ذیشان خان

Administrator
حدیث «لا أشبع اللہ بطنہ» کا صحیح معنی ومفہوم

✍⁩فاروق عبداللہ نراین پوری

امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے، فرماتے ہیں:
كنت ألعب مع الصبيان، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فتواريت خلف باب، قال: فجاء، فحطأني حطأة، وقال: «اذهب وادع لي معاوية» قال: فجئت فقلت: هو يأكل، قال: ثم قال لي: «اذهب فادع لي معاوية» قال: فجئت فقلت: هو يأكل، فقال: «لا أشبع الله بطنه»
(میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، فرماتے ہیں: آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی اور فرمایا: جاؤ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔ میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔ میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: اللہ ان کا پیٹ نہ بھرے)
صحابی رسول وکاتب وحی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کرنے والے حاقدین اس حدیث کو ان کے برخلاف ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہیں اور اسے ان کی مذمت میں شمار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے ادبی کی جس پر آپ نے ان کے لیے بد دعا کی۔
اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے صحیح معنی ومفہوم سے عوام وخواص کو آگاہ کیا جائے۔
یہ حدیث در اصل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت پر نہیں بلکہ منقبت پر دلالت کرتی ہے۔ اور اسے علمائے کرام نے ان کی منقبت کے باب شمار کیا ہے۔ مثلا حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’وهذا الحديث فضيلة لمعاوية۔‘‘ [البدایہ والنہایہ:۸/۱۲۸]
اور حافظ ذہبی فرماتے ہیں:’’لعل هذه منقبة معاوية۔‘‘[تذكرة الحفاظ:۲/۱۹۵]
البتہ جنھوں نے اس حدیث کو ان کی مذمت پر محمول کیا ہے علمائے کرام نے اس کے متعدد جوابات دیے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں:
۱۔یہ اہل عرب کے عام بول چال کے کلمات ہیں، ان سے مخاطب کے حق میں بد دعا مقصود نہیں ہوتی۔ [المعلم بفوائد مسلم للمازری:۳/۲۹۷]
کچھ اسی طرح کے بول چال کے کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے صحابہ کرام کے لیے بھی وارد ہیں جو بظاہر ان کے حق میں بد دعا معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ان کلمات کو کوئی بد دعا پر محمول نہیں کرتا۔ مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض صحابہ کرام کے حق میں عَقْرَى، حَلْقَى، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، تَرِبَتْ يَمِينُك، لَا كَبِرَ سِنُّكِ وغیرہ کلمات استعمال کرنا۔ [دیکھیں: صحیح بخاری:۸/۳۷،صحیح مسلم: حدیث نمبر۱۲۱۱-۳۱۰-۲۶۰۳ وغیرہ]
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أن ما وقع من سبه ودعائه ونحوه ليس بمقصود بل هو مما جرت به عادة العرب في وصل كلامها بلا نية كقوله تربت يمينك وعقرى حلقى وفي هذا الحديث لا كبرت سنك وفي حديث معاوية لا أشبع الله بطنه ونحو ذلك لا يقصدون بشئ من ذلك حقيقة الدعاء
(گالی و بد دعا جیسے جو کلمات واقع ہوئے ہیں وہ مقصود نہیں ہیں، بلکہ اہل عرب اپنی بول چال میں حسب عادت بلا ارادہ جو استعمال کرتے ہیں ان کا تعلق اسی قبیل سے ہے۔ مثلا آپ کا یہ کہنا: تمھارے ہاتھ خاک آلود ہوں، اللہ اس کو زخمی کرے اور اس کے حلق میں درد پیدا کرے۔ اسی طرح حدیث انس میں ام سلیم کی بچی کے لیے کہنا کہ تمھاری عمر نہ بڑھے، اور حدیث معاویہ میں کہنا کہ اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے وغیرہ تو ان کلمات سے حقیقی بد دعا مقصود نہیں ہوتی)
یہی بات علامہ عراقی نے طرح التثريب فی شرح التقريب (۸/۱۳) میں کہی ہے۔
۲۔اگر اسے معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں بد دعا تسلیم کر بھی لیں پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسری حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ان کی منقبت اور فضیلت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»[صحیح مسلم: حدیث نمبر۲۶۰۳]
(میں نے اپنے رب سے معاہدہ کیا ہے، میں نے اللہ تعالی سے کہا کہ میں ایک بشر ہوں، جس طرح ایک انسان خوش ہوتا ہے میں بھی ہوتا ہوں، اور جس طرح ایک انسان ناراض ہوتا ہے میں بھی ہوتا ہوں، لہذا میں اپنی امت میں سے جس کسی پر بھی ایسی بد دعا کردوں جس کا وہ اہل نہ ہو تو اسے اس کے لیے گناہوں کا کفارہ، تزکیہ اور قیامت کے دن تیری قربت کا باعث بنا دے)
لہذا یہ حدیث امیر معاویہ اور ان تمام صحابہ کرام کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیک دعا ہے جن کے متعلق ایسے کلمات بتقاضائے بشر آپ سے صادر ہوئے ہیں۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں ذکر کرنے کے فورا بعد «لا أشبع اللہ بطنہ» والی حدیث روایت کی ہے جس سے واضح طور پر آپ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ یہ ان کے حق میں آپ کی دعا ہے،بد دعا نہیں۔
بہت سارے علمائے کرام نے اس سے یہی سمجھا ہے۔ مثلا ملاحظہ ہو امام نووی کی شرح صحیح مسلم (۱۶/۱۵۲-۱۵۳)
استاد محترم فضیلۃ الشیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ ومتعہ بالصحہ والعافیہ فرماتے ہیں:
من دقَّة الإمام مسلم رحمه الله وحسن ترتيبه صحيحه أنَّه أورد عقب هذا الحديث حديثَ ابن عباس رضي الله عنهما في قوله في معاوية: “لا أشبع اللهُ بطنَه”، فيكون دعاءً له، وليس دعاء عليه [فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد: ص۱۰۶]
(امام مسلم رحمہ اللہ کی باریک بینی اور اپنے صحیح کی حسن ترتیب کی یہ ایک علامت ہے کہ انھوں نے انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ابن عباس کی حدیث ’’اللہ ان کا پیٹ نہ بھرے‘‘ روایت کی، لہذا یہ ان کے حق میں دعا ہوگی، بد دعا نہیں)
۳۔اس حدیث میں کہیں پر یہ نہیں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی تھی کہ انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں، صرف یہ ہے کہ انھوں نے امیر معاویہ کو کھاتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی مکرر خبر دی، جس پر آپ نے مذکورہ جملہ ارشاد فرمایا۔
لہذا اس سے یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوئی لا پرواہی برتی تھی یا کوئی بے ادبی کی تھی؟ اور جب ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے تو ان کے حق میں پھر بد دعا کیسی؟ [ تسديد الإصابة فيما شجر بين الصحابة لذیاب بن سعد الغامدی: ص۱۴۸]
۴۔اس کے بر عکس یہ حدیث امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے صحابی رسول، کاتب وحی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد وچہیتے ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور نبیین، صدیقین، شہدا وصالحین کے ساتھ ہمارا حشر کرے۔
 
Top