ذیشان خان

Administrator
سورہ غاشیہ کے آخر میں" اللهم حاسبني حساباً يسيراً"

مقبول احمد سلفی
ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ جب امام سورہ غاشیہ پڑھے تو مقتدی اس کے آخر میں اللهم حاسبني حساباً يسيراً پڑھے ۔ مجھے ایسی کوئی روایت نبی ﷺ سے نہیں ملی ۔
ایک روایت اس طرح آتی ہے :
سیدہ عائشہ رضى الله عنها فرماتی ہیں :
«كان النبي، صلى الله عليه وسلم ، يقول في بعض صلاته: اللهم حاسبني حساباً يسيراً".فقالت عائشة رضي الله عنها:ما الحساب اليسير؟قال:"أن ينظر في كتابه فيتجاوز عنه».
(رواه أحمد وقال الألباني : إسناده جيد)
ترجمہ : نبی کریمﷺ اپنی بعض نمازوں میں پڑھا کرتے تھے۔سیدہ عائشہ نے دریافت کیا کہ آسان حساب سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا:اللہ اعمال نامہ کو دیکھے اور بندے سے درگزر کردے۔
اس حدیث سے بس یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک دعا ہے جسے نبی ﷺ اپنی بعض نمازوں میں پڑھا کرتےتھے، اسے سورہ غاشیہ یا اس کی آخری آیت" إن إلينا إيابهم، ثم إن علينا حسابهم"سے خاص کرنا صحیح نہیں ہے ۔
اس لئے مذکورہ بالا آیت کے اختتام پہ" اللهم حاسبني حساباً يسيراً" پڑھنا درست نہیں ہے ۔
 
Top