🌹🌹مٶذن کی اُجرت🌹🌹
🌹💐تحریر:ابومحمدعبدالاحدسلفی
اذان کہنے کی اُجرت لینی چاہٸےیا نہیں اس مسٸلہ پہ اختلاف ہے۔
💐 أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ قَالَ يَالَ لِأَبِي مَحْذُورَةَ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ لَهُ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ مَقْفَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ فَظَلِلْنَا نَحْكِيهِ وَنَهْزَأُ بِهِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا حَتَّى وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدْ ارْتَفَعَ فَأَشَارَ الْقَوْمُ إِلَيَّ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَهُمْ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي فَقَالَ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ فَقُمْتُ فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ قَالَ قُلْ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ ارْجِعْ فَامْدُدْ صَوْتَكَ ثُمَّ قَالَ قُلْ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ فَقَالَ أَمَرْتُكَ بِهِ فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
ترجمہ:حضرت عبداللّٰہ بن محیریز سے روایت ہے…… وہ یتیم تھے اور انھوں نے حضرت ابومحذورہ رضی اللّٰہ عنہ کی گود میں پرورش پائی تھی حتی کہ خود ابومحذورہ رضی اللّٰہ عنہ نے انھیں شام کی طرف تیار کرکے بھیجا……انھوں نے فرمایا: میں نے(شام آتے وقت)حضرت ابومحذورہ سے گزارش کی کہ میں شام جا رہا ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہاں مجھ سے آپ کی اذان کے بارے میں پوچھا جائے گا (آپ مجھے کچھ بتا دیجیے)۔تو ابومحذورہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا۔ ہم حنین کے راستے میں تھے کہ اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لائے اور آپ راستے ہی میں ہمیں ملے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آپ کی موجودگی میں نماز کی اذان کہی۔ ہم آپ سے کچھ دور تھے۔ ہم نے مؤذن کی آواز سنی تو ہم ان کی نقل اتارنے لگے اور مذاق کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وہ آواز سن لی تو آپ نے ہمیں بلوایا حتی کہ ہم آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے وہ کون ہے جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟‘‘ میرے ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کیا اور انھوں نے سچ کہا۔ آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے ٹھہرا لیا اور فرمایا: ’’اٹھو نماز کی اذان کہو۔‘‘ میں اٹھا تو اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس مجھے اذان سکھائی۔ آپ نے فرمایا: ’’کہو: اللہ اکبر اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ اکبر، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’اپنی آواز بلند کرو اور دو بار کہو: اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان لا الہ اللہ اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، حی علی الصلاۃ، حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح، حی علی الفلاح، اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔‘‘ پھر جب میں نے اذان مکمل کر لی تو آپ نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی ۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے مکہ مکرمہ میں اذان پر مقرر فرما دیجیے۔ آپ نے فرمایا: ’’میں نے تمھیں مقرر کردیا۔‘‘ تو میں رسول اللّٰہ ﷺ کے مقرر کیے ہوئے گورنر مکہ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ پھر میں رسول اللّٰہ ﷺ کے حکم سے گورنر کے سامنے اذان کہتا رہا۔
{سنن النساٸی،كِتَابُ الْأَذَانِ،كَيْفَ الْأَذَانُ:٦٣٣ وھوحسن صحیح۔مسنداحمد:٤٠٩/٣،رقم الحدیث:١٥٣٨٦}

💐حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ،عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ:وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ،قَالَ:يَا رَسُولَ اللَّهِ! اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ:>أَنْتَ إِمَامُهُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ،وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا.
ترجمہ:سیّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا:اے اللّٰہ کے رسول !مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجئیے۔آپ ﷺ نے فرمایا”تم ان کے امام ہو اور ان کے ضعیف ترین کی اقتداء(رعایت)کرنا اور مؤذن ایسا مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔“
{سنن ابی داود،كِتَابُ الصَّلَاةِ،بَابُ أَخْذِ الْأَجْرِ عَلَى التَّأْذِينِ:٥٣١۔سنن الترمذی:٢٠٩۔سنن النساٸی:٦٧٣۔سنن ابنِ ماجہ:٧١٤۔وھوصحیح}
فقہ الحدیث:
اس روایت کا آخری حصہ اور مٶذن ایسا مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔
اولیٰ کیطرف اشارہ ہے۔یعنی افضل یہی ہے۔کہ یہ منصب کسی ایسے شخص کے سپرد کیا جائے۔جو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کےلئے یہ کام کرے۔اگر ایسا کوئی شخص میسر نہ ہو تو تنخواہ پر موذن رکھا جاسکتا ہے۔کیونکہ اس عمل میں ایک اہم دینی مصلحت ہے۔(مکتبہ شاملہ اُردو)

💐فضیلة الشیخ نصیراحمدکاشف حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نےفرمایا:مؤذن اجرت نہیں لے سکتا کیونکہ اس بارے میں نص موجود ہے۔
قال ابن سيد الناس:ولا دليل فيه لوجهين:
الأول: أن حديث أبي محذورة هذا متقدم قبل إسلام عثمان بن أبي العاص الراوي لحديث النهي، فحديث عثمان متأخر بيقين.
الثاني:أنها واقعة يتطرق إليها الاحتمال، بل أقرب الاحتمالات فيها أن يكون من باب التأليف لحداثة عهده بالإسلام، كما أعطى حينئذ غيره من المؤلفة قلوبهم، ووقائع الأحوال إذا تطرقها الاحتمال سلبها الاستدلال۔"
(((٢٨۔٠١۔٢٠٢١ ٕ)))

💐فضیلة الشیخ امان اللّٰہ عاصم حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نےفرمایا:بالکل جائز ہے.اگر اُجرت کے بغیر کرے تو زیادہ فضیلت ہے.لیکن اگر اُجرت لیتا ہے تو ثواب میں کمی نہیں آئے گی اگر نیت ثواب کی ہے... کیونکہ ثواب نیت کے مطابق ملتا ہے اجرت سے ثواب ختم نہیں ہوجاتا....واللّٰہ أعلم
نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی سے کہا تھا کہ میں تمہیں تمہاری قوم کا امام مقرر کرتا ہوں.. تم ایک مؤذن کا انتظام کرو جو اذان کی اجرت نہ لے....
تاہم علماء اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ اذان کی اُجرت کو نبی کریم ﷺ نے ممنوع نہیں کہا اور نہ ہی آپ ﷺ نے اس کے متعلق کوئی ٹھوس وعید و ممانعت بیان کی ہے..
ابنِ باز رحمہ اللّٰہ تعالیٰ اور دیگر علماء عرب کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ اذان پر اُجرت لینا جائز ہے.لیکن اگر اس اُجرت کے علاوہ کوئی روزگار ہو اور اس اُجرت کی حاجت نہ ہو تو نہ لینے میں مزید اجر ہے...۔"
(((٢٨۔٠١۔٢٠٢١ ٕ)))

💐فضیلة الشیخ حافظ محمدعلی جوہرگجراتی حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نےفرمایا:مٶذن اذان دینےکی اُجرت لےسکتا ہے۔
(((٢٨۔٠١۔٢٠٢١ ٕ)))

💐فضیلة الشیخ عبدالرحمٰن عزیز صاحب لکھتےہیں کہ:اذان کہنےپر اُجرت لینےمیں اختلاف ہے،کیونکہ ایک حدیث میں ہےکہ آپ ﷺ نےاُجرت پرمٶذن رکھنےسےمنع کیااور ایک حدیث میں ہےکہ آپ ﷺ نےابومحذورہ رضی اللّٰہ عنہ کو اذان دینےپر ایک تھیلی دی،جس میں چاندی کی کوٸی چیز تھی۔امام شوکانی رحمہ اللّٰہ نےنیل الاوطار میں ان دونوں احادیث میں یہ تطبیق دی ہےکہ اُجرت حرام اس وقت ہےجب مشروط ہو،اگرمشروط نہیں تو جاٸز ہے۔"
{صحیح نمازِ نبوی،ص:١٣٦۔١٣٧۔دَارُالاندلس لاھور}

🌹راجح:
اگر اذان دینےکی اُجرت فکس نہ ہو اورجتنی کوٸی دےدے لےلی جاٸےتو درست ہےلیکن بہتر اور افضل یہی ہےکہ ایسا مٶذن مقرر کیا جاٸےجو اُجرت نہ لے۔واللّٰہ تعالیٰ أعلم
وما علینا الا البلاغ
 
Top