۔۔روح کی واپسی اور مسئلہ حیات النبی ﷺ۔۔۔
تحریر:فضیلة الشیخ حافظ ابویحییٰ نور پوری حفظہ اللّٰہ تعالیٰ

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’مَا مِنْ أَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَيَّ؛ إِلَّا رَدَّ اللّٰہُ عَلَيَّ رُوحِي حَتّٰی أَرُدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ‘ ۔’’(میری وفات کے بعد )جب بھی کوئی مسلمان مجھ پر سلام کہے گا تو اتنی دیر اللہ تعالیٰ میری روح لوٹا دے گا کہ میں اس پر جواب لوٹا دوں۔‘‘
(سنن أبي داوٗد : 2041)اس حدیث کی سند کو حافظ نووی(خلاصۃ الاحکام : 441/1؛ح:1440)،شیخ الاسلام ابن تیمیہ(اقتضاء الصراط المستقیم، ص : 324)، حافظ ابن القیم(جلاء الافہام:53/1)،حافظ ابن ملقن(تحفۃ المحتاج : 190/2) رحمہم اللہ وغیرہ نے ’’صحیح‘‘اور حافظ عراقی(تخریج احادیث الاحیاء : 1013)حافظ ابن الہادی(الصارم المنکی: 114/1)Hنے ’’جید‘‘ کہا ہے،نیز حافظ سخاوی (المقاصد الحسنۃ:587/1) اور حافظ عجلونی(کشف الخفاء :194/2)Hوغیرہ نے اس حدیث کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔مذکورہ حدیث تو واقعی کم از کم حسن ہے، لیکن یہ سند منقطع ہے، کیونکہ یزید بن عبداللہ بن قسیط راوی جو کہ کثیر الارسال ہیں، انہوں نے سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ڈائریکٹ یہ روایت نہیں سنی، بل کہ وہ ایک واسطے سے سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، جو کہ معجم اوسط طبرانی(262/3، ح : 3092)میں موجود ہے اور اس کی سند ’’حسن‘‘ ہے۔اس روایت میں امام طبرانی رحمہ اللہ کے شیخ بکر بن سہل دمیاطی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں،کیونکہ ضیا مقدسی رحمہ اللہ (المختارہ:159)اور امام حاکم رحمہ اللہ (177/4، 643، 646)نے ان کی توثیق کی ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔نیز مستخرج ابو نعیم(583،586وغیرہ)اور مستخرج ابی عوانہ (2524، 6903)میں بھی ان کی روایت موجود ہے جوکہ ان کے ثقہ ہونے پر واضح دلیل ہے۔علامہ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:ضَعَّفَہُ النَّسَائِيُّ، وَوَثَّقَہٗ غَیْرُہٗ ۔’’امام نسائی رحمہ اللہ نے تو ان کو ضعیف کہا ہے، لیکن دوسروں نے انہیں ثقہ کہا ہے۔‘‘(مجمع الزوائد : 117/4)حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کو متوسط یعنی درمیانے درجے کا راوی کہا ہے۔(المغني في الضعفاء : 978)نیز فرماتے ہیں:حَمَلَ النَّاسُ عَنْہُ، وَہُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ، قَالَ النَّسَائِيُّ : ضَعِیْفٌ ۔’’محدثین کرام نے ان سے روایات لی ہیں اور وہ حسن الحدیث راوی ہیں، البتہ امام نسائی رحمہ اللہ نے ان کو ضعیف کہا ہے۔‘‘(میزان الاعتدال : 62/2)حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ایک سند پر حکم لگاتے ہوئے جس میں بکر بن سہل دمیاطی بھی موجود ہیں،لکھتے ہیں:وَرِجَالُہٗ مَوْثُوقُونَ؛ إِلَّا سُلَیْمَانَ بْنَ أَبِي کَرِیمَۃَ، فَفِیہِ مَقَالٌ ۔’’سوائے سلیمان بن ابو کریمہ کے اس کے سارے راوی ثقہ ہیں،اس میں کچھ جرح موجود ہے۔‘‘(الأمالي المطلقۃ : 121/1)حالانکہ لسان المیزان(51/2؛ت : 195)میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ خود بکر بن سہل دمیاطی پر امام نسائی رحمہ اللہ کی جرح ذکر کی ہے۔ معلوم ہوا کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی امام نسائی رحمہ اللہ کی بکر بن سہل دمیاطی پر جرح مقبول نہیں، بل کہ جمہور کی توثیق کی وجہ سے وہ ثقہ ہی ہیں۔اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ محدث البانی رحمہ اللہ کا یہ کہنا صحیح نہیںکہ:ضَعَّفَہُ النَّسَائِيُّ، وَلَمْ یُوَثِّقْہُ أَحَدٌ ۔’’اس(بکر بن سہل دمیاطی)کو امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے، ثقہ کسی نے نہیں کہا۔‘‘(سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ : 562/14)رہا مسئلہ یہ کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں بکر بن سہل دمیاطی پر جو امام نسائی رحمہ اللہ اور مسلمہ بن قاسم رحمہ اللہ کی جرح نقل کی ہے، اس کا کیا معنی؟ تو عرض ہے کہ :1 امام نسائی رحمہ اللہ راویوں کے بارے میں بسا اوقات زیادہ احتیاط سے کام لیتے تھے، اس بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:فَکَمْ مِّنْ رَّجُلٍ أَخْرَجَ لَہٗ أَبُوْ دَاوٗدُ وَالتِّرْمَذِيُّ تَجَنَّبَ النَّسَائِيُّ إِخْرَاجَ حَدِیْثِہٖ، بَلْ تَجَنَّبَ النَّسَائِيُّ إِخْرَاجَ أَحَادِیْثِ جَمَاعَۃٍ مِّنْ رِّجَالِ الصَّحِیْحَیْنِ، وَقَالَ سَعْدُ بْنُ عَلِيٍّ الزَّنْجَانِيُّ : إِنَّ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ شَرْطًا فِي الرِّجَالِ أَشَدُّ مِنْ شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلمٍ ۔’’کتنے ہی راوی ہیں، جن کی روایات امام ابو دائود اور امام ترمذیHنے بیان کی ہیں، لیکن امام نسائی رحمہ اللہ نے ان کی احادیث بیان کرنے سے اجتناب کیا ہے بل کہ انہوں نے تو(مزید احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوئے)صحیح بخاری و مسلم کے بہت سے راویوں کی حدیث بیان کرنے سے بھی اجتناب کیا ہے، سعد بن علی زنجانی کا کہنا ہے کہ امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ کی راویوں کے بارے میں شرط امام بخاری و مسلم سے بھی کڑی ہے۔‘‘(النکت علی کتاب ابن الصلاح : 76/1) 2 امام نسائی رحمہ اللہ سے یہ جرح ثابت نہیں، کیوں کہ امام موصوف سے اس بات کو بیان کرنے والے ان کے بیٹے عبدالکریم کے حالات ہمیں نہیں مل سکے، واللہ اعلم۔باقی رہا مسلمہ بن قاسم کا بکر بن سہل دمیاطی پر یہ جرح کرنا کہ:کَلَّمَ النَّاسُ فِیْہٖ ۔’’لوگوں نے اس پر جرح کی ہے۔‘‘(لسان المیزان : 51/2)تو یہ کئی وجوہ سے مردود و باطل ہے۔1 مسلمہ بن قاسم خود ناقابل اعتبار شخص تھا، لہٰذا س کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔2 امام نسائی رحمہ اللہ (کی غیر ثابت شدہ جرح)کے سوا کسی محدث نے ان پر جرح نہیں کی۔مسلمہ بن قاسم کے ذکر کردہ لوگ مجہول ہونے کی بنا پر لائق اعتنا نہیں۔3 مسلمہ بن قاسم ان راویوں کے بارے میں بھی یہ الفاظ ذکر کردیتا ہے جو خوداس کے نزدیک بھی حسن الحدیث ہوتے ہیں،لسان المیزان ہی میں موجود ہے:وَقَالَ مَسْلَمَۃُ بْنُ قَاسِمٍ : لَیْسَ بِہٖ بَأْسٌ، تَکَلَّمَ النَّاسُ فِیْہٖ ۔’’مسلمہ بن قاسم نے کہا ہے کہ اس(یحییٰ بن ابو طالب)میں کوئی جرح نہیں، (حالانکہ وہ حسن الحدیث راوی ہے)لوگوں نے اس پر جرح کی ہے۔‘‘(لسان المیزان : 262/6)معلوم ہوا کہ بکر بن سہل دمیاطی پر تمام جروح مردود ہیں۔تنبیہ :طبرانی اوسط کی مذکورہ سند میں حیوۃ بن شریح کے شاگرد عبداللہ بن یزید اسکندرانی ذکر کیے گئے ہیں، جن کا کتب تواریخ و رجال میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا، جبکہ باقی کتب احادیث میں یہ راوی عبداللہ بن یزید مقری ہیں، جوکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کے معروف راوی ہیں۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ طبرانی میں مذکور عبداللہ بن یزید اسکندرانی دراصل مقری ہیں، کیونکہ حیوۃ بن شریح کے شاگردوں میں کسی اور عبداللہ بن یزید کا پتہ نہیں چل سکا۔ پھر طبرانی اوسط میں ہی امام طبرانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی ایک دوسری سند بھی ذکر کی ہے،جس میں اگرچہ یزید بن عبداللہ بن قسیط اور سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ابو صالح کا واسطہ موجود نہیں، لیکن امام صاحب کے استاذ کے شیخ عبداللہ بن یزید کے نام کے ساتھ ’’مقری‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سنن ابو دائود وغیرہ میں ہے۔ان کو اسکندرانی کہے جانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ معجم البلدان میں اسکندریہ نامی تیرہ (۱۳)شہر ذکر کیے گئے ہیں، جوکہ اب کسی اور نام سے معروف ہیں، عین ممکن ہے کہ ان کے علاقے کو بھی اسکندریہ کہا جاتا ہو اور شاید اسی وجہ سے ہی محدث البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:قُلْتُ : وَ ہُوَ الْمُقْرِیُٔ، ثِقَۃٌ مِّنْ رِّجَالِ الشَّیْخَیْنِ ۔’’میں کہتا ہوں کہ یہ (عبداللہ بن یزید اسکندرانی)مقری ہی ہیں، جو کہ ثقہ ہیں، صحیح بخاری و صحیح مسلم کے راوی ہیں۔‘‘(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 338/5،ح : 2266)لیکن اگر اس میں عبداللہ بن یزید اسکندرانی کو مجہول قرار دیا جائے تو لامحالہ طور پر سنن ابی دائود والی سند ’’حسن‘‘ ہوجائے گی، کیونکہ اس کے ضعیف ہونے پر سوائے اس روایت کے اور کوئی دلیل نہیں کہ طبرانی اوسط میں یزید بن عبداللہ بن قسیط اور سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ابو صالح کا واسطہ موجود ہے، جبکہ سنن ابی دائود میں موجود نہیں، اگر طبرانی اوسط والی یہ سند ضعیف قرار پاتی ہے تو سنن ابو دائود کی سند میں موجود انقطاع کی یہ دلیل ختم ہوجائے گی اور پھر اسے منقطع قرار دینا بلا دلیل ہوگا۔اگرچہ یزید بن عبداللہ بن قسیط ’’کثیر الارسال‘‘ہیں، لیکن صرف یہ شبہ اس سند کے ضعف کی دلیل نہیں ہوگا کہ شاید یہاں بھی انہوں نے ارسال کر کے کوئی واسطہ گرایا ہو اور ڈائریکٹ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کر دیا ہو۔یاد رہے کہ یزید بن عبداللہ بن قسیط کا سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لقاو سماع ثابت ہے۔(السنن الکبرٰی للبیہقي : 122/1، ح : 598، وسندہٗ جیّدٌ)امام مسلم رحمہ اللہ نے اس اصول پر محدثین کرام کا اجماع نقل کیا ہے کہ ’’غیر مدلس‘‘راوی اگر بصیغہ ’’عن‘‘ روایت کرے اور اپنے شیخ سے اس کا سماع و لقا کسی دلیل سے ثابت نہ ہو بل کہ اس کا امکان ہو تو بھی روایت اتصال پر محمول ہوگی، چہ جائے کہ کسی جگہ اس کے سماع کی صراحت بھی مل جائے،لہٰذا اگر طبرانی اوسط والی سند کو اسکندرانی کی وجہ سے ’’ضعیف ‘‘خیال کیاجائے تو بھی اس اجماع کے خلاف صرف شبہ انقطاع کو معتبر نہیں سمجھاجائے گا۔{إِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا}پھر ہمارے علم کے مطابق ’’کثیر الارسال‘‘ راوی کی ’’عن‘‘ والی روایت کو متقدمین میں سے امام ابن سعد رحمہ اللہ (الطبقات:693/6)کے علاوہ کسی نے بھی شبہ انقطاع کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘قرار نہیں دیا۔اور امام موصوف کی بات کو بھی اس صورت پر محمول کیا جا سکتا ہے کہ ــ’’کثیر الارسال‘‘راوی کسی ایسے صحابی سے ’’عن‘‘کے ساتھ روایت کر رہا ہو ،جس سے اس کا سماع کہیں بھی ثابت نہ ہو تو اس کی روایت ان کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ہوتی ہے۔ورنہ پھر امام عطاء بن ابو رباح، امام مکحول شامی(خصوصاً حدیثہ في القراء ۃ خلف الإمام عنعن فیہ)امام ضحاک بن مزاحم، امام عبداللہ بن زید ابو قلابہ جرمی، امام ابو العالیہ، رفیع بن مہران رحمہم اللہ وغیرہ کی ’’عن‘‘والی ساری روایات اس شبہ انقطاع کی نذر ہو کر ’’ضعیف‘‘قرار پائیں گی،کیوں کہ یزید بن عبداللہ بن قسیط کی طرح یہ مذکور ائمہ بھی ’’کثیر الارسال‘‘ہیں، حالانکہ ان کی ایسی روایات سب کے ہاں معتبر ہوتی ہیں۔معلوم ہوا کہ یہ حدیث بہر حال حسن درجہ کی ہے۔وفات کے بعد والا سلام مراد ہے:اس حدیث کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد والے زمانہ کے سلام سے ہے، گویا یہ کسی سوال کا جواب ہے،جسے راوی نے حدیث بیان کرتے ہوئے بیان نہیں کیا۔یعنی کسی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ اب تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہمارا سلام کس طرح اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب کس طرح ہو گا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ فرمان جاری ہوا۔مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم :بعض لوگ اس حدیث سے مسئلہ حیات النبی کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یوں کہ کوئی بھی اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہتاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر روح لوٹائی جاتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا جواب دیتے ہیں،اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل زندگی ثابت ہوتی ہے،کیوں کہ اس سلام میں انقطاع نہیں ہوتا۔ہروقت کسی نہ کسی جگہ پر آپ پر سلام بھیجا جا رہا ہوتا ہے اور آپ اس کا جواب دے رہے ہوتے ہیں۔کوئی وقت بھی اس عمل سے خالی نہیں رہتا، یوں ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسلسل زندہ ہیں۔لیکن جس بنیاد پر یہ استدلال کیا گیا ہے، وہ بہت ہی بودی اور کمزور ہے، اس پر تعمیر کی جانے والی عمارت تھوڑا سا غور کرنے پر فوراً منہدم ہو جاتی ہے،کیوں کہ اس استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کبھی منقطع ہوتا ہے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کے جواب میں انقطاع ہوتا ہے جبکہ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے کیوں کہ:1 اس حدیث سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سلام کہنے والے کا جواب لوٹاتے ہیں، خواہ وو قریب سے سلام کہے یا دور سے، بل کہ یہ حدیث تو صرف قریب سے سلام کہنے والے کے بارے میں ہے، کیونکہ دور سے سلام کہنے والے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صراحتًا یہ بات فرمادی ہے کہ اس کا سلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک فرشتے پہنچاتے ہیں اور اس کا جواب بھی خود دینا ثابت نہیں،چنانچہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو کہ سابقہ حدیث کے راوی ہیں،جس سے حیات النبی پر دلیل لی جاتی ہے، وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی نقل فرماتے ہیں:’لَا تَجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ قُبُورًا، وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِیدًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِي حَیْثُ کُنْتُمْ‘ ۔’’تم اپنے گھروں کو قبرستان مت بنائو، نہ ہی میری قبر کو میلہ گاہ بنانا،(بل کہ جہاں بھی ہو)مجھ پر درود پڑھو تم جہاں بھی ہو گے تمہارا درود مجھ تک پہنچے گا۔‘‘(مسند الإمام أحمد : 367/2، ح : 8790؛ سنن أبي داوٗد : 2042، واللفظ لہٗ، وسندہٗ حسنٌ)نیز سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّ لِلّٰہِ فِي الْـأَرْضِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِینَ، یُبَلِّغُونِّي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ‘ ۔’’زمین میںاللہ تعالیٰ کے فرشتے گشت کر رہے ہیں جو میری امت کی طرف سے پیش کیا گیا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔‘‘(مسند الإمام أحمد : 387/1، 441، 452؛ سنن النسائي الصغرٰی : 44/3، ح : 1282؛ الکبرٰی لہٗ : 22/6، وسندہٗ حسنٌ)اس حدیث کو بہت سے ائمہ نے صحیح قرار دیا ہے،مثلاً امام ابن حبان رحمہ اللہ (914)نے اسے ’’صحیح‘‘،جب کہ امام حاکم رحمہ اللہ (456/2)نے ’’صحیح الاسناد‘‘قرار دیا ہے۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔یاد رہے کہ اس حدیث میں سفیان ثوری ’’تدلیس‘‘نہیں کر رہے،کیوں کہ ان کے سماع کی صراحت موجود ہے۔فضل الصلاۃ علی النبي للقاضي إسماعیل(نقلا عن الصارم المنکي لابن عبد الھادي : 202/1) اور مسند البزّار (1924)میں اس حدیث کو امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے امام یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ بیان کر رہے ہیں۔اور امام قطان،امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے وہی احادیث بیان کرتے ہیں،جن میں سماع کی صراحت ہوتی ہے، چناں چہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ نے فرمایا:مَا کَتَبْتُ عَنْ سُفْیَانَ شَیْئًا؛ إِلَّا مَا قَالَ : حَدَّثَنِي أَوْ حَدَّثَنَا ۔’’میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے وہ احادیث لکھی ہیں،جن میں انہوں نے ’’حدثنی‘‘ یا ’’حدثنا‘‘ کے الفاظ کہے ہیں۔‘‘(العلل ومعرفۃ الرجال لأحمد بن حنبل : 517/1)پھر سیّدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جس کو ہم آئندہ بیان کریں گے، اسے بھی پڑھ لیں تو بالکل وضاحت ہوجاتی ہے کہ اس سلام کا جواب اللہ تعالیٰ دس رحمتوں کی صورت میں دیتے ہیں۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:فَہِمَ الْعُلَمَائُ مِنْہُ السَّلَامَ عِنْدَ قَبْرِہٖ خَاصَّۃً، فَلَا یَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْدِ ۔’’اس حدیث سے علمائے کرام نے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس سلام(کے وقت آپ کی روح کا لوٹایا جانا)سمجھا ہے، یہ حدیث دور (سے سلام کہنے پر روح کے لوٹائے جانے پر)دلالت نہیں کرتی۔‘‘(الردّ علی البکري : 107/1)نیز فرماتے ہیں:وَہٰذَا الْحَدِیْثُ ہُوَ الَّذِي اعْتَمَدَ عَلَیْہِ الْعُلَمَائُ؛ کَأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوٗدَ وَغَیْرِہِمَا فِي السَّلامِ عَلَیْہِ عِنْدَ قَبْرِہٖ ۔’’یہی وہ حدیث ہے جس پر امام احمد بن حنبل اور امام ابودائودHوغیرہ جیسے علما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہنے کے سلسلہ میں اعتماد کیاہے۔‘‘(الردّ علی البکري : 106/1)علامہ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ بھی اسے اکثر علماے کرام کی نزدیک قبر کے پاس پر محمول کرتے ہیں۔(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي : 115/1)قریب سے مراد حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے:قریب سے مراد صرف حجرئہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے،جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی سفر سے واپس آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس جا کر یہ الفاظ کہتے:السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا بَکْرٍ، السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَتَاہُ ۔’’اے اللہ کے رسول!آپ پر سلامتی ہو!اے ابو بکر!آپ پرسلامتی ہو اور میرے ابا جان!آپ پر سلامتی ہو۔‘‘(فضل الصلاۃ علی النبيّ للقاضي إسماعیل بن إسحاق، ص : 81، 82، ح : 99؛ السنن الکبرٰی للبیہقي : 245/5، وسندہٗ صحیحٌ)معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح لوٹائے جانے اور سلام کا جواب دینے کا تعلق صرف اس شخص سے ہے جو قبر مبارک کے عین قریب جا کر سلام کہے، جیسا کہ علامہ شنقیطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:وَمُجْمِعُونَ أَنَّ ذٰلِکَ یَحْصُلُ لِمَنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ قَرِیبٍ ۔’’اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ (آپ کا جواب لوٹایا جانا)اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو کہ قریب سے آپ پر سلام کہتا ہے۔‘‘(أضواء البیان في إیضاح القرآن بالقرآن : 838/8)حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (تفسیر ابن کثیر:621/3)وغیرہ نے بھی اس حدیث کا تعلق اسی شخص سے قائم کیا ہے،جو قریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتا ہے، دور سے سلام کہنے والوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس کا جواب تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی صورت میں لوٹایا جاتا ہے۔علامہ ابو طیب شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:وَالْقَوْلُ الصَّحِیْحُ أَنَّ ہٰذَا لِمَنْ زَارَہٗ، وَمَنْ بَعُدَ عَنْہُ؛ تُبَلِّغُہُ الْمَلَائِکَۃُ سَلَامَہٗ ۔’’صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث اس شخص کے بارے میں ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرے اور جو دور سے درود پڑھے،فرشتے اس کا سلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں(اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت کرکے اس کا جواب دیتا ہے)۔‘‘(عون المعبود في شرح سنن أبي داوٗد : 22/6)علامہ ابو الحسن عبیداللہ بن محمد رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:فَإِنَّ الصَّحِیْحَ أَنَّ الْمُرَادَ فِي الْحَدِیْثِ السَّلَامُ عَلَیْہِ عِنْدَ قَبْرِہٖ، کَمَا فَہِمَہٗ کَثِیْرٌ مِّنَ الْعُلَمَائِ ۔’’صحیح بات یہ ہے کہ اس حدیث سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے قریب کہا جانے والا سلام ہے جیسا کہ بہت سے علماے کرام نے سمجھا ہے۔‘‘(مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح : 263/3) امام ابو دائود رحمہ اللہ کااسے قبروں کی زیار ت کے باب میں نقل کرنا بھی بہت واضح ہے۔فائدہ : سنن سعید بن منصور کی ایک روایت میں ہے کہ حسن بن حسین بن علی بن ابو طالب رحمہ اللہ نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کے پاس سلام پڑھتے ہوئے دیکھا تو کہا : مَا أَنْتُمْ وَمَنْ بِالْـأَنْدَلُسِ إِلَّا سَوَاء ٌ ۔’’(قریب جا کر کہنے کی کیا ضرورت ہے؟)تم اور اندلس والے سلام کہنے میں برابر ہو۔‘‘(الفتاوی الکبرٰی لابن تیمیۃ : 431/2)لیکن اس کی سند سہیل بن ابو سہل راوی کے ’’مجہول‘‘ہونے کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ہے۔جب خود حدیث ِرسول سے اور محدثین کرام کی صراحت سے یہ ثابت ہو گیا کہ حدیث میں روح لوٹائے جانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب دینے کا تعلق صرف حجرئہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں کھڑے ہو کر سلام کہنے والے سے ہے،دنیا سے ہر درود و سلام پڑھنے والے سے نہیں تو یہ اس حدیث سے حیاۃ النبی پر استدلال سرے سے باطل ہو گیا،کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر آج تک کوئی دور ایسا نہیں کہ حجرئہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہا جارہا ہو۔ لہٰذا اس حدیث سے یہ اخذ کرنا صحیح نہیں کہ چونکہ ہر وقت کہیں نہ کہیں سلام کہا جا رہا ہوتاہے اور روح لوٹی ہی رہتی ہے، چنانچہ آپ مستقل زندہ ہیں۔یوں اس حدیث سے حیاۃ النبی کا عقیدہ تراشنا قطعاً درست نہیں۔اس حدیث کے الفاظ عقیدۂ حیات النبی کے منافی ہیں،جیسا کہ علامہ ابن الہادی رحمہ اللہ اس کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:وَلَیْسَ ہٰذَا الْمَعْنَی الْمَذْکُوْرُ فِي الْحَدِیْثِ، وَلاَ ہُوَ ظَاہِرُہٗ، بَلْ ہُوَ مُخَالِفٌ لِّظَاہِرِہٖ، فَإِنَّ قَوْلَہٗ : ’إِلَّا رَدَّ اللّٰہُ عَلَيَّ رُوْحِي‘ بَعْدَ قَوْلِہٖ : ’مَا مِنْ أَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَيَّ۔۔۔۔۔‘ یَقْتَضِي رَدَّ الرُّوْحِ بَعْدَ السَّلاَمِ، وَلاَ یَقْتَضِي اسْتِمْرَارَہَا فِي الْجَسَدِ ۔وَلْیُعْلَمْ أَنَّ رَدَّ الرُّوحِ (إِلَی الْبَدَنِ) وَعَوْدُہَا إِلَی الْجَسَدِ بَعْدَ الْمَوْتِ لَا یَقْتَضِي اسْتِمْرَارُہَا فِیْہِ، وَلَا یَسْتَلْزِمُ حَیَاۃً أُخْرٰی قَبْلَ یَوْمِ النُّشُورِ نَظِیرَ الْحَیَاۃِ الْمَعْہُودَۃِ، بَلْ إِعَادَۃُ الرُّوحِ إِلَی الْجَسَدِ فِي الْبَرْزَخِ إِعَادَۃٌ بَرْزَخِیَّۃٌ، لاَ تَزِیلُ عَنِ الْمَیِّتِ اسْمَ الْمَوْتِ ۔وَقَدْ ثَبَتَ فِي حَدِیثِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ الطَّوِیلِ الْمَشْہُورِ، فِي عَذَابِ الْقَبْرِ وَنَعِیمِہٖ، فِي شَأْنِ الْمَیِّتِ وَحَالِہٖ، أَنَّ رُوحَہٗ تُعَادُ إِلٰی جَسَدِہٖ، مَعَ الْعِلْمِ بِأَنَّہَا غَیْرُ مُسْتَمِرَّۃٍ فِیہِ، وَأَنَّ ہٰذِہِ الْإِعَادَۃَ لَیْسَ مُسْتَلْزِمَۃً لِّإِثْبَاتِ حَیَاۃٍ مُّزِیلَۃٍ لِّاسْمِ الْمَوْتِ، بَلْ ہِيَ أَنْوَاعُ حَیَاۃٍ بَرْزَخِیَّۃٍ ۔’’نہ یہ مذکورہ معنیٰ(حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ)حدیث میں موجود ہے،نہ ہی یہ حدیث کا ظاہری معنیٰ ہے،بل کہ یہ تو اس کے ظاہری معنیٰ کے خلاف ہے،کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاکسی کے سلام کہنے کا ذکر کرنے کے بعد یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ میری روح لوٹا دے گا،اس بات کا مقتضی ہے کہ روح سلام کہنے کے بعد لوٹائی جاتی ہے۔یہ الفاظ روح کے جسم میں ہمیشہ رہنے کا تقاضا نہیں کرتے۔یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بدن کی طرف روح کا لوٹایا جانا اور موت کے بعد جسم کی طرف اس کا واپس آنا اس کے ہمیشہ وہیں رہنے پر دلالت نہیں کرتا، نہ ہی وہ قیامت سے پہلے کسی دوسری زندگی کو مستلزم ہے،جو دنیوی زندگی کی طرح ہو،بل کہ برزخ میں روح کا جسم کی طرف لوٹایا جانا ایک برزخی اعادہ ہے، جو میت سے موت کا نام ختم نہیں کرتا۔قبر کے عذاب اور اس کی نعمتوں کے بارے میں سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی مشہور طویل حدیث(سنن أبي داوٗد : 4753؛ المستدرک للحاکم : 95/1، وسندہٗ حسنٌ) میں ہے کہ (قبروں میں سوال و جواب کے وقت ہر)مردے کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے،حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ وہ روح اس جسم میں ہمیشہ نہیں رہتی، نہ ہی وہ ایسی زندگی کو مستلزم ہے،جو میت سے موت کا نام ہی ختم کر دے، بل کہ وہ تو برزخی زندگی کی ایک قسم ہے۔‘‘(الصارم المنکي في الرد علی السبکي : 222/1۔223)یعنی اگر روح کے لوٹائے جانے کو حیات ِدنیوی شمار کیا جائے تو پھر مذکورہ حدیث کے مطابق ہر مسلم و کافر مردے کی روح لوٹائی جاتی ہے۔کیا وہ بھی سب دنیاوی زندگی جی رہے ہیں؟اگر یہاں روح لوٹانے سے مراد حیات ِدنیوی نہیں تو وہاں کیوں ہے؟اس استدلال کے برعکس یہ حدیث تو ان لوگوں کے لیے سخت اشکال کا سبب ہے،جو لوگ حیاتِ انبیا کا اثبات کرتے ہیں، جیسا کہ علامہ عبیدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:ہٰذَا مُشْکِلٌ عَلٰی مَنْ ذَہَبَ إِلٰی أَنَّ الْـأَنْبِیَائَ بَعْدَ مَا قُبِضُوْا رُدَّتْ إِلَیْہِمْ أَرْوَاحُہُمْ، فَہُمْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ کَالشُّہَدَائِ، وَوَجْہُ الْإِشْکَالِ فِیْہِ أَنَّ عَوْدَ الرُّوْحِ إِلَی الْجَسَدِ یَقْتَضِي انْفِصَالَہَا عَنْہُ، وَہُوَ الْمُوْتُ، وَہُوَ لَا یَلْتَئِمُ مَعَ کَوْنِہٖ حَیاًّ دِائِماً ۔’’یہ حدیث ان لوگوں کے لیے باعث ِاشکال ہے،جو یہ مذہب رکھتے ہیں کہ انبیاے کرام کی ارواح قبض ہونے کے بعد دوبارہ ان کی طرف لوٹادی گئیں ہیں، اب وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شہدا کی طرح زندہ ہیں۔اشکال کی وجہ یہ ہے کہ روح کا جسم کی طرف لوٹایا جانا یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس سے جدا ہو،اسی کا نام موت ہے۔یہ صورت حال آپ کے ہمیشہ زندہ ہونے کے(دعویٰ کے)ساتھ فٹ نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔‘‘(مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح : 269/3)2 اگر کوئی شخص اس حدیث سے قریب کا سلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خود سننا ثابت کرے اور پھر اس سے مسئلہ حیات النبی کشید کرے تو یہ بے بنیاد ہے۔کسی بھی صحیح حدیث سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبر مبارک میں خود درودوسلام سننا ثابت نہیں۔پھر اس فرمان باری تعالیٰ سے اصل بات معلوم ہو سکتی ہے:{إِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآئُ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُورِ}(الفاطر 35 : 22)’’(اے نبی!)آپ اُن لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں۔‘‘اگر قبر کے قریب سے سننا ہی عقیدہ حیات النبی کی دلیل ہے تو پھر عقیدہ حیاۃ الاموات بنانا چاہیے،کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے تمام مسلمانوں،بل کہ غیر مسلمانوں کو بھی قبرکے قریب کی کوئی آواز سنا دیتا ہے،جیسا کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’أَلْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِہٖ، وَتُوُلِّيَ، وَذَہَبَ أَصْحَابُہٗ، حَتّٰی إِنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ‘ ۔’’جب انسان کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس چلے جاتے ہیں اور وہ ان کے جوتوں کی آوازیں سن رہا ہوتاہے۔‘‘(صحیح البخاري : 1338؛ صحیح مسلم : 2870)تو کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر مبارک کے قریب کہے جانے والے سلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خود سننے کا عقیدہ رکھنے والے اور اسے حیات النبی کی دلیل بنانے والے اس حدیث کو حیات المسلمین، بل کہ حیات ِبنی آدم کی دلیل بنائیں گے؟اسی طرح غزوئہ بدر میں کفار ِمکہ کے جو لوگ قتل ہو گئے تھے، انہیںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا اور فرمایا تھا:’إِنَّہُمُ الْآنَ یَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ‘ ۔’’یقینااب وہ میری باتیں سن رہے ہیں۔‘‘(صحیح البخاري : 3980؛ صحیح مسلم : 2870)کیا حیات النبی کا عقیدہ رکھنے والے، کافروں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب سننے کی وجہ سے حیات الکافرین کا عقیدہ بھی رکھیں گے؟بات صرف اتنی ہے کہ اللہ رب العزت جب چاہے مردوں کو کوئی بات سنا دیتا ہے، چاہے وہ کافر ہی ہوں،چناں چہ اگر بالفرض والمحال قبر کے پاس کے سلام کے بارے میں یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے خود سنتے ہیں تو پھر بھی یہ حیات النبی کی دلیل نہیں بن سکتی،کیوں کہ اللہ تعالیٰ عام مردوں کو بھی کبھی سنا دیتا ہے،کیا پھر عام مردوں کے لیے بھی حیات ثابت ہو جائے گی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جو جواب دیتے ہیں،اس جواب کا تعلق بھی عالم برزخ کے ساتھ ہے۔ دنیاوی کانوں سے وہ سنا ہی نہیں جا سکتا، لہٰذا اس سے حیات النبی کا عقیدہ ثابت کرنا صحیح نہیں۔سلام مأمور اور سلامِ تحیۃ میں فرق :نیز یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ سلام دو طرح کا ہوتا ہے؛ایک سلام مامور ہے، یعنی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے:{یَآاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا}(الأحزاب 33 : 56)’’اے ایمان والو!تم ان(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم )پر درود اور بہت زیادہ سلام بھیجو۔‘‘اور دوسرا سلام تحیہ کا ہے ، یعنی وہ سلام جو کسی کے ملنے پر تحفتاً کہاجاتا ہے۔جب اتنی بات سمجھ میں آگئی ہے تو یہ بھی ذہن نشین رہے کہ سلام تحیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جاتا تھا تو اس کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیتے تھے اور اب بھی کہا جاتا ہے تو اس کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی دیتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں بیان ہو گیا ہے۔یہ بات بھی بخوبی واضح کی جا چکی ہے کہ سلام تحیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قریب سے کہا جاتا تھا،اس طرح اب بھی قریب سے ہی کہا جائے گا۔ اس حوالے سے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ سفر سے واپسی پر حجرئہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں قبر مبارک کے پاس جا کر یہ سلام تحیہ کہتے تھے، اس کے برعکس سلام مامور تو سب صحابہ کرام نمازوں میں ہر جگہ ہی پڑھتے تھے، اس کے لیے بھلا قبر مبارک کے پاس آنے اور سفر سے واپسی پر حاضری دینے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ اگر اس سلام کا آپ دُور سے بھی جواب دیتے تھے تو سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قبر مبارک کے پاس کیوں جاتے تھے؟۔سلام تحیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر مسلم بھی کہتے تھے، جبکہ سلام مامور صرف مومنوں کے ساتھ خاص ہے، اس کا جواب بھی آپ خود نہیں دیتے، بل کہ اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں اس شخص پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں، جیسا کہ حدیث نبوی ہے، سیّدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ـإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَائَ ذَاتَ یَوْمٍ، وَّالْبِشْرُ یُرٰی فِي وَجْہِہٖ، فَقُلْنَا : إِنَّا لَنَرَی الْبِشْرَ فِي وَجْہِکَ، فَقَالَ : ’إِنَّہٗ أَتَانِي مَلَکٌ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَبَّکَ یَقُولُ : أَمَا یُرْضِیکَ أَنْ لَّا یُصَلِّيَ عَلَیْکَ أَحَدٌ مِّنْ أُمَّتِکَ؛ إِلَّا صَلَّیْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا، وَلَا یُسَلِّمُ عَلَیْکَ؛ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا‘ ۔’’ایک دن اللہ کے رسول تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرئہ مبارک پر خوشی کے آثار تھے، ہم نے عرض کیا:ہم آپ کے چہرئہ مبارک پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے پاس ایک فرشتہ آیا ہے اور اس نے کہا ہے:اے محمد!آپ کا رب فرماتا ہے کہ کیا آپ اس بات سے خوش نہیں ہیں کہ کوئی بھی آپ پر درود پڑھے گا تو میں اس پر دس رحمتیں نازل فرمائوں گا اور کوئی بھی آپ پر سلام کہے گا تو میں اس پر بھی دس سلامتیاں نازل فرمائوں گا۔‘‘(مسند الإمام أحمد : 29/4، 30؛ سنن النسائي : 1283، 1295، وسندہٗ صحیحٌ)اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (915)اور امام ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (الفتح الکبیر للسیوطي، ح : 142)نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔حافظ عراقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’جید‘‘ قرار دیا ہے۔(تخریج أحادیث الإحیائ، ح : 1004)سلیمان مولیٰ حسن بن علی ثقہ ہیں،کیوں کہ امام ابن حبان، امام حاکم اور امام ضیاء مقدسی رحمہم اللہ وغیرہ نے ان کی حدیث کی ’’تصحیح‘‘ کر کے ان کی توثیق کی ہے۔سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کا ایک شاہد بھی مروی ہے، اس کی سند بھی حسن ہے۔(مسند الإمام أحمد : 191/1)اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (810)نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔امام حاکم رحمہ اللہ (345/1)نے ’’امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح‘‘ کہا ہے۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔اس کے راوی ابو حویرث عبدالرحمن بن معاویہ جمہور کے نزدیک ’’ضعیف ‘‘نہیں،بل کہ جمہور کے نزدیک ’’حسن الحدیث‘‘ہیں،کیوں کہ امام مالک(الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 309/4؛ الجرح والتعدیل : 284/5، وسندہٗ صحیحٌ)، امام نسائی(کتاب الضعفاء والمتروکین ت : 365؛ الکامل في ضعفاء الرجال : 309/4) اور امام ابو حاتم رازی(الجرح والتعدیل : 284/5) رحمہم اللہ کی ’’تضعیف‘‘کے مقابلے میں امام احمد بن حنبل(الجرح والتعدیل : 284/5، وسندہٗ صحیحٌ)،امام ابن خزیمہ(صحیح ابن خزیمۃ : 145)،امام ابن حبان(الثقات : 406)،امام حاکم(72/3)اور امام ضیاء مقدسی (الأحادیث المختارۃ : 930) رحمہم اللہ کی توثیق مقدم ہو گی۔نیز امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا جمہور کی موافق توثیق والا قول(تاریخ ابن معین بروایۃ الدارمي : 603)قبول کیا جائے گا۔اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ سلام کی دو قسمیں ہیں؛ایک وہ سلام جو قریب سے کہا جاتا ہے،یعنی تحیہ سلام،اس کا جواب آپ خود دیتے ہیں،لیکن سلام مامور جو نماز وغیرہ میں درود کی طرح پڑھا جاتا ہے،اس کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہیں دیتے،بل کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس شخص پر سلامتی نازل فرماتا ہے۔جب ہر سلام کے جواب کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر روح نہیں لوٹائی جاتی تو اس حدیث سے مسئلہ حیات النبی کا اثبات نہیں ہو سکتا۔علامہ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ ان دو قسموں کو یوں بیان فرماتے ہیں:وَالْمَقْصُوْدُ ہُنَا أَنْ نَّعْرِفَ مَا کَانَ عَلَیْہِ السَّلَفُ مِنَ الْفَرْقِ بَیْنَ مَا أَمَرَ اللّٰہُ بِہٖ مِنَ الصَّلاَۃِ وَالسَّلاَمِ عَلَیْہِ وَبَیْنَ سَلاَمِ التَّحِیَّۃِ الْمَوْجِبِ لِلرَّدِّ، الَّذِي یَشْتَرِکُ فِیْہِ کُلُّ مُؤْمِنٍ؛ حَيٌّ وَّمَیِّتٌ، وَیُرَدُّ فِیْہِ عَلَی الْکَافِرِ ۔’’یہاں مقصود یہ ہے کہ ہم سلف صالحین کے مطابق وہ فرق معلوم کریں،جو مامور من اللہ درود و سلام اور اس سلام تحیہ کے درمیان ہے،جس کا جواب دینا واجب ہے اور اس میں تمام زندہ و مردہ مسلمان مشترک ہیں اور جس میںکافر کو بھی جواب لوٹایا جاتا ہے۔‘‘(الصارم المنکي في الردّ علی السبکي : 125/1)نیز لکھتے ہیں:وَہٰذَا السَّلاَمُ لَا یَقْتَضِي رَداًّ مِّنَ الْمُسَلَّمِ عَلَیْہِ، بَلْ ہُوَ بِمَنْزِلَۃِ دُعَائِ الْمُؤْمِنِ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَاِسْتِغْفَارُہٗ لَہُمْ، فِیْہِ الْـأَجْرُ وَالثَّوَابُ مِنَ اللّٰہِ، لَیْسَ عَلَی الْمَدْعُوِّ لَہُمْ مِّثْلَ ذٰلِکَ الدُّعَائُ، بِخِلاَفِ سَلاَمِ التَّحِیَّۃِ، فَإِنَّہٗ مَشْرُوْعٌ بِالنَّصِّ وَالْإِجْمَاعِ فِي حَقِّ کُلِّ مُسْلِمٍ ۔وَعَلَی الْمُسَلَّمِ عَلَیْہِ أَنْ یَّرُدَّ السَّلاَمَ وَلَوْ کَانَ الْمُسَلِّمُ عَلَیْہِ کَافِراً، فَإِنَّ ہٰذَا مِنَ الْعَدْلِ الْوَاجِبِ، وَلِہٰذَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرُدُّ عَلَی الْیَہُوْدِ إِذَا سَلَّمُوْا بِقَوْلِ ’وَعْلَیْکُمْ‘ ۔’’یہ سلام (مامور)سلام کہنے والے پر جواب لوٹانے کا تقاضا نہیں کرتا،بل کہ یہ ایک مؤمن کی دوسرے مؤمنوں کے لیے دعا اور استغفار کی طرح ہوتا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر وثواب ہوتا ہے۔جس کے لیے دعا کی گئی ہو،اس پر دعا کرنے والوں کے لیے اسی طرح کی دعا کرنا ضروری نہیں ہوتا۔جب کہ سلامِ تحیہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ وہ قرآن و سنت کی نصوص اور اجماع امت سے ہر مسلمان کے لیے مشروع ہے۔پھر جس پر سلامِ تحیہ کہا گیا ہے،اس پر جواب دینا بھی واجب ہے، اگرچہ وہ (سلام کہنے والا)کا فر ہی کیوں نہ ہو،کیوں کہ یہ اس کا ضروری حق ہے۔اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہود سلام کہتے تو آپ ان کا جواب بھی ’وعلیکم‘ کے لفظ سے دیتے تھے۔‘‘(الصارم المنکي في الرد علی السبکي : 118/1، 119)نیز لکھتے ہیں:فَالصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِہٖ وَسَائِرِ الْمَسَاجِدِ وَسَائِرِ الْبِقَاعِ مَشْرُوْعٌ بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَالْإِجْمَاعِ، وَأَمَّا السَّلاَمُ عَلَیْہِ عِنْدَ قَبْرِہٖ مِنْ دَاخِلِ الْحُجْرَۃِ؛ فَہٰذَا کَانَ مَشْرُوْعاً لَّمَّا کَانَ مُمْکِناً بِدُخُوْلٍ مَنْ یَّدْخُلَ عَلٰی عَائِشَۃَ ۔’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام مسجد نبوی، دوسری تمام مساجد اور دنیا کی تمام جگہوں میں کتاب و سنت اور اجماع کے دلائل کی وجہ سے مشروع ہے۔رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حجرئہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں جاکر سلام کہنا تو یہ کسی شخص کے لیے اس وقت مشروع تھا، جب وہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں داخل ہوسکتا تھا۔‘‘(الصارم المنکي في الرد علی السبکي : 119/1)اگر سلام کی یہ دو قسمیں تسلیم نہ کی جائیں،بل کہ یہ اصرار کیا جائے کہ ہر سلام کا یہ معاملہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب خود لوٹاتے ہیں تواس میں جہاں مذکورہ احادیث،یعنی فرشتوں کے سلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے اور اللہ تعالیٰ کے جواباً سلام کہنے والے پر رحمت کرنے والی احادیث کا انکار لازم آتا ہے،وہیں قبر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی حیات مان کر یہ بات عقلاً بھی محال ہے۔نیزان دو قسموں کو نہ ماننے سے یہ بھی اعتراض آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِمبارکہ میں بعض یہودی اور منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہہ دیتے تھے، کیا ان پر بھی اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرماتاتھا؟حالانکہ منافقین اور یہود پر رحمت ِالٰہی کا تصور بھی اسلام میں نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر جو سلام کہا جاتا تھا،یعنی سلام تحیہ، اس کاحکم اور ہے،جب کہ فرشتوں کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے اور اللہ کے جواباً رحمتیں نازل کرنے والا معاملہ سلامِ مامور کے ساتھ خاص ہے،جسے صرف مؤمن سرانجام دے سکتے ہیں۔اسی لیے اس سلام کا حکم صرف ایمان والوں ہی کو دیا گیا ہے۔3 اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر مبارک میں اسی طرح زندہ ہوتے،جس طرح سے وفات سے پہلے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات بزرخی نہیں،بل کہ دنیوی ہوتی اور کوئی اپنی بات آپ کو سنا سکتا ہوتا تو صحابہ کرام ضرور اپنی پریشانیاں اور مشکلات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتے۔ کم از کم اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا ہی کرواتے،لیکن ایسی کوئی بات کسی صحابی سے ثابت نہیں کہ انہوں نے کبھی سلام کے علاوہ کوئی اور درخواست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے قریب یا دور سے کی ہو۔اس کے برعکس کئی واقعات ایسے ہیں،جو صریح طور پر اس کی نفی کرتے ہیں۔مثلاً:سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، کَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقٰی بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ : اللّٰہُمَّ إِنَّا کُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِینَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیِّنَا، فَاسْقِنَا، قَالَ : فَیُسْقَوْنَ ۔’’سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب لوگوں پر قحط سالی آتی تو سیّدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بارش کی دعاکرتے اور کہتے:اے اللہ!یقینا ہم تیری طرف تیرے نبی کی دعا کا وسیلہ بناتے تھے تو تُو ہمیں بارش عطا کرتا تھا اور اب ہم تیری طرف تیرے نبی کے چچا کی دعا کا وسیلہ بناتے ہیں تو ہمیں بارش عطا کر، چنانچہ ان پر بارش نازل کی جاتی تھی۔‘‘(صحیح البخاري : 3710)اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اللہ تعالیٰ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا واسطہ دیتے تھے، نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کا، ورنہ ذات کا واسطہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد بھی دیا جا سکتا تھا۔اگر اس واسطہ سے مراد ذات کا واسطہ تھا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِمقدسہ کو چھوڑ کر سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ذات کا واسطہ دینا صریح گستاخی ہے،جو صحابہ کرام سے صادر ہونا محال ہے۔یہ واسطہ دعاکا تھا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں کر دیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔دوسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ کرام کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری باتیں نہیں سنتے، چاہے وہ قریب سے ہوں، ورنہ وہ مشکل اوقات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی ہی درخواست کر دیتے۔اگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دنیوی ہوتی،سب کچھ سنتے اور جانتے ہوتے تو سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی رسول کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا نہ کرواتے۔اسی طرح پورے ذخیرئہ حدیث و تاریخ میں باسند صحیح بعد از وفات کسی ایک صحابی رسول سے سلام کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی درخواست و دعاثابت نہیں۔4 حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل لوگ اس روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں:’اَلْـأَنْبِیَائُ أَحْیَائٌ فِي قُبُورِہِمْ، یُصَلُّونَ‘ ۔’’انبیاے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔‘‘(مسند أبي یعلٰي : 147/6، ح : 3425، أخبار أصبہان للأصبہاني : 83/2، نقلا عن السلسلۃ الصحیحۃ للألباني : 189/2؛ حیاۃ الأنبیاء في قبورہم للبیہقي : 1)قطع نظر اس بات سے کہ اس کی استنادی حیثیت کیا ہے؟ہم ایسے لوگوں سے ایک سوال کرنا چاہتے ہیں کہ اگر تمہارے موقف کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر وقت سلام کہا جا رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اس کا جواب دے رہے ہیں، لہٰذا حیات النبی ثابت ہو گئی ہے تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے وقت بھی سلام کا جواب دیتے ہیں،جو کہ احناف کے ہاں ممنوع ہے؟
فقہ حنفی کی معتبر کتاب ہدایہ میں لکھا ہے :وَلَا یَرُدُّ السَّلاَمَ بِلِسَانِہٖ، لِأَنَّہٗ کَلَامٌ، وَلَا بِیَدِہٖ، لِأَنَّہٗ سَلَامٌ مَّعْناً ۔’’نمازی اپنی زبان سے سلام کا جواب نہیں دے گا،کیوں کہ وہ تو کلام ہے اور نہ ہی ہاتھ کے اشارہ سے جواب دے گا، کیوں کہ یہ بھی معنوی طور پر سلام ہے۔‘‘(الہدایۃ : 142/1)ٹھنڈے دل سے سوچنے کی بات ہے کہ اگر فقہ حنفی برحق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر وقت اور ہر ایک کے سلام کو سننے اور جواب دینے والا قول مردود ہے اور اگر یہ قول درست ہے تو فقہ حنفی کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ثانیاً اگر انبیاے کرام قبروں میں زندہ ہیں تو روح لوٹائے جانے کا کیا مطلب ہے؟ روح تو زندہ کرنے کے لیے لوٹائی جاتی ہے،جو پہلے ہی زندہ ہے،اس میں روح کیوں لوٹائی جاتی ہے؟5 بعض لوگ اس حدیث سے مسئلہ حیات النبی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے بارے میں فرمایا:’لَئِنْ قَامَ عَلٰی قَبْرِي، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ؛ لَـأُجِیبَنَّہٗ‘ ۔’’اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہوں اور کہیں اے محمد!تو میں ضرور ان کی بات کا جواب دوں گا۔‘‘(مسند أبي یعلٰی : 6584)لیکن اس کی سند ’’ضعیف‘‘ہے، کیوں کہ عبداللہ بن وہب مصری راوی ’’مدلس‘‘ ہیں اور لفظ ’’عن‘‘ سے بیان کر رہے ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔دوسری بات یہ ہے کہ یہاں قبر مبارک پر کھڑے ہونے سے مراد سلام کہنا اور جواب سے مراد سلام کا جواب ہے،جیساکہ اسی حدیث کی دوسری سند میں ہے:’وَلَیَأْتِیَنَّ قَبْرِي حَتّٰی یُسَلِّمَ، وَلَـأَرُدَّنَ عَلَیْہِ‘ ۔’’وہ ضرور میری قبر پر سلام کہنے کے لیے آئیں گے اور میں ضرور ان پر جواب لوٹائوں گا۔‘‘(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : 651/2، ح : 4162)یہ سند بھی ’’ضعیف‘‘ہے۔اس میں محمد بن اسحاق بن یسار ’’مدلس‘‘ ہیں اور لفظ ’’عن‘‘ سے بیان کر رہے ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔6 ایک اور حدیث جو اس ضمن میں پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا:’فَنَبِيُّ اللّٰہِ حَيٌّ یُّرْزَقُ‘ ۔ ’’اللہ کے نبی زندہ ہیں، وہ رزق دئیے جاتے ہیں۔‘‘(سنن ابن ماجہ : 1637)اس کی سند ’’منقطع‘‘ہونے کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ہے جیسا کہ:حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:وَفِیہِ انْقِطَاعٌ بَیْنَ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَيٍّ وَّأَبِي الدَّرْدَائِ، فَإِنَّہٗ لَمْ یُدْرِکْہُ ۔’’اس سند میں عبادہ بن نسی اور سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے کیوں کہ اس(عبادہ)نے ان(سیّدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ )کا زمانہ نہیں پایا۔‘‘(تفسیر ابن کثیر : 620/3، تحت سورۃ الأحزاب : 56/33)نیز اس سند میں ایک اور جگہ بھی انقطاع ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:زَیْدُ بْنُ أَیْمَنَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَيٍّ مُّرْسَلٌ ۔’’زید بن ایمن کی عبادہ بن نسی سے روایت مرسل (منقطع) ہوتی ہے۔‘‘(التاریخ الکبیر للبخاري : 387/3)حافظ سخاوی رحمہ اللہ (۸۳۱۔۹۰۲ھ)نے بھی اسے ’’منقطع‘‘ قرار دیا ہے۔(القول البدیع : 164)الحاصل :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کہا جانے والا سلام دو طرح کا ہے؛ ایک سلامِ تحیہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جاتا تھا اور یہ سلام مسلمان، کافر اور منافق سب کہتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب بھی دیتے تھے۔اب بھی حجرۂ عائشہ میں داخل ہو کر قبر مبارک پر سلام کہا جائے تو وہ اسی قبیل سے ہے۔اگر کسی شخص کو حجرہ مبارکہ میں جا کر قبر مبارک پر جا کر سلام کہنے کی سعادت نصیب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو لوٹاتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس سلام کا جواب دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما خصوصی طور پر حجرۂ عائشہ میں جا کر قبر مبارک پر سلام کہتے تھے۔دوسرا سلام وہ ہے،جس کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔یہ سلام فرشتوں کے ذریعے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے اور اس کا جواب اللہ تعالیٰ دس رحمتوں اور بخشش کی صورت میں دیتے ہیں۔لہٰذا اس سے مروجہ عقیدہ حیاۃ النبی(ﷺ) ثابت کرنا عقلاً ونقلا ً وشرعاً کسی طرح بھی ممکن نہیں۔

(وما علینا الاالبلاغ)
 
Top