اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَحْدَہ،وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ مَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدَہ:امابعد
أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ،
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
=====🍁عشر کا بیان🍁=====
🍁تحریر:ابومحمدعبدالاحدسلفی
=صدقہ دینےسےمال کم نہیں ہوتا:
*اللّٰہ تعالیٰ نےفرمایا:
🍁قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ وَ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخۡلِفُہٗ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۳۹﴾
کہہ دیجئے!کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کےلئےچاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کر دیتاہے تم جو کچھ بھی اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللّٰہ اس کا (پورا پورا)بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔"
{سورة سبا ٕ,سورة٣٤,پارة٢٢,آیت:٣٩}
🍁حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقے نے مال میں کبھی کوئی کمی نہیں کی اور معاف کرنے سے اللّٰہ تعالیٰ بندے کو عزت ہی میں بڑھاتا ہےاور کوئی شخص(صرف اور صرف)اللّٰہ کی خاطر تواضع(انکسار)اختیار نہیں کرتا مگر اللّٰہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے۔"
{صحیح المسلم:٢٥٨٨/١١٠٨}
=اللّٰه تعالیٰ نےزمین کی ہر پیداوار میں عشر یانصف العشر فرض کیاہے_
*اللّٰه تعالیٰ فرماتاہے:
🍁یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبۡتُمۡ وَ مِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الۡخَبِیۡثَ مِنۡہُ تُنۡفِقُوۡنَ وَ لَسۡتُمۡ بِاٰخِذِیۡہِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۲۶۷﴾
اے ایمان والو !اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو،ان میں سے بری چیزوں کےخرچ کرنے کا قصد نہ کرنا جسے تم خود لینے والے نہیں ہو،ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو،اور جان لو کہ اللہ تعالٰی بے پرواہ اور خوبیوں والا ہے۔"
[سورة البقرة,سورة٢,پارة٣,آیت:٢٦٧]
=تشریح:
معلوم ہوا کہ جو کچھ بهی اللّٰه تعالیٰ زمین سےپیدا فرماتا ہے,اس ہرچیز پر اللّٰه تعالیٰ کا حق نکالنا فرض ہے_
🍁حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ،قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ،عَنِ الزُّهْرِيِّ،عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،عَنْ أَبِيهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،قَالَ:فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ.
سیّدنا عبداللّٰه بن عمررضی اللّٰه عنه سےروایت ہےکہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم نےفرمایا"جوفصل بارش یا چشموں سےسیراب ہو یا اپنی جڑوں سےخودبخود زمین سےپانی حاصل کرکےتیار ہو اس میں دسواں حصہ ہےاور جس فصل کو پانی کهینچ کر(خریدکر ٹیوب ویل وغیرہ سے)سیراب کیا جائےاس میں بیسواں حصہ ہے_"
[صحیح البخاری:١٤٨٣]
=فقه الحدیث:
*پانچ وسق(تقریبا16من اور بعض کےنزدیک 18من)سےکم میں صدقہ نہیں ہے_
🍁حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَى،حَدَّثَنَا مَالِكٌ ،قَالَ:حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ،عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،قَالَ:لَيْسَ فِيمَا أَقَلُّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ،وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الْإِبِلِ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ،وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ.قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:هَذَا تَفْسِيرُ الْأَوَّلِ،إِذَا قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ،وَيُؤْخَذُ أَبَدًا فِي الْعِلْمِ بِمَا زَادَ أَهْلُ الثَّبَتِ أَوْ بَيَّنُوا.
پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، اور پانچ مہار اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔اور چاندی کے پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے....۔
{صحیح البخاری:١٤٨٤}
=سبزیوں اور پهلوں میں بهی عشر ہے_
*اور جس روایت میں ہےکہ
🍁حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَن الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ،عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَن الْخَضْرَاوَاتِ وَهِيَ الْبُقُولُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ.
انہوں نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لکھا،وہ آپ سے سبزیوں کی زکاۃ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا:”ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے“
(ترمذی:٦٣٧)۔یہ روایت حسن بن عُمارہ کےضعیف ہونے کی وجہ سےضعیف ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔
=ساری پیداوار میں سےاخراجات نکال کر عشردینےکی دلیل میرےعلم میں نہیں ہے۔
🍁مفتی عبدالرحمٰن عابد حفظہ اللّٰہ نےفرمایا:"زمین سےحاصل ہونےوالی پوری پیداوار سےعشر نکالنا ضروری ہے۔۔۔۔اور فرمایا تقاضا ہےکہ پیداوار کا عشر ٹھیکہ نکالےبغیر زمین سےحاصل ہونےوالی ساری آمدنی سےادا کرے۔"
(فتاویٰ الدّعوة جلد١)
🍁مفتی حافظ عبدالسّلام بن محمد حفظہ اللّٰہ نےفرمایا:"اگر زمین کی آمدنی کےعلاوہ اس کےپاس اتنامال موجود ہےجس میں سےوہ ٹھیکہ یا ٹھیکےکےلیے لیا ہوا قرض ادا کرسکتاہےتو اسےزمین سےحاصل ہونےوالی ساری آمدنی کا عشر ادا کرناہوگا۔کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نےزمین سےنکلنےوالی ساری آمدنی میں سےخرچ کرنےکاحکم دیا ہے۔
لیکن اگراس کےپاس زمین سےحاصل ہونےوالی آمدنی کےعلاوہ کوٸی مال نہیں جس سےوہ ٹھیکہ ادا کرسکےتو اس پر عشرفرض نہیں اس کی دلیل یہ ہےکہ
فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ..
(صحیح البخاری:٤٣٤٧)
معلوم ہوا کہ صدقہ اغنیا ٕ پرفرض ہے جس کاسارا مال قرض میں جارہا ہوتو وہ غنی نہیں رہتا بلکہ فقیرہوتا ہے اور فقیر پرصدقہ فرض نہیں۔
قرآنِ مجیدمیں ہےکہ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ
"اللّٰہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔"(سورة البقرة:٢٨٦/٢)
(احکام زکوٰة وعشروصدقہ فطر)
و ما علینا الا البلاغ
 
Top