ذیشان خان

Administrator
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ: 9؍ جمادی الآخر ؍ 1442 ھ مطابق 22؍ جنوری؍ 2021 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ احمد بن طالب بن حمید
موضوع: اہل عقل وخِرد کون ہیں؟
ترجمہ: نور عالم محمد ابراہیم سلفی

پہلا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جاننے والا ، قدرت رکھنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، جس کا نہ تو کوئی ہم مثل، برابر اور نظیر ہے، اور نہ ہی کوئی شریک، کارساز اور مددگار ہے، ”کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“ الشوری: 11)۔میں شکرگزار بندوں کی طرح اس کی حمد بیان کرتا ہوں، ذاکرین کی طرح اس کا شکر بجا لاتا ہوں اور اس کے ذکر میں مشغول لوگوں کی طرح اس کا ذکر کرتا ہوں۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو اس کی ربوبیت اور وحدانیت کا علم اور معرفت رکھنے والا، اور اس کی بندگی میں لگے رہنے والا شخص دیتا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی نے اُنہیں اپنی وحی کے لیے اختیار فرمایا، ان کے ذریعے انبیائے کرام کا سلسلہ ختم کیا، اور اُن کو سارے جہان والوں کے رحمت، راہ گیروں کی ہدایت، حقیقی نشانی، راستے کی روشنی اور تمام مخلوقات کے لیے حجت بنایا۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
ۙلِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَىَّ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌۙ‏ ﴿۴۲﴾
تاکہ جسے ہلاک ہونا ہےوہ دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ بھی دلیل کی بنا پر زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ یقینا سننے والا اور جاننے والا ہے۔“ (انفال: 42)۔
سورہ آلِ عمران میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوۡا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿۱۰۲﴾ وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاۚ وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ‏ ﴿۱۰۳﴾ وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿۱۰۴﴾وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌۙ‏ ﴿۱۰۵﴾يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ‏ ﴿۱۰۶﴾وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِىۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‏ ﴿۱۰۷﴾ تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَـتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿۱۰۸﴾ وَلِلّٰهِ مَا فِىۡ السَّمٰوٰتِ وَمَا فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ‏ ﴿۱۰۹﴾
” اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو، اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی انداز سے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ راست کو پاسکو۔ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے‘ نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس دلائل آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور باہم اختلاف کیا ، ان لوگوں کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ، کالےچہروں والوں سے کہا جائے گا کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب عذاب چکھو کیونکہ تم کفر کرتے تھے۔ اور جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اے نبی ہم آپ پر سچی آیات تلاوت کررہے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جائیں گے۔“ (آل عمران: 102-109)۔
اے مومنو!
اللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں میں سے اہل عقل و خرد کو، اور اس کی ذات اور اُس کے اوامر کی معرفت رکھنے والوں کو منتخب فرمایا ہے، اور ان کے راستوں سے الگ ہونے والوں اور ہٹنے والوں کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَـقُّ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰىؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِۙ‏ ﴿۱۹﴾ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَلَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَۙ‏ ﴿۲۰﴾ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَ يَخَافُوۡنَ سُوۡۤءَ الۡحِسَابِؕ‏ ﴿۲۱﴾ وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ وَاَقَامُوۡا الصَّلٰوةَ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِۙ‏ ﴿۲۲﴾ جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآٮِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ‌ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ‌ۚ‏ ﴿۲۳﴾ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ‌ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِؕ‏ ﴿۲۴﴾ وَالَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ۙ اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمُ اللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوۡۤءُ الدَّارِ‏ ﴿۲۵﴾
” کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ بے شک جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں۔ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور پختہ عہد کو نہیں توڑتے، اور جو لوگ تعلقات کو نبھاتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے ڈرتے ہیں۔ اور جنہوں نے اپنے پروردگار کی رضا کے لئے صبر کیا، نماز قائم کی اور اللہ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کیا اور برائی کا بھلائی سے جواب دیا، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کا گھرہے۔ ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے، اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔ (اور کہیں گے) سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا، سو آخرت کا گھر بہت ہی اچھا ہے۔ اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انھیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لیے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے۔“ (الرعد: 19-25)۔
لہذا جس کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے، تصدیق کی روشنی سے اس کا دل منور ہے، اور وہ اپنے رب کے وسیلے میں دلچسپی رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ عقلمندوں کے منہج کو اختیار کرے، اپنے رب کی حدود کی رعایت کرے، اپنے نبی کی سنت کی پیروی کرے، اور اُس صراطِ مستقیم پر مضبوطی سے جمے رہے جس کی طرف اپنے بندوں کو بلاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطِىۡ مُسۡتَقِيۡمًا فَاتَّبِعُوۡهُ‌ۚ وَلَا تَتَّبِعُوۡا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ؕ ذٰلِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ‏ ﴿۱۵۳﴾
”اور یقینایہ میرا راستہ ہے جو بالکل سیدھا ہے، پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹادیں گے یہ حکم اس نے تمہیں دیا ہے تاکہ تم بچ جاؤ۔ “ (انعام: 153)۔

عقلمند وہ لوگ ہیں جو اپنے رب سے سیدھے راستے اور رفاقت کی دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں:
﴿اِهۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ‏ ﴿۵﴾ صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ﴾
”ہمیں سیدھے راستے کی راہنمائی فرما۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔“ (الفاتحہ: 6-7)۔ تو اللہ تعالی کی علیم ذات نے انہیں ان فضل والے لوگوں کے زمرے میں کردیا:
مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓٮِٕكَ رَفِيۡقًاؕ‏ ﴿۶۹﴾ ذٰلِكَ الۡـفَضۡلُ مِنَ اللّٰهِ‌ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيۡمًا‏ ﴿۷۰﴾
” جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء‘ صدیقین‘ شہداء اور نیک لوگوں کے ساتھ، اور یہ بہترین ساتھی ہیں، ایسا فضل اللہ ہی کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ کا علیم ہونا ہی کافی ہے۔“ (النساء: 69-70)۔
عقل مند اور اہل خرد در اصل وہ لوگ ہیں جنہوں نے عقل کا ساتھ دیا اور اطاعت کو معصیت پر، علم کو جہالت پر اور دین کو دنیا پر ترجیح دی، اور خواہشات کو ترک کرکے علم کی صحبت اختیار کی، خشیئت کے ساتھ اطاعت بجا لایا اور مخلوق کے ساتھ خیر خواہی کی۔
چنانچہ علم ان کے جمال ، عقل ان کے رعب وجلال اور فضیلت ان کے کمال کا باعث ہیں، اور وہ اللہ کی ذات کا محتاج ہوکر تمام مخلوقات سے بے نیاز ہوگیے۔﴿وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِىُّ الۡحَمِيۡدُ‏ ۱۵﴾ ”اور اللہ تعالی ہی بےنیاز اور قابلِ تعریف ہے۔“ (فاطر:15)۔
اہل عقل و خرد در اصل اہلِ ذکر وفکر ، اور اصحابِ خشوع وخضوع ہوتے ہیں، وہ خوف ورجا کے پیکر ہوتے ہیں، اور وہ بہت زیادہ عطا کرنے والی ذات کے وعدوں اور بہتر انجام کی سچی رغبت رکھتے ہیں۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
قُلۡ اِنِّىۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَۙ‏ ﴿۱۱﴾ وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿۱۲﴾ قُلۡ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ‏ ﴿۱۳﴾ قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِىۙ‏ ﴿۱۴﴾ فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡخٰسِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَ اَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ‏ ﴿۱۵﴾ لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ‌ؕ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ‌ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ‏ ﴿۱۶﴾ وَالَّذِيۡنَ اجۡتَنَبُوۡا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ يَّعۡبُدُوۡهَا وَاَنَابُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الۡبُشۡرٰى‌ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِۙ‏ ﴿۱۷﴾ الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَهٗ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدٰٮهُمُ اللّٰهُ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ‏ ﴿۱۸﴾ اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَيۡهِ كَلِمَةُ الۡعَذَابِؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِىۡ النَّارِ‌ۚ‏ ﴿۱۹﴾ لٰـكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِهَا غُرَفٌ مَّبۡنِيَّةٌ ۙ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ ؕ وَعۡدَ اللّٰهِ‌ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ الۡمِيۡعَادَ‏ ﴿۲۰﴾
”اے نبی! ان سے کہو: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کی بندگی کروں۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماں بردار بن جاؤں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کرکے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہتے ہو کرتے رہو۔کہہ دیجیے کہ اصل نقصان پانے والے وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو نقصان میں ڈال دیا، اچھی طرح سن لو کہ یہی کھلا نقصان ہے۔ ان کے اوپر اور نیچے سے بھی آگ چھائی ہوگی، یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس اے میرے بندو میرے عذاب سے بچو۔ اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وہ خوشخبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔ جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی دانشمند ہیں۔ بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالا خانے بنے ہوئے ہیں اور ان کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔“ (الزمر: 11-20)۔
اللہ تعالی قرآن کو میرے لیے اور آپ لوگوں کے لیے بابرکت بنائے، اور اس کی آیتوں اور حکیمانہ نصیحتوں کو ہمارے لیے مفید بنائے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی اور وہی نیکو کاروں کا دوست ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ حق اور واضح ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد ﷺ اللہ رب العالمین کے رسول ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر جوکہ ان کی خالہ تھیں، رات گزاری، وہ کہتے ہیں کہ میں تکیے کی چوڑائی میں لیٹا، اور نبی ﷺ اور ان کی بیوی لمبائی میں لیٹے، پھر نبی ﷺ سوگیے، پھر جب آدھی رات یا اُس سے تھوڑا کم یا زیادہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے ، اور اپنےچہرے پر ہاتھ ملتے ہوئے نیند بھگایا، پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیتوں کی تلاوت کی، پھر اوپر لٹکے ہوئے مشکیزے کی جانب رخ کرکے کھڑے ہوئے، اور اس کے پانی سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے لگے۔
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی سب سے اچھی چیز کے بارے میں بتائیے، یہ سن کر وہ خاموش ہوگئیں پھر کہنے لگی: ایک رات نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے چھوڑ دو تاکہ میں آج کی رات اپنے رب کی عبادت کروں“ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے آپ کی قربت اور آپ کی خوشی پسند ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے، وضو کیا ، پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ (نماز میں) روتے رہے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ بھیگ گیا، وہ فرماتی ہیں: پھر بھی آپ ﷺ روتے رہے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی تر ہوگئی۔ وہ فرماتی ہیں کہ پھر بھی آپ ﷺ روتے رہے یہاں تک کہ زمین تر ہوگئئ۔ پھر حضرت بلال آپ کو نماز کی خبر دینے آئے، اور انہوں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کیوں روتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ آج کی رات مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ بربادی ہو ایسے شخص پر جو ان آیتوں کو پڑھے اور ان پر غور وفکر نہ کرے۔ پھر آپ ﷺ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی:
اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِىۡ الۡاَلۡبَابِۚ ۖ‏ ﴿۱۹۰﴾ الَّذِيۡنَ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُوۡنَ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‏ ﴿۱۹۱﴾ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ‌ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ‏ ﴿۱۹۲﴾ رَّبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِىۡ لِلۡاِيۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ فَاٰمَنَّا ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ‌ۚ‏ ﴿۱۹۳﴾ رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ‏ ﴿۱۹۴﴾ فَاسۡتَجَابَ لَهُمۡ رَبُّهُمۡ اَنِّىۡ لَاۤ اُضِيۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى‌‌ۚ بَعۡضُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ‌‌ۚ فَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِىۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَ اللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ‏ ﴿۱۹۵﴾ لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِىۡ الۡبِلَادِؕ‏ ﴿۱۹۶﴾ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ثُمَّ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ‌ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِهَادُ‏ ﴿۱۹۷﴾ لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلاً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ‏ ﴿۱۹۸﴾ وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ‏ ﴿۱۹۹﴾ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوۡا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿۲۰۰﴾
”آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے باری باری آنے جانے میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ اللہ کا ذکر کھڑے‘ بیٹھے اور اپنی پہلوؤں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور وفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے پروردگار تو نے یہ سب کچھ بے فائدہ نہیں بنایا۔ تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب! جسے تو نے جہنم میں ڈال دیا یقیناً تو نے اسے ذلیل کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب! ہم نے ایمان کی دعوت دینے والے کی آواز کو سنا کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری کوتاہیاں ہم سے دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت نصیب فرما۔ اے ہمارے رب! تو نے اپنے رسولوں (کی زبان) پر ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا، بیشک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔ سو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا : ''میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، ضائع نہیں کروں گا کیونکہ تم دونوں ایک دوسرے کا حصہ ہو، لہذا جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں دکھ اٹھائے، نیز جن لوگوں نے جہاد کیا اور شہید ہوگئے۔ میں ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کردوں گا اور ایسے باغات میں ضرور داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اللہ کے ہاں ان کا یہی بدلہ ہے۔ اور اللہ کے ہاں جو بدلہ ہے وہ بہت ہی اچھا بدلہ ہے۔ اےنبی! آپ کو کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے۔ یہ چند روزہ زندگی کا لطف ہے پھر (موت کے بعد) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جو بہت برا ٹھکانا ہے لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کے ہاں ان کی مہمانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے ہاں موجود ہے، نیک لوگوں کے لیے وہی سب سے بہتر ہے۔ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسےبھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر بھی جو تمہاری طرف اتارا گیا ( یعنی قرآن پر) اور اس پر بھی جو ان کی طرف اتارا گیا تھا۔ وہ اللہ کے حضور عاجزی کرنے والے ہیں اور تھوڑی سی قیمت کے عوض اللہ کی آیات کو بیچ نہیں کھاتے۔ ایسے لوگوں کا اجر ان کے پروردگار کے ہاں موجود ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔ اے ایمان والو! تم ثابت قدم رہو اور ایک دوسرے کوتھامے رکھو اور جہاد کی تیاری کرتے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“ (آل عمران: 190)۔
اللہ کے بندو! سب سے بہتر مخلوق اور سب سے پاکیزہ انسان پر درود وسلام بھیجو نبی ﷺ پر۔
چنانچہ اللہ تعالی نے ان پر درود وسلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓٮِٕكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏ ﴿۵۶﴾
”بلا شبہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔“ (الاحزاب: 56)۔
اے اللہ تو اپنے بندے اور رسول ہمارے سردار محمد ﷺ پر درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
اور اے اللہ تو ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اور ان کے نیک وپاکیزہ اہل بیت اور ازواجِ مطہرات پر، ان کے روشن پیشانی والے صحابہ کرام پر اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام نازل فرما۔
اے اللہ تو خلفائے راشدین، ہدایت یافتہ ائمہ کرام، ابو بکر وعمر وعثمان وعلی رضی اللہ عنہم سے اور بقیہ تمام صحابہ کرام ، تابعین وتبع تابعین سے اور تاقیامت نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے راضی ہوجا، اور ان کے ساتھ ساتھ اے اللہ تو اپنے عفو وکرم اور احسان سے ہم سےبھی راضی ہوجا۔
اے اللہ تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اور شرک ومشرکین کو ذلیل ورسوا فرما، اپنے اور اپنے دین کے دشمنوں کو تہ وبالا کردے۔
اور اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن وامان اور خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔
اے اللہ تو ہمیں اپنے وطنوں میں امن وامان نصیب فرما، ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، اور ایسے لوگوں کو مسلمانوں کا حکمراں بنا جو تجھ سے ڈریں، تیری اطاعت کریں اور تیری رضامندی کے کام کریں۔
اے اللہ تو ہمارے بادشاہ اور حاکم وقت کو خیر کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور اسے نیکی اور تقوی کے کام میں لگا دے، اے اللہ توانہیں اپنی ہدایت اور رضا کے کام میں لگا دے، اے اللہ تو ان کے ولی عہد اور ان کے بھائیوں اور دوستوں کو خیر کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ تو انہیں نیک ، صالح اور خیر خواہی کرنے والے معاون ومددگار نصیب فرما، جو انہیں بھلائی اور خیر کے کاموں کی رہنمائی کریں۔
اے اللہ تو ہمارے چھوٹے بڑے، اگلے پچھلے، اور ظاہری وباطنی تمام گناہوں کو بخش دے۔
اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کا اور اس سےقریب کرنے کرنے والے قول وعمل کا سوال کرتے ہیں، اور جہنم سے اور اس سے قریب کرنے والے قول وعمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
اے اللہ ! ہم تیری رضامندی اور جنت کا سوال کرتے ہیں، اور تیری ناراضگی اور جہنم سے تیر ی پناہ چاہتے ہیں۔
اے اللہ ! ہم تجھ سے ایمانِ کامل، یقینِ راسخ، اور شرمندہ و رسوا نہ کرنے والے انجام کا سوال کرتے ہیں۔
اے اللہ ! ہم تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی، اور قبول ہونے والے نیک عمل کا سوال کرتے ہیں۔
اے اللہ! ہم تجھ سے جلد یا دیر سے ملنے والی ، اور جسے ہم جانتے ہیں اور جسے نہیں جانتے ان تمام بھلائیوں کا سوال کرتےہیں، اور جلد یادیر اورمعلوم ونامعلوم تمام برائیوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے، اور ہم سے ہمارے کام میں جو زیادتی ہوئی ہے اسے معاف فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافر قوم پر ہماری مدد فرما۔
اے ہمارے رب! ہماری بھول اور غلطیوں پر ہمارا مؤاخذہ نہ فرما۔ اے ہمارے رب تو ہم سے پہلے لوگوں کی طرح ہم پر بوجھ نہ ڈال۔ اے ہمارے رب! تو ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال۔ ہمیں معاف فرما، ہماری مغفرت فرما، ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا آقا ہے، لہذا تو کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما۔
اے اللہ! تو ہدایت دینے کےبعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر، اور ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، یقینا تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔
اے اللہ تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اللہ کے بندو! ’’ یقیناً اللہ عدل، احسان اور قرابت دار وں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘
لہذا تم عظیم اللہ کو یاد کرو، وہ بھی تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید عطا کرے گا، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
 
Top