اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَحْدَہ،وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ مَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدَہ:امابعد
أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ،
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💐🍁جِہَاد فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ🍁💐۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌻تحریر:ڈاکٹرابومحمدراشدمحمّدی
🌻نظرِثانی:الشیخ محمدعلی جوہر گجراتی حفظہ اللّٰہ تعالیٰ
السّلام عليْكم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ:
جہاد کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔۔چند دلائل درج ذیل ہے۔
💐جہاد کی تیاری(ٹریننگ):
🌹وَاَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَہُمۡ ۚ اَللّٰہُ یَعۡلَمُہُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۰﴾
تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللّٰہ کے دُشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور اُن کے سوا اوروں کو بھی،جنہیں تم نہیں جانتے اللّٰہ اُنھیں خوب جان رہا ہےجو کچھ بھی اللّٰہ کی راہ میں صرف کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔"
((سورۃ الانفال،سورۃ۸،پارۃ۱۰،آیت:۶۰))
🍁تفسیر:
1۔ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ: ’’قُوَّةٍ ‘‘کا لفظ نکرہ لایا گیا ہے،’’مِنْ ‘‘ کے ساتھ عموم اور زیادہ ہو گیا ہے،یعنی ہر قسم کی قوت،خواہ جو بھی ہو، تاکہ اس میں وہ تمام چیزیں آجائیں جو جنگ میں قوت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ﴿ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ ﴾ اور فرمایا: (( أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ )) تین دفعہ فرمایا کہ یاد رکھو! اصل قوت ’’رَمْيٌ‘‘ ہے۔
[ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرمی والحث علیہ....: ۱۹۱۷ ]
’’رَمْيٌ ‘‘ کا لفظ اگرچہ تیر اندازی کے معنی میں بھی آتا ہے، مگر اس میں تیر کے ساتھ ساتھ وہ تمام چیزیں آجاتی ہیں جو دُور سے پھینکی جاتی ہیں،
جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے فرمان:﴿وَ مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ ﴾ [الأنفال : ۱۷ ] سے مرادمٹی اور کنکریوں کی مٹھی پھینکنا ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں دُور سے مار کرنے والی جو بھی چیز تھی آپ نے جنگ میں استعمال فرمائی،حتیٰ کہ منجنیق بھی دُشمن کے خلاف استعمال فرمائی،جس کے ساتھ دُور سے پتھر پھینک کر قلعوں کی دیواریں توڑ دی جاتی تھیں اور ہمیشہ مسلمانوں نے اپنے غلبےکے زمانے میں ہر جدید ہتھیار مثلاً نِفط (پٹرول وغیرہ) کے ہتھیار استعمال کیے۔بارود کی ایجاد کے بعد بھی ترک خلفاء توپوں کی تیاری سے غافل نہیں رہے،مگر افسوس!اس کے بعد مسلمانوں نے اس حکم سے اتنی بے پروائی کی کہ دشمن اس میدان،یعنی اسلحہ کی تیاری میں ان سے بہت آگے نکل گیا۔اب عالم اسلام اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر نعمت کے باوجود اسلحے کے لیے غیروں کا محتاج ہے،چھوٹے موٹے ہتھیار تو بنتے ہیں،مگر ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر،گاڑیاں،کمپیوٹر، توپیں، ریڈار وغیرہ تمام چیزوں میں وہ دوسروں کا دست نگر ہے۔(الا ما شاء اللّٰہ) جس کے نتیجے میں کفار مسلمانوں کی دولت بھی لوٹ رہے ہیں،(اور)ان کے وسائل اور دینی اقدار کو بھی چھین رہے ہیں اور جب چاہتے ہیں ان ہتھیاروں اور جہازوں کی ضروریات وغیرہ روک کر بے بس کر دیتے ہیں،حالانکہ پاکستان اگر ایٹم بم بنا سکتا ہے تو وہ کون سی چیز ہے جو مسلم ممالک نہیں بنا سکتے؟مگر مسلمانوں کی دین سے بے گانگی،دُشمن کی چال بازی،اپنوں کی غداری اور طمع و حرص کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بزدلی ان میں یہ چیزیں بنانے کی جرأت ہی پیدا نہیں ہونے دیتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم کسی گاڑی،ریل یا ہوائی جہاز پر سوار ہو کر اپنے ملک میں یا بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں تو دل میں سخت تکلیف ہوتی ہے کہ یہ تمام سواریاں ہمارے دُشمنوں کی بنائی ہوئی ہیں،ہم اپنے بل بوتے پر کچھ بھی نہیں بنا سکے۔یہ سب مسلمانوں کے رہنماؤں کا کیا دھرا ہے،جو اپنے عوام ہی کی تصویر ہیں، مگر مایوس ہونا کسی صورت بھی جائز نہیں اور نہ کفار کو نا قابل شکست سمجھ کر ہاتھ توڑ کر بیٹھ جانا چاہیے،کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق کفار جتنی بھی کوشش کر لیں کبھی نورِ اسلام کو بجھا نہ سکیں گے، فرمایا:﴿يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ﴾ [ الصف : ۸ ]’’وہ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللّٰہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے، اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔‘‘ اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت قائم ہونے تک اس کی خاطر لڑتی رہے گی۔‘‘
[ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تزال طائفۃ من أمتی....: ۱۹۲۲، عن جابر بن سمرۃ رضی اللّٰہ عنہ ]
مغیرہ بن شعبہ، جابر بن عبد اللّٰہ اور معاویہ رضی اللّٰہ عنہم سے مروی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث میں ان لوگوں کے دین پر قائم رہنے اور غالب رہنے کی خوش خبری بھی آئی ہے۔
[دیکھیے مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تزال طائفۃ من أمتی....: ۱۹۲۱، ۱۹۲۳، ۱۰۳۷، بعد ح : ۱۹۲۳ ]
اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس وقت مجاہدین اسلام اور کفار کے درمیان جو جنگ جاری ہے اس میں اہل اسلام کی کس قدر آزمائش باقی ہے؟ اور کفار اللّٰہ تعالیٰ سے بغاوت کی جس حد تک پہنچ چکے ہیں ان کی سزا میں کتنی دیر ہے؟ اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے کن بندوں کے ہاتھوں کفار کو کس طرح کیفر کردار تک پہنچاتا ہے؟
فرمان الٰہی ہے :﴿وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ﴾ [ محمد : ۳۸ ] ’’اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمھاری جگہ تمھارے سوا اور لوگ لے آئے گا، پھر وہ تمھاری طرح نہیں ہوں گے۔‘‘ اور دیکھیے سورۂ مائدہ( ۵۴)۔
2۔ وَ مِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ: اس حکم سے سوار فوج کی اہمیت ظاہر ہے۔ ’’قُوَّةٍ ‘‘ اور ’’ رِبَاطِ الْخَيْلِ ‘‘ میں فوجی گاڑیاں، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، جنگی جہاز، آبدوزیں، بحری بیڑے، جاسوسی کے آلات اور ادارے، اعلام کے ذرائع سب آ جاتے ہیں، مگر ان سب کے باوجود قیامت تک جنگ میں گھوڑوں کی ضرورت اور اہمیت کبھی ختم نہیں ہو گی۔ جو کام یہ مبارک جانور سر انجام دے سکتا ہے دنیا کی کوئی چیز نہیں دے سکتی۔ عروہ بارقی اور جریر بن عبد اللّٰہ رضی اللّٰہ عنہما رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ’’یہ گھوڑے،ان کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک خیر باندھ دی گئی ہے، اجر اور غنیمت۔‘‘
[ مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الخیل....: ۱۸۷۲، ۱۸۷۳ ]
اس لیے مسلمانوں کو ڈرائیور، پائلٹ، ملاح، بحری مجاہد، تیراک اور غوطہ خور ہونے کے ساتھ ساتھ گھڑ سوار ہونا بھی لازم ہے۔
3۔ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ: یعنی اس قدر مضبوط تیاری رکھو کہ اللہ کا دشمن اور تمھارا دشمن اور تمھارے ساتھ کد رکھنے والا ہر شخص تم سے خوف زدہ رہے اور لڑنے کی جرأت ہی نہ کر سکے۔ ان واضح دشمنوں میں مشرکین، یہود و نصاریٰ اور جانے پہچانے منافق سب شامل ہیں۔
4۔ وَ اٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ: اس سے مراد مسلمانوں کی صفوں میں کفار کے چھپے ہوئے ہمدرد منافق ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۰۱) علاوہ ازیں کئی اقوام جو بظاہر اس وقت تمھارے خلاف نہیں، مگر موقع پانے پر دل میں تم سے لڑائی کا ارادہ رکھتی ہیں، تمھاری مکمل تیاری اور ہر وقت جہاد میں مصروف رہنا سب کو خوف زدہ رکھے گا۔ بعض مفسرین نے اس سے جن و شیاطین کے لشکر مراد لیے ہیں، تمھاری تیاری کی بدولت وہ بھی دشمنوں کے دلوں میں لڑائی کے جذبات نہیں ابھار سکیں گے۔
5۔ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ....: اس سے جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب مقصود ہے۔ فی سبیل اللہ خرچ کی فضیلت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۱)۔
[تفسیر القرآن کریم(الشیخ عبدالسّلام بھٹوی حفظہ اللّٰہ)]

💐جہاد کاشوق:
🌹یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلَی الۡقِتَالِ ؕ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ یَغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾
اے نبی! ایمان والوں کو جہاد کا شوق دلاؤ اگر تم میں بیس بھی صبر کرنے والے ہونگے تو دو سو پر غالب رہیں گے ۔ اور اگر تم میں ایک سو ہونگے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے ، اس واسطے کہ وہ بے سمجھ لوگ ہیں۔"
((سورۃ الانفال،سورۃ۸،پارۃ۱۰،آیت:۶۵))
🍁تفسیر:
1۔ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَى الْقِتَالِ....: ’’تحریض‘‘ کا معنی خوب رغبت دلا کر کسی کام پر ابھار دینا ہے۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں جہاد کا ذکر تقریباً سات پاروں کے برابر بنتا ہے۔ کتب احادیث میں کتاب الجہاد اس کے فضائل سے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں بیس مسلمانوں کو کفار کے دو سو آدمیوں پر غالب آنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ مگر یہ حکم خبر کی صورت میں ہے، کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ حکم بہت تاکید کے ساتھ دینا ہو تو وہ خبر کے الفاظ میں دیا جاتا ہے، مثلاً یہ کہنا ہو ’’سب لوگ نماز کے لیے مسجد میں جائیں‘‘ تو کہا جاتا ہے ’’سب لوگ مسجد میں جائیں گے۔‘‘ یہاں بیس مسلمانوں کو کفار کے دو سو آدمیوں پر غالب آنے کا حکم دیا جا رہا ہے مگر خبر کے الفاظ میں کہ اگر تم میں سے بیس صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ مراد یہ ہے کہ غالب آئیں۔اس کی دلیل اگلی آیت ہے کہ اب اللہ نے تم سے تخفیف کر دی ہے، سو اگر تم میں سے ایک سو صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔مراد یہ ہے کہ دو سو پر غالب آئیں، ظاہر ہے کہ تخفیف امر(حکم) میں ہوتی ہے، خبر میں نہیں۔ان آیات میں خوش خبری بھی ہے مگر ایمان اور صبر کی شرط کے ساتھ۔
2۔ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ: یعنی سمجھ سے کام نہیں لیتے، نہ ثواب یا شہادت کے حصول کی نیت ہوتی ہے، نہ عذاب سے بچنے کی، نہ ہی وہ کسی پائدار اور دائمی مقصد کے لیے لڑتے ہیں، اس لیے ان میں وہ جذبہ اور اخلاقی قوت موجود نہیں ہوتی جو انھیں میدانِ جنگ میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ عطا کرے، لہٰذا یہ ان سرفروش مجاہدین کا کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں جن کی بڑی تمنا شہادت کی فضیلت حاصل کرنا ہے؟
3۔ بیس کے دو سو پر غالب آنے کے بعد سو کے ہزار پر غالب آنے کے بیان میں یہ حکمت ہے کہ لشکر چھوٹا ہو یا بڑا،ہر ایک کو یہ حکم ہے اور ہر ایک سے نصرت کا وعدہ ہے۔"
[تفسیر القرآن کریم(الشیخ عبدالسّلام بھٹوی حفظہ اللّٰہ)]

💐شہید کیلیےجنت:
🌹اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟ وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۱﴾
بلا شبہ اللّٰہ تعالٰی نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی وہ لوگ اللّٰہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللّٰہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے تو تم لوگ اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔"
((سورۃ التوبۃ،سورۃ۹،پارۃ۱۱،آیت:۱۱۱))
🍁تفسیر:
1۔ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ....: ’’ فَاسْتَبْشِرُوْا‘‘ ’’اَلْاِسْتِبْشَارُ‘‘ ایسی زبردست خوشی جس کے اثرات بشرے یعنی چہرے پر بھی ظاہر ہوں۔ سین اور تاء کے اضافے سے بشریٰ، یعنی خوش خبری کے مفہوم میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد کی اس سے بہتر اور اس سے بڑھ کر مؤثر ترغیب آپ کسی آیت میں نہیں پائیں گے، کیونکہ اسے ایک سودے اور معاہدے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو سودا رب العزت کے ساتھ ہے۔ سودے کا سامان مومنوں کی جانیں اور مال ہیں اور قیمت اس کی اتنی قیمتی اور بے مثال ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی، نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک آیا۔ یہ سودا اور معاہدہ صرف اس پر نہیں کہ وہ قتل کیے جائیں گے تو قیمت ملے گی، بلکہ اللہ کے دین کی نصرت اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے وہ کفار کو قتل کریں گے تب بھی یہی قیمت ملے گی۔ پھر اس معاہدے کی باقاعدہ تسجیل(رجسٹری)آسمانی کتابوں تورات،انجیل اور قرآن میں کی گئی،اس سے بڑھ کر سودے کی پختگی کا تحریری ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے، پھر اسے اللّٰہ تعالیٰ کا سچا پکا عہد قرار دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنا عہد کون پورا کرنے والا ہے۔ سو اس کا ادھار دوسرے تمام نقدوں سے بڑھ کر ہے، پھر اس کا ادھار وعدہ جنت یقینی ہے۔ اس آیت کے علاوہ دیکھیے سورۂ حدید (۲۱)، سورۂ صف (۱۰ تا ۱۲) اور سورۂ توبہ (۲۰ تا ۲۲) اور اگر کچھ زندگی باقی ہے تو وہ بھی اس کے بے پایاں انعام سے خالی نہیں۔
(سیّدنا)ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللّٰہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے کہ جو اس کے راستے میں جہاد کرے اور اسے اس کے راستے میں نکالنے والی چیز اس کی راہ میں جہاد اور اس کی باتوں کو سچا یقین کرنے کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا،یا اسے اس کے گھر میں اجر یا غنیمت سمیت واپس لائے گا جس گھر سے وہ نکل کر گیا تھا۔‘‘
[ بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : أحلت لکم الغنائم : ۳۱۲۳ ]
(سیّدنا)مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے ساتھی مجاہدین ایران میں جہاد کے لیے گئے تو کسریٰ کے جرنیل نے مسلمانوں کے سفیر مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ عنہ سے پوچھا : ’’تم لوگ کیا ہو؟‘‘ انھوں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اسلام کا تعارف کرانے کے بعد فرمایا :’’ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے رب کا پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو قتل کر دیا جائے گا وہ جنت کی ایسی نعمتوں میں جائے گا جو کبھی کسی کے دیکھنے میں نہیں آئیں اور جو ہم میں سے باقی رہے گا وہ تمھاری گردنوں کا مالک بنے گا۔‘‘
[ بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ....: ۳۱۵۹ ]
جہاد کے بے شمار فضائل کے لیے کتب احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
2۔ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ: اس میں حصر کے لیے ’’هُوَ ‘‘ ضمیر لا کر اور خبر ’’الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ‘‘ پر الف لام لا کر واضح فرمایا کہ فوزِ عظیم ہے تو بس یہ ہے، اس کے سوا کوئی کامیابی عظیم نہیں، بلکہ معمولی اور بے وقعت ہے۔
3۔حسن بصری رحمہ اللّٰہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے فرمایا،اللّٰہ تعالیٰ کا کرم دیکھیے،جانیں ہیں تو اسی نے دیں، اموال ہیں تو اس نے عطا فرمائے،پھر وہ ہم ہی سے سودا کر رہا ہے کہ ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے اور وہ ہمیں اس کے بدلے جنت میں داخل ہی نہیں کرے گا بلکہ وہ اسے ہماری ملکیت بنا دے گا۔’’لَهُمُ‘‘پہلے آنے سے حصر کا معنی حاصل ہوا ’’بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ‘‘کہ جنت انھی کی ہے۔
[تفسیر القرآن کریم(الشیخ عبدالسّلام بھٹوی حفظہ اللّٰہ تعالیٰ)]

💐میری تو آرزو ہے کہ میں اللّٰہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں:
🌹حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ،أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ،عَنِ الزُّهْرِيِّ،قَالَ:أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ،أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالًا مِنَ المُؤْمِنِينَ لاَ تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي،وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ،ثُمَّ أُحْيَا،ثُمَّ أُقْتَلُ،ثُمَّ أُحْيَا،ثُمَّ أُقْتَلُ»
ترجمہ:سےابوالیمان نے بیان کیا،کہا ہم کو شعیب نے خبر د ی،ان سے زہری نے بیان کیا،انہیں سعید بن مسیب نے،ان سے ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نےبیان کیا کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکل جاوں اور مجھے خود اتنی سواریاں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کرکے اپنے ساتھ لے چلوں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رُکتا جو اللّٰہ کے راستے میں غزوہ کے لئے جارہا ہوتا۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میری تو آرزو ہے کہ میں اللّٰہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاوں پھر قتل کیا جاوں اور پھر زندہ کیا جاوں اور پھر قتل کردیا جاوں۔"
((صحیح البخاری،كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ،بَابُ تَمَنِّي الشَّهَادَةِ:۲۷۹۷۔مشکوٰۃ المصابیح،۴۹۹/۲،ح:۳۷۹۰))
🍀تشریح:
معلوم ہوا کہ شہادت کی آرزو کرنا اس نیت سے کہ اس سے شجر اسلام کی آبیاری ہوگی اور آخرت میں بلند درجات حاصل ہوں گے۔ یہ جائز بلکہ سنت ہے اور ضروری ہے۔
(مکتبہ شاملہ اردو)
لہٰذا ہمیں بھی شہادت کی آرزو کرنی چاہیےاور جب موقع ملےتو جان تک بھی قربان کردینی ہے۔

💐اللّٰہ کے راستے میں دُشمن سے ملی ہوئی سرحد پرپہرہ دینا:
🌹حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ،سَمِعَ أَبَاالنَّضْرِ،حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ،عَنْ أَبِي حَازِمٍ،عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:«رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنَ الجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَالرَّوْحَةُ يَرُوحُهَاالعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،أَوِ الغَدْوَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا»
ترجمہ:ہم سے عبداللّٰہ بن مُنیر نے بیان کیا،انہوں نے ابوالنضر ہاشم بن قاسم سے سنا،انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللّٰہ بن دینار نے بیان کیا،انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوحازم(سلمہ بن دینار)نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللّٰہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا،اللّٰہ کے راستے میں دُشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دنیا و مافیہا سےبڑھ کر ہے اور جو شخص اللّٰہ کے راستے میں شام کو چلے یا صبح کو تو وہ دُنیا و مافیھا سے بہتر ہے۔"
((صحیح البخاری،كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ،بَابُ فَضْلِ رِبَاطِ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:۲۸۹۲۔مشکوٰۃ المصابیح،۴۹۹/۲،ح:۳۷۹۱))
🍀تشریح:اسلامی شرعی ریاست میں سرحد پر چوکی پہرے کی خدمت جس کو سونپی جائے اور وہ اسے بخوبی انجام دے تو اس کا نام بھی مجاہدین میں ہی لکھا جاتا ہے اور اس کو وہ ثواب ملتا ہے جس کے سامنے دنیا کی ساری دولت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی کیونکہ دنیا بہرحال فانی اور اس کا ثواب بہرحال باقی ہے۔
۔(مکتبہ شاملہ اردو)
🌹حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ،حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ،حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ،عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ،عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ،عَنْ سَلْمَانَ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ،وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ،وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ»
ترجمہ:لیث بن سعد نے ہمیں ایوب بن موسیٰ سے حدیث بیان کی،انہوں نے مکحول سے،انہوں نے شرحبیل بن سمط سے،انہوں نے سلمان رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی،کہا:میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرہ دینا،ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہےاور اگر(پہرہ دینے والا)فوت ہو گیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا،(آئندہ بھی)جاری رہےگا، اس کے لیے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ(قبر میں سوالات کر کے) امتحان لینے والے سے محفوظ رہے گا۔"
((صحیح المسلم،كِتَابُ الْإِمَارَةِ،بَابُ فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ:۴۹۳۸/۱۹۱۳/۱۶۳۔مشکوٰۃ المصابیح،۴۹۹،۵۰۰/۲،ح:۳۷۹۳))

💐اللّہ کےراستےمیں چلنےکی فضیلت:
🌹حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ،أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُبَارَكِ،حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ،قَالَ:حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ،أَخْبَرَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ،قَالَ:أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْسٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبْرٍ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ،فَتَمَسَّهُ النَّارُ»
ترجمہ:ہم سےاسحاق بن منصور نے بیان کیا‘کہا ہم کو محمد بن مبارک نے خبر دی‘کہا ہم سے یحیٰ بن حمزہ نے بیان کیا‘ کہا کہ مجھ سے یزیدبن ابی مریم نے بیان کیا‘انہیں عبایہ بن رافع بن خدیج نے خبردی‘ کہا کہ مجھے ابو عبس رضی اللّٰہ عنہ نے خبر دی‘ آپ کا نام عبدالرحمن بن جبر ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس بندے کے بھی قدم اللّٰہ کے راستے میں غبار آلود ہوگئے‘انہیں(جہنم کی )آگ چھوئے؟( یہ ناممکن ہے )۔"
((صحیح البخاری،كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ،بَابُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:۲۸۱۱۔مشکوٰۃ المصابیح،۵۰۰/۲،ح:۳۷۹۴))
🍀تشریح : پوری آیات باب کا ترجمہ یہ ہے’’مدینہ والوں کو اور جو ان کے آس پاس گنوار رہتے ہیں‘ یہ مناسب نہ تھا کہ اللہ کے پیغمبر کے پیچھے بیٹھ رہیں اور اس کی جان کی فکر نہ کرکے اپنی جان بچانے کی فکر میں رہیں۔اس لئے کہ لوگوں کو یعنی جہاد کرنے والوں کو خدا کی راہ میں پیاس ہو‘ بھوک ہو‘ اس مقام پر چلیں جس سے کافر خفا ہوں‘ دشمن کو کچھ بھی نقصان پہنچائیں‘ہرہر کے بدل ان پانچوں کاموں میں ان کا نیک عمل خدا کے پاس لکھ لیا جاتا ہے‘ بے شک اللّٰہ نیکوں کی محنت برباد نہیں کرتا۔‘‘ اس آیت سے امام بخاری نے باب کا مطلب نکالا کہ اللّٰہ کی راہ میں اگر آدمی ذرا بھی چلے اور پاؤں پر گرد پڑے تو بھی ثواب ملے گا‘ جب اللّٰہ کی راہ میں پاؤں گرد آلود ہونے سے یہ اثر ہو کہ دوزخ کی آگ چھوئے بھی نہیں تو وہ لوگ کیسے دوزخ میں جائیں گے جنہوں نے اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں کوشش کی ہوگی۔ اگر ان سے کچھ قصور بھی ہوگئے ہیں تو اللّٰہ جل جلالہ سے امید معافی ہے۔ اس حدیث سے مجاہدین کو خوش ہونا چاہئے کہ وہ دوزخ سے محفوظ رہیں گے۔(وحیدی)

💐جہاد قیامت تک جاری رہےگا:
🌹وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّيْنُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تقوم السَّاعَة»رَوَاهُ مُسلم۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللّٰہ صلی ‌اللّٰہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نےفرمایا:’’یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا،مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی خاطر قیامت تک لڑتی رہے گی۔‘‘رواہ مسلم۔
((صحیح المسلم:۴۹۵۳/۱۹۲۲/۱۷۲۔مشکوٰۃ المصابیح،۵۰۱/۲،ح:۳۸۰۱))

💐شہید ہو جانا قرض کے سوا ہر چیز کا کفارہ ہے:
🌹وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الدّين». رَوَاهُ مُسلم
حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن عاص رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللّٰہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نےفرمایا :’’اللّٰہ کی راہ میں شہید ہو جانا قرض کے سوا ہر چیز کا کفارہ ہے۔‘‘رواہ مسلم۔
((صحیح المسلم:۴۸۸۴/۱۸۸۶/۱۲۰۔مشکوٰۃ المصابیح،۵۰۳/۲،ح:۳۸۰۶))

💐شہادت کی دُعا:
🌹حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ،وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى،وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ،قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ:أَخْبَرَنَا،وقَالَ حَرْمَلَةُ:حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ،أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَأَلَ اللهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ،بَلَّغَهُ اللهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ،وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ»وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ:«بِصِدْقٍ»
ترجمہ:ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی ۔۔الفاظ حرملہ کے ہیں ۔۔ابوطاہر نے کہا: ہمیں عبداللّٰہ بن وہب نے خبر دی،حرملہ نے کہا:حدیث بیان کی،کہا:مجھے ابوشریح نے حدیث بیان کی کہ سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو شخص سچے دل سے اللّٰہ سے شہادت طلب کرتاہے،اللّٰہ اسے شہداء کے مراتب تک پہنچا دیتا ہے،چاہے وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ فوت ہو۔"ابوطاہر نے اپنی حدیث میں"سچے (دل) سے"کے الفاظ بیان نہیں کیے۔
((صحیح المسلم،كِتَابُ الْإِمَارَةِ،بَابُ اسْتِحْبَابِ طَلَبِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى:۴۹۳۰/۱۹۰۹/۱۵۷۔مشکوٰۃ المصابیح،۵۰۳/۲،ح:۳۸۰۸))
🍀تشریح:
ہمیں چاہیےکہ ہم جہاد میں خود بھی حصہ لیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلائیں۔اور شہادت کی دُعا کرتےرہیں۔
🌹حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ،عَنْ أَبِيْهِ،عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:((اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِيْ شَهَادَةً فِيْ سَبِيْلِكَ،وَاجْعَلْ مَوْتِيْ فِيْ بَلَدِ رَسُوْلِكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)).
ترجمہ:ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا،کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا،ان سے خالد بن یزید نے،ان سے سعید بن ابی ہلال نے،ان سے زید بن اسلم نے،ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر رضی اللّٰہ عنہ نے جوفرمایاکرتے تھےکہ: اے اللّٰہ!مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شہر میں مقدر کردے۔"
{صحیح البخاری،كِتَابُ فَضَائِلِ المَدِينَةِ،بَابٌ:۱۸۹۰}
تشریح:اللّٰہ پاک نے حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کی ہر دو دعاؤں کو قبول فرمایا۔26 ذی الحجہ23ھ بُدھ کا دن تھا کہ فجر میں آپ امامت کر رہے تھے ظالم ابولولو مجوسی نے آپ کو زہر آلود خنجر مارا،زخم کاری تھا،چند دن بعد آپ کا انتقال ہو گیا اور یکم محرم24ھ بروز ہفتہ تدفین عمل میں آئی،اللّٰہ پاک نے آپ کی دوسری دُعا بھی اس شان کے ساتھ قبول فرمائی کہ عین حجرہ نبوی پہلوئے رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں دفن کئے گئے۔
((ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾))۔[۵۷/سورۃ الحدید:۲۱]
{شرح صحیح البخاری(مولانامحمدداود راز)،كِتَابُ فَضَائِلِ المَدِينَةِ،صفحہ:۹۷/۳،اشاعت:۲۰۱۶،مکتبہ اسلامیہ}

💐نفاق کی ایک قسم میں مرا:
🌹حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ،أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،عَنْ وُهَيْبٍ الْمَكِّيِّ،عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ،مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ»قَالَ ابْنُ سَهْمٍ:قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:فَنُرَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
ترجمہ:محمد بن عبدالرحمٰن بن سہم انطاکی نے کہا:ہمیں عبداللّٰہ بن مبارک نے وہیب مکی سے خبر دی، انہوں نے عمر بن محمد بن منکدر سے،انہوں نے سمی سے،انہوں نے ابوصالح سے،انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی،کہا:رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےفرمایا:"جو شخص مر گیا اور جہاد کیا نہ دل میں جہاد کا ارادہ ہی کیا، وہ نفاق کی ایک قسم میں مرا۔"
((صحیح المسلم،كِتَابُ الْإِمَارَةِ،بَابُ ذَمِّ مَنْ مَاتَ، وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ:۴۹۳۱/۱۹۱۰/۱۵۸۔مشکوٰۃ المصابیح،۵۰۵/۲،ح:۳۸۱۳))

💐جہاد نہ کرنےکی سزا:
🌹حَدَّثَنَاعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَقَرَأْتُهُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ،قَالَا:حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ أَبِي أُمَامَةَ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،قَالَ:مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا،أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ فِي حَدِيْثِهِ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔
ترجمہ:سیّدنا ابوامامہ رضی اللّٰہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا”جس نے جہاد میں حصہ نہیں لیا،یا کسی مجاہد کو مادی تعاون نہیں دیا یا مجاہد کے روانہ ہو جانے کے بعد اس کے اہل و عیال کی بحسن و خوبی خبرگیری نہیں کی تو اللّٰہ تعالیٰ اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا۔“یزید بن عبداللّٰہ نے اپنی روایت میں یوں بیان کیا:”قیامت سے پہلے اسے کسی مصیبت میں مُبتلا کر دے گا۔“
((سنن ابی داود،كِتَابُ الْجِهَادِ،بَابُ كَرَاهِيَةِ تَرْكِ الْغَزْوِ:۲۵۰۳،وسندہ حسن۔مشکوٰۃ المصابیح،۵۰۶،۵۰۷/۲،ح:۳۸۲۰،وقال الشیخ زبیرعلی زئی رحمۃ اللّٰہ علیہ:اسنادہ حسن))
🍀تشریح:
اُمت مسلمہ کو جس ہزیمت کا سامنا ہے۔بلاشبہ وہ جہاد سے روگردانی اور کفارکے مقابلے میں بزدلی کا نتیجہ ہے۔اوراللّٰہ عزوجل کی جانب سے قسم قسم کی آفات بھی اس کے مواخذے کی دلیل ہیں۔(مکتبہ شاملہ اردو)
جہاد سے روگردانی کا یہ نتیجہ ہےکہ آج ہم قسم قسم کی پریشانیوں اور بیماریوں میں مبتلا ہیں۔واللّٰہ اعلم

💐جان،مال اور زبان سےجہاد کرنا:
🌹حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ حُمَيْدٍ،عَنْ أَنَسٍ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ،وَأَنْفُسِكُمْ،وَأَلْسِنَتِكُمْ.
ترجمہ:سیّدناانس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا”مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں کے ساتھ ، اپنی جانوں کے ساتھ اور اپنی زبانوں کے ساتھ ۔ “
((سنن ابی داود،كِتَابُ الْجِهَادِ،بَابُ كَرَاهِيَةِ تَرْكِ الْغَزْوِ:۲۵۰۴،وسندہ صحیح۔سنن الدارمی:۲۴۷۵))
🍀تشریح:
مسلمانوں کے تمام طبقات کو اپنی اپنی ممکنہ صلاحیت کے ساتھ کفر کے مقابلے میں تیار رہنا واجب ہے۔جوان اپنی جانوں اور جوانی سے اغنیاء اپنے مالوں سے علماء دعوت وترغیب سے اور تردید کفر وشرک سے بزرگ عورتیں اور بچے اللّٰہ کے حضوردعائوں سے اسلام ۔مسلمانوں اور مجاہدین کے لئے مدد مانگیں۔اشعار کی صورت میں کفر وشرک ومشرکین کی مذمت اور ہجو بھی زبان سے جہاد میں شمار ہے۔الٖغرض جو مسلمان جہاد کے داعیہ سے خالی الذہن ہے اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔(مکتبہ شاملہ اردو)

💐خواہشاتِ نفس کا تابع نہیں ہوتا:
🌹 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَأْمَنُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَجَابِرٍ وَحَدِيثُ فَضَالَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ترجمہ:فضالہ بن عبید رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: 'ہرمیت کے عمل کا سلسلہ بند کردیاجاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللّٰہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اوروہ قبرکے فتنہ سے مامون رہے گا، میں نے رسول اللہ ﷺکویہ بھی فرماتے ہوئے سنا: مجاہدوہ ہے جواپنے نفس سے جہادکرے'۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- فضالہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں عقبہ بن عامراورجابر رضی اللّٰہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
((جامع ترمذی،أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا:۱۶۲۱،وسندہ حسن))
🍀تشریح:
یعنی نفس امارہ جوآدمی کو برائی پر ابھارتاہے،وہ اسے کچل کر رکھ دیتاہے،خواہشاتِ نفس کا تابع نہیں ہوتا اور اطاعت الٰہی میں جو مشکلات اور رُکاوٹیں آتی ہیں،ان پر صبر کرتاہے،یہی جہاد اکبر ہے۔(مکتبہ شاملہ اردو)

💐کون سا جہاد افضل ہے؟:
🌹حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقِيَامِ قِيلَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جَهْدُ الْمُقِلِّ قِيلَ فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ قِيلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ قِيلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ
ترجمہ:سیّدنا عبداللّٰہ بن حُبشی الخَثعمی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا:کون سا عمل افضل ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا ”لمبا قیام“کہا گیا:کون سا صدقہ افضل ہے؟فرمایا”جو قلیل مال والا محنت کر کے صدقہ دے “کہا گیا:کون سی ہجرت افضل ہے؟فرمایا”جو شخص اللّٰہ کے حرام کردہ امور کو چھوڑ دے“کہا گیا:کون سا جہاد افضل ہے؟ فرمایا”جو شخص مُشرکین سے اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کرے“پوچھا گیا:کون سا قتل شرف والا ہے؟آپ نے فرمایا ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کے گھوڑے کو بھی کاٹ دیا گیا۔“
((سنن ابی داود،كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ،بَابُ طُولِ الْقِيَامِ:۱۴۴۹،وسندہ حسن))
🍀تشریح:
اللّٰہ اکبرصحابہ کرام رضوان اللّٰہ عنہم اجمعین کو دین و ایمان کی سمجھ آجانے کے بعد گویا دُنیاوی خواہشات ان کےدلوں سے اُتر ہی گئی تھیں۔روٹی۔کپڑے۔اور مکان کے بارے میں نہ ان حضرات نے پوچھا نہ آپ نے فرمایا۔درحقیقت یہ چیزیں دُنیا کے سفر میں راہ گزاری کے لئے ہیں۔مگر افسوس کہ اب لوگوں کے ذہنوں پر یہ مادی اشیاء بہت زیادہ غالب آگئی ہیں۔(مکتبہ شاملہ اردو)
🌹حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ قَالَ:حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ:حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ،قَالَ: عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى،فَقَالَ:يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَمَى الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ، سَأَلَهُ،فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ لِيَرْكَبَ، قَالَ:«أَيْنَ السَّائِلُ؟»قَالَ:أَنَا،يَا رَسُولَ اللَّهِ ‍‍قَالَ:«كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ ذِي سُلْطَانٍ جَائِرٍ»
ترجمہ:حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی پہلے جمرے کے قریب رسول اللّٰہﷺ کے سامنے آیا اور کہا:اللّٰہ کے رسول!کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ خاموش رہے۔ جب آپ دوسرے جمرے پر پہنچے تو اس نے(پھر)سوال کیا۔آپ خاموش رہے۔پھر جب آپ نے جمرۂ عقبہ(بڑےجمرے) پر کنکریاں ماریں اور سوار ہونے کے لیے رکاب میں پاؤں رکھا تو فرمایا:سوال کرنےوالا کہاں ہے؟ اس نے کہا:اللّٰہ کے رسول!میں ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا:ظالم سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا(افضل جہاد ہے)۔
((سنن ابنِ ماجہ،كِتَابُ الْفِتَنِ،بَابُ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ:۴۰۱۲،وسندہ حسن لذاتہ))

💐شہید کے لیے چھ انعامات ہیں:
🌹حَدَّثَنَاهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ يَغْفِرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دُفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ وَيُزَوَّجُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ۔
ترجمہ:حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا:اللّٰہ کے پاس شہید کے لیے چھ انعامات ہیں:خون کے پہلے قطرات کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھادیا جاتا ہے اسے عذاب قبر سے محفوظ رکھا جاتا ہے،وہ( قیامت کےدن)بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا،اسے ایمان کا لباس فاخرہ پہنایا جائے گا،خوبصورت آنکھوں والی حوروں سے اس کی شادی کر دی جائے گی اور اس کے ستر رشتے داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔"
((سنن ابنِ ماجہ،كِتَابُ الْجِهَادِ،بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:۲۷۹۹،وسندہ حسن لذاتہ))
🍀تشریح :
🍁۔یہ انعامات اس شہید کے لیے ہیں جو صرف اللّٰہ کی رضا کے لیے خلوص قلب کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے۔
🍁۔جنت میں گھر دکھایا جانااس کے لیے خوش خبری ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جان نکلنے کے دوران میں ہی اسے جنت کی بشارت مل جاتی ہے۔
🍁۔گناہ گاروں کے لیے قبر کا عذاب بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔شہید اس سے محفوظ رہتا ہے۔
🍁۔قیامت کے دن گناہ گار اپنے اپنے گناہوں کے مطابق پریشان ہونگے۔شہید کے گناہ معاف ہوچکے ہونگے اس لیے وہ پریشانی سے محفوظ رہے گا۔
🍁۔ایک ہی طرح کے دو کپڑوں کو حله(جوڑا )کہتے ہیں۔ایمان کے حله سے مُراد ایسا لباس ہے جواس کے ایمان کی علامت ہوگا۔
🍁۔حوروں سے مراد وہ جنتی عورتیں ہیں جو اللّٰہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کے لیے اپنی قدرت کاملہ سے جنت میں پیدا کی ہیں۔ہر شہید کو کم ازکم دو حوریں ملیں گی۔
🍁۔قیامت کے دن شفاعت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے پر ہی کی جاسکے گی،یہ گناہ گاروں کے لیے مغفرت کا باعث ہوگی۔اور شفاعت کرنے والے کے لیے ایک عظیم اعزاز۔
🍁۔کسی مومن کا درجہ جتنا زیادہ بلند ہوگا اسے اتنے ہی زیادہ افراد کے حق میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔واللہ اعلم۔۔(مکتبہ شاملہ اردو)

🌸پروفیسر حافظ محمدسعید حفظہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتےہیں:میرےبھائیو! جہاد جاری رہے۔قافلےچلتےرہیں،شہداء اپنا خون پیش کرتےرہیں تو اللّٰہ تعالیٰ کویہ بات بڑی پسند ہے۔جب قوموں میں بگاڑ کی انتہا ہوجاتی ہےتو پھرکوئی صدقہ کام نہیں کرتا۔
سن لو مسلمانو! صدقہ دافع بلا ہے،صدقہ مصیبتوں کو دُور کرتا ہے،گھرسےبیماری یا کوئی اور مصیبت دور کرنےکےلیےصدقہ دیتےہولیکن جب بگاڑ انتہا کوپہنچ جائے،مصائب حل نہ ہورہےہوں تو پھر مالی صدقات کافی نہیں ہوتےپھراپنی جانوں کےنذرانےپیش کرناپڑتےہیں۔
جب قومیں یہ خون اللّٰہ کیلیے بہانا شروع کردیتی ہیں توپھر اللّٰہ تعالیٰ وباؤں کو،مصیبتوں کو،مشکلات کو ٹال دیتا ہے۔"
((خطباتِ قادسیہ،صفحہ نمبر:۳۱۵،دارُالاندلس))
🌸🌸*نوٹ*:
((((کامیابی صرف دینی تعلیمات پہ عمل کرنےسےہی ملتی ہے،ہمیں چاہیےکہ ہم دینی تعلیمات سب تک پہنچائیں۔اور تبلیغ کرنےسےڈریں نہیں۔۔۔
آپ کو بعض مقامات پر ایسےتعصب بھرے لوگ بھی ملیں گےجو آپ پہ تنقید کریں گےاور کہیں گےکہ ہم تنقید برائےاصلاح کرتےہیں حالانکہ وہ تنقید برائےاصلاح نہیں بلکہ تنقید برائے تعصب،تنقیدبرائے نفرت،تنقید برائے بدنام کرنےکیلیے کریں گے۔آپ نے اُن سےڈرنا نہیں۔
اور حق بیان کرتےرہناہےچاہےوہ خوش ہوں یا ناراض،
دوسروں کی اصلاح (دلیل سے)کریں۔
اور اچھے کام کرکے اللّٰہ تعالیٰ کو راضی کریں۔))))
(۲۰/۰۱/۲۰۲۱ء)
🌸🍀🌸وما علینا الا البلاغ🌸🍀🌸
 
Top