نکاح کو آسان بناو اور معاشرے کو بربادی بچاو

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

قارئین کرام! جو قوم شریعت سے اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرتی ہے اور احکام الہی کو بالائے طاق رکھ دیتی ہے، تو اس سماج میں، اس قوم میں شر و فساد اور خرابی پھیل جاتی ہے، یہ قاعدہ زندگی کے تمام گوشہ کے لئے لائحہ عمل ہے۔
اسلامی بھائیو! اسلام نے عورتوں سے قطع تعلق، اور شادی کو ترک کرنے سے منع کیا ہے، حتی کہ وہ اسباب جو شادی سے روکیں اس سے بھی اسلام نے منع کیا ہے، ایسا کرنے والوں کو سختی سے روکا ہے، جیسا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کی تردید کی جب انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبندی کی اجازت چاہی(متفق علیہ)
یہاں تک یہ چیز ضرورت کے وقت بھی کبھی جائز نہیں ہے، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہمارے ساتھ میں ہماری بیویاں نہیں تھی، ہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم نسبندی کرا لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سختی سے منع کردیا۔ (متفق علیہ)
ان دونوں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی اولاد سے بچنے کے لئے، یا حرام سے بچنے کے لئے بھی اگر ایسا کرتا ہے تو اسلام کے اندر اس کی اجازت نہیں ہے۔
اگر کسی کے پاس شادی کی طاقت نہیں ہے، یا اسے میسر نہیں ہے، تو ایسی حالت میں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرا راستہ بتایا ہے جس کے ذریعہ ہم حرام سے بچ سکتے ہیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس طاقت ہو شادی کرے، اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی نگاہوں کو جھکا ئے رکھے، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ ہے نفلی صوم رکھا کرے، کیونکہ صوم یہ شہوتوں کو مار دیتا ہے، انسان کو برائی سے بچاتا ہے، اور مہذب بناتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی طرف رغبت دلائی ہے عائشہ اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبیء محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛ نکاح کرنا یہ میری سنت ہے جو میری سنت سے اعراض کرے، وہ مجھ سے نہیں۔
اور فرمایا شادی کرو میں اپنی امت کی کثرت کی وجہ سے تمام امتوں پر فخر کروں گا ۔

ایسے ہی ایک موقع سے جب کچھ صحابہ کرام نے آکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوشیدہ مال کے بارے میں پوچھا تو انھیں اپنے اعمال بہت کم لگے، اس کے بعد ان میں سے بعض نے کہا میں شادی نہیں کروں گا، بعض نے کہا میں گوشت نہیں کھاؤں گا( یعنی صوفیوں، راہبوں کی طرح معمولی موٹے جھوٹے کھانے پر اکتفا کرونگا) بعض نے کہا میں رات کو سووں گا نہیں( عبادت میں مشغول رہونگا) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ گفتگو سنی تو مسجد میں آئے، اللہ رب العالمین کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: کیا ہو گیا ہے لوگوں کو کہ اس طرح اور اس طرح کی بات کر رہے ہیں، جب کہ میں رات کو صلاة بھی پڑھتا ہوں، اور سوتا بھی ہوں، صوم بھی رکھتا ہوں اور کبھی نہیں بھی رکھتا ہوں، میں شادی بھی کرتا ہوں، پس جو میری سنت سے اعراض کرے، وہ مجھ سے نہیں۔
مسلمانو! رہبانیت یہ اسلام کے اندر جائز نہیں ہے، دنیا سے کٹ کر، اللہ کی نعمتوں کو چھوڑ کر،اس کی عبادت ہی میں لگ جانا، یہ اسلامی طریقہ نہیں ہے۔
بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کرنے کا حکم دیا ہے، نکاح کو آسان بنانے کا بھی حکم دیا ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ شادی کو آسان بنائیں، بے جا فخر ومباہات سے، پیسے یا دیگر مطالبات سے، اور جہیز جیسی لعنت سے بچیں، وہ لوگ جو شادیوں کو مشکل بناتے ہیں، اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں نکاح میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں ان کا یہ عمل اسلام کے خلاف ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی ہے، اگر کوئی نکاح کا پیغام بھیجے، آپ اس کے دین اور اخلاق سے راضی ہو تو اس سے شادی کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین کے اندر بڑے فتنہ و فساد کے مرتکب ہوگے۔
اللہ کے بندو! نکاح کو آسان بناؤ، حلال طریقے سے عورتوں کے پاس آؤ، جو حرام طریقے سے عشق میں پڑ کر زناکاری کے مرتکب ہوتے ہیں، یا اجنبی عورتوں سے ملتے ہیں، یا کسی کو بھی حرام نظر سے دیکھتے ہیں، یا اس کو چھوتے ہیں، یہ سب بہت بڑی برائی ہے، سماج و معاشرے کے لئے وبال ہے، اور ایسا کرنے سے مسلمان تعداد میں کم ہوں گے، نسلوں کا ضیاع اور بربادی ہوگی۔

عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛
برکت والا نکاح وہ ہے جس میں بوجھ کم ہو، اور مہر بھی آسان ہو، دونوں طرف سے کوئی مقروض نہ ہو۔ ( رواہ حاکم )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
پانچ چیزیں ہیں جن سے امت کو آزمایا جائے گا۔
ان میں سے پہلی چیز یہ کہ جب کسی قوم میں اعلانیہ فحش (فسق و فجور اور زناکاری) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑیں گی جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھی۔
الله تعالی ہمیں نکاح کو آسان تر بنانے کی توفیق بخشے، اور فحش و فسق فجور اور زناکاری سے محفوظ رکھے۔
 
Top