً پینتیس (35) سال قیام فرمایا.

پانچواں مرحلہ:
جب لوگ کثرت سے قبروں پر سلام عرض کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کرنے لگے تو انہوں اس چھوٹے سے دروازے کو بھی بند کردیا.

چھٹا مرحلہ:
سن اٹھاون (58) ہجری میں جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو ہجرہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کا دروازہ (جو شمال شرق میں واقع تھا) بند کر دیا گیا.
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وبعدها - أي: وفاة عائشة رضي الله عنها - كانت مغلقة إلى أن أدخلت في المسجد؛ فسد بابها وبني عليها حائط آخر" [مجموع الفتاوى (27/ 328)] اور ان کے بعد یعنی: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ان کا حجرہ بندہ تھا یہاں تک کہ وہ (حصہ) مسجد کے ضمن میں شامل کر دیا گیا؛ اور اس پر ایک دیوار بنا دی گئی.

نوٹ: یہ معلومات دکتور عبد المحسن القاسم/ حفظہ اللہ کی کتاب" المدينة المنورة، فضائلها، المسجد النبوي، الحجرة النبوية" سے مستفاد ہیں.

جاری ہے....
 
Top